... loading ...
امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 19 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوگئے ۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی تقریب میں افغان طالبان کی جانب سے سینئر رہنماء ملا عبدالغنی برادر اور امریکاکی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے معاہدے پر دستخط کیے ، طالبان کا وفد روایتی لباس شلوار قمیص میں ملبوس ہوکر اپنے پرچم لیے معاہدے کی دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچا اور دعا کی۔ معاہدے پر افغان طالبان رہنما ملاعبدالغنی برادر اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خیل زاد نے دستخط کیے ۔ اس موقع پر اللہ اکبر کے نعروں سے ہال گونج اٹھا۔تقریب میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے ،معاہدے پر دستخط کے پیِشِ نظر طالبان کا 31 رکنی وفد بھی قطر کے دارالحکومت میں موجود تھا،دلچسپ بات یہ کہ طالبان کی قید میں 3 سال رہنے والے آسٹریلین یونیورسٹی کے پروفیسر ٹموتھی ویکس بھی معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے دوحہ میں موجود تھے ۔امریکا اور افغان حکومت کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق اگر طالبان معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائیں تو امریکا اور اس کے اتحادی آئندہ 14 ماہ کے اندر اپنی تمام افواج افغانستان سے واپس بلا لیں گے ۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ آئندہ 135 دن کے اندر 8 ہزار 600 غیر ملکی فوجیوں کا انخلا ہوگا جبکہ آئندہ 14 ماہ کے اندر افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کی واپسی مکمل ہوجائے گی۔اعلامیے کے مطابق طالبان انٹرا افغان مذاکرات کے تناظر میں سینکڑوں قیدیوں کا تبادلہ کریں گے ۔امریکا طالبان معاہدے کے مطابق افغانستان میں القاعدہ اور داعش سمیت دیگر تنظیموں کے نیٹ ورک پر پابندی ہوگی، دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھرتیاں کرنے اور فنڈز اکٹھا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ علاوۃ ازیں فرانسیسی میڈیا رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا اور طالبان نے اتفاق کیا ہے کہ ‘اعتماد سازی’ کے لیے ہزاروں قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا۔معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ’10 مارچ تک طالبان کے تقریبا 5 ہزار اور افغان فورسز کے ایک ہزار قیدی رہا کیے جائیں گے ۔’کابل حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز بھی 10 مارچ سے ہوگا۔تاریخی معاہدے کی دوحہ میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن ثانی نے کہا کہ دوحہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا فریقین سمیت عالمی برداری کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ قطر کی حکومت نے معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کیا جس سے افغانستان میں 19 سالہ جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدہ مرحلہ وار مذاکرات کے نتیجے میں ممکن ہوا جبکہ معاہدے کو حتمی شکل دینے پر تمام فریقین کا کردار قابل تعریف ہے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ آج امن کی فتح کا دن ہے ۔انہوں نے کہا کہ ‘امریکا تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے اپنی توجہ مرکوز کریں’۔امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ ‘تمام افغان امن اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کا حق رکھتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تمام طبقوں کی آواز سننے کے نتیجے میں ہی پائیدار استحکام ممکن ہے ۔مائیک پومپیو نے قدرے حتمی لہجے میں کہا کہ ‘تمام امور کے امریکا اور اس کے عوام کی سیکیورٹی لازمی ہے ‘۔ان کا کہنا تھا کہ امن کے بعد افغانستان کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔افغان طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالغنی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدہ افغانستان کی مجاہد قوم اور عالمی برداری کے لیے خوش آئند ہے ۔انہوں نے کہا کہ خود مختار سیاسی فورس(جماعت)درکار ہے جو خطے کے دیگر ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد رکھے ۔ملا عبدالغنی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغان قوم اسلامی نظام کے تحت ترقی کی بنیاد رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ‘تمام افغان دھڑوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ تمام اختلافات کو نظر انداز کر کے ایک مشترکہ اسلامی نظام تشکیل دیں جو ملک کی ترقی کا باعث بنے ‘۔افغان طالبان رہنما نے امن معاہدے میں درپیش رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور تشکر کا اظہار کیا۔انہوں نے چین، ازبکستان، روس، انڈونیشنا اور ناروے سمیت دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کی جنہیں نے افغان امن معاہدے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔۔قبل ازیں ممبر طالبان قطر آفس ملا شہاب الدین دلاور نے امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن زلمے خلیل زاد سے دوحہ کے مقامی ہوٹل میں ملاقات کی اور ہاتھ ملایا۔زلمے خلیل زاد نے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا جب کہ ملا شہاب کا کہنا تھا کہ آج بڑا تاریخی دن ہے ، معاہدے پر دستخط کے بعد تمام غیر ملکی فوجی افغانستان سے روانہ ہو جائیں گے ۔طالبان رہنما کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی فوجوں کے انخلا سے ملک میں امن آئے گا اور افغان عوام اس معاہدے سے بہت خوش ہیں۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اس امن معاہدے میں طالبان کی جانب سے افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دی گئی ہے جبکہ امریکی افواج کے بتدریج افغانستان سے انخلا کا عمل شروع ہوگا۔مذکورہ معاہدے کے نتیجے میں کابل حکومت اور طالبان میں بات چیت ہونے کی توقع ہے جو اگر کامیاب ہوئے تو افغان جنگ بالآخر اختتام پذیر ہوجائے گی۔یہ بات مدِ نظر رہے کہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایک ہفتے تک دونوں فریقین نے باہمی اعتماد سازی سے تشدد میں کمی کے سمجھوتے پر عمل کیا تھا۔خیال رہے کہ امریکا کے 12 سے 13 ہزار فوجی اس وقت افغانستان میں موجود ہیں جس میں معاہدے کے چند ماہ کے عرصے میں کمی کر کے 8 ہزار 600 کردی جائے گی جبکہ مزید کمی طالبان کی افغان حکومت سے روابط پر منحصر ہے جنہیں وہ کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں۔افغان امن معاہدے کے بعد دوسرا مرحلہ مارچ کے اوائل میں شروع ہوگا جس میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوں گے ،یہاں یہ واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور امریکی افواج کے انخلا کے لیے بات چیت کا سلسلہ تقریبا ڈیڑھ برس سے جاری تھا جس میں طالبان کے حملے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے باعث گزشتہ برس ستمبر میں تعطل آیا تھا تاہم مذاکرات دسمبر میں بحال ہوگئے تھے ۔ادھر فرانسیسی خبررساں میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان عوام پر نئے مستقبل سے فائدہ اٹھانے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے 18 سالہ تنازع ختم ہونے کا امکان ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان اور افغانستان کی حکومت ان وعدوں پر قائم رہتے ہیں تو ہمارے پاس افغانستان میں جنگ ختم کرنے اور اپنے فوجیوں کو گھر واپس لانے کا بہترین راستہ ہوگا۔علاوہ ازیں برطانوی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے طالبان رہنما اور پاکستان میں طالبان حکومت کے سابق سفارتکار ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا کہ طالبان کے لیے معاہدے کی شرائط سخت نہیں ہے سوائے اس کے کہ افغان تنازع سیاسی بات چیت کے ذریعے حل ہو،مزید برآں اس تاریخی موقع کے حوالے سے قطر میں مقیم پاکستانیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ امریکا اورافغان طالبان کے درمیان امن معاہدے سے خطے میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے وسطی ایشیا کے ساتھ ہمارے روابط بڑھیں گے ۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امن واستحکام سے پاکستان اورافغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے شاندار مواقع پیدا ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان کو کاسا1000منصوبے سے استفادہ کرنے اور ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔پاکستان کا واضح موقف ہے کہ افغان امن کا قیام افغان قیادت کے تحت خود افغانوں نے یقینی بنانا ہے اور یہ کہ افغان امن پاکستان کے قومی مفاد میں ہے ۔
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...
حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...