وجود

... loading ...

وجود

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل

منگل 15 اکتوبر 2019 فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،موکل نے کسی معززجج کیخلاف تعصب یاذاتی عناد کاالزام نہیں لگایا، فل کورٹ اورالگ ہونے والے ججز پرکوئی اعتراض نہیں، اعلی عدلیہ کے ججز پر دبائو ڈالنا اس کیس کی جان ہے، لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے 2004 میں لیا، پہلا فلیٹ خریدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسی جج بنے، دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسی کے بچوں نے لیا، 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تھے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بے ایمانی یا کرپشن کا کوئی الزام نہیں، وہ براہ راست یا بالواسطہ فلیٹس کے بینیفیشل مالک نہیں،28 مئی 2019 سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی مہم جاری ہے، انہوں نے مستقبل میں چیف جسٹس بننا ہے، ان سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، اعلی آئینی عہدوں پر بیٹھے افراد کے اخراجات سے اختلاف ہے،سپریم کورٹ نے جج بنتے وقت بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اثاثوں کا جائزہ لیا ہوگا، جب وہ جج بنے تو سالانہ تنخواہ ماہانہ آمدن کے برابر آگئی، 2009 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آمدن سالانہ 36 ملین روپے تھی، ان کی لا فرم سب سے زیادہ ٹیکس دیتی تھی۔ پیر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیخلاف درخواستوں پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی لارجر بینچ نے کی ۔دور ان سماعت ایک وکیل نے بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال پر اعتراض اٹھا دیا اور کہاکہ میں نے آپ کیخلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے۔ وکیل نے کہاکہ آپ بینچ سے الگ ہو جائیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ میرے خلاف ریفرنس کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل کریگی۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ آپ روسٹرم سے ہٹ جائیں،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ آپکا لہجہ درست نہیں۔ وکیل نے کہاکہ مجھ پر توہین عدالت لگانی ہے تو لگا لیں عدالت سے نہیں جائوں گا۔ دور ان سماعت فل کورٹ بینچ نے صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو طلب کر لیا ۔وکیل کی جانب سے عدالت میں ہنگامہ آرائی پر صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وکیل کو روسٹرم سے ہٹا دیا ۔ وکیل نے کہاکہ کچھ معلوم نہیں میرے ریفرنس پر کیا کارروائی ہوئی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ کسی معزز جج کیخلاف تعصب یا ذاتی عناد کا الزام نہیں لگا،فل کورٹ اور الگ ہونے والے ججز پر کوئی اعتراض نہیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ بینچ نے ساتھی ججز پر اعتراض مسترد کر دیا تھا۔ منیر اے ملک نے کہاکہ اعلی عدلیہ کے ججز پر دبائو ڈالنا اس کیس کی جان ہے،اعلیٰ عدلیہ کی آزادی کیلئے لوگوں نے جانوں کے نذرانے دئیے۔ انہوںنے کہاکہ لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے 2004 میں لیا،پہلا فلیٹ خریدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جج بنے،دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بچوں نے لیا۔منیر اے ملک نے کہاکہ 2013 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ تھے۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ براہ راست یا بالواسطہ فلیٹس کے مالک نہیں۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فلیٹس کے بینیفیشل مالک نہیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بے ایمانی یا کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ منیر اے ملک نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور صدر پاکستان دونوں آئینی عہدے رکھتے ہیں،توقع ہے فریقین آئینی عہدوں کے تقدس کا خیال رکھیں گے۔ انہوںنے کہاکہ اعلی آئینی عہدوں پر بیٹھے افراد کے اخراجات سے اختلاف ہے۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ منیر اے ملک نے کہاکہ ریفرنس دائر ہونے سے پہلے جسٹس فائز عیسی کیخلاف شکایت آئی۔ انہوںنے کہاکہ شکایت ملنے کے بعد متعلقہ مواد جمع کیا گیا،صدر پاکستان نے تیسری سٹیج پر اپنی رائے قائم کی۔ انہوںنے کہاکہ چوتھے مرحلے میں ریفرنس باضابطہ دائر کیا گیا،جوڈیشل کونسل نے جس انداز میں کارروائی کی وہ بھی سامنے لائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مستقبل میں چیف جسٹس بننا ہے،انہوںنے کہاکہ 28 مئی 2019 سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی مہم جاری ہے،لائرز ایکشن کمیٹی اور اثاثہ جات ریکوری یونٹ بھی ریفرنس پر بات کرتے ہیں۔منیر اے ملک نے کہاکہ صدر مملکت اور معاون خصوصی برائے اطلاعات نے بھی صدارتی ریفرنس پر بات کی۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اب اپنے دفاع کا موقع عدالت میں ملا ہے،کہا گیا کہ قاضی فائز عیسی جج بننے کے اہل نہیں۔منیر اے ملک نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے والد قائداعظم کے قریبی دوست تھے۔ انہوںنے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی لا فرم سب سے زیادہ ٹیکس دیتی تھی۔منیراے ملک نے کہاکہ 2009 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آمدن سالانہ 36 ملین روپے تھی،جج بنے تو سالانہ تنخواہ ماہانہ آمدن کے برابر آگئی۔منیر اے ملک نے کہاکہ سپریم کورٹ نے جج بنتے وقت بھی جسٹس قاضی فائز عیسی کے اثاثوں کا جائزہ لیا ہوگا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ نے کوئٹہ کمیشن کا سربراہ بنایا۔منیر اے ملک نے کہاکہ کوئٹہ کمیشن نے انٹیلی جنس اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے،فیض آباد دھرنہ کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف بنیاد بنا۔منیر اے ملک نے فیض آباد دھرنہ کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ انہوںنے کہاکہ فیض آباد دھرنہ کیس کیخلاف آٹھ نظر ثانی درخواستیں آئیں،پی ٹی آئی،ایم کیو ایم,وزارت دفاع سمیت شیخ رشید نے بھی نظر ثانی درخواستیں دائر کیں۔ انہوںنے کہاکہ تمام نظر ثانی درخواستیں باہمی مشاورت سے دائر ہوئیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ خیال رکھیے گا نظر ثانی درخواستوں پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا،کوئی ایسی آبزرویشن نہ آجائے جس سے نظر ثانی کیس متاثر ہو۔منیراے ملک نے کہاکہ صرف نظر ثانی درخواستیں پڑھ کر سناوں گا تبصرہ کیے بغیر۔ انہوںنے کہاکہ کہا گیا فوجی اہلکاروں اور افسران کے درمیان عدالتی فیصلے سے خلیج پیدا کی گئی،درخواستوں میں کہا گیا عدالتی فیصلے سے افواج پاکستان کا مورال کم ہوا۔منیر اے ملک نے کہاکہ فیض آباددھرنہ کیس کا فیصلہ جو پڑھ کر سنایا آپکو پسند ہو یا نا یہ سپریم کورٹ کے بینچ کا فیصلہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ فیصلہ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا دیا ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی کی نظر ثانی درخواست وزارت دفاع کی درخواست سے زیادہ سخت ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ ان درخواستوں کا حوالہ نہ دیں جو واپس لی جا چکی ہیں۔منیر اے ملک نے کہا کہ بنیادی طور پر جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف مائنڈ سیٹ ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایم کیو ایم کی درخواست واپس نہیں لی گئی تھی،دو الگ وکلا نے درخواستیں دائر کی تھیں۔ انہوںنے کہاکہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی دونوں اتحادی جماعتیں ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ حیرت ہے ایم کیو ایم کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض نہیں لگایا۔ جسٹس عمر عطاء بندیا لنے کہاکہ کسی کے دماغ کو نہیں پڑھ سکتے،نظر ثانی درخواستوں پر متعلقہ عدالت فیصلہ کریگی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ فیض آباد دھرنہ فیصلے کے کتنے عرصے بعد ریفرنس دائر ہوا۔ منیر اے ملک نے کہاکہ 10 اپریل 2019 کو وحید ڈوگر کی شکایت موصول ہوئی۔ منیر اے ملک نے کہاکہ فیض آباد دگرنہ کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019 کو سنایا گیا،پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی درخواستوں میں ایک جیسے سوالات اٹھائے گئے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کیا نظر ثانی درخواست میں جج کے خلاف کاروائی کا کہا گیا تھا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ جج کو ضمیر کی آواز تک بنچ سے الگ نہیں ہونا چاہیے۔ منیر اے ملک نے کہاکہ 7 ماہ سے نظر ثانی درخواستوں پر سماعت نہیں ہوئی،وزیر قانون کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے۔منیر اے ملک نے کہاکہ پی ٹی آئی کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان ہیں،اتحادی جماعتوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف مشترکہ کوشس کی۔ انہوںنے کہاکہ فیض آباد دھرنا کیس فیصلہ دو رکنی بینچ کا تھا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ اگر ریفرنس دو ججز کے خلاف ہوتا تو کیا بفنیتی نہ ہوتی۔وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ اگر ریفرنس دونوں ججز کے خلاف ہوتا تو میرا موقف مختلف ہوتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ممکن ہے درخواست گزار چاہتے ہوں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس نہ سنیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ کیا عدالتی فیصلے کی بنیاد پر ریفرنس دائر ہو سکتا ہے؟۔منیر اے ملک نے کہاکہ وزیر قانون جانتے ہیں کہ جج کو اس انداز میں نہیں ہٹایا جا سکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ لگتا ہے دونوں جماعتوں کے وکلاء نے ڈرافٹ کا تبادلہ کیا ہے،دونوں جماعتوں نے کمپیوٹر بھی ایک ہی استعمال کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ دونوں درخواستیں ایک ہی فونٹ میں لکھی گئیں۔ منیر اے ملک نے کہاکہ خرابی طبیعت کے باعث زیادہ دلائل نہیں دے سکتا جس پر عدالت نے کیس کی سماعت (آج) ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی ۔


متعلقہ خبریں


پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں وجود - جمعرات 14 مئی 2026

اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ وجود - جمعرات 14 مئی 2026

یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

مضامین
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب وجود جمعرات 14 مئی 2026
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

ایان اور پنکی وجود جمعرات 14 مئی 2026
ایان اور پنکی

وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں! وجود جمعرات 14 مئی 2026
وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں!

مہنگے پیٹرول کا چکر وجود جمعرات 14 مئی 2026
مہنگے پیٹرول کا چکر

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر