... loading ...
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کی شام ہونے والے ایک بڑے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 113 تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکام نے چار ہزار سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔3لاکھ افراد کے بے گھر ہونے اور3 سے 5 ارب ڈالر کے املاک کی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔یہ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں ایک گودام میں مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے بعد ہوا اور یہ اتنا شدید تھا کہ پورا شہر ہل کر رہ گیا۔اس کی شدت اتنی تھی کہ اس کے اثرات 240 کلومیٹر دور مشرقی بحیر روم کے ملک قبرص میں بھی محسوس کیے گئے جہاں لوگوں نے اسے زلزلہ سمجھا۔دھماکے سے قبل بندرگاہ میں متاثرہ مقام پر آگ لگی دیکھی گئی جس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا اور جائے حادثہ پر نارنجی رنگ کے بادل چھا گئے۔اس دھماکے سے بندرگاہ اور اس کے نواح میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور کاروباری اور رہائشی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ملک کے صدر عون مشیل نے اس حادثے پر بدھ سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صددر مچل عون نے کہا کہ 2ہزار 750ٹن امونیم نائٹریٹ کا فرٹیلائزر اور بموں میں استعمال کیا گیا جسے بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے چھ سال سے پورٹ پر ذخیرہ کیا جا رہا تھا اور یہ عمل ناقابل قبول ہے۔انہوں نے بدھ کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے دو ہفتے کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ کابینہ نے دھماکے کے اسباب معلوم کرنے کے لیے بندرگاہ پر تعینات عملے کو حراست میں لینے کے احکامات کی منظوری دے دی ہے۔ بیروت شہر کے گورنر مروان عبدود کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے مین 3 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور انتظامیہ متاثرین کو سائبان، خوراک اور پانی وغیرہ کی فراہمی کررہی ہے۔تاحال دھماکے کی مصدقہ وجہ سامنے نہیں آسکی ہے تاہم ابتدائی طور پر حکام کی جانب سے یہ دعوی سامنے آیا تھا کہ بیروت کی بندرگاہ کے نزدیک گوداموں میں رکھا 2ہزار 750 ٹن ضبط کیا گیا امونیم نائٹریٹ نامی کیمیائی مادے میں بھڑکنے والی آگ سے ہولناک دھماکا ہوا۔یہ دھماکہ بظاہر ایک گودام میں موجود امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں ہوا ہے تاہم اس سلسلے میں سرکاری طور پر ابھی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔لبنانی صدر نے کہا ہے کہ یہ امونیم نائٹریٹ ایک گودام میں غیرمحفوظ طریقے سے چھ برس سے موجود تھی۔لبنانی وزیراعظم حسن دیاب نے کہا ہے کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ ویئر ہاوس میں 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ موجود تھی۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکانٹ پر پیغام میں لکھا کہ میں تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک مجھے اس واقعے کے ذمہ دار کا نہ پتا چل جائے تاکہ اس کا محاسبہ کیا جائے اور بہت سخت سزا دی جائے۔لبنانی صدر نے مزید کہا ہے کہ ان کی حکومت ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے 100 ارب لیرا جاری کر رہی ہے جو کہ ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کے مساوی رقم بنتی ہے۔متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں ابھی بھی جاری ہیں اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔عالمی برادری کی جانب سے اس واقعے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر لبنانی حکومت اور عوام سے اظہار افسوس کیا گیا ہے۔برطانیہ، امریکہ، جرمنی، اسرائیل اور ایران کے حکام نے اپنے پیغام میں مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔دوسری جانب فرانس، یورپی یونین، جرمنی، جمہوریہ چیک، یونان، پولینڈ، قطر اور نیدر لینڈ سمیت مختلف ممالک کی جانب سے بیروت کے لیے امدادی سامان اور عملہ روانہ کیا جارہا ہے،وزیر اعظم عمران خان نے بیروت میں دھماکے اور قیمتی جانوں کے ضیا ع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس مشکل وقت میں اپنے لبنانی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...