وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سید کام کرتا ہے!!

جمعه 07 فروری 2020 سید کام کرتا ہے!!

پاکستان میں 5؍ فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر منایا جارہا تھا، سامنے دہلی میں 8؍فروری کو ریاستی انتخابات ہونے ہیں!!
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا سے اپنے کان بند کرتے ہوئے ’’پانسہ ‘‘ پھینکا۔ مودی نے ’’لوک سبھا‘‘ (ایوان زیریں) سے خطاب کرتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک ٹرسٹ کی تشکیل کا اعلان کردیا۔ اس ٹرسٹ کے حوالے 67.77 ایکڑ اراضی کردی گئی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس 9؍ نومبر کو انصاف کا قتل کرتے ہوئے مسلمانوں کے تمام تاریخی دعووں اور حقائق کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی بھاجپائی ہٹ دھری کو قانونی غلاف دیا تھا۔ اور حکومت کو تین ماہ میں ایک ٹرسٹ کے ذریعے مندر کی تعمیر کا فیصلہ کیا تھا۔ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قراردیتے ہوئے جس ہندو اکثریت کی امنگوں کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے، اس میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے قتل میں سپریم کورٹ کو بھی مجرمانہ طور پر شریک کرچکا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے پھانسی کے مفصل فیصلے میں یہ تسلیم کیا تھا کہ افضل گورو پر عائد الزامات ثابت نہیں ہوسکے، مگر بھارتی عوام کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے اُنہیں پھانسی دی جارہی ہے۔ فیصلے کے اس منفرد محرک پر بھارت کی باضمیر دانش ور ارون دھتی رائے نے بھارتی جریدے ’’آؤٹ لک‘‘ میں 30؍ اکتوبر 2006ء کو اپنے ایک طویل مضمون میں انصاف کا خون کرنے والے اس نکتے پر خون کے آنسو بہائے تھے۔ کشمیری بھارت کو سات دہائیوں سے بھوگتے آئے ہیں، زیادہ جانتے ہیں۔ سری نگر میں احتجاج کے دوران ایک کشمیری نے ہندو مزاج اور بھارتی انصاف کے درمیان تال میل اور بھارتی جمہوریت کے مغالطے کو ایک پلے کارڈ

میں صرف سات لفظوں میں عریاں کردیاتھا
’’انصاف کے بغیر جمہوریت۔۔بھوتوں کی منڈلی ‘‘

یہ کوئی اور نہیں، ارون دھتی رائے ہی لکھ سکتی تھی کہ ’’بھارت دنیا کی سب سے بڑی بھوت منڈلی (demon-crazy)ہے‘‘۔ بدقسمتی سے اس بھوت منڈلی میں انصاف کا سب سے بڑا ادارہ بھی ہندو انتہا پسندی کو انصاف پر مقدم رکھتے ہوئے اجتماعی ضمیر کے نام پر بے انصافی کا اعلانیہ مرتکب ہے۔ چنانچہ سپریم کورٹ سے بابری مسجد کے معاملے پر بھی کوئی امید نہیں تھی۔ مودی ہو یا کوئی بھارتی ادارہ اپنے اپنے طریقے سے ایک ہی ہندوتوا ایجنڈے کے مقصد کو پورا کررہے ہیں۔ ان میں اختلاف حکمت عملی اور وقتی سیاسی مفادات کے تحت پیدا ہونے والے تقاضوں کا ہے ، ایجنڈے کا نہیں۔ یہ ایک مثال کافی ہوگی کہ جب سپریم کورٹ نے بابری مسجدکی ملکیت کا فیصلہ رام مندر کے حق میں دے دیا تو بی جے پی سے قبل کانگریس نے اس کا خیرمقدم کیا۔ فیصلے کے روز ہی کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے فیصلے کے حق میں ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا: عدالت نے ہماری آستھا(تشویش) کا لحاظ اور اعتماد برقرار رکھا ہے ۔ کانگریس رام مندر کے حق میں ہے‘‘ ۔ہندو ایجنڈے کے حوالے سے کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں۔ مگر مودی ہندو تعصب کو سیاسی حمایت میں مرتکز کرنے کے لیے کسی بھی حد سے گزرنے کو تیار رہتا ہے۔ چنانچہ وہ ہندوؤں کا پہلی ترجیح بن چکا ہے۔ ا س ضمن میں اُس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو دہلی کے انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا۔ اور یوں ہندو تعصب کو سیاسی حمایت میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں شہریت ترمیم بل اور دیگر حوالوں سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مذمت کی جارہی ہے ۔مگر مودی اس سب سے بے پروا ہو کر اپنے اہداف کی تکمیل میں لگا ہوا ہے۔ بھارت میں جاری شاہین باغ تحریک، مختلف ریاستوں میں بے چینی کی عمومی لہر، مقبوضہ کشمیر کا مکمل محاصرہ ہونے کے باوجود مودی کو کوئی چیز پریشان کیوں نہیں کررہی؟ وہ ان بڑے بحرانوں کے باوجود رام مندر کی تعمیر سے کیوں لو لگائے بیٹھا ہے؟ یہ سوال ہمارے کردار کی بھی وضاحت کرتا ہے۔

گاہے ہمارا دشمن ہی ہمارا سب سے بڑا اُستاد ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم زندگی کی جنگ میں سچے ہو، کردار کے کھرے اور نفاق سے پرے ہوں تو ہم اپنے دشمن سے بھی کچھ سبق سیکھ سکتے ہیں۔ نریندر مودی جیسا بدترین موذی گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد بھارت کا وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوا تو اس کا سبب صرف یہ تھا کہ اُس نے جن ’’ہندو مقاصد ‘‘کے ساتھ خود کو وابستہ کیا ، اُس کے ساتھ جڑا رہا ۔ وہ آج بھی اپنے طاقت کے مرکز کو دھیان میں رکھتا ہے، اُسے اس کے علاوہ کوئی پروا نہیں۔ اس حوالے سے اس کا کوئی یوٹرن نہیں، کوئی ذہنی تحفظات نہیں۔ اس کے برعکس ہم یوٹرن کو سیاسی بالغ نظری سمجھتے ہیں۔ گفتار کو کردار سمجھے بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے معاملے پر خود کو سفیر پھر وکیل باور کرایا۔ مگر آج تک وہ اس پر سیاسی بیانات داغنے کے علاوہ ایک عملی قدم بھی نہیں اُٹھاسکے۔ عملاً ہم اپنے الفاظ کے خود مجرم بن چکے ہیں۔ مودی سرکار نے گزشتہ سال 5؍اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ضامن بھارتی آئین کی دفعہ 370 اے کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر دیا تھا، جب سے آج تک وادی ایک قید خانے میں تبدیل ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ پانچ ماہ گزرنے کے باوجود تاحال ہم دنیا کو یہ باور نہیں کراسکے کہ دنیا کے لیے ہماری تمام تر ذمہ داریاں دنیا کی کشمیر کے لیے ذمہ داری سے منسلک ہے۔ یہ عمل کی دنیا ہے، جس میں صرف مردانِ کار ہی باقی رہتے ہیں۔ الفاظ بھاپ بن کر اڑجاتے ہیں۔ شہرت حادثہ کی طرح ہوتی ہے۔ صرف کردار کو دوام ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ شہرت اور الفاظ میں تو ہماری قیادتوں کا مقابلہ کسی سے نہیں مگر کردار میں ہم اپنے دشمن کے مقابلے پر کہیں نظر بھی نہیں آتے۔ وزیراعظم عمران خان کے کردار کا جائزہ 5؍اگست کے بھارتی اقدام سے لیا جائے تو صرف الفاظ کی ست رنگی کے علاوہ دور دور تک کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ وزیراعظم عمران خان نے تازہ دکھ آزاد کشمیر کی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے پہنچایا۔ اُنہوں نے کہا:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے بعدمسئلہ کشمیرموثر اندازمیں نہ اٹھاسکے ، دھرنے کے باعث مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹ گئی‘‘۔وزیراعظم اپنی حکومت کی ہڑبونگ اور عمل کی تہی دامنی کے لیے عذر تراشنے اور جواز پیدا کرنے کی اُسی روش پر گامزن ہیں جس پر اُن کے پیش رو سیاست دان رہے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی حریفوں کے مقابل اپنے سیاسی حریفوں جیسی ہی عادتوں کے شکار ہوتے جارہے ہیں۔ عمران خان تبدیلی کیا لاتے، وہ تو خود تبدیل ہوکر اپنے حریفوں جیسے دکھائی دینے لگے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے یہ تک کہا کہ آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما اور حریت کانفرنس کے نمائندگان پر مبنی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو مقدمہ کشمیر کو موثر انداز میں اجاگر کرنے کیلئے سفارشات پیش کرے۔ یقین نہیں آتا کہ مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کے پانچ ماہ بعد وزیراعظم ابھی سفارشات مانگ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کیا ہمارے پاس کوئی حکمت عملی ہے؟سوال یہ ہے کہ کیا ہم الفاظ کے بازیگر عمل کی کوئی دنیا رکھتے ہیں، کیا ہم کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں؟ کیا عمل کی دنیا کے قائدین کے تیور یہ ہوتے ہیں؟ اکبر الہ آبادی بے طرح یاد آتے ہیں۔ جنہوں نے شعری دنیا میں ایک بے مثال طنز اور ظرافت کے ساتھ باکمال فکر کا ایک گہرا نقش چھوڑا۔ فکری طور پر سرسید احمد خان کے سب سے بڑے ناقد ہوتے تھے، مگر اُن کے متعلق کمال کا اعتراف کیا

ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے
نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں