وجود

... loading ...

وجود

سائنس کا کمال (شعیب واجد)

منگل 10 دسمبر 2019 سائنس کا کمال (شعیب واجد)

خدا جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کر دیتا ہے اور کبھی بعض خوش نصیبوں کو ان زرائع سے بھی دیتا ہے ، جس کا انہوں نے گمان بھی نہیں کیا ہوتا ہے۔ اور ایسے میں اگر کسی خطے میں نیک لوگ حکمراں ہوں تو غیبی امداد فرد کو نہیں پورے خطے کو منتقل ہوجاتی ہے۔ایسا ہی ایک خطہ مملکت خداداد بھی ہے۔ زرا دیکھیں تو اللہ پاک کی مہربانی کہ ہمارے اعمال کو درگزر کرتے ہوئے کیسا سبب بنایا اور مدد فرمادی، وہ بھی فارن ایکسچینج میں۔ہوا یہ کہ ایک بندہ خدا کا پاکستان اورانگلستان سے کچھ سیٹلمنٹ ہوگیا، اور اس کے نتیجے میں جمع ایک بڑی رقم پاکستان منتقل ہوگئی۔

خبرملی ہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے 28 ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کے پونڈز پاکستانی عدالت کو منتقل کردیئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ رقم جمعے کے مبارک دن منتقل ہوئی۔ اس سے ہمیں جمعے کی برکات کے ان میسیجز پر بھی کامل یقین ہوگیا، جو جمعرات کی رات سے ہی ہمارے دوست ہمیں بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔رقم ملتے ہی ، سنا ہے کہ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک سے استدعا بھی کردی ہے کہ رقم قومی خزانے میں منتقل کرنے کی عرضی کو قبول کیا جائے تاکہ یہ پیسہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں استعمال کیا جاسکے۔یہ استدعا جتنی بروقت اور پھرتی سے کی گئی ہے اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ کوئی سیٹنگ چل رہی ہے، بلکہ اسے حکومت کی چابک دستی اور فرض شناسی سمجھا اور لکھا جائے، تاکہ تاریخ درست رہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب انتہائی ذمہ دار اور پروفیشنل ٹیکنوکریٹ ہیں ان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو درخواست دی ہے کہ یہ رقم وفاقی حکومت کو جاری کی جائے تاکہ اسے سماجی بہبود اور غربیوں پر خرچ کیا جا سکے۔ معاون خصوصی نے انتہائی بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات یہیں پر ختم کردی کہ حکومت پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اس معاملے پر اس سے زیادہ بات نہیں کی جا سکتی۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے بعض باتوں کا چھپانا ہی بھلا ہوتا ہے۔

لندن گوروں کا دیس ہے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی رنگدار بھی بستے ہیں،اور اس ملک میں رہتے ہوئے وہ وطن عزیز سے بھرپور رشتے اور روابط بھی قائم رکھتے ہیں، چاہے وہ رشتے سیاسی ہوں یا مالیاتی۔جس طرح انگلستان میں بسنے والے پاکستانی ، اپنے وطن پاکستان کو ہر ماہ خطیر زرمبادلہ بھیجتے ہیں اسی طرح بہت سے پاکستانی آزاد مالیاتی قوانین کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ، تہتر کے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مال و زر لندن بھی منتقل کرتے ہیں،اور اس کی رسیدیں بھی سنبھال کر رکھتے ہیں، تاکہ بوقت ضرور سند کے طور پر کام آئیں۔ کاغذی کارروائی یوں بھی مکمل کرنا ضروری ہوتی ہے، ماضی کی ایک مثال یاد کریں کہ سرے محل جیسا سودا کرنا ، اس کو ایک معقول عرصہ تک ملکیت میں رکھنا اور پھر فروخت کردینا کوئی آسان کام ہوتا،اگر کاغذ پورے نہ ہوتے تو؟

سرے محل کا ذکر نکل آیا تو چلیں اس کو بھی یاد کرلیا جائے کہ اس کا بھی حق بنتا ہے جب لندن کے چار فلیٹوں کو یاد کرسکتے ہیں تو ایک محل کو کیوں نہیں۔برطانیا کے علاقے سرے میں واقع مشہور ’راک وْڈ سٹیٹ‘ جسے پاکستان میں سرے محل کے نام سے جانا جاتا تھا ، 2014 میں فروخت ہوگیا،کم بخت میڈیا نے اس سودے کا اتنا بتنگڑ بنایا تھا کہ صاحبین کو اس میں رہنے کا موقع نہیں مل سکا، حالانکہ انہوں نے خریداری سے قبل بڑے چاؤ سے اسکا دورہ کیا تھا۔محل کا رقبہ 360 ایکڑ بتایا گیا تھا۔ویسے حد ہے کہ اس جاگیر کا اتنا ہوّا بنایا گیا، اس سے زیادہ رقبے کے تو ہمارے بھی ہاں کئی محلات موجود ہیں۔

سرے محل کی خریداری اورفروخت کے عمل نے محفوظ مالیاتی لین دین کے طلب گاروں کو نئی نئی راہیں دکھائی تھیں۔لیکن نجانے کیوں ان ہی فارمولوں پر عمل کرنے والے کچھ لوگ نہ جانے کیسے مشکلات سے دوچار ہوگئے۔ ملک پاناما میں بزنس روابط کسی کے لیے کچھ درد سر ہی بن گئے۔ بڑے محل تو چھوڑیئے،خریدے گئے چار فلیٹ ہی بڑی الجھنوں میں مبتلا کرگئے۔ اور شاید ان الجھنوں کا علاج ، ان عامل بابا کے پاس بھی نہیں ہے، جو دیواروں پر ہر مشکل کا حل ، ہر رکاوٹ دور ، دشمن آپ کے قدموں میں لکھوا کر لوگوں کو خاص عملیات کے زریعے ان کی ہر مشکل کو آسان کردیتے ہیں۔
بات ابھی لندن کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔نہ جانے کہنے والے کیوں کہتے ہیں کہ ایک اور این آر او ہوگیا ہے۔ جمعے کو موصول ہونے والا پیسہ بھی کسی کا زرضمانت ہے اور اس کے بدلے میں عامل بابا نے کسی کی صحت یابی کا چلہ کاٹا ہے۔لندن کے ان چار فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ اج کل خاصا آباد ہے، سنا ہے وہاں ایک کمرہ اسپتال کے کمرے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ وہاں ڈاکٹر کم اور سیاست دان زیادہ پہنچ رہے ہیں۔شاید مزاج پرسی اور عیادت کے لیے آتے ہوں گے۔یہ بہت اچھی بات ہے، یہ روایت ہم میں آج بھی زندہ ہے ، اور جب خومخواہ بدنام زمانہ سیاست دانوں میں یہ روایت دکھائی دے تو اور بھی اچھا لگتا ہے، کہ اللہ پاک نے انہیں اس نیکی سے تو ’نواز‘ رکھا ہے۔

لندن کی فضائیں اکثردیسی نعروں سے گونجتی رہتی ہیں،لیکن آج کل ڈاکٹروں نے تیمارداروں کو نعرے لگانے سے روک رکھا ہے مبادا یہ کہ کسی کا دل نہ دھڑک جائے۔ لیکن یہ نعرے کب تک رکے رہیں گے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ایسا ہی ایک بار سرزمین حجاز میں ہوا تھا، جہاں ا?ٹھ سال تک تیمار داروں کو روکے رکھا گیا، لیکن پھر اچانک مریض ڈاکٹروں کو ٹھینگا دکھا کر تیمارداروں کے ہمراہ اسپتال سے زبردستی ڈسچارج ہوکر گھر چلا آیا تھا۔

خیر ، بات اس بات سے شروع ہوئی تھی کہ خدا جب مہربان ہوتا ہے تو نت نئے زرائع سے نوازتا ہے، اور پاکستان میں زرمبادلہ کی تازہ آمد بڑی خوش آئند ہے لیکن اس سے بھی خوشی کی خبر یہ ہے کہ ایسی مزید قسطیں بھی ملک کو موصول ہوسکتی ہے، سیاسی موسم بدل رہا ہے، لوگ بیمار پڑرہے ہیں،آنا جانا تو باہراب سب کا لگا ہی رہے گا ، ایسے میں اگر اس عمل سے کوئی انکم جنریٹ ہونے لگے تواس بارے میں پریشان نہ ہوں بلکہ اسے ’سائنس کا کمال‘ سمجھ کر دل کو مطمئن کرلیں۔کہ ایسے دور میں جب انسان ’خلائی جہاز‘ ایجاد کرکے چاند پر جاسکتا ہے توپھر تو کچھ بھی ہوسکتا ہے آنکھیں بند کرکے سب قبول کرلیں۔نہ زیادہ ذہن دوڑائیں اور نہ ہیرو بنیں۔تیل دیکھیں اور بس تیل کی دھار۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر