وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جو نام، وہی پہچان۔۔

جمعرات 13 فروری 2020 جو نام، وہی پہچان۔۔

دوستو،آپ کو سابق صدر پرویز مشرف کا نعرہ تو یاد ہوگا۔۔سب سے پہلے پاکستان۔۔ جی ہاں، یہ نعرہ تو انہوں نے اب لگایا لیکن ہمیں اپنے وطن سے بچپن سے ہی بہت پیار رہا اور آج بھی اس وطن سے کسی بھی محب الوطن سے زیادہ محبت کا دعوی کرتے ہیں۔۔اس کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔۔ چلیں پھر آج آپ کو وہ ’’وجوہات‘‘ بھی بتادیتے ہیں کہ آج کے بعد آپ کو بھی اپنے پاک وطن پر فخر ہوگا اور آپ بھی کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ۔۔جو نام ، وہی پہچان۔۔

ہم اپنے وطن سے محبت کیوں نہ کریں، اٹھاون اسلامی ممالک میں دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت بنا۔۔ ہمارا پیارا ملک دنیا کا چوتھا بڑا براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم رکھتا ہے۔۔ ہمارے پاس دنیا کی چوتھی بڑی فوجی قوت موجود ہے۔۔ائرکموڈور ایم ایم عالم نے ایک منٹ میں انڈیا کے پانچ جنگی جہاز مارگرائے تھے جن میں پہلے چار جہاز صرف تیس سیکنڈز میں گرائے، یہ ایسا عالمی ریکارڈ ہے جو پچپن سال گزرنے کے بعد بھی آج تک کوئی نہیں توڑ سکا۔۔ پاکستان کو اگلے گیارہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ، گیارہ ممالک جو بریکس کی فہرست میں شامل ہیں جو کہ اکیسویں صدی کی بڑی معیشت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔7. دنیا کی دوسری اور نویں بلند ترین پہاڑی چوٹیاں کے ٹو اور ننگا پربت پاکستان میں ہیں۔۔ پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑی آبادی والا ملک ہے۔۔ پاکستان مسلمان اکثریت کے اعتبار سے دوسرا بڑا ملک ہے۔۔۔ تربیلا ڈیم رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے وسیع اور دوسرا بڑا ڈیم ہے۔۔۔

ایدھی فاونڈیشن دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس نیٹ ورک چلاتی ہے۔۔ براعظم ایشیا کا سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن پاکستان میں واقع ہے۔۔ سائنسدانوں اور انجینیرزکے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا خطہ جی ہاں آپ کا پاکستان، آپ کی مٹی ہے۔۔ دنیا کی بہترین فضائی فورسز میں پاکستانی ماہر پائلٹس کا شمار ہوتا ہے۔۔ دنیا کی سب سے گہری سمندری بندرگاہ گوادر ہے۔۔ پوری دنیا کے تقریباً 50 فیصدفٹبالز پاکستان میں بنتے ہیں۔۔ پاکستان اور چین کو جوڑنے والی شاہراہ قراقرم دنیا کی سب سے بڑی ہموار بین الاقوامی سڑک ہے۔۔ دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان کھیوڑہ پاکستان میں ہے۔۔ دنیا کا بلند ترین پولو گراونڈ شندور پاکستان میں واقع ہے، جس کی بلندی 3700 میٹرہے۔۔ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے۔۔ دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑی سلسلے پاکستان میں ہیں۔۔ پاکستان میزائل ٹیکنالوجی دنیا کی سب سے بہترین میزائل ٹیکنالوجی میں سے ایک ہے، جب سے یہ ملک ایٹمی طاقت بنا ہے تب سے بہت سے میزائل بہت ہی کم وقت میں تیار کیے جا چکے ہیں۔۔ پاکستان دنیا کے بہترین جنگی جیٹ طیاروں کا صنعت کار ہے۔۔ پاکستان دنیا کا بڑا سرجیکل آلات برآمد کرنے والا ملک ہے۔۔ یورپین کاروباری انتظامیہ ادارے کی درجہ بندی کے مطابق 125 ممالک میں سے پاکستان چوتھا سب سے زیادہ ذہین لوگوں والا ملک ہے۔۔ تمام ممالک کے پرچموں میں پاکستان کا جھنڈا خوبصورتی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہے۔۔یہ ہے میرا وطن۔کبھی اس ملک کی برائیاں بیان کرنے سے فرصت ملے تو خوبیوں پہ بھی ایک نظر ڈال لینا۔۔

یہی نہیں میرے پیارے وطن کی مزید خوبیاں بھی سن لیجئے۔۔دنیا میں اس وقت دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ان میں سے ایک ملک ایسا بھی ہے۔ جو روس سے کم از کم دس گنا چھوٹا لیکن جس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے۔۔یہ ملک دنیا میں مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے ، خوبانی ، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے ، پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں ، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے ، آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں ، چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں ، گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں اور مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے۔ یہ ملک مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں 25 ویں نمبر پر ہے۔۔۔اس کی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ کی پیداوار سے زائد اور براعظم جنوبی امریکا کی پیداوار کے برابرہے۔۔۔یہ ملک دنیا میں صنعتی پیداوار کے لحاظ سے 55 نمبر پر ہے۔۔کوئلے کے ذخائر کے اعتبار سے چوتھے اور تانبے کے ذخائر کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر ہے۔سی این جی کے استعمال میں اول نمبر پر ہے۔۔۔اس ملک کے گیس کے ذخائر ایشیا میں چھٹے نمبر پر ہیں ۔۔لیکن سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ۔۔یہ ملک اس وقت بے ایمانوں، منافع خوروں، کرپٹ، عیاش، بدکرداروں، ایمان فروشوں، لٹیروں، دو نمبر سیاست دانوں کے نرغے میں ہے۔۔

ہمارا ایمان ہے،بلکہ ہر پاکستانی کا کامل ایمان ہے کہ یہ ملک اللہ نے دیا ہے وہی اس کی حفاظت بھی کرے گا۔۔ کہتے ہیں کہ جو چیز بھی ’’رمضان المبارک‘‘ میں بنتی ہے ،سب لوگ مزے لے لے کر کھاتے ہیں، ہمارا ملک بھی رمضان المبارک میں بناتھا، یہی وجہ ہے کہ جو بھی آتا ہے اسے کھانے کے درپے رہتا ہے۔۔مورکھ جب بھی اس ملک کی تاریخ لکھے گا تو یہاں کے قوم کی تعریفوں کے پل، اوورہیڈ برج اور موٹر وے باندھ دے گا۔۔مورکھ لکھے گا کہ ایک قوم ایسی بھی تھی جو یہ کہہ کر چائے پینے سے انکار کردیتی تھی کہ چائے پینے سے رنگ کالا ہوجاتا ہے۔۔مورکھ یہ بھی لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا کہ، ایک عظیم لیڈر تھا جب بھی وہ گھر سے انقلاب لکھتا تھا راستے میں لڑکی مل جاتی تھی اور وہ اس سے شادی کرکے گھر لوٹ جاتا تھا۔ پھر سردیاں بیوی کے ساتھ گزارتا تھا اور گرمیاں شیرْو کے ساتھ نتھیا گلی۔۔مورکھ یہ بھی ضرور لکھے گا کہ ،، ایک ایسا جدید دور بھی گزرا ہے جس میں ایک لبرل طبقہ آزادی کے نام پر صرف چائے کی پتی بیچنے کے لیے اپنی بچیوں کو نچاتا تھا،شاید وہ کسی ’’ترنگ‘‘ میں رہتا تھا۔مورکھ یہ بھی سوچے گا کہ، انڈے اور دہی والے شیمپو سے بال دھو کر، اسٹابری،اورنج اور مینگو والے صابن سے دو،دوبار غسل کرنے کے باوجود روزہ کیوں لگتا تھا،پھر ایک دن افطار کے بعدلیمن میکس سے برتن دھوتے ہوئے اس کی عقل ٹھکانے لگ گئی۔مورکھ آگے مزید لکھ سکتا ہے کہ ، ایک قوم ایسی بھی تھی جو موٹرسائیکل ہلاکر پٹرول کی مقدار کا اندازہ لگالیتی تھی، پھر اسی قوم کے نوجوان پٹرول ختم ہونے پر اسے لٹا کر سعودی عرب کے تیل کے کنوؤں سے ’’روحانی رابطہ‘‘ کرادیتے تھے جس کے بعد وہ اپنی موٹرسائیکل کسی قریبی پٹرول پمپ لے جانے کے قابل ہوجاتے تھے۔۔مورکھ یہ بھی لازمی لکھے گا کہ ،ایک قوم ایسی بھی تھی جو ناک سے سونگھ کر خربوزہ میٹھا ہونے کا باآسانی پتہ لگالیتی تھی۔۔اسی قوم کے جوان تربوز کو تھپکی لگاکراس کے لال ہونے کا اندازہ بھی کرلیتی تھی۔۔لیکن جدید سائنس اس قوم کی ان تمام ’’تھیوریز ‘‘ کے بارے میں پراسرار طور پر خاموش تھی۔۔


متعلقہ خبریں