وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

الف مدآ۔۔آٹا۔۔

جمعه 24 جنوری 2020 الف مدآ۔۔آٹا۔۔

دوستو، ایک خبر کے مطابق پاکستان میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں تندور بند ہو گئے ہیں جبکہ بلوچستان سندھ اور پنجاب میں آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔وفاقی حکومت نے صورتحال کا نوٹس تو لیا ہے اور صوبائی حکومتیں اسے مصنوعی بحران قرار دے رہی ہیں لیکن زمینی حقائق کے مطابق لوگوں کے گھروں میں دسترخوان ویران اور بازاروں میں تندور بند ہو گئے ہیں۔ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں ملک میں جاری گندم کے بحران پر تبادلہ خیال ہوا۔ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاسکو اور پنجاب کے پاس 41 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں، کمیٹی نے آٹے کی قلت پر قابو پانے کے لیے پنجاب اور پاسکو کو فوری طور پر گندم جاری کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی بھی منظوری دے دی، گندم درآمد کرنے کی اجازت 31 مارچ تک کے لیے دی گئی ہے جب کہ درآمدی گندم کی پہلی کھیپ 15 فروری تک پاکستان پہنچے گی۔

 

ملک میں اس وقت یہ صورتحال ہے کہ آٹا سترسے اسی روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے۔سفید چینی بھی بلیک ہورہی ہے اور اسی روپے کلو پر پہنچ گئی ہے۔گھی دوسوچالیس روپے کلو، چائے کی پتی ایک ہزار روپے کلو، گیس دوسوستتر روپے ۔۔دودھ ایک سو دس روپے کلو، دالیں دوسوسے ڈھائی سو روپے کلو، دہی ایک سو ساٹھ روپے کلو،مرچ و مٹر چار سوسے چھ سو روپے کلو، چکن (گوشت) دوسوساٹھ روپے کلو، سفید چنا ایک سو تیس روپے کلو۔۔ادویات، سفر اور سواری کا کرایہ۔۔پٹرول ،تیل،اسکول کے اخراجات،کپڑے،جوتے،بجلی کا بل، مکان و دکان کا کرایہ،شادی ،موت میں شرکت کے اخراجات، ڈیتھ سرٹیفیکٹ تین سو روپے سے بارہ سوروپے کردیاگیا۔۔جب کہ غریب عوام کی آمدن میں اضافہ صفر۔۔یہ ہے تبدیلی۔۔یہ ہے نیاپاکستان؟؟ باباجی فرماتے ہیں، جن لوگوں نے موجودہ حکومت کو ’’چنا‘‘ تھا انہیں انارکلی کی طرح دیوار میں ’’چنوا‘‘ دینا چاہیئے۔۔کلاس میں جب اردو کی ٹیچر نے سوال پوچھا۔۔بتاؤ بچوں،یہ کون سا زمانہ ہے؟؟ میں رو رہی ہوں، تم رو رہے ہو، وہ رورہی ہے، سب رورہے ہیں۔۔ایک شاگرد نے جلدی سے کھڑے ہوکر جواب دیا۔۔ مس یہ تو کپتان کی حکومت کا زمانہ لگ رہا ہے۔۔سنا ہے کہ مس نے اس جواب پر بچے کو اپنے پرس سے ٹافی بھی نکال کر بطور انعام پیش کی تھی۔

 

باباجی کا کہنا ہے۔۔جس ملک میں وزیراعظم سے دو کتے اور ایک بیوی والا گھر اپنی تنخواہ سے نہ چل رہاہو وہاں غریب عوام کی حالت کا اندازہ آپ خود باآسانی لگاسکتے ہیں۔۔انہی کا فرمان عالی شان ہے کہ۔۔ قومیں سڑکیں، انڈرپاس اور پل بنانے سے نہیں بلکہ آٹا،چینی والے ٹرک کے پیچھے دوڑنے اور قطار میں لگ کر خریدنے سے بنتی ہیں۔۔وہ مزید کہتے ہیں کہ۔۔ملک کی موجودہ حالت سے صرف وہی مطمئن ہے جو یا تو اس ملک میں نہیں رہتا یا پھر موجودہ حالات کا ذمہ دار ہے۔۔ایک سرکاری ترجمان کا بیان کچھ یوں نظر سے گزرا کہ۔۔نوکریوں کے حصول کے لیے جو لاتعداد لوگ پردیس چھوڑ کے پاکستان آئے تھے ان کی وجہ سے آٹے کی قلت پیدا ہوئی ہیں۔ایک چول وفاقی وزیر ریلوے نے بھی ماری ۔۔کہتے ہیں۔ نومبر دسمبر میں لوگ زیادہ روٹیاں کھاتے ہیں اس لیے آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے۔۔شیخ صاحب پلے سے تو کھاتے نہیں حلقہ انتخاب میں تھڑا ہوٹلوں اور ریڑیوں سے ناشتہ کھانا انہیں مفت میں مل جاتا ہے اس لیے انہیں کیا پتہ کہ پیٹ کاٹ کر کیسے کھایا اور زندہ رہا جاتا ہے۔۔ویسے یہ کتنی عجیب بات ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب آٹے اور گندم کا بحران پیدا ہوا تھا تو اُس وقت جناب جہانگیر ترین وزیر تجارت تھے۔ اب موجودہ بحران میں جیسے ہی کپتان نے انہیں اصلاح احوال کے لیے اقدامات کرنے کو کہا انہوں نے فوراً لاکھوں ٹن گندم بیرون ملک سے منگوانے کا اعلان کردیا۔۔ہمارے ن لیگی دوست کا طنزیہ جملہ نہیں بھول سکتے،وہ کہتے ہیں کہ۔۔نوازشریف نے مصنوعی آٹا تیس روپے کلو کرکےعوا م کو کمزور کردیاتھا اب اصلی طاقت ور آٹا سترروپے کلو دے کر قوم کو پہلوان بنایاجارہا ہے۔۔

ایک خاتون صحافی مہنگائی پر دل ہلادینے والا ایک مضمون لکھنا چاہ رہی تھی۔۔مگر بات نہیں بن رہی تھی۔۔ کسی نے مشورہ دیا۔۔ کہ مضمون لکھنے سے پہلے غربت میں پسے ہوئے لوگوں سے ملو۔۔ ان کی باتیں اور حالات مضمون میں تحریر کرو۔۔وہ مشاہدہ کے لیے غریبوں کی بستی میں گئی۔۔وہاں ایک بھکاری ملا۔۔ اس سے پو چھا۔۔ بابا جی آٹا مہنگا ہو گیا ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟۔ بھکاری حیرت سے بولا ۔۔ بی بی جی واقعی آٹا مہنگا ہو گیا ہے۔آپ کی بڑی مہر بانی مجھے بتا دیا۔۔ او کم بخت دوکاندار مجھ سے اب تک پرانے بھاؤ پہ آٹا خرید رہا ہے۔۔ویسے غریب بھی اب سیانے ہوگئے ہیں۔۔ایک غریب نظر چیک کرانے گیا، ڈاکٹر نے پوچھا یہ کتنے کا نوٹ ہے؟؟وہ بولا، باھر دھوپ میں چیک کرکے آتا ہوں، باہر نکلا تو دیکھا پانچ ہزار کانوٹ تھا۔۔اب ڈاکٹر اسے صبح سے ڈھونڈ رہا ہے ،وہ غریب پانچ ہزار روپے میں مہنگا آٹا،مہنگی چینی ، مہنگا کوکنگ آئل، دالیں اور سبزیاں لے کر گھر پہنچ گیا۔۔ویسے کبھی آپ نے نوٹ کیاکہ۔۔ہمارے معاشرے سے لائبریریاں ختم ہوتی جارہی ہیں۔۔ہوٹل پہ ہوٹل کھلتے جارہے ہیں، شاید اسی لیے دماغ سکڑتے جارہے ہیں اور پیٹ بڑھتے جارہے ہیں۔۔

جس طرح کنجوسی میں کراچی والے میمنوں کو تسلیم کرتے ہیں اسی طرح پنجاب میں شیخ ان کے ہم پلہ ہیں۔۔ایک شیخ صاحب بیگم کے ساتھ ایک ہوٹل کے سامنے سے گذر رہے تھے کہ اچانک سے کباب کی اشتہا انگیز خوشبو کا بھبھکا بیگم صاحبہ کے نتھنوں سے ٹکرایا تو بے اختیار کہہ اٹھیں۔۔ واہ کیا خوشبو ہے۔۔۔۔شیخ صاحب بڑے فیاضانہ انداز میں بولے۔۔ بیگم پسند آئی کباب کی خوشبو؟بیگم صاحبہ جن کے پچھلے تین ہفتوں سے ساگ کھا کھا کے کان بھی سبز رنگ کے ہو گئے تھے جلدی سے بولیں۔۔ جی سرتاج۔۔شیخ صاحب بھی حاتم طائی کی قبر کو لات مارتے ہوئے بولے۔۔چل دوبارہ گزرتے ہیں اسی ہوٹل کے سامنے سے۔۔ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ آٹا سترروپے کلو ہوگیا لیکن قوم کو اس سب سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ آخری قسط میں ’’مہوش‘‘ کا کیا ہوگا؟؟ایک لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈ کو واٹس ایپ کیا۔۔میں جہیز میں آٹا لاوں گی،تم مہر میں بس روٹیاں پکا دینا۔۔باباجی نے پوچھا ہے۔۔ حریم شاہ کے متعلق کیا خیال ہے وہ آٹا کا بحران حل کروا سکتی ہے؟؟ہمارے پیارے دوست کو رومن اردو زہر ہی لگتی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ۔۔ میں جب’’ عطا‘‘ مانگتاہوں لوگ سمجھتے ہیں ’’آٹا‘‘ مانگتاہوں۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔آپ کی ایک مْسکراہٹ سے اور بہت ساری مْسکراہٹیں پھیل سکتی ہیں۔۔یقین کیجیے یہ دنیا کی واحد وَبا ہے جس کے پھیلنے سے کسی کو نقصان نہیں ہوتا۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں