وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جتھے دا کھوتا۔۔ عمران یات
(علی عمران جونیئر)

جمعرات 28 نومبر 2019 جتھے دا کھوتا۔۔ عمران یات <br>(علی عمران جونیئر)

دوستو،ایک خبر کے مطابق دنیا بھر سے گدھے کی کھالوں کی بڑی تعداد چین آنے کے باعث آئندہ 5 برس میں گدھوں کی موجودہ تعداد نصف رہ جائے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی تنظیم ڈونکی سینچری نے ایک رپورٹ مرتب کی ہے کہ جس کے مطابق آئندہ 5 سال میں دنیا بھر میں گدھوں کی موجودہ تعداد نصف ہوجائے گی اور اس کی بڑی وجہ چین کا دنیا بھر سے گدھے کی کھالیں درآمد کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق گدھے کی کھال سے جیلیٹین حاصل کر کے جیل نما دوا ’ایجیاؤ‘ بنائی جاتی ہے جو نزلہ و زکام سمیت بڑھتی عمر کے اثرات کو سست کرنے میں استعمال کی جاتی ہے۔ چین کی بڑی آبادی میں اس دوا کی بڑھتی طلب سے دنیا میں گدھوں کی تعداد میں کمی پیدا ہورہی ہے اور سالانہ بنیاد پر چین میں دوا سازی کے لیے 50 لاکھ گدھوں کی کھالیں استعمال کی جاتی ہیں۔گدھوں کی نسل کو درپیش اس خطرے کے بعد تنظیم ڈونکی سینکچری کے چیف ایگزیکٹو مائیک بیکر کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں موجود گدھوں کی تعداد 46 ملین کے لگ بھگ ہے، اور اسی رفتار سے چین میں گدھوں ان کی درآمد جاری رہی تو یہ تعداد اگلے پانچ برس میں نصف ہونے کا قوی امکان ہے، اس لیے چین میں گدھے کی کھالوں کے استعمال پر پابندی ناگزیر ہے۔دوسری جانب محققین کا کہنا ہے کہ اس وقت صحت مند گدھے بہت کم ہیں اورعموماً ان میں کوئی نہ کوئی مرض پایا جاتا ہے اور دوا ساز کمپنیاں بیمار گدھے کی کھال کو بھی دواسازی کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں جس کے باعث دوا کا استعمال مضر صحت ہوسکتا ہے۔

ایک بار ایک مزدور اپنی گدھا گاڑی لیکر صبح صبح روزی کمانے نکلا۔ راستے میںاس کا دوست مل گیا جسے گدھا گاڑی کی ضرورت تھی۔ دونوں میں سودا طے ہو گیا۔ فیکے نے شارٹ کٹ مارتے ہوئے اپنی گدھا گاڑی کو برساتی نالے والے راستے پر ڈال دیا۔ آگے ایک چھوٹی سے پْلیا تھی جس کے نیچے سے گزرنا تھا۔مزدور جونہی پْلیا کے نیچے سے گدھا گاڑی گزارنے لگا، گدھے کے کان پْلیا سے ٹکرائے۔ مزدورنے ادھر ہی گدھا گاڑی روکی اور اپنے تھیلے سے ہتھوڑی اور چھینی نکال کر پْلیا کو اوپر سے چھیلنے لگا۔اس کا دوست بھی اس کام میں اس کی مدد کرنے لگا۔ابھی وہ اس کام مصروف تھے کہ وہاں سے کسی سیانے بندے کا گزر ہوا،اس نے دو بندوں کو پْلیا کو نقصان پہنچاتے دیکھا تو اپنی بائیک روک کر ان کے پاس آئے اور ڈانٹ کر پوچھا کہ وہ پْلیا کو کیوں نقصان پہنچا رہے ہیں۔غریب مزدور کہنے لگا، وہ جی کیا ہے کہ میرا گدھا اس پْلیا کے نیچے سے گزر نہیں سکتا، اس لیے ہم اس کو بڑا کر رہے ہیں۔سیانے بندے نے کہا،بے وقوفو، اوپر سے پْلیا توڑنے کی بجائے نیچے سے زمین کھودو۔غریب مزدور بولا۔۔ مائی باپ گدھے کے پاؤں تھوڑا ہی ناں پھنس رہے ہیں جو ہم زمین کھودیں، وہ تو گدھے کے کان پھنس رہے ہیں، اس لیے اوپر سے توڑ رہے ہیں۔۔

جیساکہ آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ پٹواری اور یوتھیئے میں سانپ اور نیولے کا بیرچل رہا ہے ان دنوں۔۔ دونوں اپنی جماعت سے اتنے مخلص ہیں کہ سامنے والے کی عزت تارتار کرنے سے باز نہیں آتے، ایک بار کسی دل جلے پٹواری سے باباجی کی طرح ذہین و فطین شخص نے اچانک سوال کرلیا۔۔گدھے اور یوتھیئے میں کیا فرق ہوتا ہے؟؟ پٹواری سوال سن کر مسکرایا اس کے بعد تفصیلی جواب دینے لگا۔۔ گدھے کی صرف دو اضافی ٹانگیں ہی ہوتی ہیں ویسے تو وہ بھی یوتھیا ہی ہوتا ہے۔۔یوتھیا کی صرف دُم نہیں ہوتی ویسے تو وہ بھی گدھاہی ہوتا ہے۔۔گدھا مالک کے ڈنڈے کے خوف سے مالک کا تابعدار ہوتا ہے اور یوتھیا اپنی جہالت کی وجہ سے اپنے لیڈر کا وفادار ہوتا ہے۔۔ گدھا جس راستے پر ایک بار چل پڑے اْس کو وہ راستہ یاد ہو جاتا ہے اور یوتھیا جس راہ پر ایک بار چل پڑے اْسی راستے کو صحیح سمجھتا ہے۔۔ گدھا مالک سے ڈنڈے کھا کر نہیں بولتا اور یوتھیا مالک کی عیاشیوں کے لئے ٹیکس دے کر نہیں بولتا۔۔ گدھا جب بھی مالک کو ضرورت ہو تیارہوتا ہے اور یوتھیا بھی اپنے مالک کی صفائیاں دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ گدھا گوشت نہیں کھاتا اور یوتھیا گدھے کا گوشت نہیں چھوڑتا۔۔ گدھا رات سوتا ہے صبح اْٹھ کر مالک کے کام کرنے کو اور یوتھیا سوتا ہے صبح اْٹھ کر اپنے مالک کا دفاع کرنے کو۔۔ گدھا حق بات سمجھ نہیں سکتا اور یوتھیا حق بات کہہ نہیں سکتا۔۔ تھکے گدھے کو اْٹھانا اور یوتھییے کو سمجھانا ایک برابر ہے۔۔اگر کوئی یوتھیا اس پٹواری کو جواب دینا چاہے تو ہم اس کا جواب بھی اپنے کالم میں ضرور شائع کریں گے۔۔کیوں کہ یوتھیئے ہوں یا پٹواری دونوں ہی اپن کے جگر ہیں۔۔

ابک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو موسمیات کا وزیر لگا دیا۔ ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیر موسمیات سے موسم کا حال پوچھا۔وزیر نے کہا کہ موسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک اسی طرح رہے گا۔ بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ بادشاہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا۔ اس نے کہا حضور کا اقبال بلند ہو‘ آپ اس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟ بادشاہ نے کہا شکار پر۔ کمہار کہنے لگا‘ حضور! موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہونے اور بارش کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ بادشاہ نے کہا‘ ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے ‘ تم کیا جانو موسم کیا ہے ؟ میرے وزیر نے بتایا ہے کہ موسم نہایت خوشگوار ہے اور شکار کے لیے نہایت موزوں اور تم کہہ رہے ہو کہ بارش ہونے والی ہے ؟ بادشاہ نے ایک مصاحب سے کہا کہ اس بے پر کی چھوڑنے والے کمہار کو دو جوتے مارے جائیں۔ بادشاہ کے حکم پر فوری عمل ہوا اور کمہار کو دو جوتے نقد مار کر بادشاہ شکار کے لیے جنگل میں داخل ہو گیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ گھٹا ٹوپ بادل چھا گئے۔ ایک آدھ گھنٹہ بعد گرج چمک شروع ہوئی اورپھر بارش۔ بارش بھی ایسی کہ خدا کی پناہ۔ ہر طرف کیچڑ اور دلدل بن گئی۔ بادشاہ اور مصاحب کو سارا شکار بھول گیا۔ جنگل پانی سے جل تھل ہو گیا۔ ایسے میں خاک شکار ہوتا۔ بادشاہ نے واپسی کا سفر شروع کیا اور برے حال میں واپس محل پہنچا۔ واپس آکر دو کام کیے۔ پہلا یہ کہ وزیر موسمیات کو برطرف کیا اور دوسرا یہ کہ کمہار کو دربار میں طلب کیا۔ اسے انعامات سے نوازا اور وزیر موسمیات بننے کی پیشکش کی۔ کمہار ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا‘ حضور! کہاں میں جاہل اور ان پڑھ شخص اور کہاں سلطنت کی وزارت۔ مجھے تو صرف برتن بنا کر بھٹی میں پکانے اور گدھے پر لاد کر بازار میں فروخت کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا۔ مجھے تو موسم کا رتی برابر پتہ نہیں۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ جب میرا گدھا اپنے کان ڈھیلے کر کے نیچے لٹکائے تو اس کا مطلب ہے کہ بارش ضرور ہو گی۔ یہ میرا تجربہ ہے اور کبھی بھی میرے گدھے کی یہ پیش گوئی غلط ثابت نہیں ہوئی۔ بادشاہ نے کمہار کے گدھے کو اپنا وزیر موسمیات مقرر کر دیا۔ سنا ہے کہ گدھوں کو وزیر بنانے کی ابتدا تب سے ہوئی۔۔


متعلقہ خبریں