وجود

... loading ...

وجود

خوب صورت عورتیں۔۔ (علی عمران جونیئر)

بدھ 11 دسمبر 2019 خوب صورت عورتیں۔۔ (علی عمران جونیئر)

دوستو،شادی کے بعد دنیا کی ساری خواتین ہی اچانک خوب صورت نظر آنے لگتی ہیں۔۔ اگر آپ نے شادی نہیں کی تو ابھی آپ کو اندازہ نہیں ہوگا، لیکن جیسے ہی آپ قبول ہے،قبول ہے،قبول ہے کی تین بار گردان کریں گے اچانک ہی آپ کے دماغ اور دل میں نجانے کون سا ایسا وائرس سرایت کرجائے گا کہ آپ کو نکاح نامے پر دستخط کے بعد شادی ہال میں موجود نہ صرف اپنی بیوی زہر لگنے لگے گی بلکہ تمام لڑکیاں مس یونیورس اور مس ورلڈ لگیں گی۔۔یہ بات ہم پوری ذمہ داری سے کہہ رہے ہیں جس کسی کوبھی شک ہے وہ فوری طور پر شادی کے عمل سے گزرے پھر ہماری بات کو پرکھ لے۔۔چلیں آج اوٹ پٹانگ باتوں سے گریز کرتے ہیں اور آپ سے کچھ کام کی باتیں کرلیتے ہیں۔۔
شادی کے بعد دنیا کی دوسری عورتیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں۔۔کسی صاحب نے ایک تجربہ کارعالم دین سے مسئلہ دریافت کرلیا۔۔کہنے لگا،شروع شروع میں جب میری بیوی مجھے پسند آئی تھی تو اس وقت وہ میری نگاہ میں ایسی تھی جیسے اللہ تعالی نے اس دنیا کے اندر اس جیسا کسی کو بنایا ہی نہیں۔ جب میں نے اسے شادی کا پیغام دیا تو اس وقت میری نگاہ میں اس جیسی کئی ساری لڑکیاں تھیں۔پھر جب میں نے اس سے شادی کر لی تو اس وقت اس سے زیادہ خوبصورت خوبصورت کئی لڑکیاں میری نظر سے گزریں۔ شادی کے چند سال گزرنے کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ دنیا کی تمام عورتیں میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ ۔عالم دین نے تسلی سے مسئلہ سنا اور کہا۔۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب چیز نہ بتاؤں؟ اس آدمی نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں!حضرت نے کہا۔۔ اگر تم دنیا کی ساری عورتوں سے شادی کر لو پھر بھی تمہیں ایسا لگے گا کہ گلی کوچوں میں پھرنے والے آوارہ کتے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ آدمی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا۔۔ حضرت! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟حضرت نے جواب دیا۔۔ اصل پریشانی تمہاری بیوی میں نہیں بلکہ اصل پریشانی یہ ہے کہ جب انسان کا دل لالچی ہو جائے، اس کی نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں اور انسان شرم و حیا سے عاری ہو جائے تو قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی بھی چیز اس کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتی۔سنو! تمہاری پریشانی یہ ہے کہ تم نگاہیں نیچے نہیں رکھ سکتے۔کیا تم اپنی بیوی کو دوبارہ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت عورت بنانا چاہتے ہو؟ اس آدمی نے جواب دیا۔۔ جی ہاں!۔۔عالم دین نے کہا۔۔ پھر تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔

 

ایک شخص گھر آیا تو اس کی بے حد حسین بیوی نے شکوہ کیا۔۔ہمارے غسل خانے کے پاس جو درخت ہے اسے کٹوا دو ، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جب غسل کررہی ہوں تو پرندوں کی نظر مجھ پر پڑے۔وہ بیوی کی اس بات سے بہت متاثر ہوا اور درخت کٹوا دیا۔وقت گزرتا رہا۔۔ایک دن وہ خلافِ معمول اچانک گھر آیا تو دیکھا بیوی کسی مرد کے ساتھ رنگ رلیاں منارہی تھی۔۔اسے بہت دْکھ ہوا۔ وہ اپنا گھربار چھوڑ کر بغداد چلا گیا۔ اور وہاں اپنا کاروبار شروع کرلیا۔اللہ نے کاروبار میں خوب برکت دی ، اور اپنے روز افزوں کاروبار کی بدولت وہ بغداد کے عمائدین میں شمار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بغداد کے کوتوال تک رسائی بھی حاصل کرلی۔ایک دن کوتوال کے گھرچوری ہوگئی۔پولیس نے مجرم کا سراغ لگانے اور پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس نے دیکھا کہ ایک شیخ کا کوتوال کے گھر آنا جانا ہے ، اور کوتوال ان کی بے حد تعظیم کرتا ہے۔لیکن ایک بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شیخ آدھے پاؤں پر چلتے ہیں ، پورا پاؤں زمین پر کیوں نہیں رکھتے۔اس نے کسی سے وجہ پوچھی تو اسے بتایا گیا۔۔یہ پورا پاؤں زمین پر اس لیے نہیں رکھتے کہ کہیں کیڑے مکوڑے نہ کْچلے جائیں۔۔وہ شخص فوراً کوتوال کے پاس گیا اور اسے کہا۔۔جان کی امان ہو تو عرض ہے ، آپ کی چوری اِسی شیخ نے کی ہے۔۔جب تحقیق کی گئی تو مال مَسرْوقہ اْسی شیخ سے برآمد ہوا۔کوتوال نے حیرانی سے کہا،ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ شیخ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟اس نے کہا۔میرے گھر میں ایک درخت تھا ، جس نے مجھے نصیحت کی تھی۔۔جو لوگ ضرورت سے زیادہ نیک نظرآنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ عموماً نیک نہیں ہوتے۔

 

ایک سردار جی کی اپنی بیوی سے لڑائی ہوگئی، تو تو میں میں اتنی بڑھی کہ سردار جی نے ہاتھ جوڑ کر کہا، “بس کر بس کر میری ماں۔۔۔ !!!! اب بیوی کو’’ ماں‘‘ کہہ دیا تو مذہبی معاملہ آگیا، دونوں اپنے گرو جی کے پاس گئے، تو گرو جی نے بڑی کتابیں’’ پھرول‘‘ کے انہیں بتایا کہاب تم دونوں کو چالیس دن تک چارسولوگوں کو کھانا کھلانا پڑے گا، پھر ہی تم دونوں کا میاں بیوی والا رشتہ بحال ہو سکتا ہے۔ بس جی ! بہت خرچہ ہوا، اور سردار جی نے گھر کی ایک ایک چیز پیچ کر چالیس دن کا چارسو لوگوں کا کھانا پورا کیا۔ اکتالیسویں دن دونوں میاں بیوی خالی گھر میں اکلوتی چارپائی پر بیٹھے۔۔ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے، کہ سردارنی بولی، سردارا ! ، ایہہ سب تیری وجہ نال ہوئیا !۔۔ سردار جی نے غصے سے اپنی گھر والی کو دیکھا، اور بولے۔۔۔فیر چھیڑنی پئی آپنے پیو نوں۔

ایک شخص سمندر کے کنارے واک کر رہا تھا تو اس نے دور سے دیکھا کہ کوئی شخص نیچے جھکتا ، کوئی چیز اٹھاتا ہے اور سمندر میں پھینک دیتا ہے، ذرا قریب جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے ہزاروں مچھلیاں کنارے پہ پڑی تڑپ رہی ہیں، شاید کسی بڑی موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پہ لا پٹخا تھااور وہ شخص ان مچھلیوں کو واپس سمندر میں پھینک کر ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔اسے اس شخص کی بیوقوفی پر ہنسی آگئی اور ہنستے ہوئے اسے کہا۔۔ اس طرح کیا فرق پڑنا ہے ہزاروں مچھلیاں ہیں کتنی بچا پاؤ گے ۔۔ ؟؟یہ سن کر وہ شخص نیچے جھکا، ایک تڑپتی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا وہ مچھلی پانی میں جاتے ہی تیزی سے تیرتی ہوئی آگے نکل گئی پھر اس نے سکون سے دوسرے شخص کو کہا ’’ اسے فرق پڑا ‘‘ ۔یہ کہانی ہمیں سمجھا رہی ہے کہ ہماری چھوٹی سی کاوش سے بھلے مجموعی حالات تبدیل نہ ہوں مگر کسی ایک کے لیے وہ فائدے مند ثابت ہو سکتی ہے۔۔لہذا دل بڑا رکھیں اور اپنی طاقت و حیثیت کے مطابق اچھائی کرتے رہیں اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ کی اس کوشش سے معاشرے میں کتنی تبدیلی آئی ؟؟ بلکہ یہ سوچیں کہ آپ نے اپنے حصے کا حق کتنا ادا کیا۔۔!!!خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر