... loading ...
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کسی ملک نے کردار نہیں کیا، اس سلسلے میں ہمیشہ ہماری پالیسی کا عمل دخل تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق خصوصی انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر طالبان، افغانستان میں اقتدار میں آگئے تو وہ پاکستان سے ’ برادر ملک اور پڑوسی کے تحت ‘ باہمی مفادات پر مبنی جامع تعلقات کے قیام کے لیے رسائی حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سوویت یونین کے حملے کے دوران پاکستان، افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک اہم مرکز رہا یہاں تک کہ افغان شہری اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے امریکا سے مذاکرات کے محرکات سے متعلق بتایا کہ کن حالات میں وہ مذاکرات کے لیے تیار ہوئے اور ایک نئے سیاسی نظام کے لیے ان کا کیا نظریہ ہے جبکہ انہوں نے یہ اصرار بھی کیا کہ طالبان نے امریکا سے مذاکرات میں خود پہل کی۔مذاکرات کے وقت سے متعلق سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا کے حملے سے قبل طالبان نے واشنگٹن سے جنگ کے بجائے مذاکرات کا آغاز کرنے کا کہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے لیے طالبان نے 2013 میں دوحہ میں ایک سیاسی دفتر بھی کھولا تھا لیکن اس وقت واشنگٹن مذاکرات پر آمادہ نہیں تھا۔ترجمان نے بتایا کہ اب امریکا مذاکرات چاہتا ہے اس لیے انہوں نے بات چیت کا فیصلہ کیا۔طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے سے متعلق سوال پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کسی ملک نے اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا،اس میں ہمیشہ ہماری پیش قدمی اور پالیسی کا عمل دخل تھا۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کے نئے سیاسی نظام میں طالبان کا کردار اہم ہوگا تاہم انہوں نے ’ صحیح وقت سے قبل‘ تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک سیاسی نظام چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آئندہ حکومت افغانستان میں تمام قومیتوں کی نمائندگی کریگی۔ترجمان نے کہا کہ سب اس حکومت میں کردار ادا کریں گے اور کسی بحث مباحثے کے بغیر ملکی معاملات دیکھیں گے۔
ترجمان نے کہا کہ طالبان کا کوئی تدوین شدہ منشور نہیں لیکن ہمارے واضح مقاصد میں افغانستان میں قبضے کا خاتمہ، اسلامی حکومت کا نفاذ، امن و امان کا قیام، افغانستان کی تعمیرِ نو اور انتظامی امور کی فراہمی شامل ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں موجوہ کابل انتظامیہ کا آئین امریکا کے مفادات کے تحت بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کوئی ملک ایسے آئین کو قبول نہیں کرے گا جو اس وقت تیار اور مسلط کیا گیا جب ان پر بمباری جاری تھی۔ترجمان نے کہا کہ ہماری آبادی تقریباً 100 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے، ہمارے آئین کو ہمارے لیے بنایا جائے اور شریعت کی تعلیمات کی روشنی میں نافذ کیا جائے گا۔طالبان ترجمان کے مطابق جب طالبان اپنی ’ اسلامی حکومت بنائیں گے، تو وہ افغان آئین میں ضروری تبدیلیاں کریں گے اور ان امور کی تصحیح کریں گے جو شریعت کے خلاف ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ افغانستان مکمل طور پر آزاد ہوجائے، پھر علما اکٹھے ہو کر آئین میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کریں گے اور انہیں صحیح کریں گے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ میں ان سب کی نشاندہی نہیں کرسکتا کیونکہ اس کے لیے قابل علما کے تجزیے اور تحقیق کی ضرورت ہوگی، ان کی تحقیق کے بعد ہی تمام غلطیوں کا علم ہوگا۔
افغانستان میں عبوری حکومت کے ممکنہ قیام سے متعلق سوال کے جواب میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے نگراں حکومت سے متعلق کوئی بات چیت نہیں کی نہ ہی ایسی کوئی تجویز پیش کی۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان نے ’ ایک اسلامی معاشرے‘ کا خواب دیکھا تھا اور وہ حقوق کے لیے ایسا طریقہ کار تیار کرنا چاہتے ہیں جو ’ اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی نہ کرے اور معاشرے کے تمام مرد و خواتین کے لیے ہو۔انہوں نے کہا کہ اس عظیم مقصد کی خاطر ہماری قوم نے 20 لاکھ افراد کی قربانی دی، ماضی کے تمام مسائل حقیقت پر مبنی نہیں ہیں لیکن اکثر پروپیگنڈا پر مبنی ہیں۔ترجمان نے یہ بات افغان خواتین اور انسانی حقوق کے گروہوں کی تشویش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کی جنہیں 20 سال قبل ملک میں طالبان کی حکومت میں خواتین پر عائد کی گئی پابندیوں کی واپسی کا خوف ہے۔انہو ں نے کہا کہ’اس وقت جو مسائل تھے وہ شاید اس لیے تھے کہ ہم اپنے سیاسی نقطہ نظر کی تشکیل کے ابتدائی دور میں تھے یا پھر وہ سابقہ جنگ، بدعنوانی اور سنگین اصلاحات کی ضرورت کے تحت اس وقت کی ضرورت تھا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ لوگوں کی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوا اور انہوں نے بہت سے تجربات حاصل کیے ہیں، اس وجہ سے مستقبل میں خواتین اور مردوں کو ان کے تمام حقوق فراہم کرنے کے معاملات میں کوئی مسائل پیش نہیں آئیں گے۔طالبان کے ترجمان نے کہا کہ دوحہ میں امریکا سے مذاکرات میں وہ اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچے جس کے تحت امریکا کے خلاف ٹھکانوں اور اس کے مقامی حامیوں کا فوری خاتمہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ ماسکو میں بھی کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے جس کے تحت جنگ اور عسکری دباؤ کے خاتمے پر انہیں آمادہ کیا جاسکے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمیں جنگ لڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے، ہمارے دشمن ہم پر حملہ کررہے ہیں اس لیے ہم ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔افغان حکومت سے مذاکرات سے انکار پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اشرف غنی سے بات چیت سے مسائل پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں گے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ’ انہوں نے اس جھوٹی حکومت کو تسلیم کرلیا جبکہ یہ ہم پر حملہ آوروں کے جہازوں اور بمباری سے مسلط کی گئی تھی۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس بات کا مطلب یہ ہوگا کہ طالبان افغانستان کی دوسری جائز قوت کے بجائے ’ باغی ‘ تھے۔انہوں نے کہا کہ حالات میں جب کوئی بھی اس مسلط کی گئی حکومت کو تسلیم کرتا، افغان شہریوں اور ہمارے مجاہدین کے درمیان کیے جانے والے معاہدوں کو مساوات کے تحت ایک معاہدہ سمجھا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ دو مخالف قوتوں کے درمیان مذاکرات کا مطلب موجودہ مسائل کا مشترکہ حل اور امن اور استحکام کی بحالی ہیں،اس مرحلے کا مطلب کسی کے ساتھ شراکت داری نہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہاکہ طالبان کا ماننا ہے جب تک افغانستان پر قبضہ رہے گا، جنگ بندی اور افغان بات چیت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ترجمان نے کہا کہ قبضے کا سایہ ہر چیز پر پھیلا یوا ہے،فیصلہ کرنے کی طاقت حملہ آوروں کے ساتھ ہے جبکہ ہمارے رہنماؤں پر حملے اور بمباری کی جاتی ہے۔انہوں نے اصرار کیا کہ ان حالات میں وہ افغان مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے کوئی موقع نہیں دیکھ رہے۔ترجمان طالبان نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے قبضے کا خاتمہ کرنا اور اس کے بعد ہمارے اندرونی معاملات حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔طالبان کی جانب سے القاعدہ قیادت کی حمایت اور حفاظت جس کی وجہ سے 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا گیا، اس حوالے سے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے جواب دیا کہ افغانستان اسلامی امارات نے ان غیر ملکی مجاہدین ( القاعدہ کے ارکان ) کو پناہ دی تھی جو سوویت یونین کے خلاف جہاد کے دوران افغانستان آئے تھے اور یہیں رہ گئے، ان کی حفاظت مذہبی اور ثفافتی ضرورت تھی تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت ’ کوئی بھی نہیں جسے طالبان کی پناہ کی ضرورت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی امارات اپنی زمین سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کی اجازت کسی کو نہیں دے گی۔
تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...
ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...
بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...
عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...
تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...
پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...
نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...
متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...
ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...
دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...
پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...
عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...