وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ایک تھا جنازہ۔۔۔!

جمعرات 26 نومبر 2020 ایک تھا جنازہ۔۔۔!

دین اسلام کی فطرت بھی بڑی عجیب ہے کہ ہر زمانے کی فکری،سماجی،تہذیبی اور واقعاتی حوادث و مشکلات سے نمٹنے کے لیے ’’مشکل کشا‘‘ بھی پیش آمدہ صورت حال کے عین مطابق از خود ہی پیدا ہوجاتے ہیں۔ یعنی اسلام کے ترکش میں ہر طرح کا تیر ،ہروقت ہی موجود رہتا ہے۔ لیکن کس تیر سے کس دشمن ِاسلام کو ہلاک کرنا ہے ۔ بس! یہ فیصلہ قدرت خود کرتی ہے اور ایسے شاندار طریق سے فیصلہ فرماتی ہے کہ دشمنِ دین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بے نام و نشان ہو کر رہ جاتا ہے اور چہاردانگ عالم میں ’’مشکل کشا ‘‘ کی مشکل کشائی کا ڈنکا قیامت تک بجتا رہتاہے۔ مثال کے طور پر جب اسلام کو سیاسی مشکلات درپیش ہوں تو حضرت عمر بن عبدلعزیز رضی اللہ تعالی عنہ جیسے حکمران سامنے آجاتے ہیں اور اگراسلام کے مقابل علمی و فکری مسائل کا پہاڑ کھڑا کر دیا جائے تو پھر اُن علمی چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ ،حضرت مجدد الف ثانی ؒ اور اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی ؒ جیسے علمائے حق خم ٹھونک کر میدانِ عمل میں آجاتے ہیں ۔

نیز اگر بات جاپہنچے رزم گاہ میں معرکہ آرا ئی کرنے کی تو ارطغرل غازی ؒ اور محمد بن قاسم ؒجیسے سپہ سالار تلواریں سونت کر دادِ شجاعت دینے کے لیے اپنے اپنے قبیلوں سے نکل پڑتے ہیں ۔لیکن ایک بات اچھی طرح سے ذہن نشین رہے کہ جب معاملہ درپیش ہو تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا، تو قدرت گستاخ ِ رسول ﷺ کو سبق سکھانے کے لیے تیر بھی ایسا مہلک منتخب کرتی ہے کہ جس کی تیز دھار کاٹ دشمنانِ ناموس رسالت ﷺ یوم ِ حشر تک محسوس کرتے رہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ توہین رسالت ﷺکے مرتکب اشخاص یا اقوام کو زیر کرنے کے لیے فرزانوں کے بجائے دیوانوں کو میدانِ عمل میں اُتارا جاتاہے اور دیوانے بھی ایسے جو اپنے آقاو مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مکمل طور پر مست و بے خود ہوں ۔یادش بخیر ! کہ اس بار تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی پہرے داری کا قرعہ نیک فال، قدرت نے مولانا خادم حسین رضوی ؒکے نام نکالاکہ جس کی زندگی ہی نہیں بلکہ موت بھی ،اُس کے ایک سچا پکا عاشقِ رسول ﷺ ہونے کا ثبوت فراہم کرگئی۔

سچ تو یہ ہے کہ ناموس رسالت ﷺکے چوکیدار مولانا خادم حسین رضوی ؒ کے فقید المثال ، تاریخ ساز جنازے نے لبرل اور سیکولر کہلانے والے طبقہ کی آنکھیں ماتھے سے باہر نکال اُن کی ہتھیلیوں پر رکھ دی ہیں ۔خاص طور پر وہ لبرلز، جو ہمیشہ یہ عجیب منطق پیش کیا کرتے تھے کہ ’’یہ مولوی کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔ان کی فرقہ واریت نے ملک کو تباہ و بربادکردیا۔ مگر مولویوں کے اختلافات ختم نہیں ہوتے‘‘۔لیجیے جناب! ایک بریلوی عالم دین مولانا خادم حسین رضوی ؒ کے جنازے نے مذہبی فرقہ واریت کا سرے سے ہی خاتمہ بالخیر فرمادیا اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مولویوں کو ایک ہی صف میں تسبیح کے دانوں کی مانند ایسے قطار میں پرو دیا کہ نہ کوئی اہلِ حدیث رہا اور نہ کوئی دیوبندی یا نہ ہی کوئی شیعہ ۔افسوس صد افسوس کہ مولانا خادم حسین رضوی ؒ کے جنازے میں مذہبی اتحاد و یگانگت کا یہ عظیم الشان منظر بھی لبرل کے کلیجہ میں لگی حسد کی آگ کو بجھانہ سکا۔

اَب یہ لبرل طبقہ مولانا خادم حسین رضوی ؒ کے جنازے میں شریک مجمع کی کثیر تعداد پر اعتراض کرتے ہوئے پھبتی کس رہا ہے کہ’’ شاید آپ نے بال ٹھاکرے کی آخری رسومات نہیں دیکھیں ،جس میں تیرہ لاکھ افراد نے شرکت کی تھی ۔جبکہ تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ عرب کی گلوکارہ اُم کلثوم کا تھا ، جس میں تقریباً چالیس لاکھ افراد شریک ہوئے تھے ۔ جنازوں کی لمبائی ، چوڑائی کا تعلق انسان کے کردار سے نہیں ہونا کیونکہ جنازہ تقویٰ کا معیار نہیں،اعمال ہیں ‘‘ ۔ لبرل طبقہ کے اس سطحی سے اعتراض پر بس یہ ہی جواب دیا جا سکتاہے کہ متذکرہ بالا شخصیات کی آخری رسومات کا موازنہ اس لیے بھی مولانا خادم حسین رضوی ؒ کے جنازے سے نہیں کیا جاسکتا کہ بال ٹھاکرے اور اُم کلثوم کی آخری رسومات میں نہ صرف حکومتی سرپرستی میں ہفتہ دو ہفتے تک خوب تشہیر ی مہم چلائی گئی تھی بلکہ شرکاء کو لانے ،لیجانے اور اُن کے طعام و قیام کے لیے تمام تر سرکاری وسائل بھی جھونک دیئے گئے تھے ،تب کہیں جاکر اُن کی آخری رسومات میں شرکا ء کی تعداد ملین کا ہندسہ عبور کرسکی تھی ۔جب کہ اس کے برعکس مولانا خادم حسین رضوی ؒ کے جنازے میں شرکاء کو لانے کے لیے نہ تو کسی جماعت نے کوئی ترغیب دی اور نہ ہی ان کے لیے کچھ سرکاری بندوبست کیاگیا تھا۔حتی کہ کسی کو یہ بھی نہیں معلوم تھا مولانا خادم حسین رضوی ؒ کا جنازہ کب اور کس جگہ منعقد ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود بھی مولانا خادم حسین رضوی ؒ کے انتقال کی خبر سن کر لوگ ازخود ہی اپنے گھروں اور دُکانوں سے دیوانہ وار نکل پڑے۔بقول جمال احسانی ؔ

نکل پڑیں گے گھروں سے تمام سیارے

اگر زمین نے ہلکا سا اِک اشارہ کیا

کوئی نہیں جانتا کہ مولانا خادم حسین رضوی ؒ کے جنازہ میں شرکت کے لیے اشارہ آسمان و زمین کے کس مرکز سے آیا تھا اور فقط اتنی سی بات ہی تو ہم لبرل طبقات کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں ،کسی مسلمان کے نزدیک تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی راہ میں جان دینا ہی تو سب سے بڑا عمل ہے اور یقینا اسی مقبول عمل کی بدولت ہی تو حضرت خادم حسین رضوی ؒ کا جنازہ ’’ملین جنازہ ‘‘ بن گیا تھا۔مگر لبرل طبقہ کی کوتاہ نظری دیکھئے کہ وہ جنازہ تو دیکھ رہے ہیں لیکن اس جنازے میں کس وجہ سے لاکھوں افراد آئے ،بس یہ ہی ایک بات اِن عقل کے اندھوں کو سجھائی نہیں دے رہی ۔

دوسری جانب موم بتی مارکہ سول سوسائٹی کا ایک طبقہ دہائی دے رہا ہے کہ ’’ جتنے لوگ ایک جنازے میں شرکت کے لیے نکل آئے ہیں، جس دن یہ قوم اتنی ہی بڑی تعداد میں جمہوریت انسانی حقوق اور انصاف کے لیے نکل پڑی اس قوم کی تقدیر بدل جائے گی ‘‘۔ یقینا یہ بات ایک ایسی ہی سوسائٹی کے نمائندہ افراد کرسکتے ہیں ،جو پاکستانی معاشرے کی تہذیبی و مذہبی ساخت سے یکسر بے خبر ہوں ۔ کاش ! انہیں بھی کوئی سمجھا سکے کہ خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسول ہاشمی ؐ اور اس قوم کے لیے ہر ایسی جمہوریت ،انسانی حقوق اور نام نہاد انصاف کی خاک برابر بھی حیثیت یا اہمیت نہیں ہے کہ جس میں آزادی اظہار رائے کے نام پر ایک پاگل فرانسیسی صدر میخائیل میکرون پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز مواد یا خاکے شائع کرنے کی اعلانیہ جسارت کرے ۔ یاد رہے کہ جب جب آزادی اظہار ، جمہوریت یا انسانی حقوق کے نام پر گستاخی پیغمبر اسلام ﷺ کرنے کا اقدام کیا جائے گا ،تب تب حضرت خادم حسین رضوی ؒ جیسے اپنے نبی ﷺ کے دیوانے اپنی جان دے کر بھی تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی شمع فروزاں کرجائیں گے ۔کیونکہ ایک مسلمان آزادی اظہار کی کالک اپنے چہرہ پر ملنے کے بجائے ’’غلامی رسول ﷺ ‘‘کا تمغہ اپنے سینے پر سجانے میں زیادہ فخر و مباہات محسوس کرتاہے ۔

دراصل حضرت خادم حسین رضوی ؒ کے جنازے میں شریک ہونے والے لاکھوں عاشقانِ رسول ﷺ تو ایک سرمدی اطمینان اور ایمان افروز انبساطی کیفیت میں شرابور تھے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے چوکیدار کے جنازے میں شرکت کی توفیق بخشی لیکن ایک طبقہ سوگ اور ماتم کی کیفیت میں تھا۔علامہ خادم حسین رضوی ؒکی وفات پر نہیںبلکہ اُن کی نمازجنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت پر۔کیونکہ یہ جنازہ دنیا بھر میں اہل پاکستان کی مذہبی وابستگی اور محبت رسول ﷺ کے مظہر اور محکم دلیل کے طور پر ملاحظہ کیا گیا۔ یعنی14 اگست 1947 کو یہ قوم دنیا کو پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ کے نعرہ پر جمع نظر آئی تھی اور 19 نومبر 2020 میں پاکستان کا مطلب کیا محمد الرسول اللہ کی عملی تصویر میں ڈھلتی دکھائی دے رہی تھی ۔ کیا حسن اتفاق ہے کہ 73 برس گزرنے کے بعد بھی نہ تو مقام بدلااور نہ ہی قوم کے جذبات ۔ مقام وہی پرانا مینار پاکستان تھا اور جذبات ازل سے عشق رسول ﷺ سے لبریز۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں