وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ویڈیو اسکینڈل

منگل 16 جولائی 2019 ویڈیو اسکینڈل

برطانوی سیاست میں مختلف نشیب وفراز میں ڈوبنے اُبھرنے والے ونسٹن چرچل نے کہا تھا:
All the great things are simple, and many can be expressed ”
in a single word: freedom, justice, honor, duty, mercy, hope.”
(تمام عظیم چیزیں نہایت سادہ ہیں،ان میں سے اکثر تو محض ایک لفظ میں بیان کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً آزادی،
انصاف، عزت، فرض، رحم اور امید)۔
کیا واقعی بنی نوع انسان نے متنوع خیالات کی کشاکش میں عظیم مقاصد کو بیان کرنے والے ان الفاظ کو اپنے سادہ بیان میں سمجھ لیا ہے۔ آزادی اپنے فطری مفہوم میں اپنے ثمرات ہی کیا دیتی کہ خود اس تصور نے انسانوں کے عظیم لشکروں کو اپنا”قیدی“ بنا لیا۔ بھرم بھرم اور وہم وہم کے سوا یہ کبھی شاید واضح بھی ہوسکے۔ مگر انصاف تو اس سے کہیں زیادہ ایک پیچیدہ اصطلاح ہے۔ پاکستان میں یہ پتلی تماشے کے سوا کچھ نہیں۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ ونسٹن چرچل کے مطابق انصاف پاکستان میں کوئی عظیم شے بھی نہیں۔
وطنِ عزیز میں انصاف طاقت ور کے مفاد کا نام ہے۔ یہ دولت کی ایک ادنیٰ کنیز کے طور پر اِٹھلاتی، لہراتی اور گنگناتی ہے۔ طاقت اور دولت سے اِسے کوئی بھی تماش بینوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا سکتا ہے۔نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے جس طرح احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو بے نقاب کیا ہے، اس سے خود نظامِ انصاف کے اپنے کپڑے بھی سلامت نہیں رہے۔ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مریم نواز نے خود شریف خاندان کو بھی بے حجاب کردیا ہے۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے خلاف آنے والی ویڈیوز اور خود اُن کے اپنے بیانِ حلفی سے ایک بات تو پوری طرح واضح ہے کہ اُنہیں دباؤ میں لینے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ اگرچہ یہ ابھی تک واضح ہونا ہے کہ اُنہیں دباؤ میں لینے کی کوششیں کن کی جانب سے ہورہی تھیں؟ اگر جج کے بیان حلفی میں ادنیٰ بھی صداقت ہے اور وہ عمرے کے دوران میں حسین نواز سے ملے ہیں تو یہ امر واضح ہے کہ خود شریف خاندان نے بھی جج کے گرد ایک دائرہ بنا رکھا تھا۔ ظاہر ہے یہ دائرہ ”شیاطین“ سے اُن کی حفاظت کے لیے کسی جنتر منتر کا تو نہیں ہوگاکہ اُن کے دل میں ”ناانصافی“ کے وسوسے پیدا نہ ہوں۔ یہ بھی ایک تجزیہ طلب امر ہے کہ کیا یہی دباؤ کا حقیقی مرکزتو نہیں تھا۔شریف خاندان کی سیاسی تاریخ سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے۔ ابھی تک جسٹس (ر) قیوم کی احتساب بیورو کے سیف الرحمان کے ساتھ گفتگو کی آڈیو لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی۔ جس میں وہ اُنہیں تاکید کررہے تھے کہ جناب زرداری کو مقدمے میں کیا سزا سنائی جانی ہے۔ ایک جج کو انصاف ”ڈکٹیٹ“ کرانے کی یہ روش شریف خاندان نے اپنی اگلی نسل کو بھی منتقل کردی ہے۔ مریم نواز اور حسین نواز کا اس اسکینڈل میں کردار اسی جانب اشارہ کررہا ہے۔ جج ارشد ملک کے کردار کی وضاحت تو بعد میں ہوگی مگر یہ پہلو تو ابھی سے واضح ہے۔ کیا جج کے گرد گھیرا ڈالنے والے افراد مسلم لیگ نون کے نہیں؟
جج ارشد ملک کے بدترین کردار کا جائزہ لینے کی جب بھی کوشش کی جائے گی تو یہ پہلو ہمیشہ مدِ نظر رہے گا کہ جج کی بنائے جانے والی ویڈیو کوئی حادثاتی واقعہ نہیں، بلکہ ایک منظم جال تھا جو سوچ سمجھ کر بچھایا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس پہلو کے ساتھ ہی یہ سوال بھی منسلک رہے گا کہ اس میں شریف خاندان کی مرضی کا عمل دخل تھا کہ نہیں؟ اس سوال کا جواب طے ہوتے ہی الزامات کی نوعیت یکسر بدل جائے گی۔ اب ذرا دھیان میں لائیں کہ جج ارشد ملک کے خلا ف جس غیر اخلاقی ویڈیو کی بات کی جارہی ہے، وہ کس جانب توجہ مرتکز کرتی ہے؟عام طور پر اس قسم کے ”کاموں“ میں دھیان طاقت ور حلقوں کی جانب جاتا ہے۔ مگر کچھ عرصے قبل چیئرمین نیب کی سامنے آنے والی ایک آڈیو ٹیپ نے یہ ثابت کیا کہ یہ کام تو کوئی اور بھی کرسکتا ہے۔ اب جو نئے حقائق یا حقائق نما مفروضے منڈی میں اچھالے جارہے ہیں، اس میں شرمناک طور پر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ جج موصوف ملتان میں تعیناتی کے دوران میں اپنی ”اٹھکیلیوں“ کا ریکارڈ کچھ سیاسی لوگوں کے ہاتھوں محفوظ کرا بیٹھے جو نواز شریف کے خلاف مقدمے کے دوران میں کافی اہمیت اختیار کرگیا کیونکہ وہ نوازشریف کے مقدمے کی سماعت کررہے تھے۔ کہاجارہا ہے کہ یہ ریکارڈ کچھ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے پاس تھا جو مول تول کرکے کروڑوں میں فروخت ہوا۔ملتان میں اس ویڈیو کا نسب جن صاحب تک جا کر ملتا ہے،وہ میاں طارق نامی شخص ہیں جو وہاں کے حلقوں میں خاصے معروف ہیں۔ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ گزشتہ چھ روز (10/جولائی) سے وہ منظر سے ”غائب“ ہیں۔ یہ بات تو سمجھنے میں ذرا بھی دشوار نہیں کہ مارکیٹ میں اس کا خریدار شریف خاندان سے بڑا کون ہوسکتا ہے؟یہ مفروضہ جج ارشد ملک کے بیان حلفی سے ایک مناسبت بھی رکھتا ہے۔ کیونکہ عام رائے کے بالکل برعکس جس غیر اخلاقی ویڈیو کا چرچا کسی اور کی جانب سے دباؤ کے لیے کیا جارہا تھا، جج موصوف کے مطابق وہ ویڈیو تو مسلم لیگ نون کے حلقوں کی جانب سے اُنہیں دکھائی جارہی تھی۔یہ پہلو بھی خوف ناک طور پر شریف خاندان کے لیے کوئی اچھے جذبات پیدا نہیں کرتا۔ اگر ان معاملات میں ذرا بھی حقیقت ہے تو اپنی نوعیت میں یہ اسکینڈل مریم نواز کی توقعات کے بالکل برخلاف نتائج پیدا کرے گا۔یہ پہلو زیر بحث لانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ پاکستان میں اس ویڈیو اسکینڈل پر جو بحث جاری ہے وہ بہت یکطرفہ قسم کی ہے۔ اور جس میں مخصوص اور من پسند قسم کے تصورات باندھے جارہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مریم نواز ”سچ“ ہی کہہ رہی ہو، پھر بھی یہ پہلو نظرانداز نہیں کیے جاسکیں گے۔
ان سارے مباحث کے باوجود بنیادی سوال ”انصاف“ کا ہے۔چرچل کے ہاں یہ عظیم چیز نہایت سادہ ہے۔ مگر پاکستان میں یہ کیا ہے؟پاکستان میں حقیقی انصاف کا حصول بھی کوئی سادہ اور قانونی طریقے سے نہیں ملتا۔ یہاں حقیقی انصاف بھی ”دباؤ“ کے بغیر نہیں مل پاتا۔ امریکی وکیل جینٹ ووڈ رینو نے ایک موقع پر کہا تھا کہ
”The keystone to justice is the belief that the legal system treats all fairly.”
”انصاف کے لیے بنیادی پتھر یہ یقین ہے کہ نظامِ قانون سب سے منصفانہ سلوک کرتا ہے“۔
کیا پاکستان میں یہ یقین کسی کو بھی حاصل ہے؟ کیا یہ یقین شریف خاندان کی حکومتوں میں کسی کو حاصل تھا؟کیا ان کے ادوارِ حکومت میں عدالتیں مختلف انداز سے بروئے کار آتی تھیں؟مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جو انصاف اُنہوں نے کسی کو نہیں دیا، وہی انصاف خود اُن کا مطالبہ
ہے۔شریف خاندان کے عہد میں عدالتیں جس طرح کام کرتی تھیں، ججز جس طرح بروئے کار آتے تھے، انصاف کے فیصلے جس قسم کے سودوں میں ظاہر ہوتے تھے، وہ تاریخ جب کبھی لکھی جائے گی، تو سر شرم سے جھکیں رہیں گے۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں ایک ہی دن دو دو چیف جسٹس کام کرتے رہے۔دو دو کمروں میں کمرہ نمبر ایک کی تختی لگی رہی اور ایک عدالت دوسری عدالت کے حکم پر امتناع جاری کرتی رہی۔ کیا نوازشریف سابق صدر جسٹس رفیق تارڑ کے ساتھ کوئٹہ ایک جہاز میں بریف کیسوں کے ساتھ تشریف نہیں لے گئے تھے؟کیا جسٹس (ر) قیوم پر اثرانداز ہونے کا واقعہ لطیفہ ہے؟درحقیقت شریف خاندان انتہائی بے ڈھنگے اور ننگے طریقے سے اسی نظامِ انصاف میں نقبیں لگانے کی تاریخ رکھتا ہے۔ آج جو عدالتیں کام کررہی ہیں اس کی موجود شکل وصورت اور انداز واطوار کی ذمہ داری خود شریف خاندان کے مختلف ادوارِ حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے۔
اس سے قطع نظر انصاف یہی ہے کہ ناانصافی کے مرتکبین کے ساتھ بھی انصاف ہی کیا جائے۔ سماج اور قانون کے اُصول بُروں کے لیے بُرے نہیں بن جاتے۔ یہ یکساں طور پر بروئے کارآتے ہیں۔ اب یہ ایک مشکل ترین سوال ہے کہ نوازشریف کے ساتھ انصاف کیسے ہو؟ درحقیقت نوازشریف کے خلاف فیصلہ صرف جج ارشد ملک کی طرف سے نہیں آیا۔ اُنہیں تاحیات نااہل سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے کیا۔ ایک کیس میں اُنہیں جج محمد بشیر نے سزا دی۔ اور ایک سزا ملک محمد ارشد کی جانب سے دی گئی۔ یہ فیصلہ ایک دن کی سماعت میں نہیں ہوا۔ اس کا پورا ٹرائل ہوا ہے۔پھر العزیزیہ کا مقدمہ خود مسلم لیگ نون کے وکلاء نے منتقل کرایا تھا۔جب پہلے مقدمے میں سزا ہوئی تو خواجہ حارث نے درخواست کی تھی کہ یہ مقدمہ دوسری عدالت میں منتقل کرایا جائے۔ چونکہ دو احتساب عدالتیں تھیں تو ایک سے دوسری عدالت میں جج ملک ارشد کے پاس یہ مقدمہ منتقل ہوا۔ یہاں پھر یہ جائزہ لینے کی ضرورت محسوس ہوگی کہ نوازشریف کے وکلاء یہ کام سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کررہے تھے یا نہیں؟کیا تب ناصر بٹ جج کو اپنے ”رابطے“ میں لے چکا تھا یا نہیں؟مریم نواز کی جانب سے یہ موقف ہنسنے پر مجبور کردیتا ہے کہ جج ارشد ملک کے ضمیر پر بوجھ تھا کہ اُنہوں نے ایک غلط فیصلہ سنا یا۔ ایک جج جو نشے میں دھت دکھائی دیتا ہے۔ عمرے پر بھی حسین نواز سے ملنے جاتا ہے۔ ملتان میں اپنی عریاں سرگرمیوں میں اس قدر بے باک ہے کہ اس کی ویڈیوتک بآسانی بن جاتی ہے۔اُنہیں ”ضمیر صاحب“ نے کیا پریشان کیا ہوگا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ جج ارشد ملک مختلف دباؤ کے درمیان جھولتے اور جھونجھتے رہے ہیں۔ شریف خاندان کے لیے اس میں واحد پہلو ناقابل برداشت ہے کہ بس اُن کے دباؤ نے کام نہیں کیا۔ جج ارشد ملک تاریخ میں ایک مثالِ عبرت بن کر رہیں گے۔ لیکن عبرت ناک انجام تو اور بھی لوگوں کا انتظار کررہا ہے۔


متعلقہ خبریں