وجود

... loading ...

وجود

سائنس کا کمال (شعیب واجد)

منگل 10 دسمبر 2019 سائنس کا کمال (شعیب واجد)

خدا جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کر دیتا ہے اور کبھی بعض خوش نصیبوں کو ان زرائع سے بھی دیتا ہے ، جس کا انہوں نے گمان بھی نہیں کیا ہوتا ہے۔ اور ایسے میں اگر کسی خطے میں نیک لوگ حکمراں ہوں تو غیبی امداد فرد کو نہیں پورے خطے کو منتقل ہوجاتی ہے۔ایسا ہی ایک خطہ مملکت خداداد بھی ہے۔ زرا دیکھیں تو اللہ پاک کی مہربانی کہ ہمارے اعمال کو درگزر کرتے ہوئے کیسا سبب بنایا اور مدد فرمادی، وہ بھی فارن ایکسچینج میں۔ہوا یہ کہ ایک بندہ خدا کا پاکستان اورانگلستان سے کچھ سیٹلمنٹ ہوگیا، اور اس کے نتیجے میں جمع ایک بڑی رقم پاکستان منتقل ہوگئی۔

خبرملی ہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے 28 ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کے پونڈز پاکستانی عدالت کو منتقل کردیئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ رقم جمعے کے مبارک دن منتقل ہوئی۔ اس سے ہمیں جمعے کی برکات کے ان میسیجز پر بھی کامل یقین ہوگیا، جو جمعرات کی رات سے ہی ہمارے دوست ہمیں بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔رقم ملتے ہی ، سنا ہے کہ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک سے استدعا بھی کردی ہے کہ رقم قومی خزانے میں منتقل کرنے کی عرضی کو قبول کیا جائے تاکہ یہ پیسہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں استعمال کیا جاسکے۔یہ استدعا جتنی بروقت اور پھرتی سے کی گئی ہے اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ کوئی سیٹنگ چل رہی ہے، بلکہ اسے حکومت کی چابک دستی اور فرض شناسی سمجھا اور لکھا جائے، تاکہ تاریخ درست رہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب انتہائی ذمہ دار اور پروفیشنل ٹیکنوکریٹ ہیں ان کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو درخواست دی ہے کہ یہ رقم وفاقی حکومت کو جاری کی جائے تاکہ اسے سماجی بہبود اور غربیوں پر خرچ کیا جا سکے۔ معاون خصوصی نے انتہائی بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات یہیں پر ختم کردی کہ حکومت پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اس معاملے پر اس سے زیادہ بات نہیں کی جا سکتی۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے بعض باتوں کا چھپانا ہی بھلا ہوتا ہے۔

لندن گوروں کا دیس ہے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی رنگدار بھی بستے ہیں،اور اس ملک میں رہتے ہوئے وہ وطن عزیز سے بھرپور رشتے اور روابط بھی قائم رکھتے ہیں، چاہے وہ رشتے سیاسی ہوں یا مالیاتی۔جس طرح انگلستان میں بسنے والے پاکستانی ، اپنے وطن پاکستان کو ہر ماہ خطیر زرمبادلہ بھیجتے ہیں اسی طرح بہت سے پاکستانی آزاد مالیاتی قوانین کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ، تہتر کے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مال و زر لندن بھی منتقل کرتے ہیں،اور اس کی رسیدیں بھی سنبھال کر رکھتے ہیں، تاکہ بوقت ضرور سند کے طور پر کام آئیں۔ کاغذی کارروائی یوں بھی مکمل کرنا ضروری ہوتی ہے، ماضی کی ایک مثال یاد کریں کہ سرے محل جیسا سودا کرنا ، اس کو ایک معقول عرصہ تک ملکیت میں رکھنا اور پھر فروخت کردینا کوئی آسان کام ہوتا،اگر کاغذ پورے نہ ہوتے تو؟

سرے محل کا ذکر نکل آیا تو چلیں اس کو بھی یاد کرلیا جائے کہ اس کا بھی حق بنتا ہے جب لندن کے چار فلیٹوں کو یاد کرسکتے ہیں تو ایک محل کو کیوں نہیں۔برطانیا کے علاقے سرے میں واقع مشہور ’راک وْڈ سٹیٹ‘ جسے پاکستان میں سرے محل کے نام سے جانا جاتا تھا ، 2014 میں فروخت ہوگیا،کم بخت میڈیا نے اس سودے کا اتنا بتنگڑ بنایا تھا کہ صاحبین کو اس میں رہنے کا موقع نہیں مل سکا، حالانکہ انہوں نے خریداری سے قبل بڑے چاؤ سے اسکا دورہ کیا تھا۔محل کا رقبہ 360 ایکڑ بتایا گیا تھا۔ویسے حد ہے کہ اس جاگیر کا اتنا ہوّا بنایا گیا، اس سے زیادہ رقبے کے تو ہمارے بھی ہاں کئی محلات موجود ہیں۔

سرے محل کی خریداری اورفروخت کے عمل نے محفوظ مالیاتی لین دین کے طلب گاروں کو نئی نئی راہیں دکھائی تھیں۔لیکن نجانے کیوں ان ہی فارمولوں پر عمل کرنے والے کچھ لوگ نہ جانے کیسے مشکلات سے دوچار ہوگئے۔ ملک پاناما میں بزنس روابط کسی کے لیے کچھ درد سر ہی بن گئے۔ بڑے محل تو چھوڑیئے،خریدے گئے چار فلیٹ ہی بڑی الجھنوں میں مبتلا کرگئے۔ اور شاید ان الجھنوں کا علاج ، ان عامل بابا کے پاس بھی نہیں ہے، جو دیواروں پر ہر مشکل کا حل ، ہر رکاوٹ دور ، دشمن آپ کے قدموں میں لکھوا کر لوگوں کو خاص عملیات کے زریعے ان کی ہر مشکل کو آسان کردیتے ہیں۔
بات ابھی لندن کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔نہ جانے کہنے والے کیوں کہتے ہیں کہ ایک اور این آر او ہوگیا ہے۔ جمعے کو موصول ہونے والا پیسہ بھی کسی کا زرضمانت ہے اور اس کے بدلے میں عامل بابا نے کسی کی صحت یابی کا چلہ کاٹا ہے۔لندن کے ان چار فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ اج کل خاصا آباد ہے، سنا ہے وہاں ایک کمرہ اسپتال کے کمرے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ وہاں ڈاکٹر کم اور سیاست دان زیادہ پہنچ رہے ہیں۔شاید مزاج پرسی اور عیادت کے لیے آتے ہوں گے۔یہ بہت اچھی بات ہے، یہ روایت ہم میں آج بھی زندہ ہے ، اور جب خومخواہ بدنام زمانہ سیاست دانوں میں یہ روایت دکھائی دے تو اور بھی اچھا لگتا ہے، کہ اللہ پاک نے انہیں اس نیکی سے تو ’نواز‘ رکھا ہے۔

لندن کی فضائیں اکثردیسی نعروں سے گونجتی رہتی ہیں،لیکن آج کل ڈاکٹروں نے تیمارداروں کو نعرے لگانے سے روک رکھا ہے مبادا یہ کہ کسی کا دل نہ دھڑک جائے۔ لیکن یہ نعرے کب تک رکے رہیں گے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ایسا ہی ایک بار سرزمین حجاز میں ہوا تھا، جہاں ا?ٹھ سال تک تیمار داروں کو روکے رکھا گیا، لیکن پھر اچانک مریض ڈاکٹروں کو ٹھینگا دکھا کر تیمارداروں کے ہمراہ اسپتال سے زبردستی ڈسچارج ہوکر گھر چلا آیا تھا۔

خیر ، بات اس بات سے شروع ہوئی تھی کہ خدا جب مہربان ہوتا ہے تو نت نئے زرائع سے نوازتا ہے، اور پاکستان میں زرمبادلہ کی تازہ آمد بڑی خوش آئند ہے لیکن اس سے بھی خوشی کی خبر یہ ہے کہ ایسی مزید قسطیں بھی ملک کو موصول ہوسکتی ہے، سیاسی موسم بدل رہا ہے، لوگ بیمار پڑرہے ہیں،آنا جانا تو باہراب سب کا لگا ہی رہے گا ، ایسے میں اگر اس عمل سے کوئی انکم جنریٹ ہونے لگے تواس بارے میں پریشان نہ ہوں بلکہ اسے ’سائنس کا کمال‘ سمجھ کر دل کو مطمئن کرلیں۔کہ ایسے دور میں جب انسان ’خلائی جہاز‘ ایجاد کرکے چاند پر جاسکتا ہے توپھر تو کچھ بھی ہوسکتا ہے آنکھیں بند کرکے سب قبول کرلیں۔نہ زیادہ ذہن دوڑائیں اور نہ ہیرو بنیں۔تیل دیکھیں اور بس تیل کی دھار۔


متعلقہ خبریں


قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان وجود - اتوار 18 جنوری 2026

قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا، وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے، سردار ایاز صادق اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں،آئین کے دائرے میں گفتگو کی اجازت ہوگی ،ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان ...

قومی اسمبلی، فوج اور عدلیہ کیخلاف تقاریر روکنے کا اعلان

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی وجود - اتوار 18 جنوری 2026

ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کسی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ہری پور کی عوام بانی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں لیکن ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیاہے ،کارکنان کا وزیر اعلی کا شاندار استقبال ہماری بدقسمتی ہے ایک دفعہ نہیں دو دفعہ منیڈیٹ چوری کیا، تین سال سے ہم ہر جگہ تحریک چلا رہے ہی...

عمران خان کی ہدایت پرسہیل آفریدی نے اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 18 جنوری 2026

کراچی میں بچوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی گرفتاری بڑی کامیابی ہے، مراد علی شاہ ملزم کیخلاف شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لیجایا جائے،ملزم کی گرفتاری پرپولیس کو شاباش وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس کو شاباش دی ہے۔اس...

چائلڈ ابیوز کے کیس کسی صورت برداشت نہیں کروں گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار وجود - اتوار 18 جنوری 2026

متاثرہ بچے کی نشاندہی پر ٹیپو سلطان میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون کی بڑی کارروائی ملزم عمران اور وقاص خان نے 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا کراچی میں ایسٹ انویسٹی گیشن ون نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار ...

کراچی، 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے 2 ملزم گرفتار

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

مضامین
شر سے خیر کاجنم وجود اتوار 18 جنوری 2026
شر سے خیر کاجنم

تیسری عالمی جنگ شروع وجود اتوار 18 جنوری 2026
تیسری عالمی جنگ شروع

برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ! وجود اتوار 18 جنوری 2026
برین ڈرین حکومت کے لیے ایک انتباہ!

جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر