... loading ...
خدا جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کر دیتا ہے اور کبھی بعض خوش نصیبوں کو ان زرائع سے بھی دیتا ہے ، جس کا انہوں نے گمان بھی نہیں کیا ہوتا ہے۔ اور ایسے میں اگر کسی خطے میں نیک لوگ حکمراں ہوں تو غیبی امداد فرد کو نہیں پورے خطے کو منتقل ہوجاتی ہے۔ایسا ہی ایک خطہ مملکت خداداد بھی ہے۔ زرا دیکھیں تو اللہ پاک کی مہربانی کہ ہمارے اعمال کو درگزر کرتے ہوئے کیسا سبب بنایا اور مدد فرمادی، وہ بھی فارن ایکسچینج میں۔ہوا یہ کہ ایک بندہ خدا کا پاکستان اورانگلستان سے کچھ سیٹلمنٹ ہوگیا، اور اس کے نتیجے میں جمع ایک بڑی رقم پاکستان منتقل ہوگئی۔
خبرملی ہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے 28 ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کے پونڈز پاکستانی عدالت کو منتقل کردیئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ رقم جمعے کے مبارک دن منتقل ہوئی۔ اس سے ہمیں جمعے کی برکات کے ان میسیجز پر بھی کامل یقین ہوگیا، جو جمعرات کی رات سے ہی ہمارے دوست ہمیں بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔رقم ملتے ہی ، سنا ہے کہ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک سے استدعا بھی کردی ہے کہ رقم قومی خزانے میں منتقل کرنے کی عرضی کو قبول کیا جائے تاکہ یہ پیسہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں استعمال کیا جاسکے۔یہ استدعا جتنی بروقت اور پھرتی سے کی گئی ہے اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ کوئی سیٹنگ چل رہی ہے، بلکہ اسے حکومت کی چابک دستی اور فرض شناسی سمجھا اور لکھا جائے، تاکہ تاریخ درست رہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب انتہائی ذمہ دار اور پروفیشنل ٹیکنوکریٹ ہیں ان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو درخواست دی ہے کہ یہ رقم وفاقی حکومت کو جاری کی جائے تاکہ اسے سماجی بہبود اور غربیوں پر خرچ کیا جا سکے۔ معاون خصوصی نے انتہائی بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات یہیں پر ختم کردی کہ حکومت پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اس معاملے پر اس سے زیادہ بات نہیں کی جا سکتی۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے بعض باتوں کا چھپانا ہی بھلا ہوتا ہے۔
لندن گوروں کا دیس ہے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی رنگدار بھی بستے ہیں،اور اس ملک میں رہتے ہوئے وہ وطن عزیز سے بھرپور رشتے اور روابط بھی قائم رکھتے ہیں، چاہے وہ رشتے سیاسی ہوں یا مالیاتی۔جس طرح انگلستان میں بسنے والے پاکستانی ، اپنے وطن پاکستان کو ہر ماہ خطیر زرمبادلہ بھیجتے ہیں اسی طرح بہت سے پاکستانی آزاد مالیاتی قوانین کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ، تہتر کے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مال و زر لندن بھی منتقل کرتے ہیں،اور اس کی رسیدیں بھی سنبھال کر رکھتے ہیں، تاکہ بوقت ضرور سند کے طور پر کام آئیں۔ کاغذی کارروائی یوں بھی مکمل کرنا ضروری ہوتی ہے، ماضی کی ایک مثال یاد کریں کہ سرے محل جیسا سودا کرنا ، اس کو ایک معقول عرصہ تک ملکیت میں رکھنا اور پھر فروخت کردینا کوئی آسان کام ہوتا،اگر کاغذ پورے نہ ہوتے تو؟
سرے محل کا ذکر نکل آیا تو چلیں اس کو بھی یاد کرلیا جائے کہ اس کا بھی حق بنتا ہے جب لندن کے چار فلیٹوں کو یاد کرسکتے ہیں تو ایک محل کو کیوں نہیں۔برطانیا کے علاقے سرے میں واقع مشہور ’راک وْڈ سٹیٹ‘ جسے پاکستان میں سرے محل کے نام سے جانا جاتا تھا ، 2014 میں فروخت ہوگیا،کم بخت میڈیا نے اس سودے کا اتنا بتنگڑ بنایا تھا کہ صاحبین کو اس میں رہنے کا موقع نہیں مل سکا، حالانکہ انہوں نے خریداری سے قبل بڑے چاؤ سے اسکا دورہ کیا تھا۔محل کا رقبہ 360 ایکڑ بتایا گیا تھا۔ویسے حد ہے کہ اس جاگیر کا اتنا ہوّا بنایا گیا، اس سے زیادہ رقبے کے تو ہمارے بھی ہاں کئی محلات موجود ہیں۔
سرے محل کی خریداری اورفروخت کے عمل نے محفوظ مالیاتی لین دین کے طلب گاروں کو نئی نئی راہیں دکھائی تھیں۔لیکن نجانے کیوں ان ہی فارمولوں پر عمل کرنے والے کچھ لوگ نہ جانے کیسے مشکلات سے دوچار ہوگئے۔ ملک پاناما میں بزنس روابط کسی کے لیے کچھ درد سر ہی بن گئے۔ بڑے محل تو چھوڑیئے،خریدے گئے چار فلیٹ ہی بڑی الجھنوں میں مبتلا کرگئے۔ اور شاید ان الجھنوں کا علاج ، ان عامل بابا کے پاس بھی نہیں ہے، جو دیواروں پر ہر مشکل کا حل ، ہر رکاوٹ دور ، دشمن آپ کے قدموں میں لکھوا کر لوگوں کو خاص عملیات کے زریعے ان کی ہر مشکل کو آسان کردیتے ہیں۔
بات ابھی لندن کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔نہ جانے کہنے والے کیوں کہتے ہیں کہ ایک اور این آر او ہوگیا ہے۔ جمعے کو موصول ہونے والا پیسہ بھی کسی کا زرضمانت ہے اور اس کے بدلے میں عامل بابا نے کسی کی صحت یابی کا چلہ کاٹا ہے۔لندن کے ان چار فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ اج کل خاصا آباد ہے، سنا ہے وہاں ایک کمرہ اسپتال کے کمرے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ وہاں ڈاکٹر کم اور سیاست دان زیادہ پہنچ رہے ہیں۔شاید مزاج پرسی اور عیادت کے لیے آتے ہوں گے۔یہ بہت اچھی بات ہے، یہ روایت ہم میں آج بھی زندہ ہے ، اور جب خومخواہ بدنام زمانہ سیاست دانوں میں یہ روایت دکھائی دے تو اور بھی اچھا لگتا ہے، کہ اللہ پاک نے انہیں اس نیکی سے تو ’نواز‘ رکھا ہے۔
لندن کی فضائیں اکثردیسی نعروں سے گونجتی رہتی ہیں،لیکن آج کل ڈاکٹروں نے تیمارداروں کو نعرے لگانے سے روک رکھا ہے مبادا یہ کہ کسی کا دل نہ دھڑک جائے۔ لیکن یہ نعرے کب تک رکے رہیں گے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ایسا ہی ایک بار سرزمین حجاز میں ہوا تھا، جہاں ا?ٹھ سال تک تیمار داروں کو روکے رکھا گیا، لیکن پھر اچانک مریض ڈاکٹروں کو ٹھینگا دکھا کر تیمارداروں کے ہمراہ اسپتال سے زبردستی ڈسچارج ہوکر گھر چلا آیا تھا۔
خیر ، بات اس بات سے شروع ہوئی تھی کہ خدا جب مہربان ہوتا ہے تو نت نئے زرائع سے نوازتا ہے، اور پاکستان میں زرمبادلہ کی تازہ آمد بڑی خوش آئند ہے لیکن اس سے بھی خوشی کی خبر یہ ہے کہ ایسی مزید قسطیں بھی ملک کو موصول ہوسکتی ہے، سیاسی موسم بدل رہا ہے، لوگ بیمار پڑرہے ہیں،آنا جانا تو باہراب سب کا لگا ہی رہے گا ، ایسے میں اگر اس عمل سے کوئی انکم جنریٹ ہونے لگے تواس بارے میں پریشان نہ ہوں بلکہ اسے ’سائنس کا کمال‘ سمجھ کر دل کو مطمئن کرلیں۔کہ ایسے دور میں جب انسان ’خلائی جہاز‘ ایجاد کرکے چاند پر جاسکتا ہے توپھر تو کچھ بھی ہوسکتا ہے آنکھیں بند کرکے سب قبول کرلیں۔نہ زیادہ ذہن دوڑائیں اور نہ ہیرو بنیں۔تیل دیکھیں اور بس تیل کی دھار۔
دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...
31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...
حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...
سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...
تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...
انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...
شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...
حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...
بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...
پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...
عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...