وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نیا خبری ماحول اور پرانے پاپی صحافی (شاہد اے خان)

جمعرات 05 دسمبر 2019 نیا خبری ماحول اور پرانے پاپی صحافی (شاہد اے خان)

وقت بدلا دور بدلا اقدار بدلیں سب بدل گیا تو صحافت کیسے نہ بدلتی کہ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ اخبار بدلے مالکان بدلے عوام کے رجحان بدلے خبر بدلی خبر دینے والے بدلے خبر دینے کے طریقے بدلے۔ جو کھلا سچ تھا پہلے آدھا جھوٹ ہوا پھر بین السطور اور پھر عین غین ہوگیا۔ خبر بھی کاغز سے ٹی وی اسکرینوں تک پہنچی اور پھر اپنی بریکنگ کے شور میں کہیں کھو گئی۔ ایسے میں جو بدل گیا اس کا بیڑا پار جو اقدار سے اٹکا رہا اس کا بیڑا غرق۔ نئے صحافی دے مار ساڑھے چار آج یہاں کل وہاں پرانے صحافی حیران پریشان، نئے ماحول میں نہیں ڈھل پا رہے یا ڈھلنا نہیں چاہ رہے، پوری زندگی جو سیکھا اچانک بیکار ہوگیا، ساری زندگی کا ایک اصول رہا اصول پرستی، اس میں مکر فریب مصلحت کا کیا کام سو ہو گئے ناکام۔

پہلے صحافت سے اصول گئے پھر سچ گیا پھر اسٹینڈ گیا اب کیریئر بھی نو دو گیارہ ہوگیا،، نیوز روم میں ڈیوٹی ڈبل ہوئی، ٹماٹر سے لیکر ڈائپر تک ہر شئے کے دام بھی ڈبل ہوگئے اور صحافی کا حال یہ کہ چھٹی ملنا مشکل تر اور تنخواہ کا انتظار بے شمار لگاتار ،، ایک مہینہ جیسے تیسے گزارا اگلے ماہ اور مشکل گزارہ تیسرے مہینے خدا کا سہارہ،، ہائے غریب صحافی بے چارہ،

پہلے رپورٹنگ ہوتی تھی بائی لائن اسٹوری اور اسکوپ ،، اب صرف بریکنگ ہوتی ہے ، ارمانوں کی بریکنگ، خوشیوں کی بریکنگ، خواہشات کی بریکنگ، احساس کی بریکنگ، یہ بریکنگ تقریبن ہر نیوز روم کا حصہ بن گئی ہیں لیکن کسی ٹی وی کی اسکرین پر چیختی چنگہاڑتی گلا پھاڑتی نظر نہیں آتیں،، نیوز روم میں کام کرنے والوں کی سرگوشیوں میں ہی دم توڑ جاتی ہیں۔۔ تنخواہ کٹ گئی،، پیٹرول بند ہوگیا، موبائل فون الاونس تو بتائے بغیر ہی ختم ہوگیا،، کمزور ہوتی تنخواہ چلنے سے لاچار ایک مہینے کا سفر تین مہینے میں طے کرنے لگی۔

بے چارہ صحافی احتجاج بھی نہ کر سکا یہی سوچ کر خوش ہوگیا یا یہ بول کر چپ کروا دیا گیا کہ نوکری تو باقی ہے، اے احسان فراموش ورنہ نئے پاکستان میں جن اشیا ء کی فراوانی ہے ان میں بے روزگاری کا بول بھی بالا ہے۔ لگے رہو منا بھائی تنخواہ لگی ہوئی ہے ناں کبھی کسی دن جھلک دکھلا ہی جائے گی۔ یہ اور بات اس کے آنے کی رفتار سے اس کے جانے کی رفتار زیادہ ہوگی اس دوران صحافی کے خالی اکاونٹ کے دڑبے میں پڑے انڈے مزید انڈے دے دیں گے۔ لیکن یہ وہ کپتانی انڈے نہیں جن سے مرغیاں بنیں اور انڈے دیں ،ان انڈوں سے اور مرغیاں بنیں اور انہیں بیچ باچ کر صحافی غریب کے مسائل حل ہو جائیں۔ انڈوں کا یہ فنڈا شیخوں شیخی خوروں کی تو سمجھ میں آتا ہے غریب کے پیٹ میں رکے بغیر براہ راست گزر جاتا ہے۔ آہ کو چاہیئے ایک مرغ سحر ہونے تک


متعلقہ خبریں