وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

افغان طالبان سے ’’مذاکرات‘‘ کی بھیک
(محمد انیس الرحمن)

پیر 06 جنوری 2020 افغان طالبان سے ’’مذاکرات‘‘ کی بھیک <br>(محمد انیس الرحمن)

جس وقت افغان طالبان کا اعلی سطحی وفد ایرانی حکومت کی دعوت پر گزشتہ 25نومبر کو تہران کا دورہ کرکے اپنے معاملات سمیٹ رہا تھا اسی وقت ہزاروں میل دور واشنگٹن میں وائٹ ہائوس کے مکین کو سی آئی اے کی جانب سے خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال سے متعلق خبریں دی جارہی تھیںوائٹ ہاوس کا مکین امریکی صدر ٹرمپ اپنے اگلے صدارتی الیکشن سے پہلے افغانستان میں امریکی شرائط پر ’’امن‘‘ لانا چاہتا ہے تاکہ امریکی عوام کے سامنے اپنے آپ کو امن کا پیامبر ثابت کرکے اگلے صدارتی الیکشن میں پھر سے بازی لے جائے لیکن دوسری جانب امریکا کی ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ ہے جس سے تعلق رکھنے والے سول اور ملٹری حکام اس وقت ٹرمپ کے گرد گھیرا ڈالے بیٹھے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکی چیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مائک ملی کا کہنا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا بھی جلد آغاز ہوجائے گا۔صدر ٹرمپ کی جانب سے افغانستان کا حالیہ دورہ جس کے آغاز کا اعلان نہیں کیا جاتا میں یہی کوششیں کی گئی ہیں کہ افغان طالبان کی جانب سے کسی نہ کسی طور مذاکرات کی آمادگی کا اظہار کردیا جائے۔تاہم اطلاعات یہی ہیں کہ افغان طالبان نے ٹرمپ کے مطالبے پر مذاکرات کی بحالی کے لئے مشروط رضامندی ظاہر کردی ہے اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن مذاکرات وہیں سے شروع کئے جائیں گے جہاں سے امریکا نے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اس کے ساتھ ساتھ طالبان ترجمان نے دوحہ میں امریکی عہدیداروں سے غیر رسمی گفتگو کا اعتراف بھی کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان سے پانچ ہزار فوجیوں کو کم کرنے کے اعلان کے ساتھ کہا ہے کہ وہ اب طالبان کے ساتھ حقیقی ڈیل کے بعد افغان جنگ ختم کریں گے۔ یہ سب کچھ ان حالات میں ہورہا ہے جب افغان طالبان نے اپنے آپریشن کو جاری رکھتے ہوئے مشرقی اور مغربی افغانستان میں امریکہ اور کابل انتظامیہ کے فوجی دستوں پر تابڑ توڑ حملے کرکے انہیں شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جبکہ دوسری جانب قطر کے نیوز چینل الجزیرہ نے طالبان نمائندوں اور امریکی عہدیداروں کے درمیان گفتگو کی تصدیق بھی کی ہے لیکن اس کے باوجود طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا یقین دلانا فی الحال قبل از وقت ہوگااگر مذاکرات کی بحالی سے متعلق طالبان قیادت مکمل طور پر راضی ہوتی ہے تو اس کا پہلے باقاعدہ اعلان کیا جائے گا لیکن اس تمام صورتحال کے باوجود جنگ نہیں روکی جائے گی کیونکہ طالبان کے میدانی کمانڈر کسی طور بھی جنگ بندی کے حق میں نہیں ہیں ۔

جبکہ صدر ٹرمپ کا بیان ہے کہ اب طالبان سے حقیقی ڈیل کی جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اگر حقیقی ڈیل کی جائے گی تو اس سے پہلے امریکی اس سلسلے میں غیر سنجیدہ تھے ۔۔۔!! اور طالبان کے ساتھ حقیقی ڈیل کا مطلب یہی ہے کہ امریکہ پہلے افغانستان سے اپنے فوجی نکالے اس کے بعد قیام امن کے لئے مذاکرات ہوں گے اگر امریکہ طالبان کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر ’’حقیقی ڈیل‘‘ کیسے ممکن ہوسکے گی؟ امریکہ کی ڈیپ اسٹیٹ کی پوری کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح طالبان قیادت کابل کی اشرف غنی انتظامیہ کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے پر راضی ہوجائے یہ ایک طرح امریکہ ٹانکا ہوگا جو افغان حکومت میں لگا رہے گالیکن افغان طالبان ملا محمد عمر مجاہد کے دور سے کسی بھی قسم کی امریکہ ساختہ کابل انتظامیہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں رہے اور نہ ہوں گے۔

اس حوالے سے ماضی قریب میں طالبان کے موقف میں نرمی لانے کے لئے ان کے درمیان دراڑ ڈالنے کی بھی کوشش کی گئی لیکن یہ تمام کوششیں بری طرح ناکام رہیںہیں۔ ذرائع کے مطابق گذشتہ مہینوں میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لئے امریکہ اور کئی یورپی ملکوں کی جانب سے کوششیں جاری تھیں ۔اس دوران طالبان ترجمان کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ افغان طالبان کسی طور بھی کابل انتظامیہ کو تسلیم کرنے اور اسے شریک مذاکرات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اس لئے جنگ کی وجہ سے امریکہ کا افغانستان میں خرچہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب جان بوجھ کر افغان طالبان جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ کے اوپر اس کا معاشی آسمان گر پڑے اور اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہیںاس لئے یہ جنگ نہ صرف امریکہ کی ویت نام میں ہونے والی شکست سے بڑی شکست ہوگی بلکہ مشرق وسطی، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں امریکی پالیسیاں بھی بری طرح ناکام ہوجائیں گی۔ اسی حوالے سے یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ سعودی عرب نے امریکہ کے ایما پر حقانی نیٹ ورک سے قریب ہونے کی کوششیں بھی کی ہیں تو دوسری جانب وہ افغان طالبان کے ساتھ بھی اپنے روابط بحال کرنا چاہتا ہے کیونکہ قطر اس وقت افغان طالبان کا قریبی ساتھی کے طور پر سامنے آیا ہے دوسری جانب افغان طالبان کو ترکی کی بھی کھلی حمایت حاصل ہے اور اب جبکہ طالبان کے ایک اعلی سطحی وفد نے دورہ ایران کے دوران اپنے معاملات ایرانیوں کے ساتھ بڑی حد تک ٹھیک کرلئے ہیں تو خطے کی آئندہ صورتحال میں بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہوگئے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکہ، سعودی عرب اور کابل کی اشرف غنی انتظامیہ کی یہ کوشش رہی ہے کہ کسی طرح طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان دوریاں پیدا ہوجائیں لیکن یہ تینوں اس کوشش مین بھی بری طرح ناکام رہے ہیںخصوصا اس وقت جب حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی، ماموں مالی خان اور افغان حکومت میں طالبان آرمی کے سابق چیف مولوی محمد ندیم عمری کے بھائی عبدالرشید حقانی کی رہائی عمل میں آئی۔ اس کے ساتھ جس وقت حقانی نیٹ ورک کی جانب سے اختلافات کی خبروں کا خاتمہ کرنے کے لئے یہ اعلان کیا گیا کہ حقانی نیٹ ورک افغان طالبان کی قیادت میں ہی اپنی جدوجہد جاری رکھے گا تو امریکہ کی خواہشات نے یکدم دم توڑنا شروع کردیا اور وہی ٹرمپ جس نے انتہائی رعونت کے ساتھ طالبان کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا پھر سے طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگتا نظر آیا بلکہ اعلان کے بغیر بزدلوں کی طرح افغانستان کا اچانک دورہ بھی کیا۔

امریکا اس سے پہلے امریکی دہشت گرد تنظیم ’’بلیک واٹر‘‘ افغانستان کے میدان میں اتارنا چاہتا تھا تاکہ اس کا سرکاری نقصان کم سے کم ہوسکے لیکن جس وقت قندوز میں بڑے حملے کے بعد افغان طالبان نے کابل میں بلیک واٹر کے مرکز پر حملہ کرکے باس دہشت گرد تنظیم کے بہت سے امریکی اور کچھ اور غیر ملکی ارکان کے ساتھ ساتھ بلیک واٹر کے افغان سربراہ کو بھی منوت کے گھاٹ اتار دیا تو امریکہ کی ڈیپ اسٹیٹ کے پائوں لڑکھڑا گئے اور ٹرمپ نے اسے ’’امن ‘‘ کوششوں کو ثبوتاز کرنے کے مترادف قرار دے کر ان مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کردیا جس پر افغان طالبان کبھی راضی ہی نہ تھے امریکی ڈیپ اسٹیٹ کا ایک اور نمائندہ زلمے خلیل زاد مذاکرات کی جو میز سجا رہا تھا اس کا سارا منصوبہ مٹی میں مل گیا۔

کویت سے شائع ہونے والے عربی جریدے المجتمع نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ اسرائیل مشرق وسطی میں فائنل رائونڈ شروع ہونے سے قبل افغانستان میں ایسی حکومت کا خواہاں ہیں جو امریکی اور بھارتی اثرورسوخ کی وجہ سے بڑے ردعمل کے قابل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دنوں جس وقت امریکہ نے پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کی مخالفت کی تو اس کے پس منظر میں یہی بات کارفرما تھی کہ اگر کابل پر مکمل طور پر طالبان حکمران بن گئے مستقبل قریب میں ان کے خلاف بڑی کارروائی عمل میں نہیں جاسکے گی کیونکہ پاکستان کے راسے سی پیک رواں دواں ہوچکا ہوگا اور چین کسی طور بھی خطے میں کوئی بھی جنگی کارروائی برداشت نہیں کرے گا بلکہ وہ اسے اپنے آئندہ کے معاشی مفادات کے لئے بڑا خطرہ تصور کرے گا ۔ پاکستان کو اس منصوبے کے تحت چین سے ’’لائف انشورنس‘‘ مل جائے گی اس لئے جس وقت مشرق وسطی میں بڑی تبدیلی کے لئے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے نام پر اسرائیل کو اپنی سرحدوں سے باہر آنا پڑے گا تو پاکستان اور افغان طالبان کی جانب سے ردعمل کی کوئی بھی صورت سامنے آسکتی ہے۔

نائن الیون کے صہیونی ڈرامے کا اصل مقصد یہی تھا کہ کسی نہ کسی طور پر امریکہ اور نیٹو ممالک کو افغانستان میں بیٹھا کر پاکستان اور چین کو مفلوج کردیا جائے تاکہ مشرق وسطی کا میدان خالی ہو۔ دوسری جانب عراق کے بعد شام اور یمن میں ایران کو رسائی دینے کا موقع فراہم کیا گیا تاکہ اس خطے میں مسلک کی بنیاد پر جنگ کا بازار گرم کرکے مسلمانوں کی طاقت کمزور کردی جائے۔ ایران اسے خطے میں اپنی کامیابی تصور کررہا تھا لیکن حقیقت میں اسے غیر محسوس طریقے سے استعمال کیا جارہا تھااس کے دو فائدے امریکہ اور اسرائیل نے اٹھائے ایک طرح ایران کو خطرہ بناکر پیش کرنے کی وجہ سے عربوں کی تجوریاں اسلحے کی خریداری میں خالی کروا دیں اور افغانستان میں ہونے والے مالی خسارے کو عربوں کی جیب سے پورا کیا جانے لگا۔ دوسری جانب ایران کی خطے میں پراکسی جنگ اور پیش قدمیوں کی وجہ سے عربوں میں مزید خوف پیدا ہوگیا ۔

اب چونکہ کھیل کو سمیٹنے کا وقت ہوا چاہتا ہے اس لئے ایران کو بھی احساس ہونے لگا کہ اس کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے۔
شام میں داعش کا خطرہ کھڑا کرکے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا رخ اس جانب موڑ دیا گیا وہ حزب اللہ جو کبھی اسرائیل کے خلاف ایک قوت تسلیم کی جاتی تھی اور لبنان میں اس کی مرضی کے خلاف کوئی حکومت تشکیل نہیں پا سکتی تھی شام میں اپنی کارروائیوں کی وجہ سے لبنان کے جنوبی حصے میں اپنی طاقت نہ صرف کم کر بیٹھی بلکہ اسرائیل کے خلاف اس کا ایک طاقتور تنظیم ہونے کا تاثر بھی ختم ہوگیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عرب صحافتی ذرائع نے اس سوال کو بھی شدومد کے ساتھ اٹھانا شروع کردیا کہ وہ اسرائیل جو شمالی افریقہ میں تیونس جیسے دور دراز ملک میں فلسطینی لیڈروں کے خلاف کارروائی کرتا رہا ہے اسیاپنی بغل یعنی جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کیوں نظر نہیں آتے۔۔۔بہرحال اب ایران کو اس کی سرحدوں تک محدود کرنے کا کام شروع کیا جاچکا ہے۔ ایران میں شدید ترین غربت کی وجہ اس کے عوام کے نزدیک ایران کی دیگر علاقوں میں اس کی مہنگی پراکسیاں ہیں جس کے خلاف ایران بھر میں مظاہرے دیکھنے میں آئے اس کے ساتھ ہی عراق میں ایرانی اثرورسوخ کے خلاف وہاں کے عوام جن میں اکثریت ایران کی ہم مسلک ہے نے بھی ایران کے خلاف شدید مظاہرے شروع کردیئے ہیں۔ جبکہ شام میں ایرانی اور لبنانی حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اسرائیل نے حملے شروع کردیئے ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کرچکے ہیںیہی وجہ ہے کہ ایران نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے سب سے پہلے افغانستان میں طالبان کے ساتھ اپنے معاملات ٹھیک کرنا شروع کردیئے ہیںتاکہ مستقبل قریب میں جس وقت ایران کی شام اور عراق سے واپسی شروع ہو تو افغانستان کی جانب سے اسے کوئی خطرہ لاحق نہ رہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں بھارت کو شہہ دے کر منصوبے کے تحت کشمیر ہڑپ کرنے کا موقع فراہم کیا گیا مگر وہ اسے تاحال ہضم نہیں ہوسکا ہے لیکن جیسے ہی خطے کے حالات مزید پاکستان کے موافق ہوئے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں جلد ہی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی جو اس کے باقی ماندہ وجود کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے۔۔۔


متعلقہ خبریں