وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کورونا وائرس:ایران بچّہ مزدوروں پررحم کرے

منگل 02 جون 2020 کورونا وائرس:ایران بچّہ مزدوروں پررحم کرے

دنیا کی حکومتوں کو جب لاکھوں نہیں، صرف ہزاروں بھوکے بچّوں کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ان کے نان شبینہ کے بندوبست کے لیے بروئے کار آتی ہیں۔وہ ان بچّوں کو کھانا کھلانے کے لیے شراکت دار تلاش کرتی ہیں یا خیراتی اداروں کے تعاون کی خواہاں ہوتی ہیں لیکن ایران میں نظام ایسے بھوکے بچوں کو ذرا مختلف طریقے سے خوراک بہم پہنچا رہا ہے۔’’اسے کھاؤ ، اسے کھاؤ‘‘! وہ چلّا رہا تھا اور بچّے خوف کے مارے کانپ رہے تھے۔وہ پلاسٹک کو چبانے اور حلق سے اتارنے کی کوشش کررہے تھے۔وہ چلائے جارہا تھا:’’ کھاؤ اسے، کھاؤ اسے‘‘۔ یہ کسی ڈراؤنی فلم کا منظر نہیں بلکہ ایک تخمینے کے مطابق 30 سے 70 لاکھ ایرانی بچّہ مزدوروں کا’ڈراؤنا خواب‘ ہے اور وہ سب اس طرح کی صورت حال کے عادی ہوچکے ہیں۔ان لاکھوں بچوں میں سے دو جب ایک شاہراہ پر پھول بیچتے پکڑے گئے تو پکڑنے والا اہلکار انھیں پھول اور اس پلاسٹک کو کھانے پر مجبور کررہا تھا جس میں وہ لپٹے ہوئے تھے۔اس نے ان بچوں کی ویڈیو بنائی اور پھر اس کو سوشل میڈیا پر شئیر کردیا تاکہ دوسرے بچے ڈر سہم جائیں اور اس طرح کی حرکت کے اعادے کی کوشش نہ کریں۔
ہمارے ملک کو اس وقت جن بحرانوں کا سامنا ہے اور جنھیں بہت کم کوریج دی جاتی ہے،یہ ان میں سے ایک ہے۔ یہ ایشو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے ہماری آیندہ نسل کی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔نظام کے سرکاری اعداد وشمار میں بچہ مزدوروں کی تعداد بہت کم بتائی جاتی ہے لیکن انسانی حقوق کے کارکنان ان کی تعداد لاکھوں میں بتاتے ہیں۔گم بیچتے ، گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے ، درد آمیز اور غم واندوہ میں ڈوبی نظمیں پڑھنے والے بچوں کی ویڈیوز بہت ہی دل شکن ہوتی ہیں۔ان بچہ مزدوروں میں سب سے بد قسمت وہ ہیں، جو ان شاہراہوں اور گلیوں، بازاروں ہی میں رات کو سونے پر مجبور ہوتے ہیں جہاں وہ دن کو مختلف چیزیں فروخت کرتے نظرآتے ہیں۔حالیہ دنوں میں تو ان بچّوں کے لیے صورت حال اور بھی تکلیف دہ ہوچکی ہے۔نظام کے عہدے داروں نے ان بچّوں کی فلاح وبہبود کے لیے گزرے برسوں کے دوران میں کچھ نہیں کیا تھا لیکن اب وہ بڑی بے شرمی سے ان بچوں کو ایران میں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمانی کمیشن برائے صحت نے بچوں کو کورونا وائرس کی منتقلی کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ یہ ایک بہت ہی شرم ناک اور بلاثبوت الزام ہے۔اس نے ان بچوں کو نفرت اور جعلی عوامی تشخص کا ہدف بنا دیا ہے۔
ایرانی نظام کے ایک عہدے دار کے مطابق صرف دارالحکومت تہران میں پانچ ہزار بچّے کوڑے دانوں میں اپنا رزق تلاش کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ان بچوں کی کیسے مدد کی جاسکتی ہے بلکہ سب سے اہم بات یہ ہیکہ ایران میں بچے کوڑے اور کچرے سے رزق کیوں تلاش کرتے نظر آتے ہیں؟انسانی حقوق کے کارکنان اور غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) بڑی بہادری اور باوقار طریقے سے ان بچوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔وہ ان کے بارے میں معلومات جمع کررہے ہیں اور انھیں مدد مہیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہ انھیں پناہ اور خوراک مہیا کررہے ہیں اور انھیں گلیوں، بازاروں کو خیرباد کہنے میں مدد دے رہے ہیں لیکن ان کی فراخدلانہ ثروت اور وسائل ایران میں گلیوں، بازاروں میں پھرنے والے بچوں یا بچہ مزدوروں کی تعداد اور ضروریات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ان بچوں کو دراصل ملک میں نظام کی بڑے پیمانے پر کرپشن اور معاشی بد انتظامی کی وجہ سے کام کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔وہ شاہراہوں پر محض اس لیے کوڑا کرکٹ چْننے پر مجبور ہیں کہ وہ اتنی رقم حاصل کرسکیں جس سے کہ وہ ایک وقت کا کھانا خرید کرسکیں۔اس تمام عمل میں بچّوں کی اسمگل کا دھندا کرنے والے استحصالی گروہ بھی خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔لاتعداد بچوں کو منشیات کے استعمال پر مجبور کردیاگیاہے،ایک بڑی تعداد کا جنسی استحصال کیا جارہا ہے،ان کی عصمت ریزی کی جارہی ہے۔ نتیجتاً ان میں کی ایک بڑی تعداد منشیات کی عادی ہوچکی ہے۔ ان خوف ناک بْرائیوں کے فوری مضمرات تو بالکل عیاں ہیں۔ان بچوں اور ہمارے ملک کے لیے ان کے طویل المیعاد مضمرات تو اس سے بھی زیادہ خوف ناک ہیں۔
اتنے بڑے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے جو کچھ کیا جارہا ہے، وہ افسوس ناک حد تک ناکافی ہے۔ جو دلیر این جی اوز یہ کام کررہی ہیں، انھیں اپنے مقصد میں کامیابی کے لیے حکومت کی پشتیبانی اور شراکت داری کی درکار ہے۔ لیکن اس نظام کی موجودگی میں تو انھیں ضرورت کے عین مطابق مناسب مدد ملنے کی نہیں۔ خواہ ان بچوں کی تضحیک کی جاتی ہے یا انھیں پھول اور پلاسٹک کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے یا انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،ان سب صورتوں میں یہ رجیم ہی اس مسئلہ کا سبب اور ذمہ دار ہے۔میرے ملک ایران میں ان دنوں بچّہ مزدوروں اور گلی محلوں ، بازاروں میں پھرنے والے بچوں کو ایک طرف تو کوروناوائرس کا شکار ہونے کے خطرے کا سامنا ہے اور دوسری جانب انھیں انھیں ہر سطح پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔مسئلہ مگر یہ ہے کہ ایران ایسے ملک میں قومی دولت کو دہشت گردی پر اڑایا جارہا ہے اور ہمارے بچوں پر صرف نہیں کیا جارہا ہے۔ایران کے بچے ایک جامع حکمت عملی کے حق دار ہیں اور اس قومی مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں این جی اوز اورانسانی حقوق کے کام کرنے والے کارکنان کو بااختیار بنایا جانا چاہیے،ان کے ساتھ شراکت داری کی جانی چاہیے،نہ کہ انھیں مسترد اور نظرانداز کیا جائے یا گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا جائے۔
حکومت تعلیم اور بچوں کے تحفظ کو اپنی بنیادی ترجیحات قرار دیے۔میری دادی امّاں اس موضوع پر اکثر مجھ سے باتیں کیا کرتی تھیں۔ ان سے تعلیم اور بچوں سے متعلق باتیں سنتے میں پروان چڑھی ہوں۔ وہ اس مسئلہ کو بڑی اہمیت دیتی تھیں۔میری اور میرے تمام خاندان کی اْمید یہ ہے کہ ہم ان افتادگان خاک بچوں کے حالات کو بہتر ہوتا دیکھ سکیں۔اگلے روز ہم سب مل بیٹھے اور بڑے پیمانے پر تشہیر شدہ ایک ویڈیو کو دیکھا۔اس میں ایک شخص ایک بچے کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔اس بچے نے گلی محلوں میں گھوم پھر کر ردی اکٹھی کی ہے اور اب وہ اس کو فروخت کرنا چاہتا ہے۔وہ شخص اس بچے سے پوچھتا ہے:’’زندگی میں تمھاری اْمید کیا ہے؟‘‘بچہ اس شخص کی جانب دیکھتا ہے، اپنے کندھوں کو اْچکاتا ہے اور الٹا پوچھتا ہے:’’یہ امید کیا ہوتی ہے؟‘‘اس نوعمر لڑکے اور اس جیسے لاکھوں بچوں کے لیے امید ہی حقیقی بچپنا ہے۔ اس بچے کی امید تو یہ ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ گھلے ملے ،وہ سب مل کر یہ سوچیں کہ وہ کیا کھیل کھیلیں گینہ کہ وہ اس سوچ کے ساتھ زندگی گزاریں کہ ان کا رات کا کھانا کہاں سے آئے گا؟ اس بچے کی امید تو اسکول جانا اور یہ سوچنا ہے کہ وہ جب بڑا ہوگا تو وہ کیا بنے گا نہ کہ یہ کہ وہ رات کہاں گزارے گا۔امید تو ہمارے ملک کی اس انداز میں تعمیرنو ہے کہ جہاں لوگ نہ صرف دوسروں کا خیال رکھنے والے ہوں بلکہ ایک ایسی حکومت بھی موجود ہو جو حقیقی معنوں میں کچھ کر گزرے۔ایک آزاد ایران میں بچے قوم کی اولین ترجیحات میں شامل ہونے چاہئے۔ وہ ہمارا مستقبل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں