وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان و بھارت میں فصل کی کٹائی میں تاخیر ، کسان پریشان

هفته 11 اپریل 2020 لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان و بھارت میں فصل کی کٹائی میں تاخیر ، کسان پریشان

کورونا وائرس کے شکار جنوبی ایشیا کے دو اہم ترین ممالک پاکستان و بھارت میں لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے باعث کسان بھی سخت مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ ان کی فصلیں کٹائی کے لیے بلکل تیار ہیں مگر انہیں کٹائی کے لیے مزدوروں کی قلت کا سامنا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک میں متعدد اقسام کی فصلیں پک چکی ہیں اور کسان اپنی پکی ہوئی فصلوں کی بر وقت کٹائی نہ ہونے پر سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے کٹائی کے لیے مزدوروں کی عدم دستیابی اور ٹرانسپورٹ نہ ملنے پر لاکھوں کسان اپنی پکی ہوئی فصلوں کو سڑتے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہیں۔اس خطے میں جہاں کئی فصلیں پک چکی ہیں، وہیں یہاں کے مشہور پھل آم کے پک کر تیار ہونے میں صرف ایک ماہ باقی ہے اور ماہرین نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کر دیا ہے کہ بروقت فصلوں کی کٹائی نہ ہونے اور ان کی دوسرے علاقوں میں فراہمی نہ ہونے سے خطے میں غذائی قلت کا بحران سر اٹھا سکتا ہے ۔ترکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کے شمال مشرقی صوبے پنجاب کے کسان احمد علی نے بتایا کہ ان کی گندم کی فصل تیار ہے ، جس کی کٹائی کے لیے وہ مزدوروں کی تلاش کے لیے کئی روز سے سرگرداں ہیں مگر انہیں ناکامی ملی۔صوبہ پنجاب میں اگلے ہفتے سے گندم کی فصل کی کٹائی شروع ہوجائے گی اور احمد علی بھی ان ہزاروں کسانوں میں سے ایک ہیں جنہیں فصل کی کٹائی کے لیے مزدوروں کو ڈھونڈنے میں مشکلات درپیش ہیں۔پاکستان بھر کے تقریبا 70 فیصد کسان یا زمین مالکان فصلوں کی کٹائی کے لیے ایسے افراد یا مزدوروں پر انحصار کرتے ہیں جو ہر سیزن میں کم آمدنی اور غریب علاقوں سے مزدوری کے لیے آتے ہیں، مگر اس بار کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدور آ نہیں سکے ۔پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں 7 ایکڑ زمین پر فصل لگانے والے 37 سالہ احمد علی نے بتایا کہ فصل کی کٹائی کیلئے اس وقت مزدوروں کی شدید قلت ہے اور ان کے پاس اور کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں۔اگرچہ پاکستان میں زمین مالکان فصل کی کٹائی کے لیے مشینری کا بھی استعمال کرتے ہیں مگر کورونا کی وجہ سے ان کی نقل و حمل پر بھی پابندی ہے تاہم وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے غذائی قلت کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے گڈز ٹرانسپورٹ اور فصل کی کٹائی کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور ان کی مرمت کرنے والی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی تھی۔اسی حوالے سے احمد علی نے بتایا کہ فصل کاٹنے والی مشینری کو ہر بار مرمت کی ضرورت پڑتی ہے اور چوں کہ پہلے دکانیں بند تھیں اور اب کھلنا شروع ہوئی ہیں تو وہاں پر مشینری کا رش ہے اور مرمت کرنے والے کم پڑ گئے ہیں۔پاکستان کی طرح اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کسانوں یا زمین مالکان کا تقریباً ایسا ہی حال ہے اور وہاں پر ریاست پنجاب، مدھیا پردیش، ہریانہ، راجستھان اور گجرات جیسے صوبے جو ملک میں غذائی اجناس کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں، وہاں بھی زمین مالکان کو فصل کی کٹائی کے لیے مزدوروں کی کمی کا سامنا ہے ۔بھارت کی ریاست پنجاب کے کسان سریندرا سنگھ بھٹی نے بتایا کہ اس وقت وہاں پر گندم اور چنے کی کٹائی کا سیزن شروع ہوچکا ہے مگر ان کے پاس کٹائی کے لیے مزدور نہیں۔اگرچہ پاکستان اور بھارت میں کسانوں اور زمین مالکان کو فصل کی کٹائی میں مشکلات درپیش ہیں، تاہم کئی کسانوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں کی مدد سے فصل کی کٹائی کرلی ہے مگر انہیں کاٹی گئی فصل کو منڈی تک پہنچانے میں مشکلات درپیش ہیں۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بھی بند ہے جس وجہ سے مذکورہ فصل کو منڈی تک پہنچانا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے اور اسی وجہ سے بھارت کی متعدد ریاستوں کے کسانوں کی گندم سمیت دیگر غذائی اجناس خراب ہونے کا بھی امکان ہے اور انہیں لاکھوں روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ریاست مدھیا پردیش کے سبزی اگانے والے زمین مالک آکاش پٹیل نے بتایا کہ ان کی سبزی تیار ہو چکی ہے اور وہ اس کی کٹائی بھی کر رہے ہیں مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اسے منڈی نہیں بھیج سکتے اور نہ ہی کسی اور جگہ فروخت کر سکتے ہیں، اس لیے وہ تیار سبزی کو جانوروں کو کھلانے پر مجبور ہیں۔نہ صرف آکاش پٹیل بلکہ بھارت کی دیگر ریاستوں کے کسان بھی ایسا ہی کر رہے ہیں، ملک کی مختلف ریاستوں سے ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ دیہاتوں میں زمین مالکان اپنی سبزیاں و پھل جانوروں کو کھلانے پر مجبور ہیں۔بھارتی کسانوں کی طرح پاکستانی کسان بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع میرپور خاص کے زمین مالک زاہد بھرگڑی نے حالیہ صورتحال کو چھوٹے زمینداروں اور زمین مالکان کے لیے تباہی قرار دیا۔زاید بھرگڑی نے غصے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ہوٹل بند ہیں اور وہ انہیں سبزیوں کی فراہمی نہیں کر سکتے ، وہیں وہ انہیں منڈی بھی نہیں بھجواسکتے اور نہ دوسری جگہ فروخت کرسکتے ہیں، ساتھ ہی اگر وہ کسی طرح ٹرانسپورٹ کا انتظام کر بھی لیں تو وہ 3 گنا زیادہ کرایہ وصول کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایسی صورتحال میں وہ اور ان جیسے دیگر زمین مالکان اپنی تیار فصل کو سڑنے کے لیے چھوڑنے پر مجبور ہیں۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے کسانوں اور زمین مالکان سے نئی فصل کی خریداری کا کام بھی شروع نہیں کیا۔دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے کسانوں سے براہ راست غذائی اجناس کی خریداری سے زمین مالکان کو فائدہ پہنچتا ہے اور وہ اسے اپنے لیے مراعات تصور کرتے ہیں، مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے تاحال یہ عمل بھی شروع نہیں ہوسکا۔بھارت کی مرکزی حکومت نے تو کسانوں اور زمین مالکان کو فصل کی کٹائی میں تاخیر کا مشورہ بھی دیا ہے جس کے بعد غذائی ماہرین نے خطے میں غذائی قلت کے بحران کے سر اٹھانے کے خدشات ظاہر کیے ہیں اور کہا کہ اس سے خطے کے ڈیڑھ ارب لوگ مشکلات کا شکار ہوجائیں گے ۔بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے غذائی تحفظ کے لیے بنائے گئے کمیشن کے مشیر سچن کمار جین نے حالیہ صورتحال کو کسانوں اور زمین مالکان سمیت ملک کے لیے چیلنج قرار دیا۔سچن کمار کا کہنا تھا حالیہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صورتحال ا?بادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک میں غذائی قلت جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے 55 فیصد مزدور طبقے کا تعلق زراعت سے وابستہ ہے ۔پاکستان کسان بورڈ کے سیکریٹری شوکت علی چڈھر بھی سچن کمار جین سے اتفاق کرتے ہیں اور حالیہ صورتحال کو چیلنج قرار دیتے ہیں۔شوکت علی چڈھر کے مطابق پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے گندم کی کاشت متاثر ہوئی ہے اور اوپر سے حالیہ صورتحال نے اس میں مزید اضافہ کردیا ہے ، جس سے ملک میں خصوصی طور پر گندم کی قلت کا خدشہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے بھی پاکستان میں گندم کے فصل کی کٹائی تاخیر کا شکار ہے ، کیوں کہ انہیں خود کئی مزدوروں نے بتایا کہ وہ وبا سے ڈرے ہیں اور وہ اس صورتحال میں کام نہیں کر سکتے ۔


متعلقہ خبریں


ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا وجود - پیر 23 نومبر 2020

ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مبینہ کرپشن پر سندھ حکومت کو لکھا گیا ایک خط سامنے آ گیا ہے ، جس میں چیف سیکریٹری سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ ادارے میں جاری کرپشن پر نوٹس لیا جائے ۔ذرائع کے مطابق کراچی میں امراض قلب کے لیے قائم اہم ادارے این آئی سی وی ڈی میں مبینہ کرپشن کے سلسلے میں 5 ماہ قبل چیف سیکریٹری سندھ کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں کی شکایت کی گئی تھی تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ان شکایات پر ایکشن نہیں لیاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ چی...

ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ وجود - پیر 23 نومبر 2020

پاکستان میں بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ ہوہیا۔ این جی او ساحل کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 1489 بچوں کو نشانہ بنایاگیا،جن میں 785 بچیاں اور 704 بچے شامل ہیں ۔ 38 واقعات میں زیادتی کے بعد قتل کردیاگیا۔331 بچے اغوا، 233 سے بدفعلی،104 سے اجتماعی زیادتی،168 لاپتہ، 160 بچیوں سے زیادتی، 134 سے دست درازی، 69 سے اجتماعی زیادتی کی گئی۔ 51 بچوں کی شادی کے واقعات رپورٹ ہوئے ۔ 490 متاثرین کی عمر 11 سے 15 سال اور 331 کی 6 سے 10 سال بتائی گئی۔پنجاب میں سب سے زیادہ 57 ف...

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم وجود - پیر 23 نومبر 2020

مقامی عدالت نے مزار قائد بے حرمتی کیس میں مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ہفتہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں قائد اعظم کے مزار کی مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف مزار قائد کی بے حرمتی پر مقدمے کے لیئے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزار کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد ندیم خان اور ایڈووکیٹ محمد احمد پیش ہوئے ۔ عدالت نے گواہوں کو بیان کیلئے 10 دسمبر کو طلب کرلیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ موقع پر موجود مزار قائد کے ملازمین...

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی وجود - پیر 23 نومبر 2020

شہرقائد کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی ہے ۔ذرائع کے مطابق کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی جس کے بعد شہری نجی اسپتالوں میں جانے پرمجبورہوگئے جہاں داخلے سے قبل لاکھوں روپے وصول کئے جارہے ہیں۔انڈس اسپتال میں 16 بیڈزپرمشتمل وارڈ میں تمام بیڈزمریضوں سے بھرگئے ہیں۔ جناح اسپتال میں کورونا مریضوں کے لئے 90 بیڈز مختص ہیں، جناح میں 24 ایچ ڈی یوبیڈذ اور12 وینٹلیٹرزبھی موجود ہیں، سول اسپتال میں 141 بیڈزبشم...

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار وجود - پیر 23 نومبر 2020

اسلام قبول کر کے پسند کی شادی کرنے والی13سالہ آرزو فاطمہ بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہے ۔پولیس نے آرزو کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا، چالان کے مطابق آرزو کی کورونا رپورٹ 16 نومبر کو موصول ہوئی تھی، پولیس نے کورونا کا شکار آرزو کو عدالت میں پیش کردیا۔پولیس نے بتایا کہ ملزم اظہر علی کا بھی کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو کہ منفی آیا ہے ۔چالان میں کہا گیا ہے کہ آرزونے اپنے بیان میں بتایاکہ اس کی اظہرعلی سے طویل عرصہ سے دوستی ہے ، وہ اظہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر وکیل ...

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار

برطانیہ میں10برس کے سخت ترین موسم سرما کی پیش گوئی وجود - پیر 23 نومبر 2020

برطانیہ کے شمالی علاقوں میں طوفانی ہوائیں چلنے اور بارش کا امکان ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق محکمہ موسمیات نے دس برس کے سخت ترین موسم سرما کی پیش گوئی کردی جبکہ اسکاٹ لینڈ میں موسم زیادہ سرد رہے گا۔کرسمس کے موقع پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کا امکان ہے ۔محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے کے آخر میں شمالی انگلینڈ میں برفانی طوفان آسکتے ہیں۔

برطانیہ میں10برس کے سخت ترین موسم سرما کی پیش گوئی

بھارت میں گائے کی پر اسرار ہلاکتیں،مزید 14ہلاکتوں کے بعد تعداد94ہوگئی وجود - پیر 23 نومبر 2020

بھارتی ریاست راجستھان میں ایسی پراسرار وبا پھیلنا شروع ہوگئی جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں گائے تیزی سے موت کے منہ میں جارہی ہیں۔پراسرار بیماری کی وجہ سے مزید 14 گائے ہلاک ہوئیں جس کے بعد مرنے والی گائے کی تعداد 94 تک پہنچ گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مویشی پالنے والے مالکان کا ماننا ہے کہ گائے کی اموات زہریلا پانی پینے یا مضر صحت کھانے کی وجہ سے ہو رہی ہیں مگر ویٹنری ڈاکٹرز نے اس بات کو مسترد کردیا ہے ۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ مرنے والی گائے بالکل تندرست تھیں اور انہیں کوئی تکلیف یا ب...

بھارت میں گائے کی پر اسرار ہلاکتیں،مزید 14ہلاکتوں کے بعد تعداد94ہوگئی

ایران سے ڈیل میں تخریبی کردارسمیت تمام پہلووں کااحاطہ کیا جائے ،سعودی عرب وجود - پیر 23 نومبر 2020

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مستقبل میں کوئی ڈیل صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس میں اس کی خطے میں تخریبی سرگرمیوں کا بھی توڑ کیا جانا چاہیے ۔انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ ہمارا یہ یقین ہے کہ مسئلہ صرف جوہری پروگرام کا نہیں بلکہ ایران کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس نے خطے پر اپنی مرضی مسلط کرنے اور اپنے ہمسایوں اور ان سے آگے کے ممالک میں انقلاب کو برآمد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔انھوں ...

ایران سے ڈیل میں تخریبی کردارسمیت تمام پہلووں کااحاطہ کیا جائے ،سعودی عرب

موٹروے زیادتی کیس سے متاثر فلم ''شینوگئی''دسمبر میں ریلیز ہو گی وجود - پیر 23 نومبر 2020

چند ماہ قبل موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے متاثر ہو کر ہدایت کار ابو علیحہ نے فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ہدایت کار ابو علیحہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد پوسٹس شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ موٹر وے زیادتی حادثہ ہوا، اس حادثے سے متعلق سوشل میڈیا پر الباکستانی مجاہدین کے خیالات پڑھے تو جی میں آیا کہ اس پر کچھ نہ کچھ لکھا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ جب کہانی لکھ لی تو زیمیز پروڈکشنز کی بہن عابدہ احمد اور میٹرو لائیو موویز کے عمر خطاب بھائی سے بات ہوئی، دونوں نے کہا...

موٹروے زیادتی کیس سے متاثر فلم ''شینوگئی''دسمبر میں ریلیز ہو گی

برطانیا سزا یافتہ شخص کو ڈ ی پورٹ کرسکتا ہے ،شہزاد اکبر وجود - اتوار 22 نومبر 2020

مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نوازشریف ایک سزا یافتہ مجرم ہے ۔ برطانوی قوانین کے مطابق سزا یافتہ شخص کو ڈیپورٹ کر سکتا ہے ۔مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا میاں صاحب ایک خاص اجازت سے برطانیہ گئے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے تین افراد برطانیہ کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہم ایکسٹرا ڈیشن ٹریٹی کے تحت بھی نوازشریف کو لاسکتے ہیں۔ عدالتیں بھی سمجھتی ہیں کہ نوازشریف کو واپس آنا چاہیے ۔مشیر داخلہ نے کہا ہے کہ برطانیہ ق...

برطانیا سزا یافتہ شخص کو ڈ ی پورٹ کرسکتا ہے ،شہزاد اکبر

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کا نئی کابینہ کے لیے ناموں پر غور وجود - اتوار 22 نومبر 2020

امریکی نو منتخب صدر جو بائیڈن آئندہ ہفتے تک اپنی کابینہ کے اہم ارکان کا اعلان کر سکتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈیموکریٹ جو بائیڈن نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے وزارت خزانہ کی سربراہی کے لیے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بائیڈن وزیر خارجہ سمیت دیگر اہم عہدوں کے لیے بہت جلد نام تجویز کرنے والے ہیں۔ جو بائیڈن آئندہ برس 20 جنوری کو امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے ۔ تاہم صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخابات میں ابھی شکست تسلیم نہیں کی ہے اور انہوں ...

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کا نئی کابینہ کے لیے ناموں پر غور

کورونا ویکسینز بارے سازشی تھیوریز کیخلاف ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا اتحاد وجود - اتوار 22 نومبر 2020

فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل نے آن لائن کورونا وائرس کی ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن تفصیلات کے پھیلا ئوکے لیے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔تینوں کمپنیاں دنیا بھر میں حقائق جانچنے والے اداروں اور حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ ملکر جلد متعارف ہونے والی کورونا ویکسینز کے بارے میں غلط اور گمراہ کن رپورٹس کی روک تھام کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس مقصد کے لیے تینوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ایک نئی شراکت داری کی ہے جس کے تحت محققین اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر اینٹی ویکسین...

کورونا ویکسینز بارے سازشی تھیوریز کیخلاف ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا اتحاد