... loading ...
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،موکل نے کسی معززجج کیخلاف تعصب یاذاتی عناد کاالزام نہیں لگایا، فل کورٹ اورالگ ہونے والے ججز پرکوئی اعتراض نہیں، اعلی عدلیہ کے ججز پر دبائو ڈالنا اس کیس کی جان ہے، لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے 2004 میں لیا، پہلا فلیٹ خریدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسی جج بنے، دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے بچوں نے لیا، 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تھے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بے ایمانی یا کرپشن کا کوئی الزام نہیں، وہ براہ راست یا بالواسطہ فلیٹس کے بینیفیشل مالک نہیں،28 مئی 2019 سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی مہم جاری ہے، انہوں نے مستقبل میں چیف جسٹس بننا ہے، ان سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، اعلی آئینی عہدوں پر بیٹھے افراد کے اخراجات سے اختلاف ہے،سپریم کورٹ نے جج بنتے وقت بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اثاثوں کا جائزہ لیا ہوگا، جب وہ جج بنے تو سالانہ تنخواہ ماہانہ آمدن کے برابر آگئی، 2009 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آمدن سالانہ 36 ملین روپے تھی، ان کی لا فرم سب سے زیادہ ٹیکس دیتی تھی۔ پیر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی لارجر بینچ نے کی ۔دور ان سماعت ایک وکیل نے بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال پر اعتراض اٹھا دیا اور کہاکہ میں نے آپ کیخلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔ وکیل نے کہاکہ آپ بینچ سے الگ ہو جائیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ میرے خلاف ریفرنس کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کریگی۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ آپ روسٹرم سے ہٹ جائیں،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ آپکا لہجہ درست نہیں۔ وکیل نے کہاکہ مجھ پر توہین عدالت لگانی ہے تو لگا لیں عدالت سے نہیں جائوں گا۔ دور ان سماعت فل کورٹ بینچ نے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو طلب کر لیا ۔وکیل کی جانب سے عدالت میں ہنگامہ آرائی پر صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وکیل کو روسٹرم سے ہٹا دیا ۔ وکیل نے کہاکہ کچھ معلوم نہیں میرے ریفرنس پر کیا کارروائی ہوئی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ کسی معزز جج کیخلاف تعصب یا ذاتی عناد کا الزام نہیں لگا،فل کورٹ اور الگ ہونے والے ججز پر کوئی اعتراض نہیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ بینچ نے ساتھی ججز پر اعتراض مسترد کر دیا تھا۔ منیر اے ملک نے کہاکہ اعلی عدلیہ کے ججز پر دبائو ڈالنا اس کیس کی جان ہے،اعلیٰ عدلیہ کی آزادی کیلئے لوگوں نے جانوں کے نذرانے دئیے۔ انہوںنے کہاکہ لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے 2004 میں لیا،پہلا فلیٹ خریدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جج بنے،دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بچوں نے لیا۔منیر اے ملک نے کہاکہ 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تھے۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ براہ راست یا بالواسطہ فلیٹس کے مالک نہیں۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فلیٹس کے بینیفیشل مالک نہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بے ایمانی یا کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ منیر اے ملک نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور صدر پاکستان دونوں آئینی عہدے رکھتے ہیں،توقع ہے فریقین آئینی عہدوں کے تقدس کا خیال رکھیں گے۔ انہوںنے کہاکہ اعلی آئینی عہدوں پر بیٹھے افراد کے اخراجات سے اختلاف ہے۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ منیر اے ملک نے کہاکہ ریفرنس دائر ہونے سے پہلے جسٹس فائز عیسی کیخلاف شکایت آئی۔ انہوںنے کہاکہ شکایت ملنے کے بعد متعلقہ مواد جمع کیا گیا،صدر پاکستان نے تیسری سٹیج پر اپنی رائے قائم کی۔ انہوںنے کہاکہ چوتھے مرحلے میں ریفرنس باضابطہ دائر کیا گیا،جوڈیشل کونسل نے جس انداز میں کارروائی کی وہ بھی سامنے لائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مستقبل میں چیف جسٹس بننا ہے،انہوںنے کہاکہ 28 مئی 2019 سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی مہم جاری ہے،لائرز ایکشن کمیٹی اور اثاثہ جات ریکوری یونٹ بھی ریفرنس پر بات کرتے ہیں۔منیر اے ملک نے کہاکہ صدر مملکت اور معاون خصوصی برائے اطلاعات نے بھی صدارتی ریفرنس پر بات کی۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اب اپنے دفاع کا موقع عدالت میں ملا ہے،کہا گیا کہ قاضی فائز عیسی جج بننے کے اہل نہیں۔منیر اے ملک نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے والد قائداعظم کے قریبی دوست تھے۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لا فرم سب سے زیادہ ٹیکس دیتی تھی۔منیراے ملک نے کہاکہ 2009 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آمدن سالانہ 36 ملین روپے تھی،جج بنے تو سالانہ تنخواہ ماہانہ آمدن کے برابر آگئی۔منیر اے ملک نے کہاکہ سپریم کورٹ نے جج بنتے وقت بھی جسٹس قاضی فائز عیسی کے اثاثوں کا جائزہ لیا ہوگا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ نے کوئٹہ کمیشن کا سربراہ بنایا۔منیر اے ملک نے کہاکہ کوئٹہ کمیشن نے انٹیلی جنس اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے،فیض آباد دھرنہ کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف بنیاد بنا۔منیر اے ملک نے فیض آباد دھرنہ کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ انہوںنے کہاکہ فیض آباد دھرنہ کیس کیخلاف آٹھ نظر ثانی درخواستیں آئیں،پی ٹی آئی،ایم کیو ایم,وزارت دفاع سمیت شیخ رشید نے بھی نظر ثانی درخواستیں دائر کیں۔ انہوںنے کہاکہ تمام نظر ثانی درخواستیں باہمی مشاورت سے دائر ہوئیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ خیال رکھیے گا نظر ثانی درخواستوں پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا،کوئی ایسی آبزرویشن نہ آجائے جس سے نظر ثانی کیس متاثر ہو۔منیراے ملک نے کہاکہ صرف نظر ثانی درخواستیں پڑھ کر سناوں گا تبصرہ کیے بغیر۔ انہوںنے کہاکہ کہا گیا فوجی اہلکاروں اور افسران کے درمیان عدالتی فیصلے سے خلیج پیدا کی گئی،درخواستوں میں کہا گیا عدالتی فیصلے سے افواج پاکستان کا مورال کم ہوا۔منیر اے ملک نے کہاکہ فیض آباددھرنہ کیس کا فیصلہ جو پڑھ کر سنایا آپکو پسند ہو یا نا یہ سپریم کورٹ کے بینچ کا فیصلہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ فیصلہ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا دیا ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی کی نظر ثانی درخواست وزارت دفاع کی درخواست سے زیادہ سخت ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ ان درخواستوں کا حوالہ نہ دیں جو واپس لی جا چکی ہیں۔منیر اے ملک نے کہا کہ بنیادی طور پر جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف مائنڈ سیٹ ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایم کیو ایم کی درخواست واپس نہیں لی گئی تھی،دو الگ وکلا نے درخواستیں دائر کی تھیں۔ انہوںنے کہاکہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دونوں اتحادی جماعتیں ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ حیرت ہے ایم کیو ایم کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض نہیں لگایا۔ جسٹس عمر عطاء بندیا لنے کہاکہ کسی کے دماغ کو نہیں پڑھ سکتے،نظر ثانی درخواستوں پر متعلقہ عدالت فیصلہ کریگی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ فیض آباد دھرنہ فیصلے کے کتنے عرصے بعد ریفرنس دائر ہوا۔ منیر اے ملک نے کہاکہ 10 اپریل 2019 کو وحید ڈوگر کی شکایت موصول ہوئی۔ منیر اے ملک نے کہاکہ فیض آباد دگرنہ کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019 کو سنایا گیا،پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی درخواستوں میں ایک جیسے سوالات اٹھائے گئے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کیا نظر ثانی درخواست میں جج کے خلاف کاروائی کا کہا گیا تھا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ جج کو ضمیر کی آواز تک بنچ سے الگ نہیں ہونا چاہیے۔ منیر اے ملک نے کہاکہ 7 ماہ سے نظر ثانی درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی،وزیر قانون کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے۔منیر اے ملک نے کہاکہ پی ٹی آئی کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان ہیں،اتحادی جماعتوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مشترکہ کوشس کی۔ انہوںنے کہاکہ فیض آباد دھرنا کیس فیصلہ دو رکنی بینچ کا تھا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ اگر ریفرنس دو ججز کے خلاف ہوتا تو کیا بفنیتی نہ ہوتی۔وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ اگر ریفرنس دونوں ججز کے خلاف ہوتا تو میرا موقف مختلف ہوتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ممکن ہے درخواست گزار چاہتے ہوں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس نہ سنیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ کیا عدالتی فیصلے کی بنیاد پر ریفرنس دائر ہو سکتا ہے؟۔منیر اے ملک نے کہاکہ وزیر قانون جانتے ہیں کہ جج کو اس انداز میں نہیں ہٹایا جا سکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ لگتا ہے دونوں جماعتوں کے وکلاء نے ڈرافٹ کا تبادلہ کیا ہے،دونوں جماعتوں نے کمپیوٹر بھی ایک ہی استعمال کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ دونوں درخواستیں ایک ہی فونٹ میں لکھی گئیں۔ منیر اے ملک نے کہاکہ خرابی طبیعت کے باعث زیادہ دلائل نہیں دے سکتا جس پر عدالت نے کیس کی سماعت (آج) ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی ۔
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...
آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...
میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...