وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چین اِن سی

پیر 20 جولائی 2020 چین اِن سی

اٹھارہ سو چالیس میں ایک برطانوی بحری بیڑہ چین کے پرل دریا کے دہانے میں داخل ہوا اور چین کی کمزور بحریہ کو صرف پانچ گھنٹوں میں تباہ و برباد کر دیا۔برطانوی بحریہ کے اِس حملے میں چین کی بحریہ کے بیس سے پچیس ہزار فوجی ہلاک ہوئے جبکہ برطانیہ کے صرف انہتر فوجی ہلاک ہوئے۔برطانیہ نے چین کے سمندروں کو فتح کرنے کے بعد ایک ایسا معاہدہ کیا جس کے تحت اس نے پانچ بندرگاہیں کھولنے کی اجازت حاصل کرلی اور برطانیہ نے اسی مشہور زمانہ معاہدے کے تحت ہانگ کانگ جزیرے کو اپنے اختیار میں لے لیایہ چین کی اپنے سمندروںمیں پہلی عبرت ناک شکست تھی اور شاید آخری بھی ۔ آخری اس لیے کہ اُس واقعہ کے بعد چین نے پھر کبھی بھی کسی ملک کے خلاف بحری جنگ لڑنے کی کوشش نہیں کی ۔ برسوں پرانی سمندر میں چین کو ملنے والی یہ بحری شکست سمندر وں پر چین کی حکومت کا خاتمہ ثابت ہوئی اور چین اپنی سمندری حدود کا بیشتر حصہ گنوا بیٹھا ۔ لیکن چین کبھی بھی اُس بحری جنگی شکست پر حاصل ہونے والے زخموں کو بھلا نہیں پایا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب اور قرین قیاس ہوگا کہ چین نے قومی سطح پر ہر ممکن کوشش اور اقدامات کیے کہ چینی قوم کسی بھی طرح سے اپنی اِس بحری شکست کو بھولنے نہ پائے ۔برسوں سے چین میں بچوں کو ابتدائی تعلیم کے دوران ہی چین کو بحری جنگ میں حاصل ہونے والی شکست سے متعلق خصو صی تعلیم باقاعدگی کے ساتھ فراہم کی جاتی رہی۔اِس تعلیم میں چینی بچوں کو بتایا جاتا تھا کہ’’ برطانوی سلطنت نے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کرچینیوں پر کیا کیا ظلم ڈھائے اور یاد رکھو ایک نہ ایک دن ہم نے اپنے چینی سمندر واپس حاصل کرنے ہیں‘‘ ۔لگتا یہ ہے کہ چین نے اپنی سمندری حدود واپس لینے کی طرف عملی پیش رفت کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے ۔ جس کا ایک واضح ثبوت امریکا وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا حال میں ہی جاری ہونے والا بیان ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے تازہ ترین بیان میں چین کو براہ مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ چین کی جانب سے بحیرہ جنوبی چین کے اندر چند علاقوں میں موجود قدرتی وسائل کو حاصل کرنے کی چینی جدوجہد ’’مکمل طور پر غیر قانونی‘‘ ہے اور بیجنگ کی جانب سے متنازع پانیوں’’کو کنٹرول کرنے کے لیے ہراساں کرنے کی مہم بالکل ناقابل قبول ہے‘‘۔واضح رہے کہ مائیک پومپیو کے اِس بیان میں اشارہ اُسی سمندری حدود کی جانب اشارہ ہے جس کا بیشتر حصہ اِس وقت بھارت ، نیپال ، انڈونیشا، ملائشیا، بھوٹان،برونائی ،تائیوان،ویتنام اور دیگر ممالک کے زیراستعمال ہے ۔ یہ تقسیم برطانوی افواج نے 1947 کے آس پاس اُس وقت کی تھی جب وہ اپنے آپ کو لندن کی بنیادی حدود میں محدود کرنے کی کوشش کررہاتھا۔لیکن چین نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ برطانوی حکومت نے ماضی میںجوبھی تقسیم کی تھی وہ منصفانہ تھی بلکہ چین کے نزدیک 1947 میں برطانوی حکومت نے جو بھی نئے نقشہ یا ممالک بنائے اُ میں چین کے مفادات کا ہر گز لحاظ نہیں رکھا گیا تھا،خاص طور پر سمندری حدود کی نئی حد بندیاں اور تقسیم کرتے ہوئے ۔ لہٰذا اَب چین وہ ہی سمندر واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جو چین کے پاس 1840 سے پہلے ہوا کرتا تھا ۔ اسی لیے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کے بیان کے جواب میں چین کا کہنا ہے کہ ’’ امریکا جان بوجھ کر حقائق اور بین الاقوامی قوانین کو مسخ کرتا ہے،جبکہ’’نائن ڈیش لائن‘‘ کہلانے والے سارے سمندری علاقے چین کے ہیں، جبکہ امریکا خطے کی صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے ،تاکہ چین اور بحری خطے کے دیگر ممالک کے درمیان مخاصمت کو بڑھاوا مل سکے۔اس لیے چین کے نزدیک تمام امریکی الزامات مکمل طور پر بلاجواز اور لغو ہیں،جن کی چین بھرپور مخالفت کرتا ہے۔ ‘‘۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چین اپنے دعوے کو بھرپور تقویت دینے کے لیے اِن سمندری علاقوں سے متصل ممالک کے ساتھ سفارتی و معاشی تعلقات بڑھا کر یہاں کئی نئے جزیرے پہلے ہی قائم کرچکا جہاں چین نے گزشتہ کچھ عرصہ میں اپنی عسکری موجودگی میں بھی زبردست اضافہ کیا ہے۔
ویسے تو’’نائن ڈیش لائن‘‘ کہلانے والے یہ علاقے بالعموم مکمل طور پر غیر آباد ہیں مگر یہاں جزیروں کی دو ایسی لڑیاں ضرور موجود ہیں جن میں قدرتی وسائل کے عظیم الشان ذخائر موجود ہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ سمندری علاقہ جہاز رانی کا ایک ایسا منفرد راستہ بھی ہے ،جسے مستقبل میں چین اپنے عسکری مقاصد کے لیے بھی بخوبی استعمال کرسکتاہے۔ حالیہ سالوں میں یہاں امریکا نے چین کے لیے کئی تنازعات کو مختلف ممالک کی مدد سے اُبھارنے کی کوشش کی ہے۔کیونکہ چین کی طرح ان تمام ممالک کا بھی اس سمندر میں موجود جزیروں کی دو غیر آباد لڑیوں پیراسیلز اور سپریٹلی پر ملکیت کا دعویٰ ہے۔لیکن چین اِن ممالک کے برعکس صرف ایک ،دو جزیروں پر ہی نہیں بلکہ سب سے بڑے خطے یا یوں کہہ لیں کہ تمام سمندری علاقہ پر ہی ملکیت کا دعوے دار ہے اور چین کے مطابق اس کا یہ حق اور دعوی صدیوں پرانا ہے۔ اپنے اِس حق سے دست بردار ہونے کے لیے چین کسی کی بھی عسکری دھمکی یا سفارتی درخواست سننے کو بالکل بھی تیار نہیں ہے ۔ تاہم سمندرپر حکومت کرنے کے لیے دعووں اور بیانات کے بجائے ایک بہت بڑی بحری قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور چین کو 1840 میں حاصل ہونے والی عبرت ناک شکست کے بعد یہ بات بخوبی سمجھ آچکی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں انتہائی خاموشی کے ساتھ اپنی بحری قوت کو جدید خطو ط پر از سرنو منظم کیاہے۔ عام خیال تو یہ ہے کہ اِس وقت سب سے بڑی بحری قوت امریکا ہے لیکن کچھ ذرائع اشارہ کرتے ہیں کہ چین کی بحری قوت صرف عددی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ عسکری و دفاعی لحاظ سے بھی امریکا بحریہ سے کہیں زیادہ منظم اور موثر ہے ۔ مگر چونکہ چینی بحریہ میں تعمیر و ترقی کا سارا عمل انتہائی خفیہ انداز اور رازداری سے کیا جارہا ہے لہذا عسکری ماہرین چین کی بحری قوت کے بارے میں صرف اندازے ہی لگاسکتے ہیں اور یقین سے کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتے ۔ مگر ایک بات طے ہے کہ زمین کے اردگرد پھیلے ہوئے سمندر میں تجارتی بندرگاہوں پر اثرو نفوذ کی بات کی جائے تو چین کا پلہ امریکا کی بہ نسب کہیں زیادہ بھاری دکھائی دیتاہے۔
چین نے اپنی روزبہ روز بڑھتی ہوئی عالمی تجارتی قوت کو بروقت استعمال کرتے ہوئے امریکا کے کم و بیش تما م ہی اتحادیوں کے اردگرد ایک مضبوط بحری نیٹ ورک قائم کردیا ہے مثلاً اگر چین کی بغل میں بیٹھے ہوئے امریکا کے سب سے اہم دفاعی اتحادی بھارت کی بات کی جائے تو وہ بھی اِس وقت مکمل طور پر چینی بحریہ کے نرغے میں آچکا ہے۔ بنگلہ دیش کی بندرگاہ ہو یا پھر نیپال ،سری لنکا یہ بھوٹان کی سمندری حدود سب جگہ چین کا مکمل کنٹرول پایا جاتاہے ۔ اہم ترین خبر تو یہ ہے کہ ایران میں قائم چاہ بہار بندرگاہ جس پر بھارت کروڑوں ڈالر پانی کی طرح بہائے تھے فقط اِس لیے کہ پاکستان میں قائم گوادر کی بندرگاہ کو عضو معطل بنا دیا جائے ۔اُس چاہ بہار کی بندرگاہ کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہاں پر چین نے مکمل قبضہ کرلیا ہے اور بھارت کو دودھ میں پڑی ہی کسی مری ہوئی مکھی کی طرح پکڑ کر باہر پھینک دیا گیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ ایران نے چاہ بہار بندرگاہ سے افغانستان کی سرحد کے نزدیک واقع شہر زاہدان تک ریلوے لائن بھی بھارت کی مدد کے بغیر خود تعمیر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔بظاہر اِس بابت بتایا یہ جارہا ہے کہ ایران نے یہ فیصلہ ریل کے اس منصوبے کی تعمیر کے لیے بھارت کی جانب سے فنڈز کی عدم دستیابی اور اسے شروع کرنے میں تاخیر کے سبب کیا ہے۔لیکن ذرائع کے مطابق حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے اور ایران نے بھارت کو اِس منصوبہ میں چین کے ایما اور خواہش پر بے دخل کیا ہے۔
یہاں ایک بات اور اچھی طرح سے ذہن نشین رہے کہ بھارت اور ایران کے درمیان ریلوے لائن بچھانے کا یہ معاہدہ اس وقت طے پایا تھا جب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیرکے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے ایران کے دارالحکومت تہران گئے تھے۔ایرانی ریلویز اور بھارت کی سرکاری کمپنی انڈین ریلویز کنسٹرکشن لمیٹیڈ کے درمیان یہ معاہدہ انڈیا، افغانستان اور ایران کے درمیان ایک متبادل تجارتی راستہ تعمیر کرنے کے ایک عظیم الشان منصوبے کا حصہ تھا۔ایران کی طرف سے یک طرفہ طورپر بھارت کو اس منصوبے سے الگ کیے جانے کی خبر بھارت کے سفارتی حلقوں کے لیے ایک بڑا اور بھیانک دھچکہ ہے۔کیونکہ اِس جگہ بیٹھ کر بھارت نے سمندر میں موجود چین کی عسکری و بحری اثاثوں پر گہری نظر رکھنی تھی اور امریکا کی آشیر باد سے بوقت ضرورت چین کے خلاف یہاں سے لڑنا بھی تھا ۔لیکن ایران کے اِس یک طرفہ اقدام نے امریکا اور بھارت دونوں کے عزائم پر منوں خاک ڈال دی ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ اگر چین اور ایران کے درمیان تعاون اور اشتراک کاکوئی خفیہ اور طویل المدتی معاہدہ واقعی طے پا گیا ہے تواِس کا سادہ سا مطلب یہ ہی لیاجاسکتا ہے کہ چین سے لے کر پاکستان تک اور پاکستان سے لے کر ایران تک کے سمندر تک چین کو مکمل کنٹرول حاصل ہوگیا ہے۔
چین کا نیلے پانیوں پر تیزی کے ساتھ بڑھتا ہو ااثرو نفوذ امریکا اور اِس کے اتحادیوں کی بحری طاقت کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔کیا چین کے خلاف بننے والا خفیہ عسکری اتحاد ’’سکس آئی ‘‘ جس میں امریکا ،برطانیہ ،آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ اور جاپان شامل ہیں ۔جوابی طور پر چین کے سمندر میں پھیلتے ہوئے بحری قدموں کے آگے کوئی روک ،ٹوک لگا سکیں گے؟۔ یا پھر خاموشی کے ساتھ ’’سکس آئی ‘‘ کے اہم ترین اتحادی بھارت کی سفارتی و عسکری محاذ پر چین کے ہاتھوں ہونے والی پے در پے شکستوں کا بس تماشہ ہی ملاحظہ کیا جاتا رہے گا۔ اگر اس اہم ترین مقام پر بھی ’’سکس آئی ‘‘ چپ سادھے رکھتی ہے تو وہ پھر وہ دن جلد ہی آنے والا ہے جب دنیا کے ایک تہائی سمندر پر صرف چین کا ہی راج قائم ہو گااور سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ مستقبل میں جس کا راج نیلے پانیوں پر ہوگا وہی اصل میں اِس دنیا کی واحد عالمی طاقت کہلانے کا اصل حقدار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں