وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ناکامی کی چیخ

هفته 27 جون 2020 ناکامی کی چیخ

چیخوں سے انسان کبھی رہائی نہیں پاتا، اور ناکامی کی چیخ سب سے بھیانک چیخ ہے۔ یہ چیخ اب وزیراعظم عمران خان کے تعاقب میں ہے!ہمارے ارد گرد گھومنے والی ہنڈا گاڑیاں ہمیں ایک جاپانی انجینئر ”سوچیرو ہونڈا“کی یاد دلاتی ہے، جس نے 1948ء میں ہونڈا موٹر کمپنی کی بنیاد رکھی۔ سوچیرو ہونڈا نے کیا زندگی آمیز اور ولولہ انگیز فقرہ کہا:کامیابی ننانوے فیصد ناکامیوں کا نام ہے“۔

(Success is 99 percent failure.)

امریکی مصنف زگ زیگلرکو بھی یہاں فراموش کرنے کا دل نہیں چاہتا، لکھا:ناکامی تو کبھی نہ ختم ہونے والی ایک گلی کا محض راستا ہے“۔ سیاست مگر ایک کارِ دگر ہے۔ یہاں ناکامیوں کی بھی ایک سیاست وتجارت ہوتی ہے۔ انسان ذاتی زندگی میں جن ناکامیوں سے مہمیز کا کام لیتا ہے۔ منحوس سیاست کے گرداب میں ان ناکامیوں کی تقدیس پر آمادہ رہتا ہے۔ کم لوگ اس سے اُبھر پاتے ہیں۔ عمران خان ایسے سیاست دان تو بالکل نہیں۔ اُن کا رویہ سیاست میں اُن کا سب سے بڑا حریف ہے۔
عمران خان کی اس سے بڑی ناکامی کوئی نہیں ہوسکتی کہ اُنہوں نے اپنی کارکردگی سے اپنے ہی حریفوں یعنی آصف علی زرداری اور نوازشریف کے لیے ”ہمدردی“ پیدا کردی۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کا موقف اس باب میں غلط نہ تھا، مگر اس موقف کو نبھانے کے لیے اُنہوں نے جو کچھ کیا وہ سب غلط تھا۔ سیاست میں موقف کی اہمیت ہوتی ہے،مگر حکومت میں ”اقدام“ کی اہمیت ہوتی ہے، موقف کی نہیں۔ عمران خان کی عملی سیاست میں واحد کامیابی وزارتِ عظمیٰ کا حصول ہے، اس کے علاوہ ہر چیز میں وہ ناکام و نامراد ہوئے۔ فواد چودھری نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ فواد چودھری خود بھی ایک بھانڈاہے، محاورے میں یہ”پھوٹتا“ہے مگر فواد چودھری کے ہاں کبھی یہ آکر ”پھٹے“ گا۔ فارسی شاعر کی تمثیل کے مطابق موصوف بظاہر مے کا انکار کرتے ہیں مگر عملاً خود بھی مے پرستوں کے رنگ میں رنگے ہیں:۔

منکر مے بودن و ہم رنگ مستاں زیستن

فواد چودھری نے اپنی جماعت کے جو کپڑے باہر لٹکائے، اس پر لگی گندگی پہلے سے ہی تعفن پھیلارہی تھی۔ کون نہیں جانتا کہ جہانگیر ترین اور اسد عمر کے درمیان ایک جھگڑا تھا۔ اسد عمر کی رخصتی سے قبل جہانگیر ترین کا اُن پر عدم اعتماد سب کے سامنے آچکا تھا۔ تب تحریک انصاف کے اندر دو گروہوں کی موجودگی کا انکشاف ہوچکا تھا۔ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے اختلافات نے اس صف بندی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ شاہ محمود قریشی اپنے دھڑے اور خواہشات کے آدمی ہیں۔وزارت اعلیٰ پنجاب اور وزارتِ عظمیٰ کے مناصب کا حصول ان کی خواہشات ہیں۔اس کے لیے وہ موقع کی تاک میں رہتے ہیں۔ سب جانتے ہیں۔عمران خان ہی نہیں، اُن کی طاقت کے اصل مراکز بھی۔ چنانچہ ان خواہشات کے ساتھ شاہ محمود قریشی سے کھیلنا آسان رہتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی تشکیل کے ہنگام بھی شاہ محمود قریشی کو بمشکل ہی وزارتِ خارجہ پر آمادہ کیا جاسکا تھا۔ وہ پنجاب کی وزارت ِاعلیٰ پر نظر رکھتے تھے، صوبائی اسمبلی کا انتخاب ہارنے کے باوجود وہ ضمنی انتخاب کے ذریعے اسمبلی میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ تب عمران خان نے شاہ محمو دقریشی کو کہا تھا، اُنہیں وزیر خارجہ کے طور پر اُن کی ضرورت ہے۔ شاہ محمود قریشی نے قدرے تذبذب سے یہ منصب قبول کیا تھا۔ اُن ہی دنوں میں شاہ محمود قریشی جہانگیر ترین پر اپنی بداعتمادی کا اظہار کرچکے تھے، صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں شکست کی ذمہ داری بھی وہ بالواسطہ طور پر اُن ہی پر عائد کرتے تھے۔ یہی جھگڑا بتدریج بڑھتا گیا۔ اسد عمر اس لڑائی میں بہت بعد میں کودے۔ ابتدا میں اُنہیں شاہ محمود قریشی کی صف میں سمجھا گیا، مگر بہت جلد یہ لوگوں کو اندازا ہوگیا تھا کہ وہ ستاروں سے آگے اور جہان کی پرواز کے بھی شدید خواہش مند ہیں۔اب فواد چودھری یہ انکشاف کررہے ہیں کہ پہلے جہانگیر ترین نے اسد عمر کو نکلوایا اور پھر اسد عمر نے جہانگیر ترین کی چھٹی کرا دی۔ مگر یہ بات اتنی سادہ بھی نہیں۔ اس کے اندر محلاتی سازشوں کا گہرا عمل دخل ہے۔ جس کے ڈانڈے بنی گالہ کی”روحانیت“ سے طاقت کے اصل مرکز کو حاصل ”تزکیے“ کی صلاحیت سے جاملتے ہیں۔ زلفی بخاری عظمیٰ کاردار کے حالیہ جھگڑے میں سب کو ڈانٹ چکے ہیں کہ ”اُن کا مقام سب سے بلند ہیں“۔ اب نقشِ قدم دیکھنے والے مقامات فکر ونظر کو کہاں سمجھیں گے؟
فواد چودھری کے انٹرویو میں تحریک انصاف کے اندر پائے جانے والے اختلافات کی خبر کوئی ایسی بڑی خبر نہیں۔ درحقیقت اُنہوں نے جو سب سے اہم اور زیادہ پریشان کن بات بے نقاب کی وہ یہ تھی کہ ”جب پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے اختلافات اتنے بڑھے کہ پولیٹیکل کلاس سارے کھیل سے ہی باہر ہوگئی“۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ”جن لوگوں نے یہ خلاء پر کیا ان کا تعلق سیاست سے نہیں تھا، نئے آنے والے لوگ وزیرِ اعظم عمران خان کی سوچ سے ہم آہنگ نہیں اور نہ ہی ان میں کوئی صلاحیت ہے“۔
اس بیانئے میں ”پولیٹیکل کلاس کے کھیل سے باہر“ ہونے کا نکتہ سب سے اہم ہے۔ درحقیقت تحریک انصاف کی حکومت پر سب سے بڑا اعتراض اُن کے سیاسی مخالفین عائد ہی یہ کرتے ہیں کہ یہ ایک”سلیکٹڈ حکومت“ہے۔ فواد چودھری کا سیاسی کلاس کے کھیل سے باہر ہونے کا نکتہ دراصل حزب اختلاف کے اس اعتراض کو تقویت دیتا ہے۔ فواد چودھری نے عمران خان کے پلّے کچھ بھی نہیں رہنے دیا۔
فواد چودھری کے انکشافات سے پیدا ہونے والے زلزلے کے جھٹکے کابینہ اجلاس میں بھی محسوس کیے گئے۔ یہاں عمران خان کی افتادِ طبع کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے متعلق کہا جارہا ہے کہ وہ وزراء کے ان اختلافات کو ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔ بلکہ ایک واقعہ یہ بھی بیان کیا جارہا ہے کہ وزیر اعظم کو ا ن وزراء کے اختلافات پر جب متوجہ کیا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو بھی اس طرح کے اختلافات کو برقرار رکھ کر سب کو قابو میں رکھتی تھیں۔ یہ موقف خطرناک ذہنیت کا عکاس ہے۔ کیا مدینہ کی ریاست ایسے قائم ہوتی ہے؟وزیراعظم عمران خان کی اسی ذہنیت کا آئینہ دار ردِ عمل کابینہ اجلاس میں تھا۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا اچانک کابینہ اجلاس میں ہتھے سے اکھڑ گئے اور ساتھی وزراء کے خلاف چراغ پا ہوگئے کہ اُن کی کوئی کارکردگی نہیں، جس سے وزیراعظم کی پوزیشن خراب ہورہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ فیصل واوڈا نے جو کچھ کیا،وہ وزیراعظم کی ایما پر کیا۔ فیصل واوڈا کو غصے کے اظہار کا پورا موقع دیا گیا، پھر اُنہیں برابر کے کمرے میں خو دوزیراعظم لے گئے۔ یہ کیا تماشا لگا ہوا ہے؟کیا عمران خان بھی سیاسی رنگ میں رنگ گئے ہیں؟اگر یہ کوئی حکمت عملی ہے تو انتہائی بے ہودہ ہے۔ اور اگر یہ سب کچھ بے ساختہ ہے تو سوال یہ ہے کہ فیصل واوڈا کی کسی ٹی وی شو میں جوتے لے جانے کے علاوہ اپنی کارکردگی کیا ہے؟ کارکردگی کے سوال پر خود فیصل واوڈا اور علی زیدی سمیت اکثر وزراء دو دن بھی کابینہ میں رکھے جانے کے قابل نہیں۔ وزیراعظم اگر اپنا سیاسی سفر خوش قسمتی کے بل پر جاری رکھنا چاہتے ہیں تو قسمت ہمیشہ مہربان نہیں ہوتی۔ کارکردگی ہی سیاست میں کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ حیرت ہے کہ وزیراعظم اب اپنی کابینہ سے کارکردگی کے متعلق سوال پوچھ رہے ہیں۔ کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم کی جانب سے وزراء کو چھ ماہ دیے گئے، کہیں ایسا تو نہیں کہ خود وزیراعظم کے پا س بھی اتنا ہی وقت ہو۔ وزیراعظم اب کابینہ کو چھ ماہ دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کی تشکیل کے بعد وہ وزراء کی کارکردگی سے متعلق جو وعدے کرتے رہے،ابتدا میں سو روز کے بعد کارکردگی جانچنے کے جو بیانات دیتے رہے، کچھ وزراء کو ماضی میں بھی مہلت پر مہلت دیتے رہے، اُن سب کا کیا بنا؟ درحقیقت چالیس سال کی عمر کے بعد آدمی کو ہمیشہ چالیس سال کا ہی کہا جاتا ہے کہ جو اس عمر تک نہیں بدلا وہ اب آگے بھی نہیں بدلے گا، اسی طرح سو روز کے بعد کی حکومت بھی چالیس سال کی عمر والے آدمی کی طرح ہوتی ہے کہ جو اس عرصے میں اپنی سمت کا تعین نہ کرسکی، وہ آگے بھی ناکام رہتی ہے۔ اس کے بعد کی امیدیں دراصل وہ مکے ہوتے ہیں جو موقع نکلنے کے بعد آدمی کو خود اپنے ہی منہ پر مارنے پڑتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اس ناکامی کی چیخ اب وزیراعظم کو انتہائی تیزی سے سنائی دے رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔ وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ بک رہا‘‘ عید ۔۔

افغانستان میں نئی جنگ ! وجود منگل 20 جولائی 2021
افغانستان میں نئی جنگ !

امن کادرس وجود منگل 20 جولائی 2021
امن کادرس

تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول وجود منگل 20 جولائی 2021
تیسری عالمگیر جنگ 2034 امریکا میں بیسٹ سیلز ناول

خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد وجود پیر 19 جولائی 2021
خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین