... loading ...
اہلِ صحافت کے آزادیٔ اظہار اور تصورات کا بھرم دراصل سورج مکھی کا وہ پھول ہے جو شریف خاندان کی خواہشات و ضرریات کے سورج کے گرد گھومتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے جاری فریب کا یہ کھیل اب دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے تو اہلِ صحافت اپنے کپڑے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ آخر شریف خاندان لندن میں کیوں براجمان ہے؟ نوازشریف نہیں تو شہبازشریف ہی کم ازکم
اسلام آباد کو’’رونق‘‘ بخشیں، کوئی’’چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے‘‘کی حسرت آمیز التجائیں کر رہا ہے، کوئی چپ سادھے بیٹھا ہے تو کوئی شریف خاندان میں چپ کی لگی بیماری کی تشخیص کر رہا ہے۔ نکتہ گھوم پھر کر وہی ہے کہ یہ ’’گروہ‘‘ بنیادی طور پر چار دہائیوں سے شریف خاندان سے کسی نہ کسی طور وابستہ رہا ۔ اور اب اُنہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ جن طلسمی تصورات کی ست رنگی شریف خاندان کے ساتھ مختلف اوقات میں وہ بُنتے رہے، اس کا کیا کریں؟تاریخ کا یہی تاریک بہاؤ ایک متوازی دھارے کے ساتھ کہیں اور بھی بہتا ہے!
یہ آرتھر کوسٹلر ہیں، ہنگری نژاد برطانوی ، مصنف اور صحافی۔آسٹریا میں تعلیم پائی اور جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوگیا۔ یہاں کے صحافیوں، تجزیہ کاروں، کالم نویسوں اور اینکر پرسنزکی طرح یقینا حیلہ جو نہ تھا۔ آدمی باضمیر رہا ہوگا، اسی لیے اسٹالن ازم کا فریب ٹوٹنے پر فوری مستعفی ہوگیا۔پھر ’’ Darkness at Noon‘‘ نامی مشہور ناول لکھا۔ وہی لکھ سکتا تھا ،اُسی نے کہا:
’’Nothing is more sad than the death of an illusion.‘‘
(ایک فریب کی موت سے زیادہ غمزدہ کرنے والی بات کوئی اور نہیں)
نرے کاروباریوں اور سیاسی حیوانوں کے گرد نظریاتی عقیدت اور سیاسی عصبیت کا ہیولیٰ پیدا کرنے والے فریب خوردہ دانشوروں نے ابھی بھی اس نشے سے نکلنے کا فیصلہ پوری طرح نہیں کیا۔ سوائے اُن اہلِ صحافت کے جو شریفوں کی طرح ہی کاروباری انداز میں صحافت کرتے رہے۔ اور شریفوں کی سیاست کی ماننداپنی صحافت کو کاروباری مفادات کے تابع رکھا۔ اُنہیں اپنے بدن کی عریانی چھپانے کی کبھی ضرورت نہ رہی۔ وہ اپنے نظریے ، سوچ کے دھارے اور فکرونظر کے سرچشمے بدلتے دور کے ساتھ بدلتے رہے۔ آنے والوں کی مدحت اور جانے والوں کی مذمت اُن کی پیشانیوں پر لکھا رہا۔’’ کیسا خدا ، کیسا نبی ، پیسہ خدا ، پیسہ نبی ‘‘اُن کا کلمہ صحافت رہا۔ اس مکروہ کردار سے اُٹھنے والے تعفن کے بھبکوں نے قومی وجود کے کن کن حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اُس کا تفصیلی جائزہ کسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں ، ابھی تو دلچسپی سے شریف خاندان کے اُس کردار کا جائزہ لیتے ہیں جس نے اُن سے وابستہ اہلِ صحافت کو عجیب وغریب الجھن میں ڈالے رکھا ہے۔
شریف خاندان نے چپ کا روزہ بغیر نیت کے نہیں رکھا ہوا۔ اس کے پیچھے ٹھوس واقعات کی ایک پوری کہانی ہے۔ نواز شریف سے ملاقات کرنے والے ایک وردی پوش اپنے منصب سے اِدھر اُدھر ہوچکے۔ شریف خاندان نے اداروں میں’’ اپنے بندے رکھنے ‘‘اور ’’ڈھونڈنے‘‘ کی جو قدیم پالیسی جناب ’’ابا جی‘‘ کے دور سے اختیار کررکھی تھی، اُس نے اداروں کو مسموم اور کچھ عناصر کے عزائم کو مذموم بنائے رکھا۔ حرص کا حملہ کسی بھی ادارے کے کسی بھی فرد پر ہوسکتا ہے۔ اُصول کے لیے حیات کرنا اور اُس کی قیمت دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ یہ بات کوئی اور سمجھتا ہو یا نہ ہو، مگر شریف خاندان نے خوب سمجھی۔ اُنہوں نے تمام قومی اداروں کے اندر اس بشری کمزوری کے رجحان سے داخل ہونے کی کوشش کی۔جنرل آصف نواز کا قصہ اب کتابوں میں بھی لکھا ملتا ہے۔ جب اُنہیں ایک بیش قیمت گاڑی کی چابی تھمائی گئی۔ اور اُنہوں نے اُسے بغیر کسی شکریہ کے واپس لوٹا دی تھی۔ یہ وہی زمانہ تھا جب نوازشریف پیپلزپارٹی کی نفرت اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف سیاسی صف بندی میں ایک خاص طرح کی متعفن عصبیت پیدا کرکے ملک کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے لوگوں کو’’اپنا آدمی‘‘ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھے۔ تب جنرل آصف نواز کا فقرہ سینہ بہ سینہ لوگوں کے پاس امانت رہا کہ جس آدمی کے ایک اشارے پر پانچ لاکھ بندوقیں حرکت میں آجائیں، وہ کسی کا نہیں خود اپنا آدمی ہوتا ہے‘‘۔
اس میں شک نہیں کہ نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کو دو نیم کیا۔ اور اس میں بھی شک نہیں کہ یہ دونیم اسٹیبلشمنٹ خود اپنے تضادات اور مناصب سے چمٹے رہنے کی حریصانہ طبیعت کے باعث اداروں میں موجود بے چینی کو ایک قوت محرکہ کے طور پر نوازشریف اور اس نوع کی قبیل کو یہ کھیل کھیلنے کا موقع دیتی رہی۔ دھرنا سیاست بھی اسی نوع کی اندرونی کشاکش سے پیدا ہوئی۔ اور اب اس نے ایک صنعت کی شکل اختیار کرلی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ جب آپ کوئی حکمت عملی اختیار کریں تو اُس کے حقوق بھی ہمیشہ آپ کے پاس رہیں۔یہ چائنا اسٹائل ہے،جو چیز بھی منڈی میں آئی ،اس کی نقل تیار۔مگر اس کھیل کو سمجھنے کی سب سے زیادہ صلاحیت خود شریف خاندان کے علاوہ کسی اور میں نہیں، کیونکہ وہ اس کھیل کا حصہ بھی رہے اور اس کے شکاربھی۔چنانچہ جب مولانا فضل الرحمان نے دھرنے کی سیاست شروع کی تو شریف برادران نے اس سے ایک فاصلہ بنائے رکھا۔ مگر شریف خاندان سے وابستہ اہلِ صحافت اِسے شریف خاندان کے لیے کھل کھیلنے کا ایک موقع سمجھ کر خود اپنے آقاؤں کو ’’شیر بن شیربن‘‘کی التجائیں کرتے رہے۔
بیچارے اہلِ صحافت اپنی اندھی جرأت کی حقیقت کا اندازا بھی لگانے کے اہل نہ تھے۔ اب وہ نوازشریف کو لندن کی سڑکوں پر میڈیکل چیک اپ کے لیے گھومتے پھرتے دیکھتے ہیں تواُنہیں اس قابل تو سمجھتے ہی ہیں کہ لاہور میں وہ مولانا فضل الرحمان سے ایک ملاقات کی ہمت تو کرتے۔مگر نوازشریف اپنی نام نہاد ’’عقابی سیاست ‘‘کے باوجودکرگسی طریقے پر اس سے باز ہی رہے۔ آخر کیوں؟کم لوگ جانتے ہیں کہ نوازشریف اور شہبازشریف کا اُن دنوں اسپتال میں ایک مکالمہ ہوا۔ شہبازشریف نے پوچھا کہ کیا کسی نے اُن سے کسی بھی تبدیلی کے لیے کوئی رابطہ کیا ہے؟ کیا کسی نے مریم سے کوئی رابطہ کیا ہے؟ اسمبلی میں اِن ہاؤس تبدیلی نون لیگ کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔میں قائد حزب اختلاف ہوں ، اور کسی نے مجھ سے بھی رابطہ نہیں کیا، تو پھر یہ دھرنا کیا ہے؟ کس کی ایماء پر ہے؟ اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟ اس سے ہم کس طرح وابستہ ہوسکتے ہیں؟شہبازشریف ہی نہیں نوازشریف بھی کسی ایسے ہی کھیل کا حصہ بننے کو تیار تھے جس کے مقاصد واضح طور پر اُن کے علم میں اور جس کا سیاسی حصہ واضح طور پر اُن کی جیب میں جاتا ہو۔ مگر اہلِ صحافت اِسے کسی انقلاب کی بازگشت سمجھ کر شریف خاندان سے امیدیں باندھے چائے کی پیالی میں طوفان اُٹھاتا رہا۔وہ اس معمولی بات کوبھی سمجھ نہیں سکے کہ نوازشریف کی راہ میں تو چلیں کچھ مجبوریاں حائل رہی ہونگیں، چلیں اُن کی صحت کے مسائل بھی وہی ہوںگے جو شریف خاندان ابھی تک باور کرانے پر تلا ہوا ہے۔
مگر شہبازشریف کو کون سی مجبوریاں درپیش ہیں۔ اگر اسلام آباد کا افق بدلنے کو تھا تو کیا شہبازشریف دارالحکومت سے ذرا بھی دور رہتے۔ وہ لندن سے آتش کو جوان رکھنے کے بجائے لاہور میں میلہ سجاتے اور اپنی طبیعت کی جولانیاں ، مزاج کی رنگینیاں اور انگلی کی نشانے بازیاں دکھاتے۔ مگر اُنہوں نے عدالت میں نوازشریف کی واپسی کا عہد نامہ جمع کرایا اور خود بھی لندن جاپہنچے۔ اب شریف خاندان سے امیدیں وابستہ رکھنے والے دسترخوانی قبیلہ کامسئلہ یہ ہے کہ وہ شہبازشریف کی واپسی کی امید تو کیا پالتے، اُنہیں مریم نواز کی لندن روانگی کی بے چینی بھی بیکل کیے ہوئے ہیں۔ تو کیا شریف خاندان مستقبل قریب میں کسی تبدیلی کی کوئی امیدنہیں رکھتا؟ اس کا جواب شریف خاندان سے وابستہ دستر خوانی قبیلے کی مایوس تحریروں اور اُن کی سجائی جگمگاتی اسکرینوں پر جلتے بجھتے چہروںسے نہیںملے گا۔ کیونکہ یہ اُن کا محتاج ہے مگر وہ ان کے محتاج نہیں ۔ اُن کی سیاسی حکمت عملی ان کو دیکھ کر نہیں بنے گی بلکہ یہ اپنے قلم اور زبانیں اُن کے تیور اور اشارے دیکھ کر تبدیل کریں گے۔ ذرا غور سے دیکھیں یہ بدل رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...
آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...
بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...
نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...
پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...
55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...
ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...
سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...
100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں،ماہرین کی گفتگو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 14804...
اپنی سرزمین، شہریوں، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے،وزارت خارجہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید ب...
جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...
795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...