وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

فرمودات باباجی۔۔۔

اتوار 06 ستمبر 2020 فرمودات باباجی۔۔۔

دوستو، باباجی ہمارے دوست نما ’’بزرگ‘‘ ہیں۔۔ بہت ہی ’’جولی‘‘ قسم کی شخصیت کے مالک، ہم نے انہیں ہمیشہ ہنستے ، مسکراتے اور جگتیں مارتے ہی دیکھا ہے۔۔حالات حاضرہ یعنی کرنٹ افیئرز پر ان کی اسی طرح نظر ہوتی ہے جیسے کسٹم والوں کی مسافروں کے سامان پر نظر ہوتی ہے۔۔ جتنا سنجیدہ ایشو ہو،باباجی کی ’’پھلجڑی‘‘ اس کا ستیاناس کردیتی ہے۔۔ مثال کے طور پر ان دنوں میاں نوازشریف کی وطن واپسی کے حوالے سے میڈیا پر جو بحث چل رہی ہے اس حوالے سے باباجی موجودہ سیاسی حالات پر تبصرہ فرماتے ہوئے کہہ رہے تھے۔۔ عنقریب میاں نواز شریف کی طرف سے عدالت کو یہ خط موصول ہونا والا ہے جس میں لکھا ہوگا۔۔ میں تواڈے لئی مرگیا، تسی میرے لیے مر گئے۔۔ اگر اینج نہیں تے فیر عدالت شہباز شریف کو بھی پابند کرے کہ وہ مجھے لینے ائرپورٹ پہنچے ورنہ میں نے نہیں آنا فیر۔۔
باباجی کی مادری زبان پنجابی ہے، اس لیے وہ اکثر اپنی عام بول چال میں پنجابی کا تڑکا ضرور لگاتے ہیں۔۔ ایک بار ہم باباجی کے ساتھ الیاس کوچ میں کورنگی سے بولٹن مارکیٹ جارہے تھے، کوچ کا ڈرائیور غیرمتوقع طور پر بس بہت ہی سلو رفتار سے چلا رہا تھا، پچھلی سیٹ پر بیٹھے باباجی سے رہا نہ گیا،فوری جملہ مارا۔۔۔ وے پت، تیری ریس آلی لت چھوٹی اے؟؟باباجی نے گزشتہ رات جمی محفل میں انتہائی عجیب و غریب انکشاف کیا، فرمانے لگے۔۔صرف خاموشی ہی آپ کو ملک کا صدر بناسکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی بھی خاتون پاکستان کی صدر نہیں بن سکی۔۔دوران گفتگو اچانک کہنے لگے، یار کافی عرصے سے گردن میں درد رہنے لگا تھا۔۔ مختلف ڈاکٹرز سے علاج کرایا کوئی افاقہ نہیں ہوا، پھر کسی نے ایک نیورو سرجن کا بتایا، اس نے تفصیلی چیک اپ کیا اور نسخہ لکھ دیا، جب میڈیکل اسٹور پر جاکر پرچی کھولی تو لکھا تھا ۔ ۔ لمبی تار والا چارجر لے لو۔۔باباجی فرماتے ہیں۔۔ منڈا ویاہ لو یا کوئی وڈا نوٹ تڑوا لوو۔۔بس فیر ہتھوں گیا ای سمجھو۔۔ایک بار ہمیں قصہ سناتے ہوئے بولے۔۔یار ہماری زوجہ ماجدہ ایک روز ہمیں کہنے لگیں، میں آپ کے لیے کتنا کام کرتی ہوں۔ پتہ ہے شادی کے بعد کام کر کر کے میرے دونوں ہاتھ چھوٹے ہو گئے ہیں۔۔باباجی اتنا کہہ کر تھوڑا رکے، گہری سانس لی، پھر گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں سے ٹوٹا تھا،کہنے لگے، ہمیں زوجہ ماجدہ کی یہ بات سن کر حیرت کا دھچکا لگا، پوچھ بیٹھے، تم نے ناپے کیا؟؟ وہ بڑی معصومیت سے بولیں۔۔ہاں جی! پہلے میں ایکسرسائز کرتی تھی تو ہاتھ سے پاؤں کا انگوٹھا پکڑ لیتی تھی،شادی کے 15 سال بعد آج کرکے دیکھا تو گھٹنوں تک ہی پہنچے۔۔دوسری شادی کی شدید خواہش رکھنے والے باباجی کہتے ہیں۔۔دوسرے ممالک میں دوسری شادی پر مبارک دی جاتی ہے، جب کہ ہمارے یہاں دوسری شادی والا گلی سے بھی گزرے تو لوگ کہتے ہیں۔۔اِنے دو کیتیاں نے۔۔۔
باباجی کہتے ہیں۔۔پوچھنا یہ تھا کہ یہ جو خواب ٹوٹ جاتے ہیں ان کی ویلڈنگ کہاں سے کراتے ہیں؟؟ وہ مزید فرماتے ہیں۔شکر ہے نظروں سے گرنے پر چوٹ نہیں لگتی ورنہ چند لوگ تو ہر وقت مرہم پٹی میں ہی رہتے۔۔وہ مزید فرماتے ہیں۔۔کچھ لڑکیاں ان کے سرپرعیش کرتی ہیں جن کے سرپربال ہی نہیں ہوتے۔۔بابا جی کہتے ہیں کہ سردیوں میں لڑکیوں کے منہ پر میک اپ ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے۔۔ٹھنڈے سالن پر گھی کی تری جمی ہوئی ہو۔۔پرانے زمانے کی بات ہے جب ٹی وی اتنا عام نہیں ہوا تھا۔۔باباجی دکان والے سے لڑپڑے کہ چھ سو روپے والا ریڈیو تین سوروپے میں دو۔۔ دکاندار منع کرتا رہا۔۔باباجی اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔۔ دو گھنٹے کی مغزماری کے بعد دکاندار تنگ آکر بولا۔۔ آپ اتنے مہنگے ریڈیو کے آدھی قیمت کیوں دینا چاہتے ہیں۔۔باباجی برجستہ بولے۔۔ میں ایک کان سے بہرہ ہوں۔۔ ۔ گزشتہ رمضان میں باباجی اور ہم ساتھ ہی گھر کے لیے افطار کا سامان خرید رہے تھے، انہوں نے گنڈیری والے سے پوچھا، گنڈیریاں کی پالائیاں ای؟؟ وہ بولا، ستر روپے کلو۔۔باباجی نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔۔کیوں قیمے آلیاں نے؟؟باباجی گلی میں اپنے گھر کے باہر کرسی ڈالے تشریف فرما تھے، کسی چاہنے والے نے گزرتے ہوئے پوچھ لیا۔۔ہور باباجی بیٹھے او؟؟ وہ آگے سے بولے۔۔نئیں پُت فٹ بال کھیل رئے آں، تُو وی آجا ۔۔۔
کل رات تقریبا چار بجے ،جب میں فیس بک چلاچلاکر شدیدقسم کا بور ہوگیا تو اسی وقت ایک خوب صورت، خوب رو، حسین و جمیل ڈی پی والی لڑکی کا میسیج آیا، جناب کیسے ہو؟؟ میں فوری طور پر آنکھوں کو مسلتا ہوا اٹھا اور جلدی سے جواب دینے لگا۔۔ہم تو اسی حال میں خوش ہیں جس میں تم کو خوشی ہو۔۔ میرے جواب پر اس نے فورا ہی ایک دل والی ایموجی بھیجی، اس کا معلوم نہیں پر یقین جانو میں اسے محبت کی پہلی سیڑھی سمجھنے لگا۔۔۔پھر یہ عارضی گفتگو پورے پون گھنٹے تک تسلسل کے ساتھ جاری رہی۔۔جس میں خصوصی طور پر فیس بک کی ان دو شیزاؤں کے بارے بات ہوئی جو خصوصا کسی گروپ میں ایڈ کرکے بلاک یا ان فرینڈ کردیتی ہیں، اور وقت کا ایک کثیر حصہ اپنی حالت حاضرہ بتانے میں گزر گیا کہ آیا آپ کنواری ہو؟یا شادی شدہ؟یاپھر منگنی یافتہ؟شرما کر کہنے لگی۔۔ابھی تک تو کنواری ہوں آپ کی طرح۔۔میں اس کی بات سن کر سکتے میں آگیا کہ ایک اجنبیہ کو میری حالت کیسے معلوم؟میں نے فورا پوچھا آپ کو کیسے پتہ کہ میں کنوارہ ہوں؟۔۔جھٹ سے جواب آیا۔۔وہ اس لیے کہ محبت میں دو جسم ایک ہو جاتے ہیں، اور میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔۔ اس کا جواب سن کر یقین مانو میں بغیر کسی چرس یاپھر نشے کے فضا میں اڑنے لگا، کہ اچانک مجھے نیند آنے لگی اور میں نے اپنی دونوں آئی ڈیاں (فیک اور رئیل) لاگ آؤٹ کیں اور بستر میں سر دے کر سوگیا ۔۔باباجی کی حرکتیں دیکھو، فرماتے ہیں۔۔اسی لیے کہتے ہیں، فیک آئی ڈی سے ضروری نہیں آپ لڑکوں کے جذبات سے کھیلو، آپ اسے اپنے دل کو سکون دینے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہو ۔۔باباجی کا کہنا ہے۔۔فیس بک سے ہمیں یہ آگہی حاصل ہوئی کہ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ پرائمری اور مڈل سرکاری اسکولوں میں دریوں پر بیٹھ کر پاس کیا تھا ،وہ کیمرج اور آکسفورڈ سے بھی پڑھے ہوئے ہیں۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔باباجی فرماندے نے۔۔ اے زندگی ہمیں نچا لیکن گانے تو اچھے بجا۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں