وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

افغان جنگ میں شہریوں کی ہلاکتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

پیر    25    فروری    2019 افغان جنگ میں شہریوں کی ہلاکتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری لڑائی کے دوران صرف سال 2018 میں ماضی کے مقابلے میں سب سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے۔اعداد و شمار کے مطابق جنگ زدہ ملک میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں نے تباہی پھیلائی اور شہریوں کی ہلاکت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 2017 میں 11 فیصد تک اضافہ ہوا اور 3 ہزار 8 سو 4 افراد ہلاک اور 7 ہزار ایک سو 89 زخمی ہوئے۔اقوام متحدہ کے مطابق جب تنظیم نے اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے تو پہلی دہائی میں 32 ہزار شہری ہلاک ہوئے ، 60 ہزار زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق 2018 میں تشدد میں اضافہ ہوا اور ’شہریوں کو جان بوجھ کر ہدف‘ بنانے کی وجہ سے اموات کی تعداد میں بھی واضح اضافہ ہوا۔عالمی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر خود کش حملے طالبان یا داعش سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کی جانب سے کیے گئے۔دوسری جانب افغانستان میں امریکی مشن کے سربراہ تدامچی یاماموتو کے مطابق یہ وقت ہے کہ اس انسانی مصائب اور سانحے کو ختم کیا جائے، شہریوں کے قتل اور انہیں معذور ہونے سے بچانے کا بہترین طریقہ لڑائی کو روکنا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2018 میں امریکا اور افغانستان کی فورسز کی جانب سے فضائی حملوں میں اضافہ بھی شہریوں کی جان لینے کی ایک بڑی وجہ رہی اورریکارڈ پر ہے کہ پہلی مرتبہ فضائی آپریشنز سے 500 سے زائد شہری ہلاک ہوئے۔

امریکا کی جانب سے طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کے خلاف اپنی فضائی مہم کو تیز کیا گیا کیونکہ واشنگٹن عسکریت پسندوں پر دباؤ بڑھانا چاہتا تھا۔تدامچی یاماموتو کے مطابق شہریوں کی ہلاکت مکمل طور پر ناقابل قبول ہے لہٰذا تمام فریقین سے مطالبہ ہے وہ شہریوں کی زندگیاں تباہ کرنے اور اموات کی تعداد میں اضافے کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری طور پر اضافی ٹھوس اقدام کریں۔