امریکا، مسلمان اراکینِ پارلیمنٹ کی اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت سے نیا تنازع

امریکی کانگریس میں پہلی دو مسلمان خواتین کی جانب سے اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت کیے جانے سے ڈیموکریٹک پارٹی میں خلیج اور امریکا،اسرائیل اتحاد میں دراڑ آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق الہان عمر اور رشیدہ طالب نے گزشتہ ماہ جنوری میں ایوانِ نمائندگان میں قدم رکھا تھا اور علی الاعلان اسرائیل کے خلاف فلسطین کی بائیکاٹ تحریک اور ترک سرمایہ و پابندی (بی ڈی ایس) کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

مذکورہ تحریک کا آغاز ایک دہائی قبل ہوا تھا جس کی بنیاد 1960 میں افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کے طرز پر رکھی گئی تھی اور لوگوں اور تنظیموں سے اسرائیل کے ساتھ اقتصادی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات روک دینے اور صیہونی ریاست کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔لیکن اسرائیل کے حمایتیوں کے لیے، جس میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن اراکینِ کانگریس بھی شامل ہیں، بی ڈی ایس یہود دشمن اور اسرائیل کو لاحق ایک خطرہ ہے۔واضح رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی رکنِ کانگریس رشیدہ طالب کا تعلق فلسطین سے ہے اور الہان عمر ایک صومالی مہاجر کی بیٹی ہیں۔اس حوالے سے رشیدہ طالب کا کہنا تھا کہ بی ڈی ایس سے نسل پرستی اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب توجہ مبذول ہوگی۔

دوسری جانب الہان عمر نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی کی طرز پر امتیازی سلوک برتنے کا الزام لگایا جو تحریک کا سبب بنا لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ یہود دشمن ہیں۔دونوں مسلمان ڈیموکریٹس کی جانب سے یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور فلسطینیوں کی امداد روکنے پر توجہ دے رہی ہے۔دوسری جانب ریپبلکن اراکین بی ڈی ایس کی اس حمایت کو یہودیوں کے لیے خطرے اور ڈیموکریٹک اراکین کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج سے تعبیر کررہے ہیں۔