وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

وزیراعظم صاحب اب بس بھی کریں!

بدھ 22 جنوری 2020 وزیراعظم صاحب اب بس بھی کریں!

کوئی آدمی از خود اپنے بت کو تراش کر اس کی پوجا شروع کردے تو یہ عظمت کی نہیں، خودترحمی کی انتہا ہے۔ نرگسیت دراصل خود سے عشق کا دوسرا نام ہے۔ مگر یہ بات اتنی سادہ بھی نہیں۔ خود سے عشق دراصل ایک ایسی بیماری بھی ہو سکتی ہے جو نفرت کے زیریں طوفان کو متضاد طور پر اپنے عشق کی چادر دیتا ہو۔ انسانی جبلت متضاد لہروں میں کشاکش کے ایسے طوفان برپا کرتی ہے کہ احساس برتری کو احساس کمتری کی پیداوار بنا دیتی ہے۔ نفرت کو عشق اور خود سے بیزاری کو دوسروں کی توجہ سے نمایاں کرتی ہے۔ دنیا کے اکثر نامور لوگ اس ذہنی کجروی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ فن کاروں اور کھلاڑیوں میں بھی ایک سطح پر یہ مرض اُبکائیاں لیتا رہتا ہے۔ یہ طبقہ خود کو چاہنے اور دوسروں پر چھانے کے مرض میں اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ تعلق میں ہر ذمہ داری دوسرے کی اور طلب میں ہر چیز پر اپنے حق کو فائق سمجھتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان دراصل اسی مرض میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ جس میں وہ اپنی ناکامیوں کو بھی تعظیم دینے پر تُلے ہیں۔ ایسے لوگ عظیم لوگوں سے مختلف مشابہتیںاور مماثلتیں ڈھونڈ کو اپنی ناکامیوں اور نارسائیوں کو بھی تکریم دینا چاہتے ہیں۔یہ خود پسندی کی آخری حد ہوتی ہے۔ جہاں بت کدۂ اوہام کی ویرانیاں بھی عظمت کی پرچھائیاں بن کر ظاہر ہوتی ہیں۔

 

یہ کوئی سادہ بیان نہیں۔ نرگسیت کی انتہا سے پھوٹا، مجموعۂ امراض میں لتھڑا ایک مسئلہ ہے۔کمالات کا بھی یہ کمال ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کو حرکت دیتے ہوئے اپنی ناکامیوں اور نارسائیوں کو بھی بابرکت بنا دیا ۔ فرمایا: ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد اور مجھے ایک طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔ مہاتیر محمد مسلم امہ کے سب سے زیادہ تجربہ کار مدبر سیاستدان ہیں، وہ بھی پول مافیا جیسی مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیں‘‘۔وزیراعظم عمران خان اپنے مسائل کو مہاتیر محمد کے مسائل سے مشابہت دے کر نہ جانے خود کو کس مقام پرفائز کرتے ہیں۔شاید ہی کسی آدمی کے مشاہدے میں یہ منظر نہ رہا ہو کہ گاہے بچے کھیلتے ہوئے خود کو اپنے والد کے مقام پر فائز کرلیتے ہیں، خود کو دوسرے بچوں سے اُن الفاظ سے مخاطب کرواتے ہیں، جس سے وہ اپنے والد کو مخاطب کرتے ہیں۔بچوں کا تو یہ ایک کھیل ہوتا ہے مگر بڑوں میں ایسا مرض ہوتو یہ نرگسی طبیعت کی چغلی کرتا ہے۔ مہاتیر محمد داخلی طور پر ایک مضبوط شخصیت ہے جسے تضادات اور یوٹرن کی علامات نے کہیں پر بھی گھیر کر نہیں رکھا۔ عمران خان کے تو کیا ہی کہنے!!!مہاتیر محمد کو جو مسائل درپیش ہیں وہ خارج کے مسائل ہیں، جن سے وہ اپنے مضبوط اعصاب اور غیر متزلزل ارادے سے نبرد آزما ہیں۔ عمران خان کے مسائل خود اُن کے اندر سے پھوٹتے ہیں۔ وہ اپنے اندر کے مسائل کو باہر کی دنیا پر منطبق کرکے اُس کے خلاف کنٹینر پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ خود سے خود کی لڑائی ہے۔ تلوار ہوا میں چلانے سے بازو تھکتے ہیں ، مرتا ورتا کوئی نہیں۔ مہاتیر کی شخصیت اپنے ارادے سے تشکیل پاتی ہے جبکہ عمران خان سیاست میں ایک طفیلی کردار رکھتے ہیں۔ جس میں حاشیہ نشینی کی بیماری دائمی ہوتی ہے۔ مہاتیر محمد ایسے لوگ خودی ، خودداری ، خود انحصاری، خودکفالتی اور خوداعتمادی کی زندگی جیتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم کے پاس اس کے لیے صرف الفاظ کا ایک محدود ذخیرہ ہے جسے وہ اپنے روزوشب کی یکسانیت کی طرح دُہراتے رہتے ہیں۔ اس معاملے میںوہ یہ بھی نہیں جانتے کہ الفاظ کتنے ہی خوش نما ہو ، بار بار دہرائے جانے سے بوریت پیدا کرتے ہیں۔طبیعتیں اوبھنے اور مزاج بپھرنے لگتے ہیں۔

 

عمران خان اپنے مسائل میں خود کو جس شخصیت کے ساتھ زمرہ بند کررہے ہیں، اُن کے کردار کے ساتھ اپنا موازنہ تو کریں۔ مہاتیر ایسے لوگ ارادے سے عمل کی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔ عمران خان ایسے لوگ ارادے کے مرحلے سے بھی آشنا نہیں بس خوشنما الفاظ پر گزر اوقات کرتے ہیں۔ چنانچہ اُن کے دورِ اقتدار میں ایسے بے شمار واقعات ہیں جس میں وہ الفاظ کے خراچ اور عمل کے افلاس کے شکار نظر آئے۔ موصوف نے کشمیر کے سفیر پھر وکیل ہونے کا دعویٰ کیا۔ کشمیر ملائیشیا کا نہیں پاکستان کا مسئلہ تھا۔ مگر تاحال وہ بھارت کو اتنا بھی پریشان نہ کرسکے جتنا مہاتیر محمد نے کیا۔ مہاتیر محمد کے کشمیر پر دوٹوک موقف پر مودی کا بھارت ملائیشیا سے تجارتی روابط کو محدود کررہا ہے۔ مگر مہاتیر محمداپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ عمران خان سعودی عرب کی ناراضی پر اُس کوالالمپور اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جس کے وہ محرکین میں شامل تھے۔ آدمی اگر اپنے الفاظ کو بھی نبھانے کے قابل نہ ہو تو وہ کسی اور کے لیے کتنا لائق اعتبار رہتا ہے۔ کشمیر کے وکیل و سفیر کواس کی بھی پروا نہیں تھی کہ جس سعودی عرب کے دباؤ میں وہ کوالالمپور اجلاس میں شریک نہیں ہورہے، اُس ملک نے عین کشمیریوں کے محاصرے میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے تجارتی یارانے کیے۔ کیا نفسیات ہے؟ کیا یہ لوگ ہیں؟

 

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے مسائل کو مہاتیر محمد کے مسائل سے مماثلت پیدا کرنے کی اس داغدارانہ عظمت کے ساتھ کوشش پر ہنسی کو دبانا پڑتاہے۔ منہ اور مسور کی دال کی مثال چھوڑیے! یہ نفسیات تاریخ میں نرگسی طینیت کے بے شمار افراد میں قے کرتی رہتی ہے۔ امریکا کا وہ بے مثال جنرل میک آرتھر یاد آتا ہے جس کی انا کے آگے دنیا چھوٹی پڑتی تھی۔نکسن نے 1960ء کے انتخابات کے ہنگام میک آرتھر کو جاپان سے ملنے والے ایک اعزاز پر مبارک باد کا پیغام بھیجا۔ جس پرمیک آرتھر نے نکسن کو جواباً تحریر کیا: ‘آپ نے مجھے زبردست پیغام بھیجا ہے اور میں نے آپ کی امیدواری کے لیے اپنی حمایت ظاہر کرنے کی غرض سے اسے پریس بھیج دیا ہے‘‘۔ نکسن کو کبھی یہ پتہ نہیں چل سکا کہ خود اُن کے میک آرتھر کے لیے ستائشی کلمات پریس میں چھپ کر میک آرتھر کی سیاسی حمایت کا نتیجہ کیسے پیدا کریں گے۔ چنانچہ نکسن نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’لیڈرز‘‘ میں لکھا: شاید میک آرتھر جیسی مضبوط انا کا مالک شخص ہی یہ تصور کرسکتا تھا کہ ان کی تعریف میں میری تحریر سے اُن کی حمایت ظاہر ہوتی تھی، لیکن وہ اپنے مفروضے پر کاملاً یقین رکھتے تھے‘‘۔ عمران خان کے الفاظ سے میک آرتھر کی ’’انا‘‘ سے پیدا ہونے والے ایسے ہی مفروضہ تصورات اور وہمی خیالات اجاگر ہوتے ہیں۔ مگر اس میں بھی ایک فرق ہے۔ میک آرتھر کی انا کے اسباب اُس کی غیر معمولی کامیابیوں اور تاریخ پر مرتب ہونے والے نقوش میں پوشیدہ تھے۔میک آرتھر امریکا میں ایک جناتی شخص کہلاتے تھے۔اُنہوں نے 1945میں جاپان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اس خلاء کو پر کیا تھاجو فوجی شکست نے اس ملک کے اندر پیدا کیا تھا۔ جنرل میک آرتھر کی غیر معمولی کامیابیوں نے امریکی صدر کو اُن کے سامنے چھوٹا کردیا تھا۔ پھر کیا تھا؟ وہ ٹرومین کی جانب سے اس طرح اُٹھا کرپھینک دیے گئے جیسے دودھ میں سے مکھی۔وہ تاریخ پر ڈالے جانے والے اپنے اثرات سے ایسے خیالات پال سکتے تھے، اور اپنے اوہام کی ویرانیوں کو گلے لگا سکتے تھے۔ نکسن بھی اس پر حیرت کا اظہار ہی کرسکتے تھے، بس اس سے زیادہ نہیں۔ مگر ہمارے عمران خان کی زندگی کچھ دوسری طرح کے واقعات سے عبارت ہے۔ اُن کے شخصی مسائل اُنہیں خود سے باہر کہیں جھانکنے ہی نہیں دیتے۔ اور اُن کے پاس پیش کرنے کو کوئی جاپان کی تاریخ بھی نہیں۔ وہ حالات کے جبر میں حادثات کی پیداوار بن کر سامنے آئے اور اپنی ایسی ’’کامیابیوں ‘‘کے سحر میں مبتلا ہیں جس میںجماعت ذات سے اوپر نہیںاُٹھ پاتی۔ کرکٹ ٹیم کے ساتھ تو وہ ایسا کرسکتے تھے، مگر اب تو پورا پاکستان اس کا شکار ہے۔ درحقیقت عمران خان کو اب ٹوکنے کی ضرورت ہے کہ اُن کا مرض صرف اُن کو نہیں پورے ملک کو تنگ کررہا ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے ساتھ اُن کی مشابہت کی کوشش دراصل نرگسیت کے مرض کی تشخیص ہے ۔ اس مرض کا مارا بت ساز و بت پرست و بت آپ ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں