وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

دلی ہوئی ہے ویراں!

منگل 10 مارچ 2020 دلی ہوئی ہے ویراں!

وہی کہہ سکتا تھا، بخدا وہی کہہ سکتا تھا جو شعر کو آنسو اور مصرعے کو خون کی بوندوں کی طرح برتتا۔ سوز میں ڈھلے اور گداز سے بھرے نغمے چھیڑنے والا درد وغم کا شاعر خدائے سخن میر تقی میر نے دلّی کو ’’اجڑا دیار‘‘ کہا تھا۔ دلّی ہائے دلّی!!!

دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
ہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کے

میر نے دلّی کو’’ اجڑا دیار‘‘ کہا، تو کب کسی کے وہم وگمان میں تھا کہ یہ بستی بستے بستے اجڑتی اور اجڑتے اجڑتے بستی رہی گی۔ یہاں امکانات کی بہار اور اندیشوں کا موسم خزاں یکساں طاری رہے گا۔ یہاں المیے ، المیوں پر آنسو بہائیں گے،موت زندگی کو اور زندگی موت کو ترسے گی۔کبھی میر کا اجڑا دیار، دلّی دل والوں کی بستی تھی اور دل دل میںبستی تھی ۔ سترہویں صدی کے وسط تک چھ بار اجڑنے والا دلّی اکبر کے پوتے کے ہاتھوں ساتویں بار بسی تو اُسی کے نام سے شاہجہاں آباد کہلائی۔ انگریزوں نے 1857ء کو اس کا حسن گہنا دیا۔ تہذیب کو قتل کردیا۔شرفاء کے خون سے اسے غسل دیا۔بوڑھے اور بے دم بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلاوطن کردیا۔ پھر بھی یہ شہر اپنی جمنی تہذیب کی رونقوں سے آباد ہوا۔ اپنی عظمت رفتہ کی بازیافت میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے کھنڈر زندگی جینے لگے۔زوال کی آندھی سے خود کو بکھرتے دیکھنے کا عادی یہ شہر عروج کے بادِ نسیم میں خود کو سنوارنے کی حیرت انگیز صلاحیت دکھاتا آیا ہے۔

 

خاکسار اُن خوش نصیبوں میں شامل ہیں جس نے دلی کی تہذیب کا جاہ وجلال اور جمال وکمال مجسم حکیم محمد سعید کی شکل میں دیکھا ہے۔ دلی کے کو چوں کو اوراقِ مصور کہا جاتا۔ یہی اوراق حکیم سعید شہید کی صبح دم بیداریوں ، سرشام مہکتی شاموں اور عطر بیز جھٹ پٹوں کے مشاہدوں میںدیکھے اور پڑھے جاسکتے تھے۔ اُن کی شہادت پر ہم نے لکھا تھا: کراچی میںدلّی کا قتل ہوگیا۔ ڈپٹی نذیر کے پوتے شاہد احمد دہلوی تو دلی کے سقے، کنجڑے، قصائی، ٹھٹیرے،قلعی گر، بڑھئی، کھٹ بنے، بزاز،منیہار، کو روتے تھے،اُن کے آوازے یاد کرتے ، گلی گلی سودا بیچنے کی دلکش آوازیں اُنہیں کراچی میں نہ بھولتی تھیں۔ کہتے: دلی والے مٹھائی بیچتے تو اس طرح بیچتے تھے:’’ریشم کے جال میںہلایا، نکتیاں بناقدرت کا اودا بناجلیبا کھالو‘‘۔بیربیچنے والے کی آواز تو سنیں: گھونگھٹ والی نے توڑے ہیں بیر، لگ گیا کانٹا بکھر گئے بیر۔ایک تو دلّی کی بولی ٹھولی، پھر وہ مشہور چٹورپن، اُس پر سودا بیچنے والوں کی محاوروں کے ساتھ چٹخارے دار آوازیں۔ ہر کوئی ادبدا جاتا، جی للچاتا۔شاہد احمد دہلوی کی نثر اس ذائقے سے بھی بڑھ کر تھی۔اُنہوں نے اپنے پڑھنے والوں کو خوانی کا چٹور پن دیا۔ دیکھیے !کبابی کو کبابی اور حلوائی کو حلوائی والا تو سب کہتے ہیں مگر دلی والے بولی ٹھولی میں کچھ ’’وکھڑی ٹائپ‘‘ کے تھے۔ وہاں گھنٹے والا حلوائی اور چڑیا والا کبابی تھا، شاہ گنج کا نواب قلفی والا،فراش خانے کا شابو بھٹیارااور چاندنی چوک کا گنجا نہاری والا کہلاتا۔ بولی لطف دیتی، کھانے ذائقہ دیتے،دلی والے مزے کرتے۔ تاریخ کا جمال اور تہذیب کا وہ نخرہ بن گئے۔ اُنہیں اس کا حق تھا کہ زندگی کو وہ موت سے بچاتے آئے تھے۔ مگر اب دلّی میں فصل کے میوے اور پھول پھل بیچنے والوں کی آوازیں نہیں ، بی جے پی کے غنڈوں کی دھمکیاں گونجتی ہیں۔ تقسیم ِہند تک اپنے معاشرتی اور تہذیبی بناؤ سنگھار کے ساتھ شہروں کی دلہن بن کر اپنی چھب دکھانے والی دلی اجڑی تو کئی بار تھی، مگر اب موذی مودی کے بھارت نے اس کا سہاگ بھی لوٹ لیا ۔ یہ شہروں کی دلہن نہیں رہی، بیوہ بن چکی ہے۔ اس کی مانگ کا سیندور بکھر گیا۔

افسوس دلی کی اس آگ کو فسادات یا پھر فرقہ وارانہ لڑائی قرار دیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کی منظم نسل کشی کو فسادات یا فرقہ وارانہ لڑائی قرار دینا بجائے خود ایک تشدد ہے۔ دلی کبھی فرقہ وارانہ جنگ کا عنوان نہیں رہی۔ یہاں سب خوش باش تھے۔ سب کی اپنی اپنی شناخت تھی۔ مگر کسی کو ،کسی سے پریشانی لاحق نہ تھی۔ دلی کا یہ رنگ تیتر پالنے کا شوق رکھنے والے تمام فرقوں کے لوگوں سے ظاہرہوتا۔ تیتر کی آواز تو لگی بندھی تھی، مگر دودھ بیچنے والے کہتے کہ تیتر کہتا ہے:شیر دارم شکرک‘‘۔بنیا کہتا: نون تیل ادرک‘‘۔مذہبی لوگوں کا خیال تھا:سبحان تیری قدرت‘‘۔ہندو کہتا: سیتا رام دسرتھ‘‘۔ تیتر کی آواز پر سب خوش ہوتے۔ اور کسی کو کسی کی خوشی نہ کَھلتی تھی۔ دلی کو فرقہ وارانہ آگ میں جھلسانے والے بھی جانتے ہیں کہ اس کا یہ رنگ کبھی رہا ہی نہیں۔اسی لیے دلّی کو اجاڑنے کے لیے بی جے پی کے غنڈوں نے بھارے کے دہشت گرد باہر سے بلوائے جو دلی کو لوٹ کر لے گئے۔ اس کی مانگ کا سیندور اورتہذیبی بانکپن بھی۔

دلی ہوئی ہے ویراںسونے کھنڈر پڑے ہیں
ویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں

ستم یہ نہیں ہوا کہ دلی کو مودی اور اس کے غنڈوں نے لوٹ لیا۔ ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ سیاسی بازیگروں نے دلی کی آگ بھڑکائی اور اسے گھناؤنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ مشرقی دہلی کی آبادیوں کے مناظر دل دہلادینے والے تھے۔ مصطفی آباد، کھجوری، چاند باغ، کراول نگر ، شیووہاراور موج پور کی ویڈیوز جس نے بھی دیکھیں اپنے کلیجے کو تھام لیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دشمن فوج نے یہاں بے رحمی سے بمباری کی ہو۔ بات تو یہ ہے کہ دشمن فوج نے ہی دلی کو اجاڑا ہے۔ مگر دلی کے دل والے مسلمان ابھی بول نہیں رہے، بس بھوگ رہے ہیں۔ کبھی انہیںیقین آئے گا کہ پاکستان کیوں ضروری تھا؟ قائد اعظم کی نگاہِ دور بین نے آئندہ کو کس طرح چلتا ہوا دیکھا تھا؟علامہ اقبالؒ کیوں اس مقصد کی آبیاری کے لیے گھلے جارہے تھے؟مودی کے غنڈوں نے ہندو تعصب کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے ہوئے یہ ہدف سامنے رکھاکہ مسلمانوں کے جینے کے اسباب کو فنا کیا جائے۔ ان کا جذباتی شیرازہ بکھیر دیا جائے۔ چنانچہ ہندو تعصب کے شکار درندوں نے مسلمانوں کے کاروبار ی مراکز اور مساجد کو خصوصی ہدف بنایا۔ آج بھی مسلمان اپنے مال واسباب کو راکھ کا ڈھیڑ دیکھ کر زارو قطار رو رہے ہیں۔دلی کے حالِ زار کا مشاہدہ کرنے والے کہتے ہیں کہ ان متاثرین میں اکثریت ایسے بدنصیبوں کی شامل ہیں جو دوبارہ اپنے پاؤں پر کبھی کھڑے نہ ہو سکیں گے۔

یہ دلی نہیں بھارت بھر کے مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ آج بھی اپنے ملک میں اجنبی سمجھے جارہے ہیں۔ ان کے مال واسباب کو ہمیشہ دلی اور گجرات جیسے فسادات کا خدشہ رہے گا۔ مودی نے دلی کے فسادکے لیے جو نقشہ بنایا اور اس میںجو کاریگری کی، اس پر اگر غور نہ کیا گیا تو وہ ہمیشہ ظلم کے شکار ہوتے رہیں گے۔ دلی کوئی دوردراز کا ایسا پسماندہ علاقہ نہیں تھا جو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہوتا۔ مودی نے اپنی غنڈہ گردی کے لیے دلی کو تب تختۂ مشق پر مشقِ ستم بنایا جب یہاں دنیا کا سب سے زیادہ طاقت ور سمجھا جانے والا امریکا کا صدر ٹرمپ موجود تھا۔ اتنا ہی نہیںجب دلی میں مسلمانوں کو ہندو لوٹ رہے تھے، تو امریکی صدر بھی اُس وقت اُسی دلی میں تھا۔ دنیا غفلت کی اسی کل سے چلتی ہے۔ یہاں رہنے کے لیے اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ مسلمان اب بھارت میں ایک مرتبہ پھر تقسیم ِ ہند سے پہلے کے حالات میں چلے گئے ہیں۔ اب اُن کے لیے حالات مسلسل ناساز ہوتے جائیںگے۔ گجرات اور دلی بار بار کہیںنہ کہیں دہرایا جاتا رہے گا۔ دلی کی اس کٹا چھنی اور آپا دھاپی میں عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال کا بھی غازہ اُتر گیا۔ شاہین باغ کو انتخابات سے پہلے بی جے پی نے اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہا تھا۔ مگر مسلمانوں نے اس کا فائدہ عام آدمی پارٹی کو پہنچایا ۔ اروند کیجریوال نے کامیابی کے بعد بی جے پی کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس دوران میں مسلمانوں کے خلاف ہندو آگ بھڑکائی گئی تو اروند کیجریوال نے خاموشی کی چادر اوڑھ لی۔ تین دن تک وہ اور مودی چپ سادھے رہے۔ پھر دونوں نے ایک ہی دن اپنا ردِ عمل دیا۔مودی کی مرکزی حکومت نے دلی میں برپا بربریت اور دردندگی کے اثرات کم کرنے کے لیے قربانی کے بکرے تلاشنے شروع کیے تو اُن کی نظر عام آدمی پارٹی کے میونسپل کونسلر طاہر حسین پر جاٹکی۔ تب اروند کیجریوال اپنے قد سے بھی چھوٹے ثابت ہوئے۔ دہلی پولیس کے بچھائے ہوئے اس سفاکانہ جال سے اپنے حامی کو نکالنے کے بجائے اُنہوں نے امیت شاہ کی زبان بولی اور کہا کہ عام آدمی پارٹی کا کوئی آدمی فسادات میں ملوث ہے تو اسے دگنی سزا دی جائے گی۔ کیا اروند کیجریوال یہی لب ولہجہ ایک ہندو کے لیے بھی استعمال کرپاتے؟بھارت میں دو قومی نظریہ انگڑائی لے کر دوبارہ بیدا ر ہوگیا ہے۔ کوئی اسے کتنا ہی ان دیکھا کرے، یہ اُبھر کر خود کو منوائے گا۔ قائدا عظم ایک ایسے رہنما ہیں جن کا راستا ایک منزل بن کر بھارت کے مسلمانوں کو پکارے گا۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ مودی کشمیر کو بھارت بنانا چاہتا تھا۔ مگر اُس کی وحشت اور بربریت نے پورے بھارت کو کشمیر بنا دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت وجود - بدھ 08 اپریل 2020

سعودی عرب میں کورونا وائرس کی باعث وزارت افرادی قوت نے اعلان کیا ہے کہ نجی ادارے غیر ملکیوں کو بلا تنخواہ چھٹی پر بھیج سکتے ہیں تاہم یہ ادارے ملازمین سے معاہدے ختم کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے ۔ سعودی حکومت مہلک وائرس کورونا کے باعث پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کر رہی ہے ۔وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے جاری بیان میں کہا کہ درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے نجی ادارے ملازمین کے اوقات کار اور تنخواہوں میں کمی اور انہیں بلاتنخواہ چھٹی پر بھیجنے یا ہنگامی چھٹی د...

سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد وجود - بدھ 08 اپریل 2020

دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کرگئی ، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ سے بھی زائد ہے ۔عالمی ادارہ صحت اور متعدد عالمی اداروں کی جانب سے بنائے گئے کورونا وائرس کے عالمی آن لائن میپ کے مطابق 7 اپریل کی شام تک کورونا وائرس سے 75 ہزار 973 ہلاکتیں ہوچکی ہیں ، وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 60 ہزار رہی۔عالمی میپ کے مطابق دنیا بھر میں بیمار ہونے والے مریضوں میں سے 7 اپریل کی شام تک تک 2 لاکھ 91 ہزار 991 افراد صحت یاب بھی ہوچکے تھے ، ج...

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے وجود - بدھ 08 اپریل 2020

جزیرہ نما یورپی ملک آئرلینڈ کے وزیر اعظم 41 سالہ لوئے ورادکر نے ملک میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ اور وہاں پر ڈاکٹرز کی قلت کے باعث بطور ڈاکٹر ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کردیں۔لوئے ورادکر سیاست میں متحرک ہونے سے قبل بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دیتے تھے تاہم 2013 میں انہوں نے سیاست میں انٹری دی تو انہوں نے خود کو ڈاکٹری کے پیشے سے الگ کرلیا۔سیاست میں آتے ہی انہیں کامیابی ملی اور چند ہی سال میں وہ ملک کے وزیر دفاع بھی بن گئے ، اس سے قبل ہی انہوں نے آئرلینڈ کی سیاست اور حکومتی ...

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم وجود - بدھ 08 اپریل 2020

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے بتایا ہے کہ کوورنا وائرس کوویڈ 19 کے مرض میں مبتلا برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حالت اب بہتر ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بورس جانسن بغیر کسی آلہ کی مدد سے سانس لے رہے ہیں اور ان میں نمونیا کی تشخیص نہیں ہوئی ہے ۔ گزشتہ دنوں کورونا وائرس سے متاثر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو حالت خراب ہونے پر آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا تھا۔ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم بورس جانسن کو ڈاکٹروں کی ہدایات کے بعد ہس...

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی وجود - پیر 06 اپریل 2020

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی، امریکا میں عالمی وبا سے 9 ہزار 633 افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دنیا کے 208 ممالک اور علاقے کورونا کی زد میں آگئے ۔ امریکا بدستور دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں مسلسل پانچویں روز ایک ہزار سے زائد اموات ریکارڈ ہو رہی ہیں، 24 گھنٹوں میں 1200 ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی تعداد 9 ہزار 633 ہوگئی۔ 3 لاکھ 36 ہزار 830 افراد کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔نیویارک کے بعد نیو جرسی اور نیو آرلین...

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی

لاک ڈائون میں خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ،سیکرٹری جنرل یو این وجود - پیر 06 اپریل 2020

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لاک ڈائون کے دوران خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے اپیل کی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک گھروں میں امن سے رہیں۔انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن صرف جنگ کی عدم موجودگی نہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ لاک ڈائون کے دوران خواتین کو گھروں میں تشدد کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کے دوران خواتین کا تحفظ اپنے گھروں م...

لاک ڈائون میں خواتین کا تحفظ اپنے گھروں میں یقینی بنانا چاہئے ،سیکرٹری جنرل یو این

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن لندن کے مقامی ہسپتا ل میں منتقل وجود - پیر 06 اپریل 2020

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو لندن کے ایک مقامی ہسپتا ل میں منتقل کردیا گیا کیونکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے دس دن بعد بھی ان میں کورونا وائرس کی علامات مسلسل موجود تھیں اور ان کی طبیعت بدستور خراب تھی۔ٹین ڈائوننگ سٹریٹ کے ترجمان نے اس منتقلی کو احتیاطی قدم قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بورس جانسن کو ڈاکٹروں کے مشورے پر مزید ٹیسٹ کیلئے ہسپتا ل منتقل کیا گیا ۔واضح رہے کہ 55 سالہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن میں 27 مارچ کے روز کورونا وائرس کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد وہ ازخود ...

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن لندن کے مقامی ہسپتا ل میں منتقل

سعودی وزارتِ انصاف کا کورونا سے نمٹنے کے لیے امید افزا پیغام وجود - پیر 06 اپریل 2020

سعودی عرب کی وزارتِ انصاف نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ کے تناظر میں ایک حوصلہ افزا ویڈیو پیغام جاری کیا ہے اور مقامی کمیونٹی کو ایک روشن مستقبل کی نوید دی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارتِ انصاف نے ٹویٹر پر یہ ویڈیو پیغام جاری کیا ۔اس میں کہا گیاکہ لوگ ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے سے ملیں گے ،ایک دوسرے سے مصافحے کریں گے ،اسکول دوبارہ کھلیں گے ،نمازیں ادا کی جائیں گی، اسٹیڈیمز دوبارہ شائقین سے بھریں گے ،طیارے فضائوں میں اڑانیں بھریں گے لیکن تب تک ہمیں کرونا وائرس کے خلاف لڑائی جاری رکھ...

سعودی وزارتِ انصاف کا کورونا سے نمٹنے کے لیے امید افزا پیغام

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے ،سعودی وزارت صحت وجود - پیر 06 اپریل 2020

سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان محمد العبد العالی نے بتایا ہے کہ مملکت میں کرونا کے مزید 140 کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد کل متاثرہ افراد کی تعداد 2179 ہوگئی ہے ۔ ان میں 1730 کو معمولی نوعیت کی بیماری ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق کرونا کے حوالے سے روزانہ کی بریفنگ کے دوران وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اب تک کرونا سے 29 افراد ہلاک اور 420 صحت یاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کرونا سے متعلق افواہوں پرنہیں بلکہ مصدقہ سرکاری معلومات پر انحصار کرتے ہیں۔ سعودی وزارت...

میت کو غسل دینے سے کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے ،سعودی وزارت صحت

تیسری طاقت نے ایران ، امریکا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ،رکن پارلیمنٹ وجود - پیر 06 اپریل 2020

ایران کے ایک سرکردہ سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ حشمت اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک تیسرے فریق کی وجہ سے غیرمعمولی طورپر جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی رکن پارلیمنٹ حشمت اللہ فلاحت پیشہ ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن بھی ہیں کا کہناتھا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو یہ دونوں ملکوں کے ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ اس کا اصل سبب ایک تیسرا فریق ہے ۔حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی کرانے...

تیسری طاقت نے ایران ، امریکا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ،رکن پارلیمنٹ

وبا جاری رہی تو رمضان میں بھی مساجد بند رہیں گی ، مصری وزیر اوقاف وجود - پیر 06 اپریل 2020

مصری وزیر برائے اوقاف نے اعلان کیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کی وباء اسی طرح بدستورموجود رہی تو رمضان المبارک کے دوران بھی مساجد بند کردی جائیں گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مصری وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد مختار نے ایک بیان میں کہا کہ وباء کے خاتمے سے پہلے مساجد کھولنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ مساجد وبا کے ختم ہونے کے بعد ہی کھلیں گی۔مصری وزیر برائے اوقاف نے اس بات پر زور دیا کہ اگر رمضان المبارک میں یہ وائرس موجود رہتا ہے تو ہم اپنے آپ کو محفوظ رکھنے اور خدا کے قانون کی پاسداری کے لیے مساجد...

وبا جاری رہی تو رمضان میں بھی مساجد بند رہیں گی ، مصری وزیر اوقاف

مصر میں بڑی تبدیلی کا یقین،اردوان کے دفتر کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو افشا وجود - پیر 06 اپریل 2020

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے دفتر کے ایک سینئر ذمہ دار کی افشا ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ ذمے دار نے سابق مصری صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد مصر میں انارکی پر شرط باندھی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مذکورہ آڈیو ریکارڈنگ نارڈیک مانیٹر ویب سائٹ نے جاری کی ہے ۔ ویب سائٹ کے مطابق اردوان کے دفتر کے سربراہ حسن دوآن نے یہ شرط باندھی تھی کہ محمد مرسی کی معزولی کے تین سے پانچ سال بعد الاخوان المسلمین تنظیم کی بڑے پیمانے پر واپسی ہو گی۔ مرسی کو عوامی احتجاج کے ن...

مصر میں بڑی تبدیلی کا یقین،اردوان کے دفتر کے سربراہ کی ٹیلی فونک گفتگو افشا