وجود

... loading ...

وجود

لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان و بھارت میں فصل کی کٹائی میں تاخیر ، کسان پریشان

هفته 11 اپریل 2020 لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان و بھارت میں فصل کی کٹائی میں تاخیر ، کسان پریشان

کورونا وائرس کے شکار جنوبی ایشیا کے دو اہم ترین ممالک پاکستان و بھارت میں لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے باعث کسان بھی سخت مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ ان کی فصلیں کٹائی کے لیے بلکل تیار ہیں مگر انہیں کٹائی کے لیے مزدوروں کی قلت کا سامنا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک میں متعدد اقسام کی فصلیں پک چکی ہیں اور کسان اپنی پکی ہوئی فصلوں کی بر وقت کٹائی نہ ہونے پر سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے کٹائی کے لیے مزدوروں کی عدم دستیابی اور ٹرانسپورٹ نہ ملنے پر لاکھوں کسان اپنی پکی ہوئی فصلوں کو سڑتے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہیں۔اس خطے میں جہاں کئی فصلیں پک چکی ہیں، وہیں یہاں کے مشہور پھل آم کے پک کر تیار ہونے میں صرف ایک ماہ باقی ہے اور ماہرین نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کر دیا ہے کہ بروقت فصلوں کی کٹائی نہ ہونے اور ان کی دوسرے علاقوں میں فراہمی نہ ہونے سے خطے میں غذائی قلت کا بحران سر اٹھا سکتا ہے ۔ترکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کے شمال مشرقی صوبے پنجاب کے کسان احمد علی نے بتایا کہ ان کی گندم کی فصل تیار ہے ، جس کی کٹائی کے لیے وہ مزدوروں کی تلاش کے لیے کئی روز سے سرگرداں ہیں مگر انہیں ناکامی ملی۔صوبہ پنجاب میں اگلے ہفتے سے گندم کی فصل کی کٹائی شروع ہوجائے گی اور احمد علی بھی ان ہزاروں کسانوں میں سے ایک ہیں جنہیں فصل کی کٹائی کے لیے مزدوروں کو ڈھونڈنے میں مشکلات درپیش ہیں۔پاکستان بھر کے تقریبا 70 فیصد کسان یا زمین مالکان فصلوں کی کٹائی کے لیے ایسے افراد یا مزدوروں پر انحصار کرتے ہیں جو ہر سیزن میں کم آمدنی اور غریب علاقوں سے مزدوری کے لیے آتے ہیں، مگر اس بار کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدور آ نہیں سکے ۔پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں 7 ایکڑ زمین پر فصل لگانے والے 37 سالہ احمد علی نے بتایا کہ فصل کی کٹائی کیلئے اس وقت مزدوروں کی شدید قلت ہے اور ان کے پاس اور کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں۔اگرچہ پاکستان میں زمین مالکان فصل کی کٹائی کے لیے مشینری کا بھی استعمال کرتے ہیں مگر کورونا کی وجہ سے ان کی نقل و حمل پر بھی پابندی ہے تاہم وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے غذائی قلت کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے گڈز ٹرانسپورٹ اور فصل کی کٹائی کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور ان کی مرمت کرنے والی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی تھی۔اسی حوالے سے احمد علی نے بتایا کہ فصل کاٹنے والی مشینری کو ہر بار مرمت کی ضرورت پڑتی ہے اور چوں کہ پہلے دکانیں بند تھیں اور اب کھلنا شروع ہوئی ہیں تو وہاں پر مشینری کا رش ہے اور مرمت کرنے والے کم پڑ گئے ہیں۔پاکستان کی طرح اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کسانوں یا زمین مالکان کا تقریباً ایسا ہی حال ہے اور وہاں پر ریاست پنجاب، مدھیا پردیش، ہریانہ، راجستھان اور گجرات جیسے صوبے جو ملک میں غذائی اجناس کے لیے مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں، وہاں بھی زمین مالکان کو فصل کی کٹائی کے لیے مزدوروں کی کمی کا سامنا ہے ۔بھارت کی ریاست پنجاب کے کسان سریندرا سنگھ بھٹی نے بتایا کہ اس وقت وہاں پر گندم اور چنے کی کٹائی کا سیزن شروع ہوچکا ہے مگر ان کے پاس کٹائی کے لیے مزدور نہیں۔اگرچہ پاکستان اور بھارت میں کسانوں اور زمین مالکان کو فصل کی کٹائی میں مشکلات درپیش ہیں، تاہم کئی کسانوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں کی مدد سے فصل کی کٹائی کرلی ہے مگر انہیں کاٹی گئی فصل کو منڈی تک پہنچانے میں مشکلات درپیش ہیں۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ بھی بند ہے جس وجہ سے مذکورہ فصل کو منڈی تک پہنچانا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے اور اسی وجہ سے بھارت کی متعدد ریاستوں کے کسانوں کی گندم سمیت دیگر غذائی اجناس خراب ہونے کا بھی امکان ہے اور انہیں لاکھوں روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ریاست مدھیا پردیش کے سبزی اگانے والے زمین مالک آکاش پٹیل نے بتایا کہ ان کی سبزی تیار ہو چکی ہے اور وہ اس کی کٹائی بھی کر رہے ہیں مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اسے منڈی نہیں بھیج سکتے اور نہ ہی کسی اور جگہ فروخت کر سکتے ہیں، اس لیے وہ تیار سبزی کو جانوروں کو کھلانے پر مجبور ہیں۔نہ صرف آکاش پٹیل بلکہ بھارت کی دیگر ریاستوں کے کسان بھی ایسا ہی کر رہے ہیں، ملک کی مختلف ریاستوں سے ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ دیہاتوں میں زمین مالکان اپنی سبزیاں و پھل جانوروں کو کھلانے پر مجبور ہیں۔بھارتی کسانوں کی طرح پاکستانی کسان بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع میرپور خاص کے زمین مالک زاہد بھرگڑی نے حالیہ صورتحال کو چھوٹے زمینداروں اور زمین مالکان کے لیے تباہی قرار دیا۔زاید بھرگڑی نے غصے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ہوٹل بند ہیں اور وہ انہیں سبزیوں کی فراہمی نہیں کر سکتے ، وہیں وہ انہیں منڈی بھی نہیں بھجواسکتے اور نہ دوسری جگہ فروخت کرسکتے ہیں، ساتھ ہی اگر وہ کسی طرح ٹرانسپورٹ کا انتظام کر بھی لیں تو وہ 3 گنا زیادہ کرایہ وصول کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایسی صورتحال میں وہ اور ان جیسے دیگر زمین مالکان اپنی تیار فصل کو سڑنے کے لیے چھوڑنے پر مجبور ہیں۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے کسانوں اور زمین مالکان سے نئی فصل کی خریداری کا کام بھی شروع نہیں کیا۔دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے کسانوں سے براہ راست غذائی اجناس کی خریداری سے زمین مالکان کو فائدہ پہنچتا ہے اور وہ اسے اپنے لیے مراعات تصور کرتے ہیں، مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے تاحال یہ عمل بھی شروع نہیں ہوسکا۔بھارت کی مرکزی حکومت نے تو کسانوں اور زمین مالکان کو فصل کی کٹائی میں تاخیر کا مشورہ بھی دیا ہے جس کے بعد غذائی ماہرین نے خطے میں غذائی قلت کے بحران کے سر اٹھانے کے خدشات ظاہر کیے ہیں اور کہا کہ اس سے خطے کے ڈیڑھ ارب لوگ مشکلات کا شکار ہوجائیں گے ۔بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے غذائی تحفظ کے لیے بنائے گئے کمیشن کے مشیر سچن کمار جین نے حالیہ صورتحال کو کسانوں اور زمین مالکان سمیت ملک کے لیے چیلنج قرار دیا۔سچن کمار کا کہنا تھا حالیہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صورتحال ا?بادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک میں غذائی قلت جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے 55 فیصد مزدور طبقے کا تعلق زراعت سے وابستہ ہے ۔پاکستان کسان بورڈ کے سیکریٹری شوکت علی چڈھر بھی سچن کمار جین سے اتفاق کرتے ہیں اور حالیہ صورتحال کو چیلنج قرار دیتے ہیں۔شوکت علی چڈھر کے مطابق پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے گندم کی کاشت متاثر ہوئی ہے اور اوپر سے حالیہ صورتحال نے اس میں مزید اضافہ کردیا ہے ، جس سے ملک میں خصوصی طور پر گندم کی قلت کا خدشہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے بھی پاکستان میں گندم کے فصل کی کٹائی تاخیر کا شکار ہے ، کیوں کہ انہیں خود کئی مزدوروں نے بتایا کہ وہ وبا سے ڈرے ہیں اور وہ اس صورتحال میں کام نہیں کر سکتے ۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن وجود - پیر 19 جنوری 2026

سندھ حکومت نے فوری طور پر آگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے،وزیر اطلاعات سندھ کتنا نقصان ہوا اس کا تخمینہ آگ بھجانے کے بعد ہی لگایا جائے گا،نجی ٹی وی سے گفتگو وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ میں کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروا...

سانحہ گل پلازہ ،ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی،شرجیل میمن

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا وجود - پیر 19 جنوری 2026

نفاذ یکم فروری سے کیا جائیگا،جب تک گرین لینڈ نہیں مل جاتا ٹیرف بڑھتا ہی جائیگا معاہدہ نہ ہونے پر یکم جون سے ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا،امریکی صدر گرین لینڈ ملنے میں رکاوٹ اور ساتھ نہ دینے پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جس کا باقاعد...

گرین لینڈکاغصہ، ٹرمپ نے یورپی ممالک پر 10فیصد ٹیرف عائد کردیا

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

مضامین
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

تھیوکریسی وجود پیر 19 جنوری 2026
تھیوکریسی

معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار وجود پیر 19 جنوری 2026
معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار

شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر