وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ڈریگن ،ہاتھی اور شاہین کی جنگ ہونے کو ہے؟

پیر 29 جون 2020 ڈریگن ،ہاتھی اور شاہین کی جنگ ہونے کو ہے؟

گزشتہ برس اکتوبر میں چین کے صد شی جن پنگ نے اپنے دورہ بھارت کے دوران کہ تھا کہ ’’ ’ڈریگن اور ہاتھی کو آپس میں مل کر ہی ناچنا چاہیے۔ یہی دونوں ممالک کے لیے بہتر راستہ ہے‘‘۔ہمارے خیال میںچینی ڈریگن نے لداخ میں ہی بھارتی ہاتھی کو ساتھ مل کر رقص کرنے کی دعوت دی ہوگی لیکن ٹھیک 9ماہ بعد اَب یہ ہی رقص بھارتی ہاتھی کے لیے موت کے بھیانک ناچ میں کیسے تبدیل ہوگیا ہے؟اور وادی لداخ میں چینی ڈریگن اور بھارتی ہاتھی کے رقص میں غلطی آخر کس سے سرزد ہوئی؟ اِن سوالات کے جوابات معروضی صورت حال کا تجزیہ کرنے کے بجائے ماضی کے جھروکے میںجھانکنے سے ہی حاصل ہو ں گے۔ کہا جاتاہے کہ جہاں آج کل چین کا شہر ہانگ کانگ موجود ہے ،عین اُسی مقام پر 19 وی صدی میں ’’تائی ہینگ ‘‘ نامی گاؤں ہوا کرتاتھا ۔ ایک دفعہ یہاں آنے والے شدید سمندری طوفان نے گاؤں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ساتھ ہی ایک اژدھے نے حملہ آور ہوکر گاؤں والوں کے مال مویشی ملیا میٹ کر دیے۔ رہی سہی کسر مہلک وبا طاعون کی آمد نے پوری کر دی اور آدھے سے زیادہ گاؤں والے جب طاعون کے مرض میں مبتلا ہوکر مرنے لگے تو ’’تائی ہینگ ‘‘ میں بسنے والے لوگوں کی پوری طرح سے بس ہوگئی ۔تب گاؤں کے سب لوگ مل کر آبادی سے بہت دور ایک غار میں برسہا برس سے تنہا رہنے والے بزرگ کی خدمت میں حاضرہوئے اور اُن سے گاؤں کومسائل و مصائب سے نکالنے کا درست راستہ معلوم کرنا چاہا تو بزرگ نے انھیں مشورہ دیا کہ’’ گاؤ ں کے سب لوگ تین دن اور تین راتوں تک ڈریگن کے ساتھ رقص کر کے اپنے گاؤں کی پھوٹی قسمت سنوار سکتے ہیں مگر خیال رہے کہ ڈریگن کے ساتھ صرف رقص کرنا ہے اور دورانِ رقص ڈریگن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی سخت ممانعت ہوگی‘‘۔
گاؤں کے لوگوں نے بزرگ کی تجویز کے مطابق ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی پر رہنے والے دیو ہیکل ڈریگن کو دعوتِ رقص دے ڈالی، جسے ڈریگن نے بھی بخوشی قبول کرلیا ۔یوںگاؤں کے لوگ تین دن اور تین راتوں تک اِس ڈریگن کے ساتھ ناچتے رہے، جس کے بعد ان کی قسمت بدل گئی۔ یعنی طاعون کا زور بھی ٹوٹ گیا، طوفان سے ہونے والی تباہی کا بھی ازالہ ہو گیا اور پھر کبھی گاؤں پر کسی اژدھا نے حملہ بھی نہیں کیا ۔ تب سے ’’ڈریگن رقص ‘‘ چین میں ہر برس ایک تہوار کے طور پر منایا جاتاہے۔کہا جاتاہے کہ چینی ڈریگن کو رقص کی دعوت کوئی بھی دے سکتا ہے لیکن رقص کے دوران چینی ڈریگن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا سخت ممنوع ہے ۔ بھارتی ہاتھی نے لداخ کی وادی میں جب چینی ڈریگن کے ساتھ رقص کرنا شروع کیا تو وہ برسوں پرانی احتیاطی تدبیر کو یکسر فراموش کربیٹھا اور اپنے اتحادی یعنی امریکی ہاتھی کے کہے میں آکر چینی ڈریگن سے چھیڑ چھاڑ کی غلطی کر بیٹھا ۔ جس پر چینی ڈریگن کو سخت غصہ آگیا ہے اور اَب وادی لداخ میں بھارتی ہاتھی مکمل طور پر چینی ڈریگن کے رحم و کرم پر آیا ہواہے۔
چینی ڈریگن کو رام کرنے کے لیے بھارتی ہاتھی اپنی دانست میں تین روزتک روسی ریچھ کی منت سماجت بھی کرآیا ہے لیکن افسوس! وہاں سے بھی اُسے کوئی خاطر خواہ یقین دہانی حاصل نہ ہوسکی۔ بھارت کے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت فتح کی 75 ویں برسی کی یاد میں روس میں ہونے والی ایک عظیم فوجی پریڈ میں بھی شرکت کے’’سفارتی بہانہ ‘‘کی آڑ میں روس کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ مختلف ملاقاتوں میں دست بدست درخواست بلکہ منت سماجت تک کی کہ روس کسی طرح بھی ،چین کو قائل کرے کہ چینی افواج وادی لداخ میں بھارتی افواج پر سے دباؤ کم کردے لیکن ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ روسی عہدیداروں نے بھارتی وزیردفاع راج ناتھ کی درخواست کو بالکل بھی درخو اعتنا نہیں سمجھا اور روس نے بھارتی وزیر دفاع پر اچھی طرح سے واضح کردیا ہے کہ وہ لداخ میں ایل اے سی پر چین کے ساتھ جاری کشیدگی کے معاملے پر چین کو کسی بھی قسم کا سفارتی مشورہ دینے کی خواہش نہیں رکھتا جبکہ رو س کے اعلیٰ عہدیداروں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں بھارت کو چین کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات کو امریکی آشیر باد سے مزید بڑھانے پر اپنے سخت ترین تحفظات کا اظہار بھی کردیاہے۔
نیز روس نے کووڈ 19 کی وبا کا بہانہ بنا کر بھارت کو اسلحہ اور دیگر دفاعی ساز و سامان فوری طور پربھارتی افواج کے حوالے کرنے سے بھی صاف صاف انکار کر دیا ہے۔خاص طور پر ایس ۔400 دفاعی نظا م کی فراہمی کی تاریخ کو آگے بڑھانے کی روسی ضد بھارت کے لیے سخت تشویش و پریشانی کا باعث ہے ۔ کیونکہ ایس ۔400 دفاعی نظام کے لیے بھارت روس کو مکمل مالی ادائیگی بھی کرچکا ہے لیکن اِس کے باوجود دفاعی نظام فراہم کرنے میں روس کی جانب سے روا رکھی جانے والی غیر ضروری لیت و لعل اور تاخیری حربوں سے بھارت روس کے متعلق اپنے پرانے دوستانہ تعلقات پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔روس کے بدلتے ہوئے تیور کو دیکھتے ہوئے بھارت کے کچھ دفاعی تجزیہ کار تو یہ تک کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ روس بھارت کو ایس ۔400 دفاعی نظام اُس وقت نہیں دے گا جب تک کہ وہ بھارتی سرکار سے یہ گارنٹی نہیں حاصل کرلیتا کہ یہ دفاعی نظام چین کے خلاف جنگ میں کسی بھی صورت استعمال نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ بھارت میںکچھ حلقوں کی یہ بھی رائے ہے کہ بھارت کو یہ دفاعی نظام روس سے خریدنا ہی نہیں چاہئے کیونکہ اِس دفاعی نظام میں چینی ساختہ آلات نصب کیے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے چین اِس دفاعی نظام کو بھارت کے خلاف دورانِ جنگ جاسوسی کے لیے بھی استعمال کرسکتاہے ۔
ماضی میں ضرور روس بھارت کا ایک زبردست دفاعی اتحادی رہا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں جس تیزرفتاری کے ساتھ بھارت امریکاکے قریب سے قریب تر ہوا ہے ۔بھارت کی اِس’’سفارتی حرکت ‘‘نے روس کی نظروں میں بھارت کو انتہا درجے کا’’ مشکو ک دوست‘‘ بنادیا ہے ۔ روس سمجھتا ہے کہ خطے میں امریکا کی بالادستی قائم کرنے کے لیے جو منافقانہ کھیل بھارت، اپنے پڑوسی ممالک چین اور پاکستان کے خلاف کھیلنا چاہ رہا ہے ۔ اِس مذموم کھیل کے براہ راست نتائج بعد ازاں روس کو ہی بھگتنے ہوں گے۔ دوسری جانب امریکا کے خلاف عالمی بالادستی حاصل کرنے کی جدو جہد میں روس اور چین میں مکمل طور پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور یہ دونوں ممالک اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ امریکا بھارت کو چین اور روس کے خلاف استعمال کررہاہے ۔ لہٰذا خطے میں امریکی پیش قدمی کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ امریکا کے اتحادیوں کو مشکل سے مشکل حالات سے دوچار کیا جائے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جیسے ہی چین نے وادی لداخ میں بھارتی افواج کی شہ رگ پر اپنا پاؤں رکھا ویسے ہی روس نے بھی دفاعی سازو سامان بھارت کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ اِس وقت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گلوان کی وادی میں چینی فوج کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں کی بننے والی درگت پر سخت عوامی دباؤ میں ہیں اور روز بہ روز بڑھتا ہوا یہ عوامی دباؤ تقاضا کرتا ہے کہ گلوان میں محدود پیمانے پر ہی سہی بہرحال چینی افواج کے خلاف عسکری کارروائی ضرورکی جائے ۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ چین کے خلاف ہلکا پھلکا محاذ جنگ کھولنے کے لیے بھی بھارتی افواج کو حفظ ماتقدم کے طور پر ایس ۔400 دفاعی نظام لازمی درکار ہوگا،اس کے بغیر چین کے خلاف عسکری کارروائی کرنے سے پہلے بھارت کی جنونی قیادت کو ہزار بار سوچ و بچار کرناہوگی ۔
ذہن نشین رہے کہ وادی لداخ میں چینی افواج کی پیش قدمی کی حالیہ کارروائی محض ایک ٹریلر ہے ،پوری فلم کا ریلیز ہوناابھی باقی ہے اور قرائن یہ بتارہے ہیں چینی افواج وادی لداخ میں بھارت کے زیر تسلط سرحدی علاقے میں مزید پیش قدمی کرنے کا سنجیدہ ارادہ رکھتی ہیں ۔ جس کے بارے میں کچھ اندازے اور خفیہ اطلاعات صرف بھارت ہی نہیں بلکہ امریکا اور اس کے دیگر اتحادیوں کے پاس بھی تواتر کے ساتھ پہنچ رہی ہیں۔ ویسے تو چینی قیادت 2040 سے پہلے کسی بھی ملک کے خلاف جنگ نہیں چھیڑنا چاہتی تھی ۔ لیکن امریکا اور اس اتحادیوں کی جانب سے ہر محاذ پر چین کے ہونے والے گھیراؤ نے بالآخر چین کو مقررہ وقت سے پہلے ہی جنگی محاذ کھولنے پر مجبور کردیا ہے ۔ اہم با ت یہ ہے کہ چین یہ لڑائی اپنی سرحدوں سے شروع تو کررہاہے مگر آنے والے وقت میں یہ جنگ صرف چین سے ملحقہ سرحدوں تک ہی محدود رہے گی ۔اِس متعلق بس اتنا ہی عرض کیا جاسکتاہے کہ چین ہر اُس محاذ پر اپنے دشمنوں کے خلاف صف آراء ہونے کی کوشش کرے گاجہاں بھی اُس کا عسکری اثرو رسوخ پایا جاتاہے ۔ اِس لیے یہ سوچنا کہ امریکا اور اِس کے اتحادی چین کو اُس کے سرحدی علاقوں میں ہی اُلجھانے میں کامیاب ہوجائیں گے ، ایک بہت بڑی خام خیالی اور خوش فہمی ہوگی ۔ ہمارا اندازہ تو یہ ہے کہ چین صرف بھارت کو ہی اُس کے ملک کے اندر گھس کے مارنے کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہے بلکہ چین امریکا کو بھی امریکا میں ہی گھس کر شکست سے دوچار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے اس سمت اپنی عملی کوششوں کا آغاز بھی کردیا ہے ۔ مثال کے طور پر گزشتہ چند ہفتوں سے امریکا میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات اور شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا میں موجود 40 ہزار امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کے دھمکی آمیز بیانات سے اگر کوئی چین کے عزائم کے بارے میں سمجھنا چاہے تو بہت کچھ باآسانی سمجھ سکتاہے۔
یاد رہے کہ فقط چینی ڈریگن اور روسی ریچھ ہی بھارتی ہاتھی پرنظریں جمائے ہوئے نہیں ہیں بلکہ کہیں دورافتادہ کسی بلند و بالا پہاڑ کی چٹان پر موجود ایک پاکستانی شاہین بھی تاک میں بیٹھا ہے کہ کب اُسے سنہری موقع ملتاہے اور وہ بھارتی ریچھ کے ساتھ اپنا برسوں پرانا حساب بے باک کرتاہے۔بھارتی قیادت اور بھارتی افواج خوب اچھی طرح سے جانتی ہے کہ چین اور روس تو پھر بھی ایک حد تک ہی بھارت کو سبق سکھانا چاہے گے لیکن پاکستان جو بھارت کا روایتی حریف بھی ہے وہ ہندوستان کے حصہ ،بخرے کرنے میں اپنی آخری حد تک ضرور جائے گا۔لہٰذا ایک بات طے ہے کہ جنگ کا آغاز چین کی طرف سے ہو یا بھارت کی طرف سے ،بہرحال اِس متوقع جنگ کا اختتام پاکستان کی جانب سے ہی ہوگا۔یعنی اَب سب کو انتظار اُس لمحہ کا ہوگا کہ جب چینی ڈریگن اور بھارتی ہاتھی کے رقص میں کب پاکستانی شاہین شامل ہو تاہے؟۔بس پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔ وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔

افغانستان میں نئی جنگ ! وجود منگل 20 جولائی 2021
افغانستان میں نئی جنگ !

امن کادرس وجود منگل 20 جولائی 2021
امن کادرس

تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول وجود منگل 20 جولائی 2021
تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول

خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد وجود پیر 19 جولائی 2021
خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین