وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

بدھ 05 اگست 2020 مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

آئیے ایک منٹ خاموش ہو جاتے ہیں، تھوڑا اور’’ ایثار‘‘ کرتے ہیں، یوم استحصال مناتے ہیں۔ اگر یہ ایک منٹ کی خاموشی دو منٹوں پر محیط ہوجائے تو سماجی رابطوں کے متوزای ذرائع ابلاغ پر غلغہ تو یہ ہے کہ کشمیر کیا، فلسطین بھی آزاد ہو جائے گا۔ افسوس ! افسوس!! اس طرز فکر سے اب گھِن آنے لگی ہے۔

اس بات کو اب پون صدی بیت گئی،اپریل 1936ء کو سید مودودیؒ کے ’’اشارات‘‘ میں نکتہ بیان کردیا گیا :
’’قوت ڈھل جانے کا نام نہیں ہے ، ڈھال دینے کا نام ہے ۔ مُڑ جانے کو قوت نہیں کہتے ، موڑ دینے کو
کہتے ہیں۔ دنیا میں کبھی نامردوں اور بزدلوں نے کوئی انقلاب پیدا نہیں کیا‘‘۔
اکبر الہ آبادی کے ہاں یہی فکر منظوم ہو کر یوں تحریک دیتی ہے:۔
لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں
لسان العصراکبرالہ آبادی، سرسید احمد خان کے ناقد تھے، انتقال ہوا تو اعتراف کیا:
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے
نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں
دیکھیے کنفیوشش نے کس طرح راز فاش کیا:
’’کسی چیز کو درست سمجھ کر اس پر عمل نہ کرنا بزدلی ہے‘‘۔

پاکستان کی قومی شریعت کو اس فہم و فراست سے کوئی نسبت نہیں۔ یہاں الفاظ کے خراچ اور عمل کے قلاش رہتے ہیں۔ گولہ باری کا کام گانا باری سے لیتے ہیں۔ ایک منٹ کی خاموشی سے بھارت کے پرخچے اڑاتے ہیں۔ مذہبی گدیوں پرنخریلی زبان اور لچکیلے انداز سے براجمان رہتے ہوئے نظر سری نگر پر رکھتے ہیں۔ حرکتیں سقوطِ غرناطہ کے آخری حکمران ابو عبداللہ کی ہیں مگر باتیں سلطان صلاح الدین ایوبی کی کرتے ہیں۔ تاریخ سقوطِ ڈھاکا کی رکھتے ہیں۔ مگر دعوے دنیاجہان کے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ہمارے ارد گرد ایسے واقعات نے جنم لیا ہے جو قومی راہِ عمل کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ترکی یورپ کا مردِ بیمار سمجھا جاتا تھا۔ مغرب کی اتباع میں ترکی کی مسلم سیاسی جماعتوں نے بھی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی تھی۔یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ ترکی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے اُسی طرح شرائط پوری کرنے کے جتن کرتا رہا جس طرح آج کل ہم ایف اے ٹی ایف کی شرائط کی تکمیل میں مرے جارہے ہیں۔پھر ترکی نے اس پھندے سے جان چھڑائی اور انحصار کے بجائے اپنی قوت کے مراکز تلاش کیے۔ آج ترکی اردگان کی قیادت میں اُس عالمی صف میں شامل ہے جو اپنے تیور خود طے کرتے ہیں۔ وہ طاقت وروں کی پالیسی کو دھیان میں نہیں رکھتے بلکہ طاقت ور وں کو اپنی پالیسی میں اس کا دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ اپنی قوت سے بروئے کار آنے والے ممالک اپنی دنیا آپ بناتے ہیں۔ آیا صوفیا کو مسجد بنانے کا فیصلہ اسی قوت سے پیدا ہوا۔ حاشیہ بردار سیکولر اور لبرل ذہن تو کجا ، مغربی معیارات کے اندر اسلام کی تعبیرات کے متلاشی بھی اس بنیادی بات کو نظرانداز کرتے ہیں۔دوسری مثال چین کی ہے۔ چین بھی 5؍ اگست 2019ء کے اُس بھارتی فیصلے سے متاثر ہوا تھا جس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بدل دیا تھا۔ مگر چین نے نغموں اور ترانوںپر دھیان نہیں دیا۔ جمعہ کے روز اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں پہننے کے ڈرامے نہیں کیے۔ چینی صدر نے خو د کو لداخ کا سفیر یا وکیل کہلانے کے بیانات نہیں داغے۔ چین نے چپ سادھے رکھی اور اپنے اقدامات کی خاموش تیاری کی۔ اپنی خاموشی میں جو بولتے ہیںاُنہیں زبان ہلانی نہیں پڑتی۔ چین نے انتہائی خاموشی سے بھارت کے خلاف اپنی منصوبہ بندی مکمل کی اور لداخ کا کنٹرول واپس لے لیا۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ چین بھارت سے طے شدہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے بھی آٹھ کلومیٹر اندر تک جا گھسا ہے، جہاں اُس کا کیمپ قائم ہے۔ بھارت اپنی ہزیمت کے زخم چاٹ رہا ہے۔ اور امریکا سمیت کسی ملک میں ہمت نہیں کہ وہ چین کو تنبیہ تو کجا ، درخواست بھی کرسکے۔ اس دوران میں چینی حکمرانوں نے بیانات داغے نہ نغمے بنائے۔ یہ عمل کی دنیا ہے۔اکبر الہ آبادی کو دُہرائیے:
مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ کوئی روایتی بیانیہ نہیں۔ یہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ کا وہ پتھر ہے جو پاکستان کو پاکستان بنائے رکھتا ہے۔درحقیقت کشمیر کی آزادی جتنی کشمیریوں کے لیے ضروری ہے، اُس سے کہیں زیادہ یہ پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔اگر کوئی یہ بات نہیں سمجھتا تو اچھی طرح سمجھ لے، کشمیر خدانخواستہ بھارت کے ہاتھ چلا گیا تو بھی پاکستان کے ساتھ اس کا تنازع کبھی ختم نہیں ہوگا۔ وہ اگلے ہی دن پاکستان کے اندر ایک نیا ’’کشمیر‘‘ پیدا کرلے گا۔ کیونکہ اُس کے توسیع پسندانہ عزائم میں پاکستان بھی کم پڑتا ہے۔ یہ بات نیپال کی سمجھ میں آگئی، مگر ہماری سمجھ میں پوری طرح نہیں آئی۔ بھارت پاکستان کے تمام شہروں میں نفوذ کرتا جارہا ہے۔ دہشت گردی سے لے کر ہر قسم کی غنڈہ گردی وہ اختیار کیے رکھتا ہے۔ کشمیر کا مقدمہ تو کجا،پاکستان اسے بھی عالمی سطح پر پوری طرح اُجاگر نہیں کرپارہا۔ اگر کر بھی لے تو دنیا کو اس سے کیا سروکار؟بھارت وہی کررہا ہے جو دنیا کی تمام بالادست قوتیں کررہی ہیں۔ بھارت ان قوتوں کے ساتھ شریکِ جرم ہے۔ اس لیے یہ نکتہ بھی پوری طرح ہماری پالیسی کے محوری متن میں زیادہ مفید نہیں کہ عالمی سطح پر بھارت کو بے نقاب کیا جائے۔ درحقیقت بھارت کے ساتھ’’ جیسے کو تیسا‘‘ کی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس باب میں یہ نکتہ ہمیشہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ کشمیر کی آزادی کی جنگ کا میدان صرف سری نگر نہیں ہے۔ اس پالیسی نے اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں کی کہ کشمیر کی آزادی کی جنگ صرف سفارتی اور سیاسی امداد تک محدود رکھی جائے اور باقی سب کچھ سرزمین کشمیر کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ پالیسی کا یہ سقم بھارت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ بھارت ایک غیری فطری جغرافیہ رکھتا ہے۔ یہ کبھی بھی اس طرح قائم نہیں رہ سکتا ۔ صر ف کشمیر نہیں، بھارت میں دیگر ریاستیں بھی اس جغرافیے میں درست طور پر نہیں سماپارہیں۔بھارت کے اندرون میں ایک کشاکش برپا ہے۔ یہ وقت اس کھیل کو پوری طرح سمجھ کر چین کے ساتھ نئی ہم آہنگی پیدا کرنے کا ہے۔ چین بھارت کے خلاف آمادۂ پیکار ہے۔ کیونکہ بھارت نے امریکی عزائم کا چارہ بن کر اس کے خلاف ایک ہائبرڈ جنگ شروع کررکھی ہے۔ چین نے لداخ میں اس کا جواب دیا ہے۔ مگر یہ جنگ جاری ہے اور تادیر اِسے بھیس بدل بدل کر جاری رہنا ہے۔ چنانچہ یہ وقت ہے کہ کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں ایک جوہری بدلاؤ لایا جائے۔ باتوں سے نہیں عمل سے کشمیر کے حقائق کو تبدیل کیا جائے۔ بھارت کے اندرون میں اس کے ’’نازک مقامات‘‘ کی درست تفہیم کی جائے۔ اور دنیا میں کشمیر کے حوالے سے مقدمہ کو نئے الفاظ وتراکیب سے ترتیب دیا جائے جس میں بنیادی نکتہ یہ ہو کہ دنیا کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے میں ہی ناکام نہیں ہوئی بلکہ وہ بھارت کو ایک نیا 5؍ اگست بھی کرنے سے نہیں روک سکی۔ اس لیے اب پاکستان اپنی کسی عالمی ذمہ دار ی کے لیے جوابدہ نہیں۔ اس کے لیے ایک ذرا حوصلہ درکار ہے۔ اس کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو وہ قینچی چھوڑنی پڑے گی جو کسی مریدنی کے بال کترنے کے لیے اُن کے ہاتھوں میں دکھائی دیتی ہے۔ وزیر اعظم کو اپنی زبان پر کچھ دیر کے لیے ٹانکے لگوانے پڑیں گے کہ بولنا ہی نہیں چپ رہنا بھی ایک کام ہوتا ہے۔ کچھ وقت کے لیے ہمیں نغموں ، ترانوں اور نعروں کی عادت کو ترک کرنا پڑے گا۔ جو جذبوں کو جذبات میں خرچ کردیتے ہیں۔شاعر نے کہا تھا:

بھنور سے لڑو تند لہروں سے اُلجھو
کہاں تک چلو گے کنارے کنارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
غم و شرمندگی وجود بدھ 08 دسمبر 2021
غم و شرمندگی

گامیرے منوا وجود بدھ 08 دسمبر 2021
گامیرے منوا

گوادر دھرنا اورابتر گورننس وجود بدھ 08 دسمبر 2021
گوادر دھرنا اورابتر گورننس

تندور بنتی دنیا وجود بدھ 08 دسمبر 2021
تندور بنتی دنیا

کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

اشتہار

افغانستان
اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی وجود بدھ 08 دسمبر 2021
اقوام متحدہ میں افغانستان کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی

طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز