وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ایک مظلوم ابن مظلوم

منگل 14 جنوری 2020 ایک مظلوم ابن مظلوم

گزشتہ دنوں میڈیا پر چلنے والی ایک خبر نے طبیعت کو بہت بُری طرح سے مکدر کردیا ہے۔ بظاہر یہ خبر اتنی بڑی بریکنگ نیوز تو ہرگز نہیںتھی کہ جو نیوز چینلز پر ریٹنگ کے سابقہ ریکارڈ توڑ سکتی لیکن اِس چھوٹی سی خبر نے دردِ دل رکھنے والے ہر شخص کے قلب کو ضرور چکنا چور کردیا ہے ۔ خبر کچھ یوں تھی کہ ’’ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ایک اسیر محمد سلطان جسے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کے خلاف پرامن احتجاج کرنے پر انسداد دہشتگردی عدالت نے پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی ،جسے برین ٹیومر کا موذی مرض لاحق تھا اور اُس کے اہلِ خانہ کی کئی مہینوں کی کوششوں کے بعد جب محمد سلطان کو علاج کے لیے ملتان ہسپتال لایا گیا تو انتظامیہ کی طرف سے اِس بیمار قیدی کے ساتھ خصوصی ظلم یہ روا رکھا گیا کہ ہسپتال کے بیڈ پر بھی اس مظلوم قیدی کی ہتھکڑیاں کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جس کے باعث محمد سلطان کو بروقت طبی سہولیات نہ فراہم کی جاسکی وریوں محمد سلطان اپنی موذی بیماری اور انتطامیہ کے انسانیت کُش رویے کے باعث جان کنی کی اذیت ناک کیفیت میں مبتلاء ہوگئے ‘‘۔میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیرِ گردش محمد سلطان کی اِ س مختصر سی ویڈیو فوٹیج نے کئی سال پہلے برپا ہونے والے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دردناک یادیں ایک بار پھر سے تازہ کردیں ۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ اِس وقت پاکستان اور پنجاب میں نہ تو اُن لوگوں کی حکومت ہے جنہوں نے اپنے سیاسی اقتدار کودوام بخشنے کے لیے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا خون آشام ڈرامہ رچایا تھا اور نہ ہی انتظامی عہدوں پر وہ لوگ فائز ہیں کہ جو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا بنیادی محرک بنے تھے ۔ بلکہ آج تو الا ماشاء اللہ ہر وہ شخص اقتدار پر بڑی شان سے جلوہ افروز ہے جو کبھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے رونما ہونے کے بعد علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی بالکل بغل میں کھڑا ہوکر ماڈل ٹاؤن میں شہید ہونے والوں کا واقعہ کے اصل ذمہ داروں سے حساب لینے کا دعوی کیا کرتا تھا ۔مگر لگتا یہ ہی ہے کہ اقتدار کی راہ داریوں میں متمکن ہونے کے بعد یہ نئے نویلے حکمران بھی اپنے اُس عہد کو یکسر فراموش کرچکے ہیں، جو انہوں نے کبھی شہدائے ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کے ساتھ استوار کیا تھا ۔کسی کو یاد ہویا نہ ہو لیکن ہمیں بڑی اچھی طرح سے یاد ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی دلجوئی کرنے والوں میں پنجاب کی طاقتور ترین سیاسی شخصیت چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی بھی صفِ اوّل میں شامل تھیں ۔ جنہوں نے اُس وقت سانحہ ماڈل ٹاؤں پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اُس وقت تک سُکھ، چین سے نہیں بیٹھیں گے کہ جب تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے اصل ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کردیتے۔ مگر نیرنگی دوراں تو دیکھیئے کہ چوہدری پرویز الہی کو بھی اسپیکر پنجاب اسمبلی بنے دو سال ہونے کو آئے ہیں اور وہ بڑے چین و آرام کے ساتھ اپنے بیانات اور وعدوں پر مٹی ڈال کر اطمینان سے اقتدار کے مزے لے رہے ہیں ۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سب سے مایوس کُن کردار تو تحریک انصاف کا رہا ہے ۔ حالانکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے میں سب سے اہم کردار 2014 کے دھرنے کا تھا اور اِس دھرنے میں احتجاج کے سارے رنگ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے کارکنان نے اپنے خون سے بھرے تھے ۔ جس کا اعتراف عمران خان ،وزیراعظم بننے سے پہلے کئی بار میڈیا کے سامنے کرچکے ہیں ۔ جبکہ 2014 کے دھرنے میں ایک رات ایسی بھی آئی تھی جب مسلم لیگ ن کی حکومت نے دھرنے پر ایسا شدید ترین انتظامی کریک ڈاؤن کروادیا تھا کہ جس کے باعث عمران خان اپنے کنٹینر میں مکمل طور پر انتظامیہ کے گھیراؤ میں آگئے تھے ۔ قریب تھا کہ عمران خان گرفتار کرلیے جاتے یا پھر زخمی ہوجاتے کہ ایسے مخدوش ترین حالات میں علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے کارکنان نے عمران خان کے کنٹینر کی پوری رات حفاظت کی اور عمران خان کو گرفتار ہونے سے بچالیا۔ اگلی صبح عمران خان اور علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اُسی کنٹینر پر کھڑے ہوکر ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اپنے ’’سیاسی کزن ‘‘ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

 

مگر شومئی قسمت کہ ’’سیاسی کزن ‘‘ کا یہ رشتہ بھی کچے دھاگہ سے بنی ایک ایسی نازک ڈور ثابت ہوا جسے اقتدار کی منہ زور ہوا نے تار تار کردیا اور اَب وہی علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری جوکبھی وزیراعظم پاکستان عمران خان کے سیاسی کزن ہوا کرتے تھے ۔ اپنے دیرینہ کارکن محمد سلطان کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز سلوک پر عمران خان سے اخباری بیانات کے ذریعے اشاروں کنایوں میں سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ہی تحریک انصاف کا وہ منفرد ’’انصاف ‘‘ ہے کہ جس کا وعدہ عمران خان نے کبھی اُن کے ساتھ کیا گیا تھا۔ یقینا اِس وقت علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری سیاست ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے خود کو سیاسی معاملات سے مکمل طور پر الگ کر چکے ہیں لیکن پھر بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دلوانا ایک ایسا فرض ہے جو ہمیشہ اُن کا اور اُن کی جماعت کے کاندھوں پر سوار رہے گا۔ اگر وزیراعظم پاکستان عمران خان چاہیں تو وہ باآسانی اپنے سابقہ ’’سیاسی کزن ‘‘ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے کندھوں سے یہ بوجھ اُتارنے میں اُن کی مدد کرسکتے ہیں لیکن اِس کے لیے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو اپنے اندر سے 2014 کے دھرنے والا عمران خان تلاش کرنا پڑے گا۔ جب تک وہ عمران خان واپس نہیں آئے گا ،اُس وقت تحریک انصاف کی حکومت کو یہ احساس بالکل بھی نہیں ہو گا کہ اُنہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کے کیفرِ کردار تک پہنچانا ہے ۔

 

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے گزارش کہ اگر آپ اور آپ کی حکومت کے لیے اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے تک لانا کسی سیاسی مجبوری کے باعث ناممکن ہو تو کم از کم محمد سلطان جیسے بیمار قیدی کو ہی کوئی’’قانونی ریلیف ‘‘پہنچا دیا جائے، بالکل ویسا ہی ’’قانونی ریلیف ‘‘جیسا تحریک انصاف کی حکومت نے بیمار قیدی نوازشریف کوپہنچایا تھا ۔ اگر اتنا بھی ہوجائے تو شاید سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کی کچھ اشک شوئی ممکن ہوسکے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں