وجود

... loading ...

وجود

سائنس کا کمال (شعیب واجد)

منگل 10 دسمبر 2019 سائنس کا کمال (شعیب واجد)

خدا جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کر دیتا ہے اور کبھی بعض خوش نصیبوں کو ان زرائع سے بھی دیتا ہے ، جس کا انہوں نے گمان بھی نہیں کیا ہوتا ہے۔ اور ایسے میں اگر کسی خطے میں نیک لوگ حکمراں ہوں تو غیبی امداد فرد کو نہیں پورے خطے کو منتقل ہوجاتی ہے۔ایسا ہی ایک خطہ مملکت خداداد بھی ہے۔ زرا دیکھیں تو اللہ پاک کی مہربانی کہ ہمارے اعمال کو درگزر کرتے ہوئے کیسا سبب بنایا اور مدد فرمادی، وہ بھی فارن ایکسچینج میں۔ہوا یہ کہ ایک بندہ خدا کا پاکستان اورانگلستان سے کچھ سیٹلمنٹ ہوگیا، اور اس کے نتیجے میں جمع ایک بڑی رقم پاکستان منتقل ہوگئی۔

خبرملی ہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے 28 ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کے پونڈز پاکستانی عدالت کو منتقل کردیئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ رقم جمعے کے مبارک دن منتقل ہوئی۔ اس سے ہمیں جمعے کی برکات کے ان میسیجز پر بھی کامل یقین ہوگیا، جو جمعرات کی رات سے ہی ہمارے دوست ہمیں بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔رقم ملتے ہی ، سنا ہے کہ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک سے استدعا بھی کردی ہے کہ رقم قومی خزانے میں منتقل کرنے کی عرضی کو قبول کیا جائے تاکہ یہ پیسہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں استعمال کیا جاسکے۔یہ استدعا جتنی بروقت اور پھرتی سے کی گئی ہے اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ کوئی سیٹنگ چل رہی ہے، بلکہ اسے حکومت کی چابک دستی اور فرض شناسی سمجھا اور لکھا جائے، تاکہ تاریخ درست رہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب انتہائی ذمہ دار اور پروفیشنل ٹیکنوکریٹ ہیں ان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو درخواست دی ہے کہ یہ رقم وفاقی حکومت کو جاری کی جائے تاکہ اسے سماجی بہبود اور غربیوں پر خرچ کیا جا سکے۔ معاون خصوصی نے انتہائی بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات یہیں پر ختم کردی کہ حکومت پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اس معاملے پر اس سے زیادہ بات نہیں کی جا سکتی۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے بعض باتوں کا چھپانا ہی بھلا ہوتا ہے۔

لندن گوروں کا دیس ہے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی رنگدار بھی بستے ہیں،اور اس ملک میں رہتے ہوئے وہ وطن عزیز سے بھرپور رشتے اور روابط بھی قائم رکھتے ہیں، چاہے وہ رشتے سیاسی ہوں یا مالیاتی۔جس طرح انگلستان میں بسنے والے پاکستانی ، اپنے وطن پاکستان کو ہر ماہ خطیر زرمبادلہ بھیجتے ہیں اسی طرح بہت سے پاکستانی آزاد مالیاتی قوانین کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ، تہتر کے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مال و زر لندن بھی منتقل کرتے ہیں،اور اس کی رسیدیں بھی سنبھال کر رکھتے ہیں، تاکہ بوقت ضرور سند کے طور پر کام آئیں۔ کاغذی کارروائی یوں بھی مکمل کرنا ضروری ہوتی ہے، ماضی کی ایک مثال یاد کریں کہ سرے محل جیسا سودا کرنا ، اس کو ایک معقول عرصہ تک ملکیت میں رکھنا اور پھر فروخت کردینا کوئی آسان کام ہوتا،اگر کاغذ پورے نہ ہوتے تو؟

سرے محل کا ذکر نکل آیا تو چلیں اس کو بھی یاد کرلیا جائے کہ اس کا بھی حق بنتا ہے جب لندن کے چار فلیٹوں کو یاد کرسکتے ہیں تو ایک محل کو کیوں نہیں۔برطانیا کے علاقے سرے میں واقع مشہور ’راک وْڈ سٹیٹ‘ جسے پاکستان میں سرے محل کے نام سے جانا جاتا تھا ، 2014 میں فروخت ہوگیا،کم بخت میڈیا نے اس سودے کا اتنا بتنگڑ بنایا تھا کہ صاحبین کو اس میں رہنے کا موقع نہیں مل سکا، حالانکہ انہوں نے خریداری سے قبل بڑے چاؤ سے اسکا دورہ کیا تھا۔محل کا رقبہ 360 ایکڑ بتایا گیا تھا۔ویسے حد ہے کہ اس جاگیر کا اتنا ہوّا بنایا گیا، اس سے زیادہ رقبے کے تو ہمارے بھی ہاں کئی محلات موجود ہیں۔

سرے محل کی خریداری اورفروخت کے عمل نے محفوظ مالیاتی لین دین کے طلب گاروں کو نئی نئی راہیں دکھائی تھیں۔لیکن نجانے کیوں ان ہی فارمولوں پر عمل کرنے والے کچھ لوگ نہ جانے کیسے مشکلات سے دوچار ہوگئے۔ ملک پاناما میں بزنس روابط کسی کے لیے کچھ درد سر ہی بن گئے۔ بڑے محل تو چھوڑیئے،خریدے گئے چار فلیٹ ہی بڑی الجھنوں میں مبتلا کرگئے۔ اور شاید ان الجھنوں کا علاج ، ان عامل بابا کے پاس بھی نہیں ہے، جو دیواروں پر ہر مشکل کا حل ، ہر رکاوٹ دور ، دشمن آپ کے قدموں میں لکھوا کر لوگوں کو خاص عملیات کے زریعے ان کی ہر مشکل کو آسان کردیتے ہیں۔
بات ابھی لندن کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔نہ جانے کہنے والے کیوں کہتے ہیں کہ ایک اور این آر او ہوگیا ہے۔ جمعے کو موصول ہونے والا پیسہ بھی کسی کا زرضمانت ہے اور اس کے بدلے میں عامل بابا نے کسی کی صحت یابی کا چلہ کاٹا ہے۔لندن کے ان چار فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ اج کل خاصا آباد ہے، سنا ہے وہاں ایک کمرہ اسپتال کے کمرے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ وہاں ڈاکٹر کم اور سیاست دان زیادہ پہنچ رہے ہیں۔شاید مزاج پرسی اور عیادت کے لیے آتے ہوں گے۔یہ بہت اچھی بات ہے، یہ روایت ہم میں آج بھی زندہ ہے ، اور جب خومخواہ بدنام زمانہ سیاست دانوں میں یہ روایت دکھائی دے تو اور بھی اچھا لگتا ہے، کہ اللہ پاک نے انہیں اس نیکی سے تو ’نواز‘ رکھا ہے۔

لندن کی فضائیں اکثردیسی نعروں سے گونجتی رہتی ہیں،لیکن آج کل ڈاکٹروں نے تیمارداروں کو نعرے لگانے سے روک رکھا ہے مبادا یہ کہ کسی کا دل نہ دھڑک جائے۔ لیکن یہ نعرے کب تک رکے رہیں گے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ایسا ہی ایک بار سرزمین حجاز میں ہوا تھا، جہاں ا?ٹھ سال تک تیمار داروں کو روکے رکھا گیا، لیکن پھر اچانک مریض ڈاکٹروں کو ٹھینگا دکھا کر تیمارداروں کے ہمراہ اسپتال سے زبردستی ڈسچارج ہوکر گھر چلا آیا تھا۔

خیر ، بات اس بات سے شروع ہوئی تھی کہ خدا جب مہربان ہوتا ہے تو نت نئے زرائع سے نوازتا ہے، اور پاکستان میں زرمبادلہ کی تازہ آمد بڑی خوش آئند ہے لیکن اس سے بھی خوشی کی خبر یہ ہے کہ ایسی مزید قسطیں بھی ملک کو موصول ہوسکتی ہے، سیاسی موسم بدل رہا ہے، لوگ بیمار پڑرہے ہیں،آنا جانا تو باہراب سب کا لگا ہی رہے گا ، ایسے میں اگر اس عمل سے کوئی انکم جنریٹ ہونے لگے تواس بارے میں پریشان نہ ہوں بلکہ اسے ’سائنس کا کمال‘ سمجھ کر دل کو مطمئن کرلیں۔کہ ایسے دور میں جب انسان ’خلائی جہاز‘ ایجاد کرکے چاند پر جاسکتا ہے توپھر تو کچھ بھی ہوسکتا ہے آنکھیں بند کرکے سب قبول کرلیں۔نہ زیادہ ذہن دوڑائیں اور نہ ہیرو بنیں۔تیل دیکھیں اور بس تیل کی دھار۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر