وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

دلی ہوئی ہے ویراں!

منگل 10 مارچ 2020 دلی ہوئی ہے ویراں!

وہی کہہ سکتا تھا، بخدا وہی کہہ سکتا تھا جو شعر کو آنسو اور مصرعے کو خون کی بوندوں کی طرح برتتا۔ سوز میں ڈھلے اور گداز سے بھرے نغمے چھیڑنے والا درد وغم کا شاعر خدائے سخن میر تقی میر نے دلّی کو ’’اجڑا دیار‘‘ کہا تھا۔ دلّی ہائے دلّی!!!

دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
ہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کے

میر نے دلّی کو’’ اجڑا دیار‘‘ کہا، تو کب کسی کے وہم وگمان میں تھا کہ یہ بستی بستے بستے اجڑتی اور اجڑتے اجڑتے بستی رہی گی۔ یہاں امکانات کی بہار اور اندیشوں کا موسم خزاں یکساں طاری رہے گا۔ یہاں المیے ، المیوں پر آنسو بہائیں گے،موت زندگی کو اور زندگی موت کو ترسے گی۔کبھی میر کا اجڑا دیار، دلّی دل والوں کی بستی تھی اور دل دل میںبستی تھی ۔ سترہویں صدی کے وسط تک چھ بار اجڑنے والا دلّی اکبر کے پوتے کے ہاتھوں ساتویں بار بسی تو اُسی کے نام سے شاہجہاں آباد کہلائی۔ انگریزوں نے 1857ء کو اس کا حسن گہنا دیا۔ تہذیب کو قتل کردیا۔شرفاء کے خون سے اسے غسل دیا۔بوڑھے اور بے دم بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلاوطن کردیا۔ پھر بھی یہ شہر اپنی جمنی تہذیب کی رونقوں سے آباد ہوا۔ اپنی عظمت رفتہ کی بازیافت میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے کھنڈر زندگی جینے لگے۔زوال کی آندھی سے خود کو بکھرتے دیکھنے کا عادی یہ شہر عروج کے بادِ نسیم میں خود کو سنوارنے کی حیرت انگیز صلاحیت دکھاتا آیا ہے۔

 

خاکسار اُن خوش نصیبوں میں شامل ہیں جس نے دلی کی تہذیب کا جاہ وجلال اور جمال وکمال مجسم حکیم محمد سعید کی شکل میں دیکھا ہے۔ دلی کے کو چوں کو اوراقِ مصور کہا جاتا۔ یہی اوراق حکیم سعید شہید کی صبح دم بیداریوں ، سرشام مہکتی شاموں اور عطر بیز جھٹ پٹوں کے مشاہدوں میںدیکھے اور پڑھے جاسکتے تھے۔ اُن کی شہادت پر ہم نے لکھا تھا: کراچی میںدلّی کا قتل ہوگیا۔ ڈپٹی نذیر کے پوتے شاہد احمد دہلوی تو دلی کے سقے، کنجڑے، قصائی، ٹھٹیرے،قلعی گر، بڑھئی، کھٹ بنے، بزاز،منیہار، کو روتے تھے،اُن کے آوازے یاد کرتے ، گلی گلی سودا بیچنے کی دلکش آوازیں اُنہیں کراچی میں نہ بھولتی تھیں۔ کہتے: دلی والے مٹھائی بیچتے تو اس طرح بیچتے تھے:’’ریشم کے جال میںہلایا، نکتیاں بناقدرت کا اودا بناجلیبا کھالو‘‘۔بیربیچنے والے کی آواز تو سنیں: گھونگھٹ والی نے توڑے ہیں بیر، لگ گیا کانٹا بکھر گئے بیر۔ایک تو دلّی کی بولی ٹھولی، پھر وہ مشہور چٹورپن، اُس پر سودا بیچنے والوں کی محاوروں کے ساتھ چٹخارے دار آوازیں۔ ہر کوئی ادبدا جاتا، جی للچاتا۔شاہد احمد دہلوی کی نثر اس ذائقے سے بھی بڑھ کر تھی۔اُنہوں نے اپنے پڑھنے والوں کو خوانی کا چٹور پن دیا۔ دیکھیے !کبابی کو کبابی اور حلوائی کو حلوائی والا تو سب کہتے ہیں مگر دلی والے بولی ٹھولی میں کچھ ’’وکھڑی ٹائپ‘‘ کے تھے۔ وہاں گھنٹے والا حلوائی اور چڑیا والا کبابی تھا، شاہ گنج کا نواب قلفی والا،فراش خانے کا شابو بھٹیارااور چاندنی چوک کا گنجا نہاری والا کہلاتا۔ بولی لطف دیتی، کھانے ذائقہ دیتے،دلی والے مزے کرتے۔ تاریخ کا جمال اور تہذیب کا وہ نخرہ بن گئے۔ اُنہیں اس کا حق تھا کہ زندگی کو وہ موت سے بچاتے آئے تھے۔ مگر اب دلّی میں فصل کے میوے اور پھول پھل بیچنے والوں کی آوازیں نہیں ، بی جے پی کے غنڈوں کی دھمکیاں گونجتی ہیں۔ تقسیم ِہند تک اپنے معاشرتی اور تہذیبی بناؤ سنگھار کے ساتھ شہروں کی دلہن بن کر اپنی چھب دکھانے والی دلی اجڑی تو کئی بار تھی، مگر اب موذی مودی کے بھارت نے اس کا سہاگ بھی لوٹ لیا ۔ یہ شہروں کی دلہن نہیں رہی، بیوہ بن چکی ہے۔ اس کی مانگ کا سیندور بکھر گیا۔

افسوس دلی کی اس آگ کو فسادات یا پھر فرقہ وارانہ لڑائی قرار دیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کی منظم نسل کشی کو فسادات یا فرقہ وارانہ لڑائی قرار دینا بجائے خود ایک تشدد ہے۔ دلی کبھی فرقہ وارانہ جنگ کا عنوان نہیں رہی۔ یہاں سب خوش باش تھے۔ سب کی اپنی اپنی شناخت تھی۔ مگر کسی کو ،کسی سے پریشانی لاحق نہ تھی۔ دلی کا یہ رنگ تیتر پالنے کا شوق رکھنے والے تمام فرقوں کے لوگوں سے ظاہرہوتا۔ تیتر کی آواز تو لگی بندھی تھی، مگر دودھ بیچنے والے کہتے کہ تیتر کہتا ہے:شیر دارم شکرک‘‘۔بنیا کہتا: نون تیل ادرک‘‘۔مذہبی لوگوں کا خیال تھا:سبحان تیری قدرت‘‘۔ہندو کہتا: سیتا رام دسرتھ‘‘۔ تیتر کی آواز پر سب خوش ہوتے۔ اور کسی کو کسی کی خوشی نہ کَھلتی تھی۔ دلی کو فرقہ وارانہ آگ میں جھلسانے والے بھی جانتے ہیں کہ اس کا یہ رنگ کبھی رہا ہی نہیں۔اسی لیے دلّی کو اجاڑنے کے لیے بی جے پی کے غنڈوں نے بھارے کے دہشت گرد باہر سے بلوائے جو دلی کو لوٹ کر لے گئے۔ اس کی مانگ کا سیندور اورتہذیبی بانکپن بھی۔

دلی ہوئی ہے ویراںسونے کھنڈر پڑے ہیں
ویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں

ستم یہ نہیں ہوا کہ دلی کو مودی اور اس کے غنڈوں نے لوٹ لیا۔ ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ سیاسی بازیگروں نے دلی کی آگ بھڑکائی اور اسے گھناؤنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ مشرقی دہلی کی آبادیوں کے مناظر دل دہلادینے والے تھے۔ مصطفی آباد، کھجوری، چاند باغ، کراول نگر ، شیووہاراور موج پور کی ویڈیوز جس نے بھی دیکھیں اپنے کلیجے کو تھام لیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دشمن فوج نے یہاں بے رحمی سے بمباری کی ہو۔ بات تو یہ ہے کہ دشمن فوج نے ہی دلی کو اجاڑا ہے۔ مگر دلی کے دل والے مسلمان ابھی بول نہیں رہے، بس بھوگ رہے ہیں۔ کبھی انہیںیقین آئے گا کہ پاکستان کیوں ضروری تھا؟ قائد اعظم کی نگاہِ دور بین نے آئندہ کو کس طرح چلتا ہوا دیکھا تھا؟علامہ اقبالؒ کیوں اس مقصد کی آبیاری کے لیے گھلے جارہے تھے؟مودی کے غنڈوں نے ہندو تعصب کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے ہوئے یہ ہدف سامنے رکھاکہ مسلمانوں کے جینے کے اسباب کو فنا کیا جائے۔ ان کا جذباتی شیرازہ بکھیر دیا جائے۔ چنانچہ ہندو تعصب کے شکار درندوں نے مسلمانوں کے کاروبار ی مراکز اور مساجد کو خصوصی ہدف بنایا۔ آج بھی مسلمان اپنے مال واسباب کو راکھ کا ڈھیڑ دیکھ کر زارو قطار رو رہے ہیں۔دلی کے حالِ زار کا مشاہدہ کرنے والے کہتے ہیں کہ ان متاثرین میں اکثریت ایسے بدنصیبوں کی شامل ہیں جو دوبارہ اپنے پاؤں پر کبھی کھڑے نہ ہو سکیں گے۔

یہ دلی نہیں بھارت بھر کے مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ آج بھی اپنے ملک میں اجنبی سمجھے جارہے ہیں۔ ان کے مال واسباب کو ہمیشہ دلی اور گجرات جیسے فسادات کا خدشہ رہے گا۔ مودی نے دلی کے فسادکے لیے جو نقشہ بنایا اور اس میںجو کاریگری کی، اس پر اگر غور نہ کیا گیا تو وہ ہمیشہ ظلم کے شکار ہوتے رہیں گے۔ دلی کوئی دوردراز کا ایسا پسماندہ علاقہ نہیں تھا جو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہوتا۔ مودی نے اپنی غنڈہ گردی کے لیے دلی کو تب تختۂ مشق پر مشقِ ستم بنایا جب یہاں دنیا کا سب سے زیادہ طاقت ور سمجھا جانے والا امریکا کا صدر ٹرمپ موجود تھا۔ اتنا ہی نہیںجب دلی میں مسلمانوں کو ہندو لوٹ رہے تھے، تو امریکی صدر بھی اُس وقت اُسی دلی میں تھا۔ دنیا غفلت کی اسی کل سے چلتی ہے۔ یہاں رہنے کے لیے اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ مسلمان اب بھارت میں ایک مرتبہ پھر تقسیم ِ ہند سے پہلے کے حالات میں چلے گئے ہیں۔ اب اُن کے لیے حالات مسلسل ناساز ہوتے جائیںگے۔ گجرات اور دلی بار بار کہیںنہ کہیں دہرایا جاتا رہے گا۔ دلی کی اس کٹا چھنی اور آپا دھاپی میں عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال کا بھی غازہ اُتر گیا۔ شاہین باغ کو انتخابات سے پہلے بی جے پی نے اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہا تھا۔ مگر مسلمانوں نے اس کا فائدہ عام آدمی پارٹی کو پہنچایا ۔ اروند کیجریوال نے کامیابی کے بعد بی جے پی کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس دوران میں مسلمانوں کے خلاف ہندو آگ بھڑکائی گئی تو اروند کیجریوال نے خاموشی کی چادر اوڑھ لی۔ تین دن تک وہ اور مودی چپ سادھے رہے۔ پھر دونوں نے ایک ہی دن اپنا ردِ عمل دیا۔مودی کی مرکزی حکومت نے دلی میں برپا بربریت اور دردندگی کے اثرات کم کرنے کے لیے قربانی کے بکرے تلاشنے شروع کیے تو اُن کی نظر عام آدمی پارٹی کے میونسپل کونسلر طاہر حسین پر جاٹکی۔ تب اروند کیجریوال اپنے قد سے بھی چھوٹے ثابت ہوئے۔ دہلی پولیس کے بچھائے ہوئے اس سفاکانہ جال سے اپنے حامی کو نکالنے کے بجائے اُنہوں نے امیت شاہ کی زبان بولی اور کہا کہ عام آدمی پارٹی کا کوئی آدمی فسادات میں ملوث ہے تو اسے دگنی سزا دی جائے گی۔ کیا اروند کیجریوال یہی لب ولہجہ ایک ہندو کے لیے بھی استعمال کرپاتے؟بھارت میں دو قومی نظریہ انگڑائی لے کر دوبارہ بیدا ر ہوگیا ہے۔ کوئی اسے کتنا ہی ان دیکھا کرے، یہ اُبھر کر خود کو منوائے گا۔ قائدا عظم ایک ایسے رہنما ہیں جن کا راستا ایک منزل بن کر بھارت کے مسلمانوں کو پکارے گا۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ مودی کشمیر کو بھارت بنانا چاہتا تھا۔ مگر اُس کی وحشت اور بربریت نے پورے بھارت کو کشمیر بنا دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں 'بنگلہ دیش وجود - هفته 01 اگست 2020

بنگلہ دیش کی ''کوئی دشمن نہیں''کی ڈپلومیسی کے باعث پاکستان سے تعلقات بہتر ہورہے ہیں اور اس قربت پر بھارت میں ہونے والے تبصروں پر بنگلہ دیشن کے وزیر خارجہ عبدالمومن نے کہا ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں ، کسی کو ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کا حق نہیں ۔ ترک خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیشی رہنمائوں کے درمیان حالیہ رابطوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی موہوم سی امید پیدا ہو چلی ہے ۔مبصرین کے مطابق دسمبر 1971 میں انتہائی خون خرابے کے بعد زوا...

بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں 'بنگلہ دیش

مصرمیں قبل از وقت اذان مغرب، لاکھوں روزہ داروں نے نفلی روزہ توڑ دیا وجود - هفته 01 اگست 2020

مصر میں القرآن چینل پر نماز مغرب کی اذان وقت سے پہلے دیے جانے کے نتیجے میں لاکھوں روزہ دار روز توڑ بیٹھے ۔عرب ٹی وی کے مطابق یوم عرفہ کو مغرب کی اذان وقت مقررہ سے 4 منٹ قبل دے دی گئی جسے سنتے ہی لاکھوں افراد نے نفلی روزہ کھول دیا۔اس واقعے کے بعد حکام نے ٹی وی چینل کے عہدیداروں کو تحقیقات اور انکوائری کے لیے طلب کرلیا گیا ہے ۔انکوائری کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ آیا قبل از وقت اذان کسی فنی خرابی سے نشر ہوئی یا یہ کسی شخص کی دانستہ شرارت تھی۔ تحقیقات کے بعد اس واقعے کے ذمہ دار...

مصرمیں قبل از وقت اذان مغرب، لاکھوں روزہ داروں نے نفلی روزہ توڑ دیا

یوکرین کا ایران سے طیارہ حادثے پر بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان وجود - هفته 01 اگست 2020

یوکرین کی حکومت نے ایران میں ایک میزائل حملے میں تباہ ہونے والے اپنے مسافر جہاز کے واقعے پر ایران سے بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان کیا ہے ۔یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کالیبا نے کہا کہ ان کا ملک 8 جنوری کو ایران یوکرین کے جہاز کو فضا میں میزائل سے تباہ کرنے کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت شروع ہوئی ہے مگر یہ بات چیت اتنی آسان نہیں ہو گی۔ایرانی افواج کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ سخت کشیدگی کے وقت ...

یوکرین کا ایران سے طیارہ حادثے پر بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان

امریکہ صدارتی انتخابات سے پہلے نئی سرد جنگ چاہتا ہے 'چین وجود - هفته 01 اگست 2020

برطانیہ میں چین کے سفیر کا کہنا ہے کہ امریکہ نومبر کے صدارتی انتخابات کی وجہ سے چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ شروع کرنا چاہتا ہے ۔برطانیہ میں چین کے سفیر لیو زیاؤمنگ کا لندن میں رپورٹرز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ صدارتی انتخابات سے پہلے امریکہ' 'قربانی کا بکرا'' ڈھونڈ رہا ہے اس لیے وہ چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ چھیڑنا چاہتا ہے ۔'یہ چین نہیں جو جارح بنا ہوا ہے بلکہ دوسرا فریق ہے جو کہ چین کے خلاف سرد جنگ شروع کرنا چاہتا ہے ۔ اور ہمیں اس کا جواب دینا پڑ رہا ہے ۔چین کے سفیر کا کہنا...

امریکہ صدارتی انتخابات سے پہلے نئی سرد جنگ چاہتا ہے 'چین

ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا وجود - هفته 01 اگست 2020

سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں سام سنگ الیکٹرانکس کو پیچھے چھوڑ دینے کے بعد ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا ہے ۔ریسرچ فرم کینیلس کے اعداد و شمار کے مطابق ہواوے نے سام سنگ کی 53.7 ملین کے مقابلے میں 55.8 ملین ڈویوائسز فروخت کیں۔پچھلے سال دوسری سہ ماہی میںکمپنی کی بیرون ملک شپمنٹس میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی لیکن کمپنی نے چینی مارکیٹ پر اپنے تسلط کو بہتر بنایا ہے جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے میں تیز رفتار رہا ہے اور یہاں ہواوے اب 70 فیصد سے زائد اپنے ہینڈ ...

ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا

ایران میں شرح پیدائش میں کمی پر رہنما ء پریشان وجود - هفته 01 اگست 2020

1980 کی دہائی میں ایران میں شرحِ پیدائش غیر معمولی طور پر بلند تھا۔ حالیہ برسوں میں اس میں اتنی کمی واقع ہوئی کہ ملکی رہنماؤں نے اس پر پریشانی کا اظہار شروع کر دیا ہے ۔ 1979 کا ایران مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی آبادی کا ملک تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی شیعہ علماء اس کثیر آبادی کے تناظر میں اپنے ملک کو ایک طاقتور شیعہ ریاست خیال کرتے تھے جو خلیج فارس اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی اہل تھی۔اسلامی انقلاب کے کچھ ہی مہینوں بعد ایران کو سن 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ خ...

ایران میں شرح پیدائش میں کمی پر رہنما ء پریشان

امریکی معیشت کو 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا وجود - هفته 01 اگست 2020

امریکی معیشت کو سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا پہنچا ہے ، تجارتی ویب سائٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں امریکی معیشت 32 اعشاریہ 9 فیصد کے سالانہ اندازوں کے حساب سے سکڑی ہے ۔تجارتی ویب سائٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے امریکا کو معاشی کساد بازاری کا سامنا ہے ، وبا نے کاروباری مصروفیات کو بند کردیا اور شہریوں کو گھر بٹھا دیا ہے ۔ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ معیشت میں بہتری اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب کورونا کی وبا پر موثر طریقے سے قابو پایا جائے اور وائرس کی نئی لہر کو...

امریکی معیشت کو 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا

کورونا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت ناکام ہوگئی، امریکی ٹی وی وجود - بدھ 22 جولائی 2020

کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت کی ناکامی بے نقاب ہوگئی۔ امریکی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت وبا کے دوران اپنے شہریوں کے تحفظ کی بنیادی ذمے داری اٹھانے میں بھی ناکام رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد 10لاکھ کا ہندسہ چھو چکی ہے اور اس حوالے سے بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر آچکا ہے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں دس لاکھ شہریوں میں سے صرف نو ہزار، جبکہ ایک ہزار میں سے صرف نو افراد کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب بھارت می...

کورونا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت ناکام ہوگئی، امریکی ٹی وی

جسمانی طورپرفعال رہناہائی بلڈ پریشر جیسی بیماری سے بچنے میں مددگار، تحقیق وجود - بدھ 22 جولائی 2020

طبی جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع تحقیق میں فضائی آلودگی اور جسمانی سرگرمیوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں 91 فیصد افراد ایسے خطوں میں مقیم ہیں، جہاں فضائی آلودگی کی شرح عالمی ادارہ صحت کی گائیڈلائنز سے زیادہ ہے ۔ہانگ کانگ کے جوکی کلب اسکول آف پبلک ہیلتھ اینڈ پرائمری کیئر کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ شہری علاقوں میں چاردیواری سے باہر زیادہ وقت رہنے سے فضائی آلودگی میں رہنے کا امکان بڑھتا ہے ، جو صحت کے لیے نقصان دہ اثرات مرتب کرتا ہے ۔تحقیق میں بتا...

جسمانی طورپرفعال رہناہائی بلڈ پریشر جیسی بیماری سے بچنے میں مددگار، تحقیق

مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بدتر ہوگئی، ٹرمپ وجود - بدھ 22 جولائی 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بھی بدتر ہوگئی ہے ۔ جو بائیڈن کا جیتنا ملک کو دوزخ میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا، اس لیے ری پبلکنز امریکا کو دوزخ میں دھکیلنے کی کوششیں ناکام بنادیں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ نسل پرستی کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کو کچلنے کے لیے اہم شہروں میں قانون نافذ کرنیوالے اہلکار بھیجے جائیں گے ۔ پورٹ لینڈ اور اوریگن میں اہلکاروں کو بغیر وردی کے تعینات کیا جائے گا اور وہ سادہ گاڑیوں میں گشت کریں ...

مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بدتر ہوگئی، ٹرمپ

کورونا وائرس کی علامات 6 مختلف گروپس میں تقسیم کی جاسکتی ہیں، تحقیق وجود - پیر 20 جولائی 2020

ماہرین طب نے پہلی بار دریافت کیا ہے کہ نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی علامات 6 مختلف گروپس میں تقسیم کی جاسکتی ہیں، جس سے یہ پیشگوئی کرنے مدد مل سکے گی کہ کسی مریض کو وینٹی لیٹر یا سانس لینے کے لیے کسی سپورٹ کی ضرورت تو نہیں پڑے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ اس دریافت سے طبی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو کئی دن پہلے اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ کن مریضوں کو ہسپتال کی نگہداشت اور ن...

کورونا وائرس کی علامات 6 مختلف گروپس میں تقسیم کی جاسکتی ہیں، تحقیق

مذاکراتی ٹیم میں رد و بدل کا مقصد ٹیم پر کنٹرول کو مضبوط بناناہے ،طالبان وجود - پیر 20 جولائی 2020

افغان طالبان کی طرف سے اپنی مذاکراتی ٹیم میں رد و بدل کا مقصد اس ٹیم پر کنٹرول کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ٹیم مستقبل میں افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار کی گئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے کمانڈر ملا ہیبت اللہ اخونذادہ نے اپنے چار قریبی ساتھیوں کو اس ٹیم میں شامل کر لیا ہے ۔ یہ مذاکراتی عمل مارچ میں شروع ہونا تھا تاہم افغانستان میں تشدد میں اضافے کی وجہ سے یہ مذاکرات تاخیر کا شکار ہو گئے ۔ ایک اور پیش رفت میں ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب...

مذاکراتی ٹیم میں رد و بدل کا مقصد ٹیم پر کنٹرول کو مضبوط بناناہے ،طالبان