وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کسی ملک نے کردار ادا نہیں کیا ، افغان طالبان

اتوار 10 فروری 2019 مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کسی ملک نے کردار ادا نہیں کیا ، افغان طالبان

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کسی ملک نے کردار نہیں کیا، اس سلسلے میں ہمیشہ ہماری پالیسی کا عمل دخل تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق خصوصی انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر طالبان، افغانستان میں اقتدار میں آگئے تو وہ پاکستان سے ’ برادر ملک اور پڑوسی کے تحت ‘ باہمی مفادات پر مبنی جامع تعلقات کے قیام کے لیے رسائی حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سوویت یونین کے حملے کے دوران پاکستان، افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک اہم مرکز رہا یہاں تک کہ افغان شہری اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے امریکا سے مذاکرات کے محرکات سے متعلق بتایا کہ کن حالات میں وہ مذاکرات کے لیے تیار ہوئے اور ایک نئے سیاسی نظام کے لیے ان کا کیا نظریہ ہے جبکہ انہوں نے یہ اصرار بھی کیا کہ طالبان نے امریکا سے مذاکرات میں خود پہل کی۔مذاکرات کے وقت سے متعلق سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا کے حملے سے قبل طالبان نے واشنگٹن سے جنگ کے بجائے مذاکرات کا آغاز کرنے کا کہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے لیے طالبان نے 2013 میں دوحہ میں ایک سیاسی دفتر بھی کھولا تھا لیکن اس وقت واشنگٹن مذاکرات پر آمادہ نہیں تھا۔ترجمان نے بتایا کہ اب امریکا مذاکرات چاہتا ہے اس لیے انہوں نے بات چیت کا فیصلہ کیا۔طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے سے متعلق سوال پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کسی ملک نے اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا،اس میں ہمیشہ ہماری پیش قدمی اور پالیسی کا عمل دخل تھا۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کے نئے سیاسی نظام میں طالبان کا کردار اہم ہوگا تاہم انہوں نے ’ صحیح وقت سے قبل‘ تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک سیاسی نظام چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آئندہ حکومت افغانستان میں تمام قومیتوں کی نمائندگی کریگی۔ترجمان نے کہا کہ سب اس حکومت میں کردار ادا کریں گے اور کسی بحث مباحثے کے بغیر ملکی معاملات دیکھیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ طالبان کا کوئی تدوین شدہ منشور نہیں لیکن ہمارے واضح مقاصد میں افغانستان میں قبضے کا خاتمہ، اسلامی حکومت کا نفاذ، امن و امان کا قیام، افغانستان کی تعمیرِ نو اور انتظامی امور کی فراہمی شامل ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں موجوہ کابل انتظامیہ کا آئین امریکا کے مفادات کے تحت بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کوئی ملک ایسے آئین کو قبول نہیں کرے گا جو اس وقت تیار اور مسلط کیا گیا جب ان پر بمباری جاری تھی۔ترجمان نے کہا کہ ہماری آبادی تقریباً 100 فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے، ہمارے آئین کو ہمارے لیے بنایا جائے اور شریعت کی تعلیمات کی روشنی میں نافذ کیا جائے گا۔طالبان ترجمان کے مطابق جب طالبان اپنی ’ اسلامی حکومت بنائیں گے، تو وہ افغان آئین میں ضروری تبدیلیاں کریں گے اور ان امور کی تصحیح کریں گے جو شریعت کے خلاف ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ افغانستان مکمل طور پر آزاد ہوجائے، پھر علما اکٹھے ہو کر آئین میں موجود غلطیوں کی نشاندہی کریں گے اور انہیں صحیح کریں گے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ میں ان سب کی نشاندہی نہیں کرسکتا کیونکہ اس کے لیے قابل علما کے تجزیے اور تحقیق کی ضرورت ہوگی، ان کی تحقیق کے بعد ہی تمام غلطیوں کا علم ہوگا۔

افغانستان میں عبوری حکومت کے ممکنہ قیام سے متعلق سوال کے جواب میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے نگراں حکومت سے متعلق کوئی بات چیت نہیں کی نہ ہی ایسی کوئی تجویز پیش کی۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان نے ’ ایک اسلامی معاشرے‘ کا خواب دیکھا تھا اور وہ حقوق کے لیے ایسا طریقہ کار تیار کرنا چاہتے ہیں جو ’ اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی نہ کرے اور معاشرے کے تمام مرد و خواتین کے لیے ہو۔انہوں نے کہا کہ اس عظیم مقصد کی خاطر ہماری قوم نے 20 لاکھ افراد کی قربانی دی، ماضی کے تمام مسائل حقیقت پر مبنی نہیں ہیں لیکن اکثر پروپیگنڈا پر مبنی ہیں۔ترجمان نے یہ بات افغان خواتین اور انسانی حقوق کے گروہوں کی تشویش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کی جنہیں 20 سال قبل ملک میں طالبان کی حکومت میں خواتین پر عائد کی گئی پابندیوں کی واپسی کا خوف ہے۔انہو ں نے کہا کہ’اس وقت جو مسائل تھے وہ شاید اس لیے تھے کہ ہم اپنے سیاسی نقطہ نظر کی تشکیل کے ابتدائی دور میں تھے یا پھر وہ سابقہ جنگ، بدعنوانی اور سنگین اصلاحات کی ضرورت کے تحت اس وقت کی ضرورت تھا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ لوگوں کی سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوا اور انہوں نے بہت سے تجربات حاصل کیے ہیں، اس وجہ سے مستقبل میں خواتین اور مردوں کو ان کے تمام حقوق فراہم کرنے کے معاملات میں کوئی مسائل پیش نہیں آئیں گے۔طالبان کے ترجمان نے کہا کہ دوحہ میں امریکا سے مذاکرات میں وہ اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچے جس کے تحت امریکا کے خلاف ٹھکانوں اور اس کے مقامی حامیوں کا فوری خاتمہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ ماسکو میں بھی کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے جس کے تحت جنگ اور عسکری دباؤ کے خاتمے پر انہیں آمادہ کیا جاسکے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمیں جنگ لڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے، ہمارے دشمن ہم پر حملہ کررہے ہیں اس لیے ہم ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔افغان حکومت سے مذاکرات سے انکار پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اشرف غنی سے بات چیت سے مسائل پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں گے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ’ انہوں نے اس جھوٹی حکومت کو تسلیم کرلیا جبکہ یہ ہم پر حملہ آوروں کے جہازوں اور بمباری سے مسلط کی گئی تھی۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اس بات کا مطلب یہ ہوگا کہ طالبان افغانستان کی دوسری جائز قوت کے بجائے ’ باغی ‘ تھے۔انہوں نے کہا کہ حالات میں جب کوئی بھی اس مسلط کی گئی حکومت کو تسلیم کرتا، افغان شہریوں اور ہمارے مجاہدین کے درمیان کیے جانے والے معاہدوں کو مساوات کے تحت ایک معاہدہ سمجھا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ دو مخالف قوتوں کے درمیان مذاکرات کا مطلب موجودہ مسائل کا مشترکہ حل اور امن اور استحکام کی بحالی ہیں،اس مرحلے کا مطلب کسی کے ساتھ شراکت داری نہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہاکہ طالبان کا ماننا ہے جب تک افغانستان پر قبضہ رہے گا، جنگ بندی اور افغان بات چیت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ترجمان نے کہا کہ قبضے کا سایہ ہر چیز پر پھیلا یوا ہے،فیصلہ کرنے کی طاقت حملہ آوروں کے ساتھ ہے جبکہ ہمارے رہنماؤں پر حملے اور بمباری کی جاتی ہے۔انہوں نے اصرار کیا کہ ان حالات میں وہ افغان مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے کوئی موقع نہیں دیکھ رہے۔ترجمان طالبان نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے قبضے کا خاتمہ کرنا اور اس کے بعد ہمارے اندرونی معاملات حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔طالبان کی جانب سے القاعدہ قیادت کی حمایت اور حفاظت جس کی وجہ سے 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا گیا، اس حوالے سے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے جواب دیا کہ افغانستان اسلامی امارات نے ان غیر ملکی مجاہدین ( القاعدہ کے ارکان ) کو پناہ دی تھی جو سوویت یونین کے خلاف جہاد کے دوران افغانستان آئے تھے اور یہیں رہ گئے، ان کی حفاظت مذہبی اور ثفافتی ضرورت تھی تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت ’ کوئی بھی نہیں جسے طالبان کی پناہ کی ضرورت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی امارات اپنی زمین سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کی اجازت کسی کو نہیں دے گی۔


متعلقہ خبریں


ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں وجود - اتوار 17 نومبر 2019

ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی، مظاہرین اور پولیس جھڑپوں کے دوران متعد افراد زخمی ہو گئے ۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمہوریت کے حامی صبح ہی سڑکوں پر آ گئے اورحکومت مخالف مظاہرہ کیا، سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل پھینکے تو مظاہرین نے بھی پٹرول بم سے پولیس کو ضرب لگائی، نوجوانوں نے آنسو گیس سے بچنے کے لیے ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھے تھے ، انہوں اپنے دفاع کے لیے چھتریاں بھی اٹھا رکھی تھیں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین پٹ...

ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان وجود - اتوار 17 نومبر 2019

اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جارحیت کے نتیجے میں نصف ملین ڈالر کا معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ۔فلسطینی وزارت محنت وافرادی قوت کے سیکرٹری ناجی سرحان نے بتایا کہ گذشتہ تین روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینی مکانات اور عمارتوں کے ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ نصف ملین ڈالر لگایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی کی طرف سے غزہ کی پٹی میں مزاحمتی مراکز کے علاوہ زرعی املاک، پالتو مویشیوں کے فارموں، بحری مقاصد میں استعمال ہونے والی عمارتو...

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں نصف ملین ڈالر کا نقصان

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ وجود - اتوار 17 نومبر 2019

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جاپان سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں امریکی فوجی اڈوں کے اخراجات کا پہلے سے زیادہ حصہ برداشت کرے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جولائی میں اس وقت کے امریکی سلامتی مشیر جان بولٹن نے اپنے دورہ جاپان کے دوران جاپانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ موجودہ سالانہ اخراجات کا تقریبا 4 گنا ادا کیا کرے ۔اس کا مطلب موجودہ 2 ارب ڈالر سالانہ کی بجائے 8 ارب ڈالر سالانہ ادائیگی ہے ۔فوجی اڈوں کے اخراجات میں جاپان کے حصے کے معاملے پر دونوں ممالک میں دوبارہ مذاکرات...

امریکا کا جاپان سے فوجی اڈوں کیلئے مزید ادائیگی کا مطالبہ

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے وجود - هفته 16 نومبر 2019

پاکستان میں 2000ء سے 2015ء تک غربت میں واضح کمی ہوئی اور ملک میں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں سے 3 کروڑ 38 لاکھ افراد خط غربت سے نکل گئے۔2000ء سے 2015ء کے دوران غربت کو کم کرنے میں جن15 ممالک نے انقلابی اقدامات کیے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔غربت کی شرح میں سالانہ کمی کے اقدامات کے حوالے سے دنیا کے114ممالک میں پاکستان 14ویں نمبر پر آگیا۔ 2001ء میں پاکستان کی 28.6 فیصد فیصد آبادی انتہائی غربت زدہ زندگی گزارتی تھی، جس میں سالانہ 1.8 فیصد کمی ہوئی اور یوں 4 کروڑ 14 لاکھ افراد میں ...

پندرہ برسوں میں تین کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نکل گئے

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا وجود - هفته 16 نومبر 2019

ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا 9 سالہ لارینٹ سائمنس رواں سال دسمبر میں ایندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بن جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا لارینٹ سائمنس ایک باصلاحیت بچہ ہے جوصرف 9 سال کی عْمر میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دْنیا کا کم عْمر ترین گریجویٹ بننے کے لیے تیار ہے۔

ہالینڈ کا نوسالہ بچہ لارینٹ سائمنس دْنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائیگا

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ وجود - هفته 16 نومبر 2019

آسٹریلیا کی ہوائی کمپنی قنطاس نے لندن سے ساڑھے انیس گھنٹے کی نان اسٹاپ پرواز کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ پرواز لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ سے جمعرات کی صبح روانہ ہوئی اور بغیر کہیں اترے سڈنی کے ہوائی اڈے پر جمعے کی دوپہر پہنچی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس پرواز کے لیے بوئنگ 787-9 کو استعمال کیا گیا۔ اس پرواز نے ساڑھے انیس گھنٹے میں سترہ ہزار آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ قنطاس اگلے برسوں میں لندن اور نیویارک کے لیے بغیر کسی اسٹاپ کے پروازیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہ...

آسٹریلین ہوائی کمپنی کی انیس گھنٹے کی طویل پرواز کا کامیاب تجربہ

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج وجود - هفته 16 نومبر 2019

امریکی ریاست ماسا چیوسٹس میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی کے کالج برائے حقوق کے طلباء نے نیویارک میں تعینات اسرائیلی قونصل جنرل کی تقریر کے لیے آمد پرطلباء نے احتجاج کیا اور بہ طور احتجاج انہوں نے صہیونی سفارت کار کا بائیکاٹ کیا۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی سفارت کار ڈانی ڈایان کو فلسطین میں یہودی بستیوں کے حوالے سے اسرائیلی حکمت عملی پر تقریر کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔سماجی کارکنوں اور طلباء نے اسرائیلی سفارت کار کے بائیکاٹ اوراس کے بعد احتجاجی مظاہرے کی تصاویر اور ویڈی...

اسرائیلی سفارت کارکی آمد پرہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا وجود - هفته 16 نومبر 2019

بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک ایسی درگاہ موجود ہے جہاں بچھو پائے جاتے ہیںلیکن یہ بچھو کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر امروہہ میں واقع درگاہ پوری ریاست اتر پردیش اور اترکھنڈ میںبچھو والی درگاہ کے نام سے مشہور ہے، اس درگاہ پر ہر مذہب کے لوگ اپنی مرادیں لے کر آتے ہیں اور دعائیں اور منتیں مانگتے ہیں، اس درگاہ پر زائرین کا تانتا لگا رہتا ہے۔ایک ر پورٹ کے مطابق اس درگاہ کی خاص بات یہ ہے کے درگاہ پر رہنے والے بچھو انسانوں کو نہیں کاٹتے...

بھارت میں بچھو والی درگاہ کا معجزہ،زائرین کاتانتابندھ گیا

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا وجود - هفته 16 نومبر 2019

چین نے 2020ء میں مریخ پر لینڈ کرنے کا اعلان کر دیا اور بتایا ہے کہ اس سلسلے میں تجربہ بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق چین کے نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ چین 2020ء میں مریخ پر مشن بھیجنے والا ہے جس کے سلسلے میں صوبے ہیبائی میں مریخ پر پہلا غیر انسانی مشن بھیجنے کے تجربے میں اہم کامیابی ملی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مریخ پر پہنچنے کے لیے مشن کو 7 ماہ کا عرصہ درکار ہو گا، جب کہ صرف 7 منٹ میں مریخ پر لینڈنگ عمل میں آ جائے گی۔سربرا...

چین 2020ء میں مریخ پر پہنچ جائے گا

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل وجود - هفته 16 نومبر 2019

سوشل میڈیا پر ایک خاتون وکیل کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں حلف لینے والے جج نے خاتون کا بچہ گود میں اٹھایا ہوا ہے۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر موجود اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکا کی ٹینیسی کورٹ آف اپیل کے جج رچرڈز ڈنکنز نے ٹینیسی بار کی وکیل جولیانا لامر ٹینیسی سے حلف لیتے ہوئے انہی کے ایک سالہ بیٹے کو بھی گود میں لیا ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو جولیا لامر کے لاء اسکول کی ایک ساتھی سارہ مارٹن نے آن لائن شیئر کی جس کے بعد اب اس کا دنیا بھر میں چرچا ہ...

امریکا میں خاتون وکیل سے حلف لیتے ہوئے جج کا انوکھا قدم،ویڈیووائرل

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

کشمیر میں غیر اعلانیہ ہڑتال اور غیر یقینی صورتحال کے سبب ہر برس کشمیر آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے ۔شہرہ آفاق سیاحتی مقامات پہلگام، گلمرگ، اور سونہ مرگ میں سال کے آخر میں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بندھارہتا تھا لیکن آج یہ مقامات سنسان ہیں۔محکمہ سیاحت کی جانب سے موصولہ اعداد و شمار کے مطابق 2018کے مقابلے میں رواں برس سیاحوں کی آمد میں 88.41 فیصد کمی نوٹ کی گئی ہے ۔محکمہ سیاحت کے ایک اعلی افسررشید احمد کے مطابق مواصلاتی نظام پر پابندیوں اور غیر یق...

مقبوضہ کشمیر،سیاحوں کی آمد میں 88فیصد کمی

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی وجود - جمعرات 14 نومبر 2019

انتہا پسند اسرائیلی وزیر بنیامین نیتن یاہو نے غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہادِ اسلامی کو خبردار کیا ہے کہ وہ راکٹ حملے روک دے ،ورنہ وہ مزید صدموں کو سہنے کے لیے تیار رہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ انھیں (جہادِ اسلامی کو) حملے روکنے یا صدمے سہنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔انھوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کسی رحم کے بغیر ان حملوں کا جواب دے گا۔

فلسطینی مزیدصدمے سہنے کے لیے تیار رہے،اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی