وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

قانون اور فطری انصاف کے اصول

پیر 29 جون 2020 قانون اور فطری انصاف کے اصول

دربار شاہی اپنے بھرپور جاہ و جلال کے ساتھ سجا ہوا تھا۔ کاروبار سلطنت کو چلانے کے لیے فرامین جاری ہورہے تھے۔ بادشاہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ تخت پر جلوہ افروز تھا جبکہ دیگر وزراء و درباری بادشاہ کے دیگر اپنے اپنے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے زرق برق لباس میں ملبوس کرسی نشین تھے۔ رعایا میں سے اجازت یافتہ اپنے مسائل بادشاہ کے سامنے بیان کرکے ان کے حل کے فرمان حاصل کررہے تھے۔ اس دربار کو اس طرح سجایا گیا تھا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے سفراء اور قاصدوں پر سلطنت کی دھاک اور ان کے دلوں میں بادشاہ کا رعب سرایت کرجائے۔ اسی اثناء میں ایک قیدی کو بادشاہ کے حضور پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ وہ غیر ملکی ہے اور اس کی زبان کوتوال کو سمجھ نہیں آرہی۔ غیر ملکی کا سن کر بادشاہ کے تیور بدل گئے اور فوراً اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنا دیا ،نہ مقدمہ نہ الزام نہ گواہ نہ ثبوت بس سزا۔ لیکن بادشاہ تو بادشاہ ہے کسی کی اتنی مجال کہ بادشاہ کے سامنے زبان کھولے۔ ایسے ہی موقع کے لیے حضرت علی ؓ نے فرمایا ہے کہ بادشاہ کا مصاحب شیر کا سوار ہے، لوگ تو اس کی حالت پر رشک کرتے ہیں لیکن اپنی حالت سے وہ خود واقف ہوتا ہے یعنی جو افراد بادشاہ یا صاحب اقتدار کے درباری و دوست ہوتے ہیں تو لوگ ان کورشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ان درباریوں اور دوستوں کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہماری کوئی بات بادشاہ کو ناگوار گزری تو بس پھر خیر نہیں اور پھر مقدر میں کم از کم سزا عمر قید یا سزا ئے موت ہے۔
بہرحال واپس اسی دربار میں چلتے ہیں، جہاں بادشاہ نے بغیر الزام،گواہ و ثبوت کے سزا ئے موت سنائی تھی۔ دربار سکوت میں تھا ، بادشاہ کی آواز کی گونج نے دربار میں موجود افراد کی رگوں میں خون کی روانی کو منجمد دیا تھا۔ اسی سناٹے میں سزا یافتہ قیدی کی آواز سنائی دی اور اس نے اپنی زبان میں بادشاہ کو مغلظات بکنا شروع کردیں۔ درباری جو پہلے ہی سکتے میں آچکے تھے، قیدی کی زبان درازی پر حواس باختہ ہوگئے کیونکہ قیدی کا بے باک لہجہ اور انداز بتا رہا تھا کہ وہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر کسی طرح کی التجا کے بجائے بادشاہ کی شان میں گستاخی کررہا تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزراء کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ان میں سے ایک زیرک وزیر نے کھڑے ہوکر عرض کی بادشاہ سلامت میں اس کی زبان جانتا ہوں یہ قیدی آپ کی تعریف کررہا ہے، آپ کا اقبال بلندہو، آپ کو دعائیں دے رہا ہے۔ یہ سن کر بادشاہ کا رویہ بدلا اور فوراً اس قیدی کی رہائی کے حکم کے ساتھ انعام و اکرام کا حکم صادر کیا۔ آپ یقینا سوچ رہے ہونگے کہ اس واقعہ کا فطری انصاف یا نصفت کے اصولوں سے کیا واسطہ ہے تو عرض یہ ہے فطری انصاف کے اصولوں نے اسی طرح کی عدالت کارد کیا۔ اس طرح کے رویوں کی حامل عدالتوں کو کبھی چوپٹ راج کا نام دیا گیا تو کبھی جنگل کا قانون کہا گیا ،جہاں طاقتور جو چاہے فیصلہ کردے۔ اس طرح کے فیصلے کسی ایسے شخص کے سامنے رکھیں جو اصول قانون سے واقف نہ ہو تو وہ بھی جواب دے گا کہ یہ غلط ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اس شخص کو بتایا کہ ایسا فیصلہ انصاف نہیں، یقینا اس کا جواب وہی انسان کی جبلت میں بیٹھا ضمیر نامی جج ہے جسے فطرت نے مقرر کیا ہے جب قانون باقاعدہ طور پر مرتب نہیں ہوا تھا، اس وقت بھی فریقین کے درمیان فیصلے کیے جاتے تھے، اس وقت فیصلہ کرنے والوں کے پاس نہ تو کوئی تحریری قانون ہوا کرتا تھا اور نہ ہی فیصلہ کرنے کا کوئی ضابطہ لیکن فیصلے ایسے منطقی اور عقلی دلیل کے ساتھ ہوتے کہ آج تک قانون اور قانون کی تعبیر و تشریح کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔
انگلستان میں اینگلو سیکسن حکمرانوں کے عہد میں نصفت کی اصطلاح و ضع کی گئی اور فطری انصاف کے اصولوں پر باقاعدہ عدالتی نظام رائج کیا گیا۔ اس نظام میں فیصلے کرنے والے منصف کے لیے قانون سے واقفیت ضروری نہیں تھی بس گزشتہ فیصلوں (نظائر) کی روشنی میں یا تھوڑا بہت رومن لاء کی مدد سے فیصلے کیے جاتے تھے، اینگلو سیکسن کے بعد نارمن عہد کا آغاز ہوا اور رواجی اصولوں پر مبنی کامن لاء وجود میں آیا۔ تیرہویں صدی عیسوی کے اختتام پر کامن لاء کا باقاعدہ نفاذ ہوا اور اس قانون یا رواجی اصولوں پر فیصلوں کے لیے تین الگ الگ حیثیت کی حامل عدالتوں کا قیام عمل میں آیا۔ یہ عدالتیں (1) عدالت برائے امور مملکت The Court of Exchequer (2 ) عام معاملات کی عدالت The Court of Common Pleas اور (3 ) شاہی بینچ کی عدالت The King’s Bench کہلائیں۔ بادشاہ نے دیگر مصروفیات کی وجہ سے انصاف کا فریضہ ایک نئے عہدے کے سپرد کیا جو کہ چانسلر Chansller کہلایا چونکہ بادشاہ مجسم قانون و انصاف اور اقتدار کا سرچشمہ تھا اس لیے وہ ہر طرح کے فیصلے کرسکتا تھا لیکن چانسلر کے لیے رہنما اصول Guide Line کے طور پر نصفت کے اصولوں کو ترتیب دیا گیا جو نصفت کے اصول Maxims of Equity کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یوں تو فطری انصاف کے بے شمار اصول ہیں لیکن ان میں سے بارہ (12 ) اصول زیادہ مقبول ہیں اور عموماً یہی بارہ اصول ہی روزمرہ کی زندگی میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ مثلاً (1 ) نصفت ہر نقصان کا چارہ کار فراہم کرتی ہے یعنی دنیا کا کوئی نقصان ایسا نہیں ہے جس کا مداوا فطری انصاف کے اصول نہ کرتے ہوں۔ جہاں عام قانون انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہو نصفت حق دار کو اس کا حق دلواتی ہے (2) جو نصفت کا طالب ہو اسے خود بھی نصفت فراہم کرنا چاہئے یعنی جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے فطرت کے تحت حاصل ہونے والے حقوق فراہم کیے جائیں تو اسے چاہئے کہ فطرت کے تحت اپنے فرائض بھی ادا کرے کیونکہ جو ایک شخص کا حق ہے وہ یقنی طور پر دوسرے کا فرض ہے اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اسے صرف اس کے حقوق ہی ملتے رہیں لیکن وہ اپنے فرائض ادا نہ کرے تو فطری انصاف ایسے افراد کی کوئی مدد نہیں کرتا۔ یہ امر ایک واضح حقیقت ہے کہ اللہ ذوالجلال نے انسان کو تخلیق کیا تو حقوق کو دو مستقل حصوں میں تقسیم کردیا کچھ حقوق اپنی ذات سے منسلک کرکے ان کو حقوق اللہ کا نام دیا اور کچھ کو اپنے بندوں کے ساتھ جوڑ کر حقوق العباد قرار دیا۔ فطرت کے ان حقوق کی ادائیگی ہر شخص پر لازم قرار دی اور ان کی حفاظت اپنے ان الفاظ میں کی کہ وہ اپنے حقوق تو معاف کردے گا لیکن اپنے بندوں کے حقوق معاف نہیں کرے گا۔ اس اعلان نے انسان کو اتنا بے باک بنا دیا کہ وہ ہر جگہ میرا حق میرا حق کا نعرہ بلند کرنے لگا اور یہ بھول گیا کہ اس نے فرض بھی ادا کرنا ہے۔ عمل کے بغیر آخرت کی امید رکھتا ہے اور لوگوں کو جس کام سے منع کرتا ہے اس سے خود باز نہیں آتا۔ نیک کرداروں سے محبت کرتا ان کی مثالیں بیان کرتا ہے لیکن ان کے اسوہ پر عمل نہیں کرتا۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت اور المیہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں اپنے سے چھوٹے گناہ سے بھی خوف زدہ رہتے ہیں اور اپنے لیے عمل سے زیادہ جزا کے امیدوار رہتے ہیں۔ فطرت کے اصول ان امور کی سختی سے نفی کرتے ہیں۔فطرت فرائض ادا کرنے والے کو ہی حق کا مستحق قرار دیتی ہے (3) فطرت کا اگلا اصول اور بھی دلچسپ ہے جو یہ کہتا ہے کہ جو نصفت کے تحت دعویٰ کرے اس کا اپنا دامن پاک ہونا چاہئے، یعنی جو شخص یہ چاہتا ہے کہ فطرت کے اصولوں کے تحت اسے انصاف فراہم کیا جائے تو اسے چاہئے کہ اس کا دامن داغدار نہ ہو اگر سادہ الفاظ میں اس مقولہ کو سمجھیں تو کراچی میں کے۔ الیکٹرک کی مثال لے لیں جو سرچارج، فیول ایڈجسٹمنٹ، الیکٹرک ڈیوٹی، انکم ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، جی ایس ٹی، مزید جی ایس ٹی۔ نیز بجلی کی دُگنی قیمت وصول کرنے کے بعد فرنس آئل کی کمی کے بہانے، بجلی چوری کے بہانے، تکنیکی خرابی و دیگر مختلف بہانوں کے سہارے سولہ سولہ گھنٹے بجلی کی سپلائی معطل کرنے کے بعد بھی اچھی اور خدمت گزار کمپنی کی دعوے دار ہے۔ نصفت کے اس اصول کے تحت کوئی بددیانت شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ دیانت داری کی جائے۔ (4 ) نصفت مساوات ہے۔ فطرت کی نظر میں سب برابر ہیں۔ فطرت بلا تفریق حقوق کا تحفظ کرتی ہے فطرت میں رنگ و نسل اور زبان کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ (5) نصفت قانون کی پیروی کرتی ہے۔ فطری انصاف کے اصول عام قانون کی مدد کرتے ہیں اور قانون کے پیچھے چلتے ہیں۔ (6 ) نصفت فرائض کی تکمیل کے لیے منشاء کو دیکھتی ہے اس مقولے کی سادہ مثال یہ ہے کہ ایک مسافر جو کہ اپنے گھوڑے پر سوار کہیں جارہا تھا ،راستہ میں آرام کی غرض سے رکا تو اپنے قریب اپنے گھوڑے کو باندھنے کے لیے کھونٹا لگا دیا جب جانے لگا تو وہ کھونٹا اس نیت سے چھوڑ دیا کہ کسی اور کے کام آئے گا لیکن پیچھے آنے والے کو اس کھونٹے سے ٹھوکر لگی تو اسے اس نیت سے نکال کر پھینک دیا کہ کسی اور کو ٹھوکر نہ لگے فطری انصاف کے تحت دونوں نے درست امور سرانجام دیے۔ (7) نصفت وہ کراتی ہے جو ہونا چاہئے۔ (8) نصفت شخصی عمل ہے۔ (9 ) نصفت ظاہر سے زیادہ باطن کو دیکھتی ہے۔ (10) تاخیر نصفت کو ختم کردیتی ہے۔ (11) جہاں نصفتیں مساوی ہوں وہاں قانون غالب آئے گا۔
یہ وہ اصول ہیں جو کسی تشریح کے محتاج نہیں اب آتے ہیں اس اصول کی جانب جو درحقیقت موضوعِ بحث ہے یعنی قانون قطار یہ بھی فطرت کا اہم اصول ہے کہ جہاں نصفتیں مساوی ہوں تو جو پہلے آئے اس کا حق غالب ہوگا۔ حق تعالیٰ کی بظاہر ایک ادنیٰ مخلوق چیونٹی بھی فطرت کے اس اصول کے تابع ہے اور ہمیشہ قطار میں ہی چلتی ہے اور انسانی فطرت کو سبق کے ساتھ دعوت فکر دیتی ہے۔ جب چیونٹی میں قطار کاشعور ہے تو انسان کیوں نہ اس طریقۂ کار سے اپنی جارحانہ طبیعت پر قابو حاصل کرے۔ ’’پہلے آئیں پہلے پائیں‘‘ ایک معزز اور منظم فطرت ہے۔ اگر یہ قطار کا اصول نہ ہوتا تو محسن نقوی کے بمصداق
’’سوچو کتنے فساد ہوتے‘‘


متعلقہ خبریں


مضامین
کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔ وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔

افغانستان میں نئی جنگ ! وجود منگل 20 جولائی 2021
افغانستان میں نئی جنگ !

امن کادرس وجود منگل 20 جولائی 2021
امن کادرس

تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول وجود منگل 20 جولائی 2021
تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول

خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد وجود پیر 19 جولائی 2021
خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین