وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)

پیر 14 اکتوبر 2019 پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

دوستو،آپ کو یاد ہوکہ نہ یاد ہو،ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا، اب سے کچھ روز پہلے تک کپتان کی اقوام متحدہ میں تقریر کی بڑی دھوم مچی تھی۔۔کشمیر کا مسئلہ میڈیا پر پھر سے زندہ ہوگیا تھا، لیکن یہ سلسلہ زیادہ روز چل نہ سکا، پھر اچانک سے کہانی نے یوٹرن لیا اب ایک اور دھرنے کے چرچے ہیں۔۔ میڈیا پر اب صرف اور صرف آزادی مارچ،دھرنا اور کیپٹل کی باتیں ہورہی ہیں۔۔ سارے دانش ور،مفکرین اور تجزیہ کار اس پر اپنی اپنی مہارت کے نمونے پیش کررہے ہیں۔۔ آنے والے کچھ دنوں میں یہ گرماگرمی مزید بڑھے گی چنانچہ آج کا دن خوشگوار بنانے کے لئے ہم حسب روایت موجود ہیں۔۔ایک صاحب کا کمپیوٹر خراب ہو گیا۔ انہوں نے ایک ٹیکنیشن کو بلایا۔ ٹیکنیشن نے ان سے کہا کہ آپ کا کمپیوٹر چیک کرنے کے لئے مجھے آپ کے پاسورڈ کی ضرورت ہو گی۔ وہ صاحب بولے کہ میرا پاسورڈ۔۔ سوپرمین، بیٹ مین ،آئرن مین، پنک پینتھر، مکی ماوس اسلام آباد ہے۔ ٹیکنیشن نے کہا کہ بہت عجیب پاسورڈ ہے۔ ایسا پاسورڈ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟؟۔۔۔ وہ صاحب بولے ۔۔ یہ ہدایات مجھے کمپیوٹر سے ہی ملی تھیں۔ اس میں لکھا تھا کہ آپ کے پاسورڈ میں کم از کم پانچ کریکٹر اور ایک کیپیٹل ضرور ہونا چاہئے۔۔

لیجنڈ مزاح نگار مشتاق یوسفی کا کہنا ہے۔۔سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے جو شخص غصے یا گالی کو کنٹرول کرلے وہ ’’ولی ‘‘ہے یا پھر خود ان حالات کا ذمہ دار۔۔۔اس لیے ہم غصہ کررہے ہیں نہ ہی گالی دے رہے ہیں،البتہ آج سیاست کے حوالے سے کچھ ہلکی پھلکی باتیں کررہے ہیں، کیوں کہ فی زمانہ سیاست اور مذہب دو ایسے موضوعات ہیں جن پر بات کرتے ہوئے فریقین کا پارہ اچانک ہائی ہوجاتا ہے اور بات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ تلخ کلامی سے ماراماری تک جاپہنچتی ہے۔۔ ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ آج کل گھوڑے اور گدھے میں کوئی فرق نہیں۔۔ کیوں کہ اسمبلیوں میں جب ووٹوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے تو اکثریت ’’ہارس‘‘ بن جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے ہارس ٹریڈنگ یعنی گھوڑوں کی تجارت کہاجاتا ہے ، اور جب ان لوگوں کا کوئی کام پھنس جائے تو یہ گدھے کو بھی باپ بنالیتے ہیں، اس لیے گدھے ہی کہلاتے ہیں۔۔

ہمارے پیارے دوست کا دعویٰ ہے کہ ، پاکستان میں سائیں قائم علی شاہ کے بعد سب سے زیادہ پرانی اشیا میں امریکن سنڈی اور مالاکنڈ کی برف باری ہے۔۔وہ مزید کہتے ہیں جس طرح سے ’’چینی‘‘ کا چائنا سے کوئی تعلق نہیں، ’’ بھُٹے‘‘ کا بھوٹان سے، کشمیری کا کشمیری چائے، ’’افغانی ‘‘کا افغانی پلاؤ۔۔’’چاول‘‘ کا رولز رائس سے کوئی تعلق نہیں، اسی طرح سے تحریک انصاف سے’’انصاف‘‘ کا بالکل بھی کوئی تعلق نہیں۔۔گزشتہ روز انہوں نے فون کرکے ایسا سوال پوچھا کہ ہم اب تک لاجواب ہیں۔۔پیارے دوست پوچھ رہے تھے کہ اگر لڑکی پی ٹی آئی کی ہو اور لڑکا نون لیگ کا تو کیا ان کا نکاح ہوجائے گا؟؟؟۔۔انہوں نے ہی ہمیں اطلاع دی کہ ۔۔ہمارے ایک دوست کے گھر لڑکی والے دیکھنے آئے۔۔ پھر ہوا یوں کہ وہ ہمارے دوست کی خاموشی کو انکار سمجھ کر چلے گئے حالانکہ اس بیچارے کے منہ میں ’’گٹکا‘‘ تھا۔۔ویسے کراچی والے ان دنوں گٹکا،ماوا اور مین پوری کے خلاف پوری ریاستی مشینری کے استعمال پر حیرت زدہ ہیں۔۔ایک ایسے شہر میں جہاں آئی جی سندھ کے اہل خانہ کو بھی اسٹریٹ کرمنلز نے معاف نہ کیا اور انہیں لوٹ لیا، وہاں پوری پولیس فورس اور رینجرز کو گٹکا مافیا کی سرکوبی پر لگادیاگیا۔۔حالانکہ گٹکے سے زیادہ خطرناک آئس، ہیروئین اور دیگر نشے ہیں جو کھلے عام فروخت ہورہے ہیں، اس سے زیادہ خطرناک اسٹریٹ کرائمز ہیں جو اس حد تک درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ جیب سے موبائل یا پیسے نہ نکلنے پر گولی مارنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔۔.

ایک بڑبولے قسم کے وزیرکو ڈینگیں مارنے کی عادت تھی، ایک ’’گیدرنگ‘‘ میں لمبی لمبی ’’پھینک‘‘ رہے تھے، کہنے لگے، پچھلے دنوں اپنے مکان کی تعمیر کے لئے مجھے اپنے گاؤں جانا پڑا۔۔جب زمین کھدوائی گئی تو بجلی کی تاریں دستیاب ہوئیں۔۔اور بجلی کی وہ تاریں اندازا دو تین ہزار سال پرانی تھیں۔۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دو تین ہزار سال پہلے بھی ہمارے گاؤں میں بجلی موجود تھی ۔۔ان کے ایک دوست جن کا فیصل آباد سے شاید تعلق تھا کمال متانت سے برجستہ بولے۔۔ جی ہاں، اور میں نے اپنا مکان بنوانے کے لئے جب زمین کھدوائی تو کچھ بھی نہیں ملا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرانے وقتوں میں ہمارے گاؤں میں موبائل فون استعمال کیا جاتا تھا۔۔کلاس میں اردو گرامر کا پیریڈ چل رہا تھا، ٹیچر نے بچوں سے سوال کیا، بچو، میں جملہ بولتا ہوں، آپ بتائیں گرامر کی رُو سے یہ کون سا زمانہ ہے؟؟ میں رو رہا ہوں۔۔تم رو رہے ہو۔۔ہم رو رہے ہیں ۔۔اب بتاؤ یہ گرائمر کی رو سے کونسا زمانہ ہے ؟بچوں نے یک زبان ہوکر جواب دیا۔۔ جناب،یہ تو پی ٹی آئی کا زمانہ ہے۔۔تحریک انصاف نے یو ٹرن لیا تھا مگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے مل کر گول چکر متعارف کروا دیا تاکہ عوام سڑکوں پہ ہی گھومتے رہیں۔۔کہتے ہیں،مرد ہمیشہ عورت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور جب سمجھ آتی ہے۔تو لگ سمجھ جاتی ہے۔۔بس اب جملے میں مرد کی جگہ عوام اور عورت کی جگہ حکومت کو کرلیں، اور ایک بار پھر اس جملے کا لطف اٹھائیں۔۔نیویارک کے ایک ’’پب‘‘میں بحث ہورہی تھی، موضوع الیکشن تھا، برطانوی گورا بولا، ہمارے ملک میں پوسٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت ہے۔ جرمن باشندہ کہنے لگا، ہمارے ملک میں ترقی کا یہ عالم ہے کہ انٹرنیٹ سے آن لائن ووٹ کاسٹ ہوجاتا ہے۔ امریکی نے کہا، ہم اتنی ترقی کرچکے ہیں کہ موبائیل میسیج سے ہی ووٹ ڈال دیتے ہیں۔ آخر میں پاکستانی کا نمبر آیا، معصومیت سے کہنے لگا۔۔ ہم لوگ گھر پر ہی بیٹھے رہتے ہیں اور ہمارا ووٹ کوئی کاسٹ کرجاتا ہے۔یہ ہوتی ہے اصلی ترقی۔۔۔ترقی ہویا تبدیلی اصل میں ہوتی کچھ اورنظر کچھ آتی ہے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔تاریخ گواہ ہے،بچپن سے لے کر اب تک ہر چیز کو یو ٹرن لیتے دیکھا ہے۔۔سوائے ماں کی پھینکی ہوئی جوتی کے کیا سیدھی وجتی ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں