وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

طعنے طعنے پر لکھا ہے۔۔

جمعه 07 فروری 2020 طعنے طعنے پر لکھا ہے۔۔

دوستو، ایک مشہور مثل ہے جسے بعد میں ایک چائے کی پتی والی کمپنی نے اشتہار میں شامل کرلیاتھا کہ۔۔دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والے کا نام۔۔ چائے کی کمپنی نے کھانے والے نام کو پینے والے نام میں تبدیل کردیاتھا۔۔لیکن باباجی نے اس میں مزید تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ۔۔ طعنے طعنے پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام۔۔ہم بھی باباجی سے سوفیصد اتفاق کرتے ہیں کیوں کہ جس کی قسمت میں ’’طعنہــ‘‘ لکھا جاچکا ہے اسے طعنہ ملنا ہی ملنا ہے۔۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج صبح صبح ہم کیسا ’’گیان‘‘ بانٹنے لگے ہیں۔۔تو آج ہمارا موڈ کچھ ایسی باتیں کرنے کا ہے۔۔جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا، اس لیے اس توجہ دلاؤ کالم سے کام چلانا پڑرہا ہے۔۔
کپتان ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگاکر اقتدار میں آئے۔۔لیکن تبدیلی آئی نہ اب تک نیاپاکستان بن سکا ہے۔۔کپتان صاحب اگر ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں توپھر ایک بڑی جنگ لڑنی ہوگی ،اگرآپ نے یہ جنگ لڑلی تو پھر تاحیات وزیراعظم ہونے کی گارنٹی تو ہم آپ کو دینے کے لیے تیار ہیں۔۔کپتان صاحب سب سے پہلے اصلاحات ایکٹ میں تبدیلی لائیں۔۔پارلیمنٹ کے ارکان کو پنشن نہیںملنی چاہیئے ، کیوں کہ یہ نوکری نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کے جذبے کے تحت ایک انتخاب ہے اور اس کے لیے ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی ہے۔۔پارلیمنٹ کے تمام ارکان کی تنخواہیں ایک عام مزدور کے برابر ہونی چاہیئے، کیوں کہ وہ بھی آئین و قانون میں اتنا ہی حق رکھتے ہیں جتنا کوئی عام مزدور رکھتا ہے۔۔فی الحال تو یہ حال ہے کہ ارکان پارلیمنٹ اپنی تنخواہ،الاؤنسز،مراعات بڑھانے کے لیے خود ہی ووٹ ڈالتے ہیں اور من مانا اضافہ بھی کرلیتے ہیں۔۔ کیا ایسا حق مزدوروں کو دیا جاسکتا ہے؟؟ ممبران پارلیمنٹ کو اپنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری ہسپتال میں ہی علاج کی سہولت لینا لازم ہو جہاں عام پاکستانی شہریوں کا علاج ہوتا ہے۔۔ تمام رعایتیں جیسے مفت سفر، راشن، بجلی، پانی، فون بل ختم کیا جائے یا یہ ہی تمام رعایتیں پاکستان کے ہر شہری کو بھی لازمی دی جائیں (ابھی یہ حال ہے کہ ارکان پارلیمنٹ نہ صرف یہ رعایت حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کا پورا خاندان ان کو انجوائے کرتا ہے اور وہ باقاعدہ طور پر اس میں اضافہ کرتے ہیں ) ایسے ممبران پارلیمنٹ جن کا ریکارڈ مجرمانہ ہو یا جن کا ریکارڈ خراب ہو حال یا ماضی میں سزا یافتہ ہوں موجودہ پارلیمنٹ سے فارغ کیا جائے اور ان پر ہر لحاظ سے انتخابی عمل میں حصّہ لینے پر پابندی عائد ہو اور ایسے ممبران پارلیمنٹ کی وجہ سے ہونے والے ملکی مالی نقصان کو ان کے خاندانوں کی جائیدادوں کو بیچ کر پورا کیا جائے۔ پارلیمنٹ ممبران کو عام پبلک پر لاگو ہونے والے تمام قوانین کی پابندیوں پر عمل لازمی ہونا چاہئے۔۔ اگر لوگوں کو گیس بجلی پانی پر سبسڈی نہیں ملتی تو پارلیمنٹ کی کینٹین میں سبسی سایڈڈ فوڈ کسی ممبران پارلیمان کو نہیں ملنی چائیے۔۔ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سیاستدانوں کے لیے بھی ہونا چاہئے. اور میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہونا چاہئے اگر میڈیکلی ان فٹ ہو تو بھی انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہے ۔۔ پارلیمان میں خدمت کرنا ایک اعزاز ہے، لوٹ مار کے لیے منافع بخش کیریئر نہیں ۔۔ان کے بچے بھی لازمی سرکاری ا سکولوں میں تعلیم حاصل کریں۔۔ سیکورٹی کے لیے کوئی گارڈز رکھنے کی اجازت نہ ہو۔۔اگر کپتان یہ تھوڑی بہت تبدیلیاں کرلے تو ہمارا نہیں خیال کہ لوگ پھر کروڑہا خرچ کرکے الیکشن لڑنے کا سوچیں گے بھی۔۔

اب ایک اور اہم مسئلہ پر بات کرلیں اس کا بھی بہت آسان سا حل ہے، کروڑوں لوگوں کو اس سے فائدہ ہوگا۔۔پورے پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں میں اسکولوں میں ہمارے بچوں کے یونیفارم اگر ایک جیسے ہوجائیں۔اس کاسب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ پرائیویٹ مہنگے اسکول اور غریب بچوں کے سرکاری چھوٹے اسکولوں میں احساس کمتری غریب امیر کا فرق ختم ہو جائے گا۔دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا پرائیویٹ اسکول مافیا نے جو کاروبار بزنس بنا رکھا ہے یونیفارم کتابوں کے نام پر ہرا سکول کا یونیفارم الگ ہے اور دکان والوں سے اسکول مافیا کا باقاعدہ حصہ ہوتا ہے۔تعلیم اتنی مہنگی کردی ہے کہ غریب کے بچے کے لیے خواب ہی رہ گئے ہیں ۔کسی بھی معاشرے اور ملک کی ترقی کے لیے سب سے اہم کردار آنے والی نسل اوراس کی تعلیم ہوتی ہے لیکن ہمارے تعلیمی نظام کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے دینی تعلیم کا رستہ الگ بنا دیا گیا ہے۔۔جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دلوائی ہے لیکن ہمارے یہاں انگلش کے رٹے لگوائے جا تے ہیں، طوطے کی طرح تعلیم نہیں سکھائی جارہی بلکہ زبان سکھائی جا رہی ہے۔ہمارے بچے دین کے رہے ہیں نہ دنیا کے۔۔پرائیوٹ اسکول مافیا ایک کاروبار بن چکا ہے منافع بخش کاروبار یونیفارم کتابوں کے نام پر فیس کے نام پر ہزاروں روپے وصول کیے جارہے ہیں۔جو والدین کی جیبوں پر خطرناک بوجھ ہے۔۔وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود ایک سینس ایبل اور اچھے خاصے پڑھے لکھے انسان ہیں، اگر وہی کچھ خوف خدا کریں تو صرف ایک فیصلہ لے لیں کہ آج کے بعد پورے ملک کے تعلیمی اداروں کا یونیفارم یکساں ہوگا۔۔پھر دیکھئے کتنے دعائیں ان کے نصیب میں آتی ہیں۔۔

اوپر ہم نے دو ایسے مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل پیش کیا جس سے ملک کا ہرشہری کسی نہ کسی طور ضرور متاثر ہے۔۔ اب آجائیں کراچی کا رخ کریں۔۔کراچی مسائل کا گڑھ ہے، لیکن ہماری نظر میں کراچی کا اولین مسئلہ جسے باقی تمام مسائل پر فوقیت حاصل ہے وہ ہے ٹرانسپورٹ کا ناقص نظام۔۔ڈھائی کروڑ سے زائد کی آبادی والے شہرقائد میں صبح و شام عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہوتا ہے۔۔مزدور، طالبعلم، ان پڑھ جاہل، مرد و خواتین سب کو روزی کمانے ان گاڑیوں پر سفر کرکے جانا ہوتا اور اسکا بھی گھنٹوں انتظار کرکے، چھتوں پر بیٹھ کر جانا ہوتا ہے۔۔ہماری سیاسی قیادت کو کبھی پبلک ٹرانسپورٹ سے پالا نہیں پڑا،کیوں کہ ان سب کی اپنی لگژری گاڑیاں ہیں۔۔ یہ قیادت کراچی کی مضافاتی آبادیوں یا پسماندہ بستیوں میں بھی نہیں رہتے اس لیے انہیں یہاں کے مسائل کا بالکل اندازہ نہیں ہوپاتا۔۔سترفیصد سے زائد آبادی کے غم سے یہ لوگ آشنا نہیں۔۔(باقی تیس فیصدی کے پاس اپنی کنوینس ہوتی ہے چاہے وہ بائیک ہو یاکار)۔۔
اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ایک بات سمجھ نہیں آتی۔۔جب اخروٹ دماغ کے لیے مفید ہے تو پھر کسی بے وقوفی پر لوگوں کو ’’اخروٹ‘‘ کہہ کر ان کامذاق کیوں اڑایاجاتا ہے؟؟ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٓ


متعلقہ خبریں