وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)

بدھ 30 اکتوبر 2019 آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

دوستو،ہم یا تو زندہ دل قوم ہیں یا پھر بالکل بے حس قوم ہیں، ہر چیز میں مزاح کا کا پہلو نکال لیتے ہیں ۔۔کل ایک شادی کی تقریب میں جانا ہوا، وہاں بوفے سسٹم نہیں تھا بلکہ ٹیبلوں پر بٹھا کر کھانا ’’سرو‘‘ کیا جارہا تھا۔۔ ہر ٹیبل کے گرد چھ کرسیاں تھیں، ہم نے بھی ایک کرسی پکڑ لی،ساتھ میں ہمارے باباجی اور پیارے دوست بھی تھے۔۔ اب اچانک پانچ افراد کا گروپ اور آگیا، تین نے ہماری ٹیبل کے گرد موجود کرسیاں سنبھال لیں ،باقی دو بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی ساتھ بیٹھیں، ایک نے کچھ ہمت کی اور کہیں سے دو کرسیاں پکڑ لیں اور طرح ہماری ٹیبل پر چھ کی جگہ آٹھ لوگ ہوگئے، جب کہ ٹیبل پر چھ پلیٹیں موجود تھیں، جب قورمے اور بریانی کی تھال رکھ دی گئیں تو پانچ کے گروپ کو دو پلیٹ کم تھیں ایک نے زوردار نعرہ بلند کیا۔۔ بھائی پلیٹ لیٹس کم ہیں، دو پلیٹیں اور لے آؤ۔۔۔وہ گروپ اینٹی کپتان تھا، دوران کھانا مستقل حکومت اور کپتان کی برائیاںکرتے رہے۔۔ چونکہ سارے نوجوان تھے اس لیے خون بھی گرم تھا، ایک کہنے لگا۔۔یار مہنگائی بہت ہورہی ہے، غریب مستقل پس رہا ہے۔۔ خان صاحب کو توجہ دینا ہوگی۔۔باباجی نے ’’دخل درنامعقولات ‘‘ کرتے ہوئے ہم سے کہا۔۔خان صاحب بس ایک بجلی کا بل جلا کر ہم کو حکم دیں کہ کوئی بھی بل جمع نہ کراؤ، یقین کرو ہم خان صاحب کے ساتھ ہونگے، انہیں اگلی بار بھی ووٹ دیں گے اور مولانا کو روک بھی لیں گے۔۔

نوجوانوں کا جو رویہ بازار ، دفاتر یا سڑکوں پر نظر آتا ہے ،یہ وہ خود نہیں ہوتے بلکہ ان کا رویہ بتاتا ہے کہ ان کے والدین نے ان کی کیسی تربیت کی ہے۔۔ اگر بس میں کوئی نوجوان کسی بزرگ کے لیے جلدی سے سیٹ خالی کردیتا ہے تو وہ بزرگ اس بچے کو دعا تو دیں گے ہی لیکن ساتھ ہی ان کے والدین کی بھی تعریف کریں گے کہ جس کی بدولت نوجوان کو بزرگوں کی عزت کا سلیقہ آیا۔۔ایک نشئی افطار کے وقت سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔۔ اس کے بچے وضو کرکے نماز کے لیے مسجد جانے کی تیاری کر رہے تھے۔۔ بچوں کا دادا اپنی چارپائی پہ لیٹا یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔۔دادا اپنے نشئی بیٹے کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا۔۔او بے غیرتا!!! تینوں شرم نئیں آندی۔۔بچے نماز لئی مسیتی جارئے نے تے آپے مزے نال لیٹیا سگریٹ دے کش لا ریاں ائے۔۔ نشئی نے مسکرا کر باپ کو دیکھا اور بولا۔۔ ویکھیا فیر، اپنی تربیت تے میری تربیت دا فرق؟؟؟۔۔ یہ بھی کسی کی ’’تربیت‘‘ ہی ہوتی ہے کہ جب کسی کو برہنہ سر نماز پڑھتا دیکھ لیں تو فوری باآواز بلند نصیحت کردیتے ہیں کہ سر برہنہ ہوتو نماز نہیں ہوتی۔۔لیکن جب باباجی کو پورا برہنہ دیکھتے ہیں تو بڑے مودب انداز میں سرجھکا کر کہتے ہیں۔۔بہت پہنچے ہوئے ’’ولی‘‘ ہیں باباجی ۔

ہمارے محلے میں ایک بابا جی کے پانچ بیٹے تھے جو کہ نہایت نکمے کسی کام کاج کے نہیںتھے۔۔بوڑھے بندے سے کسی نے پوچھا کہ بزرگوں آپ کے بچے کسی کام کاج کے نہیںصرف اناج کے دشمن ہیں۔ان کو سمجھاتے کیوں نہیں؟؟؟ بوڑھے نے جواب دیا۔۔ بیٹا۔جب میری شادی ہوئی تھی تو اس پر ڈھائی روپے خرچہ آیا تھا۔اب ایک بیٹا آٹھ آنے کا پڑا ہے تو آٹھ آنے والے تو ایسے ہی ہونگے نا۔۔نوجوانوں میں آج کل الٹے سیدھے فیشن کا ٹرینڈ چلاہوا ہے، ہمارے محترم باباجی جب کسی نوجوان کو چونکا دینے والے ڈریس یا ہیراسٹائل میں دیکھتے ہیں توانہیں ’’نمونے‘‘ کا خطاب دیتے ہیں،ہمارے پیارے دوست ایسی لڑکیاں جو انہیں پسند نہ آئے انہیں ’’نمونیا ‘‘کہتے ہیں۔۔پیارے دوست کا کہناہے کہ نمونہ اگر مذکر ہے تو نمونیا مونث ہوتی ہے۔۔ حالانکہ نمونیا تو ایک مشہور بیماری کا نام ہے۔۔اس بیماری سے ہمیں اس وقت بہت شدید تکلیف ہوتی تھی جب اسکول میں ٹیچر اس کی اسپیلنگ پوچھتی تھیں۔۔۔اس بیماری کی اسپیلنگ ہمیں آج تک یاد نہیں ہوسکی۔۔کہتے ہیں کہ اسپتال کی نوکری بھی بدترین ہوتی ہے بندہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا ۔۔میں بیمار ہوں آ نہیں سکتا۔۔۔ویسے سچ پوچھا جائے تو محبت اور نوکری تقریباً تقریباً ایک جیسی ہی ہوتی ہے، بندہ کرتا بھی رہتا ہے اور روتا بھی رہتا ہے۔۔۔یہ بات بھی سوفیصد حقیقت ہے کہ ایمبولنس ہو یا بارات دونوں کو جلدی راستہ دے دینا چاہئے کیونکہ دونوں ہی زندگی کی جنگ لڑنے جا رہے ہوتے ہیں۔

باباجی نے ایک دن باتوں باتوں میں ہمیں مشورہ دیا کہ۔۔ اگر کوئی تمہیں چلغوزے کے منہ والا کہے تو جان لو تم بہت قیمتی ہو۔۔۔وہ ہمیں ہر ملاقات میں کھانے پینے کی مقدار میں اضافے کا بھی کہتے ہیں، انہیں ڈر رہتا ہے کہ ہم صحت مند نہیں، ہماری صحت گری ہوئی ہے، ہم کمزوری کا شکار ہیں۔۔۔حالانکہ ایسا بالکل نہیں، ہر بار انہیں سمجھاتے ہیں کہ ہماری ’’کاٹھی‘‘ ایسی ہے کہ ہم جتنا کھائیں ہمیں نہیں لگتا۔۔جس پر ان کا کہنا ہوتا ہے کہ یار، چھوٹے فریج کا دروازہ بھی چھوٹا ہے اس میں سامان رکھنے کی جگہ بھی چھوٹی ہوتی ہے، اسی طرح بڑے فریج کا دروازہ بھی بڑا ہوگا اور اس میں سامان رکھنے کی گنجائش بھی زیادہ ہوتی ہے، اسی طرح انسانوں کا حال ہوتا ہے، انسان جتنا کمزور ہوگا اس کا معدہ بھی کمزور ہوگا، انہوں نے موٹا ہونے کے دو فائدے بھی بتائے۔۔ایک تو یہ کہ موٹے لوگ موبائل کی سکرین پیٹ سے رگڑ کا صاف کر لیتے ہیں۔۔دوسرا یہ کہ موٹے لوگ جب چائے پیتے ہیں تو’’ ساسر‘‘ پیٹ پر رکھ سکتے ہیں۔۔ہم نے باباجی کو یہ بھی بتایا کہ ،ہم بچپن میں بہت طاقت ور تھے، ہماری ماں بتاتی تھی کہ ہم رورو کے ساراگھر سر پر اٹھالیتے تھے۔۔

اب چلتے چلتے آخری بات۔۔تین فطری قوانین جو کڑوے ہیں لیکن حق ہیں۔۔پہلاقانون فطرت، اگر کھیت میں دانہ ، نہ ڈالا جائے تو قدرت اسے گھاس پھوس سے بھردیتی ہے ، اسی طرح اگر دماغ کو اچھی فکروں سے نہ بھراجائے تو خالی دماغ شیطان کا مسکن بن جاتا ہے۔۔دوسرا قانون فطرت، جس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ بانٹتا ہے، خوش انسان خوشی بانٹتا ہے،غمزدہ انسان غم بانٹتا ہے،عالم علم بانٹتا ہے ،مذہبی اور دیندار انسان دین بانٹتا ہے اورخوف زدہ انسان خوف بانٹتا ہے۔۔تیسرا قانون فطرت، آپ کو زندگی سے جو کچھ بھی حاصل ہو اسے ہضم کرنا سیکھیں! اس لیے کہ کھانا ہضم نہ ہونے پر بیماریاں پیدا ہوتی اور بڑھتی ہیں ،اسی طرح مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں ریاکاری بڑھتی ہے،بات نہ ہضم ہونے پر چغلی بڑھتی ہے۔تعریف نہ ہضم ہونے کی صورت میں غرور میں اضافہ ہوتا ہے،مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے دشمنی بڑھتی ہے۔غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں مایوسی بڑھتی ہے۔اقتدار اور طاقت نہ ہضم ہونے کی صورت میں خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں