وجود

... loading ...

وجود

کورونا وائرس ، بھارت کے سب سے بڑے شہر ممبئی کا طبی نظام تباہ

پیر 18 مئی 2020 کورونا وائرس ، بھارت کے سب سے بڑے شہر ممبئی کا طبی نظام تباہ

کورونا وائرس نے بھارت کے سب سے بڑے شہر ممبئی کا طبی نظام ہلا دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مردہ خانوں میں جگہ ختم ہونے کے بعد وارڈز میں لاشیں، ایک بستر پر کئی مریض اور طبی عملے کی بھاگ دوڑ، بھارتی شہر ممبئی میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ نے طبی نظام کو منہدم ہونے کے قریب پہنچادیا ہے ۔26 سالہ روی کو اپنی والدہ کا ڈائیپر خود بدلنا پڑے ، جو اس وقت لوک مانیا تلک میونسپل جنرل المعروف سیون ہسپتال میں بیماری کے نتیجے میں قریب المرگ ہیں۔روی (اصلی نام نہیں) نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ وہ ہمیں بس ادویات دیتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ 13 سو بستروں کے اس ہسپتال کے عملے کو بہت زیادہ کام اور تھکاوٹ کا سامنا ہے اور کئی بار ایک بستر پر 3 مریض ہوتے ہیں۔روی خود وائرس کا شکار ہوکر ایک اور ہسپتال میں زیرعلاج ہے ، مگر اس سے قبل 4 طبی مراکز نے اسے داخل کرنے سے انکار کیا۔اس کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس بیماری کے لیے انفراسٹرکچر نہیں۔ریاست کے زیرانتظام سیون ہسپتال اس وبا کی روک تھام کے حوالے سے ممبئی کی حیران کن ناکامی کی مثال بن چکا ہے ۔گزشتہ دنوں ایک ویڈیو سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر گردش کرتی رہی جس میں دکھایا گیا تھا کہ سیاہ پلاسٹک میں بند لاشیں ایک وارڈ میں رکھی ہیں جہاں مریضوں کا علاج بھی ہورہا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس فوٹیج کی تحقیقات کررہے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جگہ کی کمی اور رشتے داروں کا بہت زیادہ خوف یا خود قرنطینہ میں ہونے کے باعث لاشوں کو لے کر جانے میں ناکامی کے نتیجے میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات آسان نہیں رہیں مگر بیمار افراد سے نمٹنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے ۔سیون ہسپتال میں نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے ایک جونیئر ڈاکٹر آدتیہ برجی نے بتایاک ہ ہمارے پاس اتنے زیادہ کیسز کے لیے بستر ہی نہیں، ایمرجنسی کا حصہ گھنٹوں میں بھرجاتا ہے ،یہ ہسپتال بھارت کی سب سے بڑی کچی بستی دھاروی کے قریب ہے جو اسے کورونا وائرس کی وبا سے لڑائی کے لیے اہم میدان جنگ بناتا ہے ۔25 سالہ ڈاکٹر آدتیہ نے کہا کہ مارچ میں روزانہ ایک یا 2 مشتبہ کیسز آتے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ قابو میں ہے مگر پھر صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی آئی۔اپریل کے آخر تک ڈاکٹر آدتیہ اور ان کے ساتھی پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ چکا تھا ہم روزانہ 50 سے 100 مریض دیکھتے ، جن میں سے 80 فیصد میں وائرس کی تصدیق ہوجاتی اور متعدد کو آکسیجن کی بھی ضرورت پڑتی۔بھارت کے بیشتر سرکاری ہسپتالوں کی طرح آدتیہ کو بھی ماہانہ 700 ڈالرز ملتے ہیں مگر مارچ کے آخر میں لاک ڈاؤن کے بعد سے تنخواہ نہیں مل سکی، درحقیقت 2 ماہ سے تو ایک چھٹی بھی نہیں مل سکی ہے ۔اسی طرح ڈاکٹر کے میڈیکل اسکول کے ایک تہائی سے زائد ساتھیوں میں اس ہسپتال میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے تو کام پر جانے سے خوفزدہ ہے ‘اگر کچھ ہوجاتا ہے تو میرا خیال کون رکھے گا؟سیون ہسپتال ہی ممبئی کا واحد ہسپتال نہیں، درحقیقت اس شہر کے میڈیکل اسٹوڈنٹس سے لے کر ڈاکٹروں کو جدوجہد کا سامنا ہے ۔رپورٹ کے مطابق آئی سی یو کے ماہر دیپک بید، شمالی ممبئی میں ایک نجی ہسپتال چلاتے ہیں، نے رضاکارانہ طور پر ریاست کے زیرانتظام راجاوادی ہسپتال کو اپنی خدمات پیش کی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگرچہ یہ ہسپتال صرف معتدل علامات والے مریضوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، مگر ڈاکٹروں کو اکثر بہت زیادہ بیمار کا علاج کرنا پڑتا ہے ۔اسی طرح مریضوں کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ مختلف شعبوں جیسے ڈرماٹولوجی یا ہڈیوں کے ماہرین کو بھی انہیں دیکھنا پڑرہا ہے ۔دیپک بید نے کہا کہ ہم مریضوں کو زیادہ بہتر ہسپتالوں میں نہیں بھیج سکتے کیونکہ وہاں بستر نہیں، تو جو ہوسکتا ہے ہم کرتے ہیں، طبی نظام پر بہت زیادہ دباؤ ہے اور یہ پھٹنے کے قریب ہے ۔ایک اور ڈاکٹر نے بتایا کہ ناقص حفاظتی آلات کے باعث صفائی کرنے والے عملے کو کورونا وائرس کے مریضوں کے زیراستعمال بستروں کی چادر بدلنے جیسے کام کے دوران خوف کا سامنا ہوتا ہے ۔شہری انتظامیہ کی ایک سنیئر طبی عہدیدار ڈشکا شاہ کے مطابق ممبئی میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ساڑھے 4 ہزار بستر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم گنجائش کو مسلسل بڑھا رہے ہیں، جس کے لیے شہر میں ایک ہزار بستروں کا فیلڈ ہسپتال قائم کیا گیا ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں کے اندر بھی انتہائی نگہداشت کے یونٹس قائم کیے جارہے ہیں، مگر ممبئی میں کورونا کیسز کی تعداد 18 ہزار تک پہنچ چکی ہے ، جو کہ 2 کروڑ کے قریب آبادی میں نہ ہونے کے برابر ہے ، ایسے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اس وبا سے بھارت میں سب سے زیادہ متاثر شہر ممکنہ اضافے کے لیے تیار نہیں۔بھارت کی جانب سے جی ڈی پی کا 2 فیصد سے بھی کم حصہ طبی خدمات پر خرچ کیا جاتا ہے ۔عالمی بینک کے 2017 کے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں ہر ایک ہزار افراد کے لیے 0.8 ڈاکٹر ہیں، یعنی عراق کے برابر، چین میں یہ شرح 1.8 اور امریکا میں 2.6 ہے ۔ودیا بھامرا نے بتایا کہ اس وبا کے دوران سامنے آنے والے بیشتر مسائل کافی عرصے سے موجود تھے ، یعنی سپلائیز کی کمی جیسے صابن اور عملے پر بہت زیادہ دباؤ۔انہوں نے کہا کہ میں نے 1994 میں گریجویشن کی تھی اور حکومتی ہسپتال جب بھی نظرانداز کیے جاتے تھے ، آخر کوئی وبا ہی لوگوں کو خواب غفلت سے کیوں جگاتی ہے ؟


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر