وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

منگل 15 اکتوبر 2019 معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

افغان طالبان کا وفد اسلام آباد پہنچا تو ان کی بدن بولی میں جہاں خاموشی اور انکساری تھی وہاں ایک بڑی فتح کا تاثر بھی ان کے چہروں سے عیاں تھا۔ان تاثرات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ امریکا سمیت کسی کی بات ماننے اسلام آباد نہیں آئے ہیں بلکہ اپنی بات منوانے آئے ہیں اور بعد کے حالات نے یہ ثابت بھی کیا ہے۔اسلام آباد میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام چاہتے تھے کہ افغان طالبان امریکا کی فرمائش پر پہلے جنگ بندی کا اعلان کردیں اس کے بعد امریکا کے ساتھ مذاکرات کا نیا دور شروع کیا جائے لیکن جس وقت افغان طالبان کے وفد نے پاکستانی حکام پرت واضح کردیا کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدے تک جنگ بندی کا اعلان نہیں کریں گے اور امریکا کے افغانستان سے انخلاء کے بعد اسے افغانستان کی سرزمین پر ایک عسکری اڈہ بھی نہیں دیا جائے گااس کے علاوہ افغان طالبان نے معاہدے کی یقین دہانی کے بغیر امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد سے بھی ملاقات سے انکار کردیاتو پاکستانی حکام کے لیے یہ بات حیرت کا سبب بن گئی کہ یہ تو 2000ء کی دہائی والے افغان طالبان جنگجو نہیں ہیں۔

افغان طالبان نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام سے طویل ملاقاتیں کیں اور افغان مہاجرین کے قیام اور افغان عوام کے طبی علاج معالجے کے ضمن میں پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا ۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کوشش تھی کہ افغان طالبان وفد امریکی خواہشات کے مطابق مذاکرات یا معاہدے سے پہلے جنگی بندی کا اعلان کردیںجس پر افغان طالبان کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں جنگ بندی کی شق شامل ہے جبکہ اس حوالے سے روس اور چین کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی اس سلسلے میں آگاہ کردیا گیا تھا اور اب پاکستانی حکام کو بھی سمجھنا چاہئے کہ افغان طالبان اور افغان عوام آپس میں بھائی چارے میں بندھے ہوئے ہیں اور یہی افغان عوام افغان طالبان کی پشت پر ہیں اس لیے امریکا کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد افغان آپس میں بیٹھ کر حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت کرسکتے ہیں اس سلسلے میں کسی بیرونی قوت کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

حقیقت یہ ہے اور ہمیں بھی اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ واقعی حالات اور معاملات کے سروں پر بڑے بڑے موسم آتے ہیں ہر دور میں ہر کوئی ایک جیسا نہیں رہتا۔ نوئے کی دہائی کے افغان طالبان کچھ اور تھے نائن الیون کے ڈرامے کے بعد جس وقت امریکا اپنے صہیونی دجالی اتحاد نیٹو کے ساتھ موجودہ دور کے سب سے بڑے بت ’’ٹیکنالوجی‘‘ کے سہارے افغانستان پر ٹوٹ پڑا تواس وقت افغان طالبان اپنوں اور غیروں کے حوالے سے نئے تجربات سے دوچار ہوئے اور امریکی حملے کے پانچ برس بعد تک انہوں نے حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کیے رکھی ، اس دوران افغان طالبان نے اپنا تمام تنظیمی ڈھانچہ بدل ڈالا جو باہر کی دنیا کے لیے نہ سمجھ آنے والی چیز تھی۔ اس کے بعد افغان مزاحمت ایک نئے دور میں داخل ہوئی اور امریکا کو تھکا دینے کا عمل شروع ہوایوں انیس برس کی عسکری جدجہد کے بعد انہوں نے بامیان کے بت کی طرح امریکا اور مغرب کی دجالی قوت یعنی عسکری ٹیکنالوجی کا بت بھی پاش پاش کرکے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

اس دوران امریکا کے مغربی اتحادی ممالک ایک ایک کرکے افغانستان سے بوریا بستر گول کرتے گئے، بہت سے مغربی ممالک جن میں فرانس سرفہرست تھا نے خاموشی کے ساتھ افغان طالبان سے خاموش معاہدہ کیا کہ جب تک اس کے فوجی دستے افغانستان میں موجود ہیں اور لڑائی میں حصہ نہیں لیتے ان پر حملہ نہ کیا جائے اس کے بدلے وہ افغان طالبان کو ’’خراج‘‘ تک ادا کرتے رہے، اس دوران امریکا نے بھی بڑے کھیل کھیلنے کی کوشش کی ترغیب اور لالچ کی بساط بچھائی، طالبان کو کابل انتظامیہ میں حصہ دینے کی پیشکش کی گئی لیکن بات نہ بن سکی۔ غرض کے بہت سے ایسے معاملات ہیں جنہیں افغانستان کے حوالے سے اکیسویں صدی کا معجزہ ہی کہا جاسکتا ہے۔

اب جہاں معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہوںاور اسی فیصد افغانستان پر ان کا سکہ چلتا ہو تو افغان طالبان پیاز سے روزہ کھولنے پر رضامند نہیں ان کے نزدیک مسئلے کی اصل جڑ امریکا ہے جو یہاں سے ’’باعزت‘‘ نکلنا بھی چاہتا ہے اور یہاں اپنے مستقبل عسکری اڈے بھی قائم کرنا چاہتا ہے جو کسی صورت افغان طالبان کو منظور نہیں۔ اس لیے افغان طالبان کی حقیقی حکمت عملی یہ ہے کہ پہلے امریکا سے مکمل طور پر جان چھڑائی جائے اس کے بعد افغانوں کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی وہ منصوبہ کرچکے ہیں اس سلسلے میں ان کے رہنمائوں کی دیگر افغان سیاسی شخصیات کے ساتھ طویل ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں۔

افغان طالبان کے دورہ اسلام آباد کے دوران ان کی وزیر اعظم عمران کان سے ملاقاتوں کی خبریں بھی منظر عام پر آئیں لیکن جب معاملات میں مطلوبہ پیش رفت نہ ہوسکی تو پاکستانی مشیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ افغان طالبان کی وزیر اعظم عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔۔۔جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے وزیر اعظم عمران کان کے ساتھ ملاقات میں اپنے اصولی موقف کو دہرایا اور واضح کیا کہ معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے وہ کسی طور بھی افغانستان میں جنگ بندی نہیں کریں گے۔بدقسمتی یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت میں ان کے پاس ایسا کوئی مشیر یا وزیر نہیں جسے افغان امور اور افغان طالبان کے حوالے سے خاطر خواہ آگاہی ہوحالانکہ افغانستان کا مسئلہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے پاکستان کا امن افغان معاملات سے جڑا ہوا ہے اس کے علاوہ امریکا اور نیٹو کی موجودگی میں وہاں بھارت اور اسرائیل نے مختلف شکلوں میں اپنے پنجے گاڑے ، افغان سرزمین اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ایسی صورت میں حکومت پاکستان کے اندر ایسے شخصیات کا موجود ہونا لازمی تھا جو اس معاملے کو گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت رکھتیں لیکن وزیر اعظم عمران خان کو نکال کر موجودہ سیٹ اپ میں جو چھان بھورا جمع ہوگیا ہے وہ اپنے معاملات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔

اس میں شک نہیں کہ یہ پاکستان اور اس کے اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے کیونکہ ایک طرف بھارت کو سوچی سمجھی چال کے تحت مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کا گرین سگنل دیا گیا تھا تاکہ پاکستان پر دبائو ڈال کر افغانستان میں مقاصد حاصل کیے جاسکیں لیکن دنیا بھول جاتی ہے کہ زمین کے باسی صرف فیصلہ کر سکتے ہیں جبکہ نتائج کا تعین یہاں نہیں بلکہ آسمانوں پر ہوتا ہے ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ سوویت یونین افغانستان میں اس لیے وارد نہیں ہوا تھا کہ نتیجے کے طور پر وہ خود ہوا میں تحلیل ہوجائے گا یہی معاملہ امریکا کا ہے وہ مکمل تیاری اور تاریخی پس منظر کو سامنے رکھ کر افغانستان میں وارد ہوا تھا نائن الیون اس کے افغانستان میں داخل ہونے کا سبب نہیں تھا خود بہت سے مغربی مصنفین اس جانب اشارہ کرچکے ہیں کہ افغانستان پر حملے کا منصوبہ نوئے کی دہائی میں ترتیب پا چکا تھا لیکن آج انیس برس بعد امریکا کہاں کھڑا ہے اور افغان طالبان کی کیا پوزیشن ہے۔۔۔ امریکا نے افغانستان کی بساط پر مات دینے کے لیے بھارت کے مہرے کو مقبوضہ کشمیر میں بڑھایا تھا لیکن اب بھارت کو خود شہہ مات کا سامنا ہے۔ امریکا کا خیال تھا کہ اس طرح پاکستان کو دبائو میں لیکر اسے ثالثی کی سرخ بتی کے پیچھے لگاکر افغانستان میں اس کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر چلائی جائے گی لیکن افغان طالبان کے تابڑ توڑ حملوں نے اس کے اس منصوبے کو خاک میں ملا دیا بلکہ بھارت کو اب مقبوضہ کشمیر میں لینے کے دینے پڑے ہوئے ہیںوہاں بڑے بڑے بینک اور صنعتیں بند ہورہی ہیں، عوام بینکوں کے سامنے دہائیاں دے رہے ہیں، دوسری جانب افغانستان میں طالبان قیادت میں طالبان کمانڈروں کا پلڑا بھاری ہوچکا ہے جو کسی طور بھی امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تیار نہیںاس لیے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ طالبان کمانڈروں کی مرضی کے بغیر کسی قسم کے مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے۔

پاکستان کو اس جانب بھی دیکھنا ہوگا کہ صرف آئی ایم ایف اور دیگر مغربی دجالی صہیونی مالیاتی اداروں کی بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے نہ تو ہم افغان طالبان کی مرضی کے خلاف انہیں کسی بات پر قائل کرسکتے ہیں اور نہ ہی اب مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی امنگوں کے برخلاف کوئی پالیسی ترتیب پاسکتی ہے۔جنرل ضیاء الحق شہید نے ٹھیک کہا تھا کہ ’’امریکا سے دوستی کوئلوں کی دلالی کے مترادف ہے جس میں صرف منہ کالا ہی کیا جاسکتا ہے‘‘۔مقبوضہ کشمیر میں طویل کرفیو نے بھارت کی سایسی اور معاشی چولیں ہلا دیں ہیں اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور اس کے اتحادی خلیجی ملکوں نے بھاری سرمایہ کاری کا جو خواب بھارتی برہمن بنیے کو دکھایا تھا وہ بھی اب چکنا چور ہوچکا ہے۔
اس لیے افغان طالبان کے موقف کے خلاف جانا نہ صرف پاکستان بلکہ چین، روس اور ایران کے لیے بھی مستقبل میں نقصان دے ہوسکتا ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ روس، چین اور ایران کی جانب سے افغان طالبان پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کوئی دبائو نہیں ہے۔ خود چین اور روس چاہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امریکا اور اس کے حواریوں کو افغانستان سے چلتا کرنے کے بعد دوبارہ اس کے اس خطے میں گھسنے کے امکانات ختم کردیئے جائیں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آنے والے وقت میں یہ خطہ بڑی معاشی سرگرمیوں کا مرکز بننے جارہا ہے اور خطے کی کوئی قوت اس بات پر رضا مند نہیں کہ اس خطے کو دوباہ جنگ وجدل میں جھونک دیا جائے اس سے صرف ایک یا دو ملکوں کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ خطے کے تمام ممالک کی معاشی سرگرمیاں دائو پر لگ سکتی ہیں۔ امریکا افغانستان میں اپنے عسکری اڈوں کے قیام کا جو خواب دیکھ رہا ہے اس کے پیچھے یہی منصوبہ کارفرما ہے کہ جب جی چاہئے یہاں جنگی صورتحال پیدا کرکے روس اور چین کی معاشی سرگرمیوں کو ثبوتاز کیا جاسکے اس کے ساتھ ساتھ جس وقت اسرائیل کی دجالی صہیونی ریاست کو مشرق وسطی کا کنڑول تھماکر اس کی عالمی سیادت کا اعلان کیا جائے تو اس خطے سے کسی قسم کی مزاحمت سامنے نہ آسکے۔

اسی مقصد کے تحت مودی جیسے پالتووں کو اس خطے میں پنپنے کا موقعہ فراہم کیا گیا تھا خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کو عوامی انقلاب سے خوفزدہ کرکے انہیں اپنی رکاب میں کھڑا کیا گیامشرق وسطی میں جہاں بھی اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا شک ہوسکتا تھا وہاں کی حکومتوں کو ’’عرب اسپرنگ‘‘ کی نظر کروا دیا گیا باقی سب اچھے بچوں کی طرح سیدھے ہوگئے لیکن بازی افغانستان میں آکر الٹ گئی ہے۔ عراق میں امریکا نواز حکومت کے خلاف مظاہروں میں سنی شیعہ بھائی بھائی کے نعرے گونج رہے ہیں۔ وہ عرب ممالک جو ماضی میں عراق کے خلاف امریکا کے تزویراتی اتحادی بنے تھے اب حالات کے جبر کے تحت تھر تھر کانپ رہی ہیں، سعودی عرب اور ایران کے درمیان مصالحتی ’’بیک ڈور ڈپلومیسی‘‘ کی خبریں گرم ہیں۔ دنیا میں پالیسی سازی کا محور تیزی کے ساتھ ایشیا کی جانب سرک رہا ہے بیس برسوں پر محیط مشرق وسطی اور افغانستان میں مار ڈھاڑ نے امریکا کی معاشی چولیں ہلا دیں ہیںاب وہی ممالک فائدے میں رہیں گے جو اپنے اپنے مفادات کے تحت وقار کے ساتھ مصالحت کا راستہ اختیار کریں گے۔ افغانستان میں امریکی عسکری اڈوں کے قیام کو مذاکرات سے مشروط کرنا خطے میں نفاق کے مزید بیج بونے کے مترادف ہوگا جسے نہ چین قبول کرے گا اور نہ روس۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ امریکا کو افغان طالبان کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے امریکا نے اس خیال کے ساتھ افغانستان میں انتخابات کی چال چلی تھی کہ اپنی منظور نظر کابل انتظامیہ کی انتخابی فتح کو افغان طالبان کے خلاف دبائو کے لیے استعمال کرے گا لیکن بیس فیصد ٹرن آئوٹ نے ثابت کردیا کہ امریکا کی یہ چال بھی بری طرح پٹ چکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں