وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کوکو۔۔کورونا۔۔

جمعه 11 ستمبر 2020 کوکو۔۔کورونا۔۔

دوستو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا ویکسین اکتوبر کے مہینے میں مارکیٹ میں آسکتی ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ الیکشن تک میری قیادت میں کورونا ویکسین تیار کر لی جائے گی، اس کام میں 2 سے 3 سال لگ سکتے تھے، ہم نے انتہائی کم وقت میں کام کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ویکسین بہت محفوظ اور موثر ہے، دنیا خوش ہوجائے گی۔۔دوسری طرف ایپل اور گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ آپ کے موبائل میں اپنا کورونا وائرس کانٹیکٹ ٹریسنگ سافٹ ویئر بنائیں گے۔ ٹیکنالوجی کی دونوں بڑی کمپنیوں نے اعلان کیا کہ آئی او ایس اور اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹمز کے مستقبل کے ورژنز میں کمپنیوں کے کووڈ 19 نوٹیفکیشن سسٹم شامل ہوں گے جن کے لیے صارفین کو اس سے قبل ایپلی کیشن انسٹال کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔۔ یعنی اب دنیا کو سمجھ لینا چاہیئے کہ کورونا اب ہمیشہ کے لیے زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔۔
ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ اگلے ماہ یعنی اکتوبر میں کورونا ویکسین آنے کے لیے پرامید ہیں تو دوسری طرف پاکستانیوں کو ٹرمپ سے شدید عدم اتفاق ہے۔۔کورونا وائرس کی ویکسین آنے کی صورت میں 63فیصد پاکستانی اسے استعمال کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ یہ انکشاف بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے آئی پی ایس او ایس پاکستان کے سروے میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق 37 فیصد پاکستانی شہری ویکسین لگوانے کے لیے تیار ہیں۔ سروے کے مطابق 21فیصد پاکستانی 6 ماہ میں کورونا ویکسین آنے کے لیے پُر امید ہیں اور 27 فیصد کا خیال ہے کہ ویکسین آنے میں مزید ایک سال لگ سکتا ہیجب کہ 23 فیصد کا کہنا ہے کہ اس میں 2 سے 3 سال لگ سکتے ہیں اور 9 فیصد کو لگتا ہے کہ کورونا کی ویکسین 3 سال سے بھی زیادہ عرصے بعد آئے گی۔ویکسین آنے کی صورت میں 63 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسے نہیں لگوائیں گے۔ سروے میں 20 فیصد شہریوں نے رائے دی کہ کورونا وائرس کی ویکسین کبھی تیار نہیں کی جاسکے گی۔
برطانوی وزیرصحت میٹ ہینکوک نے عجیب انکشاف کیا ہے،نوجوانوں سے خطاب کے دوران انہوں نے فرمایا کہ 25 سال تک کی عمر کے افراد کو کورونا سے اتنا خطرہ نہیں تاہم وہ بزرگ شہریوں میں وائرس پھیلانے کا سبب بنتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ 25 سال تک کی عمر تک کے افراد میں کورونا وائر کی وبا خطرہ ہے۔۔ جب کہ پاکستان کے حوالے سے عالمی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں بغیر علامات والے کورونا کیسز کی تعداد دنیا بھر سے کہیں زیادہ ہے۔چونکہ بغیر علامات والے مریضوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اسی لیے برطانیا، اسپین اور دیگر متعدد ممالک کی طرح پاکستان کے اسپتالوں میں رش نہیں بڑھا اور مریضوں کی گنجائش کے مسائل پیدا نہیں ہوئے۔آغا خان یونیورسٹی کے تحت کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کراچی میں کورونا کے 10میں سے 9مریضوں میں اس وائرس کی کوئی علامت نہیں پائی جاتیں۔یونیورسٹی کی اس تحقیق میں اپریل سے جون کے درمیان شہر کے مختلف علاقوں میں وائرس کے زیادہ اور کم تناسب سے منتقلی کا جائزہ لیا گیا۔تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ 95 فیصد افراد جن میں خون کے ٹیسٹ (اینٹی باڈیز ٹیسٹ) کے ذریعے کووڈ 19 مثبت آیا،ان لوگوں میں کھانسی، بخار یا گلہ خراب جیسی کوئی علامات نہیں پائی گئیں۔ آسان الفاظ میں اگر کہا جائے تو ان مریضوں نے کورونا وائرس کی کوئی علامات کبھی محسوس نہیں کی۔امریکا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بیلی فاسڈک اور ڈاکٹر ڈینیل بیئرمور جیسے عالمی ماہرین کے تعاون سے یہ تحقیقی رپورٹ تیار کی گئی جس میں کہاگیا ہے کہ بچوں اور جوانوں کیاس وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی اتنا ہی ہے جتنا بڑی عمر کے افراد کو ہے۔۔
اب ذرا کورونا کے حوالے سے ایس او پیز اور احتیاطی تدابیر کی بات کرلیتے ہیں۔۔ یہ تو آپ سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیمی ادارے بند ہیں اور پندرہ ستمبر سے انہیں مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔۔ اس دوران آن لائن کلاسز ہوتی رہیں۔۔لیکن ارجنٹائن میں ہونے والے ایک واقعہ نے ثابت کردیا کہ آن لائن تعلیم بھی کورونا کے دوران غیر محفوظ ہے۔۔ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں آن لائن کلاس میں لیکچر دیتی خاتون پروفیسر کورونا وائرس سے ہلاک ہوگئی، 46سالہ پروفیسر پاولا دی سیمون کی طبیعت زوم لیکچر کے دوران سانس اکھڑنے سے اچانک بگڑی اورآن لائن طلبہ کے سامنے کلاس ہی میں دم توڑ گئی، پاولا نے مرنے سے قبل 28 اگست کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتایا تھا کہ وہ کورونا وائرس میں مبتلا اورصحتیابی کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔پاکستان میں بھی آن لائن کلاسز تو ہوئیں لیکن ایسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔۔ اب پندرہ ستمبر سے ہائی اسکول،کالج اور یونیورسٹیز کھل رہی ہیں۔۔ اب ذرا سوچیں، جب عام زندگی میں کوئی ایس او پیز کا خیال نہیں رکھ رہا تو کیا تعلیمی اداروں میں احتیاط کی جائے گی؟؟ گڈو کا دل اسکول جانے کا نہیں تو اپنے بھائی کو ماسک لگا کر بھیج دے گا۔۔ اسکول والے بھی جب سائنس کی ٹیچر نہیں آئیں گی تو کیمسٹری کی ٹیچر کو ماسک لگا کر پڑھانے بھیج دیں گے۔۔سائنس پر یاد آیا، جب بچپن میں ایک بار ہم سے ہماری سائنس ٹیچر نے سوال کیا تھا کہ۔۔بیٹا، بتائیں سائنس دان کسے کہتے ہیں؟ تو ہم نے برجستہ کہا۔۔ جس چیز میں سائنس رکھی جائے اسے سائنس دان کہتے ہیں۔۔ ٹیچرز کو بچے ڈرائیں گے ، ٹیچر،ٹیچر مجھے کورونا ہے، زیادہ ہوم ورک مت دینا ورنہ نزدیک آکر کھانس دوں گا ۔۔ کسی دوست نے سوشل میڈیا پر حکومت کو تجویز دی کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں احتیاط کے طور پر یہ ایس او پیز نافذ کی جائیں کہ ایک دن طلبا آئیں اور ایک دن ٹیچرز۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں لڑائی سے پہلے کہتے ہیں،تُو ہاتھ لگا کر دکھا۔۔اور لڑائی کے بعد کہتے ہیں۔۔تُو نے ہاتھ کیسے لگایا؟؟ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔ وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔

افغانستان میں نئی جنگ ! وجود منگل 20 جولائی 2021
افغانستان میں نئی جنگ !

امن کادرس وجود منگل 20 جولائی 2021
امن کادرس

تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول وجود منگل 20 جولائی 2021
تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول

خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد وجود پیر 19 جولائی 2021
خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین