وجود

... loading ...

وجود

مودی سرکار میں بھوک پیاس کی انتہا ،، بچہ کوبھوک مٹانے کا درد ناک واقعہ

جمعه 07 فروری 2020 مودی سرکار میں بھوک پیاس کی انتہا ،، بچہ کوبھوک مٹانے کا درد ناک واقعہ

بھارت میں مایوسی، بیتابی اور بھوک کا سامنا کرنے والی 31 برس کی خاتون پریما آخرکار ایک دن ایک مشکل نتیجے پر پہنچیں، انھوں نے اپنے بال بیچ دیے ،’میرا سات برس کا بچہ کلیاپن ایک دن سکول سے آیا اور مجھ سے کھانے کا پوچھا۔ پھر وہ بھوک کے مارے رونا شروع ہو گیا۔’یہ الفاظ ہیں بھارتی ریاست تامل ناڈو میں رہنے والی 31 برس کی پریما سیلوم کے ۔ ان کے پاس اپنے سات برس کے بچے کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا اور وہ بہت مایوس تھیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پریما نے کچھ پکایا نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس کچھ پکانے کے لیے تھا ہی نہیں۔مایوسی، بیتابی اور بھوک کا سامنا کرنے والی پریما آخرکار ایک دن ایک مشکل نتیجے پر پہنچ گئیں۔ ان کے اس فیصلے سے وہاں رہنے والی مقامی آبادی بھی حیران ہوئی۔’میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں تھا، مجھے اندر سے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔ میرا دل ٹوٹ گیا تھا، میں نے سوچا کہ اس زندگی کا کیا فائدہ جب میں اپنے بچوں کا پیٹ ہی نہیں بھر سکتی؟’پریما کے پاس بیچنے کے لیے زیور تھا اور نہ قیمتی اشیا۔ حالات اتنے برے تھے کہ ان کے پاس باورچی خانے میں برتن بھی نہیں تھے جنھیں وہ بیچ کر کھانے پینے کا سامان خرید لیتیں۔’میرے پاس دس روپے کا نوٹ بھی نہیں تھا۔ میرے پاس صرف پلاسٹک کی کچھ بالٹیاں تھیں’۔لیکن پھر پریما کو یہ احساس ہوا کہ ان کے پاس ایسا کچھ ہے جسے وہ فروخت کر سکتی ہیں۔’مجھے یاد آیا کہ ایک دکان ہے جو بال خریدتی ہے ۔ میں وہاں گئی اور 150 روپے میں اپنے سر کے پورے بال فروخت کر دیے ۔انسانی بالوں کا کاروبار دنیا بھر میں ہوتا ہے اور انڈیا اس شعبے میں ایک بہت بڑا برآمد کنندہ ہے ۔ جب بال بک جاتے ہیں تو انھیں آپس میں جوڑ کر نقلی بال یا وِگ اور ‘ہیر ایکسٹینشن’ یعنی کہ بالوں کو مصنوعی طریقے سے لمبا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔بہت سے ہندو عقیدت مند مندروں میں اپنے بالوں کو نذرانے کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ اس سے ان کی دعائیں قبول ہوں گی۔ ان بالوں کو مندروں سے خرید کر ڈیلر باہر ملکوں میں بیچتے ہیں۔پریما کو جو پیسے ملے اس سے ایک متوسط طبقے کے لیے بنائے گئے ہوٹل میں، ایک وقت کا کھانا ہی کھایا جا سکتا ہے ۔لیکن اپنے گاوں میں وہ اس سے بہت کچھ خرید سکتی ہیں۔ ‘میں نے پکے ہوئے چاولوں کے تین پیکٹ خریدے ۔ ایک پیکٹ 20 روپے کا تھا۔’انھوں نے اپنے بچوں کو کھانا کھلایا لیکن یہ صرف وقتی آرام تھا۔ انھیں پتہ تھا کہ وہ اپنا آخری طریقہ استعمال کرچکی ہیں اور اب ایک بار پھر بچوں کا پیٹ بھرنے کی پریشانی شروع ہوگئی۔اس واقعے سے قبل پریما بہت عرصے تک اپنے شوہر کے ساتھ اینٹوں کی بھٹی میں کام کرتی رہیں، اس سے دونوں میاں بیوی اتنا کما لیتے تھے کہ ان کا بمشکل گزارا ہو جاتا۔ان کے شوہر نے اپنی بھٹی لگانے کے لیے قرضہ لیا لیکن وہ ایسا کر نہیں پائے اور مایوس رہنے لگے ۔ ان کے پاس کبھی پیسے نہیں ہوتے تھے اور وہ ہر وقت پریشان رہتے ۔ کچھ عرصہ بعد ان سے رہا نہیں گیا اور انھوں نے خود کو آگ لگا کر مار ڈالا۔اپنے بالوں کو بیچنے کے بعد پریما کے پاس نہ تو کوئی اور راستہ تھا اور نہ ہی سہارا، انھوں نے بھی خاوند کے نقشِ قدم پر چلنے کا سوچا۔’میں دکان پر گئی اور میں نے ان سے کیڑے مارنے والی دوائی مانگی۔’لیکن انھیں پریشانی کی اس حالت میں دیکھ کر دکاندار نے وہاں سے جانے کو کہا۔وہ گھر آئیں اور انھیں کچھ اور سوجھا۔ انھوں نے کنیر کے پودے کو اکھاڑا اور اس کے بیج جمع کر کے اسے پیسنا شروع کردیا تاکہ وہ پیسٹ بنا سکیں۔خوش قسمتی سے ان کی بہن جو ان کی پڑوسن بھی ہیں آگئیں اور انھیں یہ زہریلا پیسٹ کھانے سے روک لیا۔پریما کہتی ہیں ان کے خاوند نے جو قرضہ لیا تھا اسے واپس کرنے کے لیے ان پر بہت دبا وتھا۔پریما اپنے شوہر کی موت کے بعد گھر کی واحد کفیل تھیں۔ وہ اپنے شوہر کی طرح اینٹوں کے بھٹے میں کام کرتی ہیں، ایک بہت سخت مزدوری کا کام ہے لیکن اس میں کمائی کھیتوں میں کام کرنے سے ملنے والے پیسوں سے زیادہ ہے ۔’مجھے اینٹوں کے کام سے دن کے 200 روپے مل جاتے ۔ یہ میرا گھر چلانے کے لیے کافی ہیں’۔وہ عموما اپنے بیٹوں کو کام پر اپنے ساتھ لے جاتی ہیں کیونکہ دونوں بچوں کی ابھی سکول جانے کی عمر نہیں۔ لیکن اپنے بال فروخت کرنے سے پہلے ، تین ماہ تک وہ بہت بیمار تھیں اور زیادہ کام کرنے کے قابل نہیں تھیں۔’میں وزنی اینٹیں نہیں اٹھا پاتی، مجھے بہت بخار ہوتا اور میں گھر میں ہی رہتی’۔پریما قرضوں کی ادائیگی وقت پر نہیں کر پارہی تھیں۔ قرض دار ان پر دبا وڈالنے لگے اور ان کی پریشانی میں اضافہ ہونے لگا۔وہ بلکل پڑھی لکھی نہیں تھیں تو انھیں پتہ نہیں تھا کہ حکومت نے ان جیسے لوگوں کے لیے مختلف سکیمیں متعارف کروائی ہوئی ہیں۔انڈیا کا بینکنگ سسٹم بہت پیچیدہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ غریب طبقے کے لوگوں کے لیے مناسب ریٹ پر قرضہ لینا اتنا آسان نہیں۔پریما اور ان کے خاوند نے مقامی قرض داروں اور ہمسائیوں سے پیسے لیے تھے ۔ لیکن اس طرح کے قرضوں میں سود زیادہ ہوتا ہے ۔کچھ ہی دن بعد جب پریما کے پاس کچھ نہیں بچا تھا ایک اجنبی نے ان کی مدد کی۔بالا مروگن نامی یہ شخص کہتے ہیں ‘میں نے پریما کے بارے میں اپنے دوست پربھو سے سنا۔ جو کہ اس علاقے میں اینٹوں کے بھٹے کے مالک تھے ۔’پریما کی تکلیفوں نے بالا کو اپنے خاندان کے مشکل ترین وقت کی یاد دلا دی۔ بالا کو پتہ تھا کہ کیسے غربت انسان کے اوسان خطا کردیتی ہے ۔’جب میں دس برس کا تھا تو ہمارے خاندان کے پاس کھانا ختم ہوگیا۔ میری ماں نے ہماری پرانی کتابیں اور اخبار بیچ کر کچھ چاول خریدے ۔’بالا کی ماں بھی مایوسی کی وجہ سے خود کو اور اپنے بچوں کو مارنے کا سوچ رہی تھیں۔ ‘مجھے یاد ہے کہ میری ماں نے سب کو ایک قطار میں کھڑا کیا اور زہر کی گولیاں کھائیں، اس کے بعد میری بہن کی باری آئی، جب میری بہن گولیاں نگلنے والی تھی تو میری ماں نے اسے روک لیا۔’بالا کی ماں نے آخری لمحے میں اپنا ارادہ تبدیل کردیا۔ ان کا خاندان بالا کی ماں کو ہسپتال لے گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچائی۔اس واقعے کے بعد بالا نے سالوں محنت کی اور غربت کے چنگل سے نکل کر اپنا ایک کمپیوٹر گرافکس سینٹر بنایا۔بالا نے پریما کو اپنی کہانی بتائی، اور یہ بھی بتایا کہ امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔اپنے دوست پربھو کے ساتھ مل کر انھوں نے پریما کے لیے کچھ کھانا خریدا۔ پھر بالا نے ساری کہانی فیس بک پر لکھ کر لگا دی۔’ایک دن کے اندر میرے پاس ایک لاکھ بیس ہزار عطیات کی شکل میں آئے ۔ جب میں نے پریما کو بتایا تو وہ بہت خوش ہوئیں اور مجھ سے کہا کہ یہ قرضے کا بڑا حصہ اتارنے کے لیے کافی ہے ۔’لیکن عطیات کا یہ سلسلہ پریما کے کہنے پر روک دیا گیا۔بالا کہتے ہیں کہ پریما نے کہا کہ وہ کام پر واپس جائیں گی اور باقی قرضہ خود واپس کریں گی۔ انھیں اب مختلف قرض داروں کو صرف سات سو روپے ماہانہ واپس کرنے ہیں۔پریما کے حالات دیکھ کر ضلعی حکام نے بھی مدد کی پیشکش کی ہے اور انھیں ایک دودھ کی دکان کھول کر دینے کا وعدہ کیا ہے ۔لیکن بدقسمتی سے پریما کی کہانی کوئی نئی نہیں۔ انڈیا کی معاشی ترقی کے باوجود لاکھوں لوگ کو ایک وقت کا کھانا تک نصیب نہیں ہوتا۔عالمی بینک کے مطابق انڈیا شدید غربت میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ نائیجیریا اس میں پہلے نمبر پر ہے ۔ اس زمرے میں وہ ملک آتے ہیں جہاں لوگ دن میں دو ڈالر سے کم کماتے ہیں۔پریما کا شمار غریب طبقے میں بھی سب سے نچلے حصے میں ہوتا ہے ۔پریما کہتی ہیں کہ انھیں اپنا سر منڈوا کر کوئی افسوس نہیں،بالا مروگن نے پریما کو اپنے تعاون اور مدد کی یقین دہانی کروائی ہے ۔’مجھے اب پتہ چلا کہ خود کو مارنے کا فیصلہ کتنا غلط تھا۔ مجھے یقین ہے کہ میں باقی قرضہ خود اتار دوں گی۔’وہ کہتی ہیں کہ اجنبی لوگوں کی مدد کے بعد وہ بہت جذباتی ہوگئی تھیں، لیکن انھوں نے اس مدد کو قبول کیا اور اس سے انھیں نئی زندگی ملی ہے ۔


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

سیدعاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا وفد کے ہمراہ تہران پہنچنے پر پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری ...

فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

اساتذہ اور والدین کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ امتحانی مرکز میں پیسوں کے عوض نقل کرائی جا رہی ہے نقل کی روک تھام کیلئیزیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی،شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،غلام حسین سوہو چیئرمین میٹرک بورڈغلام حسین سوہو نے پیسوں کے عوض نقل کی شکایت پر گورن...

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

9لاکھ 73ہزار 900میٹرک ٹن کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیاہے،مراد علی شاہ تمام اضلاع اپنے نظام کو فعال بنائیں،بلا تاخیر ہدف حاصل کریں، بریفنگ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم دے دیا۔ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق سید مراد علی شا...

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

افغان طالبان کی کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان میں داخل کرانے کی کوشش پاک فوج کی جوابی کارروائی پر افغانستان سے فائر کرنیوالی گن پوزیشن کو تباہ کردیا،سکیورٹی ذرائع افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید، 3شدید زخمی ہ...

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

3اور 14سال کے دو بچے شہید، اسرائیلی جنگی طیاروں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب چوک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد نشانہ بنے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں اسرائیل کے غزہ پٹی میں تازہ حملے...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

مضامین
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ

مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر