وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

حقیقت کی خیالی منظرنامے میں رونمائی

جمعرات 09 اپریل 2020 حقیقت کی خیالی منظرنامے میں رونمائی

باسمہ تعالیٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔

کھیل انتہائی دلچسپ ہے۔ یہ ایک نیٹ فلکس ویڈیو ہے، دستاویزی فلم!جسے بل گیٹس بناتا ہے۔ اس میں ایک بھیانک خیالی منظرنامہ ہے۔ویڈیومیں چین کی ایک مرطوب مارکیٹ (Wet market)دکھائی جاتی ہے۔جہاں زندہ اور مردہ جانور کھڑے ہیں۔ جہاں سے ایک انتہائی مہلک وائرس پھوٹتاہے اور دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ فلم میں پروڈیوسرز چین کی ایک مرطوب منڈی کا دورہ کرتے ہیں تاکہ اس کی ایک قسط فلمائی جاسکے۔ اس کا عنوان ”اگلا وبائی مرض“ (دی نیکسٹ پینڈمک) ہے۔ فلم دکھاتی ہے کہ کس طرح اس مارکیٹ میں جانوروں کو ہلاک کیا جاتا ہے،پھر انسانوں کے استعمال سے قبل مختلف جانوروں کی لاشیں خون اور گوشت میں لت پت ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر دکھائی پڑتی ہیں۔

بل گیٹس کو بھی سیریز کے ایک حصے میں پیش کیا جاتا ہے، جوقاتل وائرس کے عالمی سطح پر امکانات کے متعلق آگاہ کرتا ہے۔ وہ ایک ماہر کی حیثیت سے وبا کے متعلق تنبیہ کرتادکھائی دیتا ہے۔”اگر آپ کروڑوں انسانوں کے لیے جان لیوا کسی بھی چیز کے متعلق سوچتے ہیں تو وہ صرف وبائی امراض ہیں۔ اگر اس کے لیے ابھی سے کچھ نہیں ہوا تو وہ وقت آئے گا کہ جب دنیا پیچھے مڑ کر دیکھے گی تو خواہش کرے گی کہ کاش اُس نے سب سے زیادہ سرمایہ کار ی ان وبائی امراض پر کی ہوتی“۔ بل گیٹس ہمیں سب کچھ صحیح صحیح دکھاتا ہے۔ وائرس حرکت میں آتاہے، اچانک دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ چمگاڈروں کا سوپ اس کی وجہ ہے، پھر کہا جاتا ہے کہ پنگولین بھی اس کی ایک سب سے بڑی وجہ ہو سکتا ہے۔ یہ کس تحقیق سے واضح ہوا؟ کچھ واضح نہیں۔ بس دنیا نے مان لیا کہ وائرس یہیں سے پید اہوا۔ کیوں؟ کیونکہ ووہان اس کے نرغے میں پہلی بار آیا۔ اور چین میں وہی مارکیٹ موجود ہے جسے بل گیٹس نے اپنی نیٹ فلکس سیریز میں دکھایا تھا۔

 

یہ سیریز گزشتہ سال کے آخر میں سامنے آئی تھی۔ چند ہفتے پہلے ہم نے خیالی منظر نامے پر مبنی اس سیریز کے مطابق سب کچھ ہوتے ہوئے حقیقت میں دیکھا۔ اس منظرنامے کے بعد ہمیں سائنس دانوں کی حالت کا بھی اندازا ہوگیا کہ وہ اپنے اندازے لگانے میں کتنے وہمی اور غیر حقیقی ہوتے ہیں۔ ابتدا میں ہی ہمیں مختلف ”ماہرین“کی اس آلودہ رائے کا سامنا کرنا پڑا کہ وائرس چین کی ان ہی مرطوب مارکیٹوں میں پیدا ہوا۔ اور اس کا سبب چمگاڈر اور سانپ تھے۔ بعد کے واقعات نے اس رائے کی تائید نہیں کی۔ چین میں جو پہلی مریض کورونا وائرس کی شکار ہوئی وہ ایک کیکرے فروش تھی اور اس کا چمگاڈر اور سانپوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہمیں بعد میں بھی سائنسی وجوہات کے ساتھ، حیاتیاتی تبدیلیوں کے اس پورے کھڑاگ کے متعلق کوئی ٹھوس، مستند،قابل یقین اور درست سیاق وسباق کے ساتھ کوئی تحقیق پیش نہیں کی گئی۔
ہمارے پاس رائے بنانے کے لیے کیا تھا؟ بل گیٹس کی مہیا کردہ معلومات، اور کچھ بھی نہیں۔ اس میں سب سے اہم یہ نیٹ سیریز تھی جس نے وائرس سے زیادہ ایک دنیا کو ذہنی طور پر متاثر کردیا۔ دنیا کو ابھی بھی معلوم نہیں کہ اصل کورنا وائرس تو یہی ہے جو آپ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تک سلب کرلیتا ہے۔ چنانچہ ہمیں یقین کرناپڑتا ہے کہ گیٹس فاونڈیشن کیا کررہی ہے اور کہہ رہی ہے۔ اب دیکھیے! نیٹ فلکس دستاویزی فلم سے جو خیالی منظرنامہ اُبھرتا ہے، اس کی ایک حقیقی مشق کے لیے گیٹس فاونڈیشن، جان ہاپکنز سینٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی اور ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ اسے وہ”ایونٹ 201“ کا عنوان دیتے ہیں۔ وہی ہمیں بتاتے ہیں کہ ”نوول زونوٹک کورونا وائرس چمگاڈروں سے سوروں میں منتقل ہوتا ہے، اور پھر یہ انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ پھر ایک شخص سے دوسرے شخص میں یہ موثر طور پر منتقل ہونے لگتا ہے۔ جس سے ایک شدید نوعیت کی وبائی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ ایونٹ 201 کی آزمائشی مشق میں دنیا بھر سے منتخب لوگ شریک کیے جاتے ہیں۔ کورونا وائرس کے حقیقت بن جانے کے بعد اس افسانوی مشق کی اہمیت بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ سب کچھ بہت دلچسپ ہے۔

کورونا وائرس کی وبا سامنے آنے سے پہلے ایونٹ 201 کی آزمائشی مشق میں شریک ہونے والوں میں سے ایک کانام جارج فو گاؤ ہے۔ یہ 2017 سے چین میں بیماریوں کے کنٹرول اور انسداد کے مرکزی پروگرام کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا تخصص ہی انفلوئنزا وائرس کے ایک سے دوسری نوعِ جاندار میں منتقلی ہے۔ ان کی دلچسپی کا محور وائرسی ماحولیات ہے۔وہ خاص طور پر انفلوئنزا وائرس اور مہاجر پرندوں کے مابین تعلقات پر دھیان دیتے ہیں۔ وہ پولٹری مارکیٹ اور چمگاڈروں سے اخذ وائرس کی دنیا کو بھی اپنا موضوع رکھتے ہیں۔ پروفیسر گاؤنے اوباما کی مدت صدارت میں سی آئی اے کی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایورل ہینس کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ایونٹ 201 کے ایک اور کھلاڑی رئیر ایڈمرل اسٹیفن سی ریڈڈ تھے جو بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) میں آفس آف پبلک ہیلتھ تیاری کے ڈائریکٹر تھے۔ یہی سی ڈی سی ریاستہائے متحدہ امریکا میں COVID-19 کے معاملات کی جانچ کے لیے مناسب سہولتیں دستیاب نہ ہونے کے باعث اس وقت ایک بہت بڑے اسکینڈل کا مرکز ہے۔ یہ سب کتنا شاندار ہے۔ اس میں ایڈرئن تھامس کو نہ بھولیں جو نائب صدر کے طور پر بدنام زمانہ جانسن اینڈ جانسن میں تمام وبائی امراض کی ویکسین کے لیے سرگرم ہیں۔ ایبولا، ڈینگی، ایڈز کی ویکسین تیاری بھی اس کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ اس میں لفتھنسا گروپ ائیر لائنز کے ہنگامی حالات اور بزنس کنٹونیئٹی مینجمنٹ کے سربراہ مارٹن نُچیل بھی شامل ہیں۔ جس نے کووڈ 19 کی وبائی بیماری کے بحران کے ابتدا میں ہی اپنی پروازوں کو سب سے پہلے کم کیا۔

بل گیٹس کی نیٹ فلکس سیریز اور ایونٹ 201 کی آزمائشی مشق سمیت دیگر تمام تر مصروفیات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ دنیا میں یہ واحد ”مسیحا“ ہے جو وبائی امراض پھیلنے کے امکانات کو ہوا دینے میں سب سے زیادہ مشغول ہے۔ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے سرگرم طور پر ہمیں متنبہ کررہا ہے کہ کسی وبائی مرض کا انتہائی مہلک خطرہ ہمارے سروں پر مسلسل منڈلا رہا ہے، جو 1918 کے پراسرار ہسپانوی فلو سے ہونے والی مبینہ اموات سے بھی زیادہ بڑا ہوسکتا ہے۔یاد رہے کہ اس وبائی مرض میں پانچ کروڑ انسان ہلاک ہوگئے تھے۔ان سب کے ساتھ گیٹس فاونڈیشن ویکیسن کے بہت بڑے بڑے منصوبوں کو بھی آگے بڑھاتی ہیں۔ اس تناظر میں نیٹ فلکس کی سیریز کا ایک منظر بھی دھیان میں رکھیں، جس میں دکھا یا جاتا ہے کہ وائرس اختلاط کے ساتھ تغیر پزیر رہتا ہے، جو انسانی مشکلات میں مسلسل اضافہ کرتا رہتا ہے۔ حقیقت میں ابھی ہماری پریشانیاں کم نہیں ہوئیں۔ آگے آپ خود سمجھ دار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں