ماسکو کانفرنس آج ہوگی،حامد کرزئی پہلی مرتبہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے

افغانستان میں پائیدارقیام امن کے لیے روس کی جانب سے کی جانیوالی کوششوں کے سلسلے میں ماسکو فارمیٹ کے تحت پانچ فروری کی کانفرنس میں افغان طالبان کے وفد نے شرکت کی یقین دہانی کرادی تاہم طالبان کے اعتراض پر افغان حکومت کے نمائندوں کو مدعونہیں کیا جارہا،کانفرنس میں سابق صدرحامد کرزئی سمیت متعد د افغان سیاستدان بھی شرکت کرر ہے ہیں ،کانفرنس میں چین پاکستان،ایران سمیت دیگر ممالک کے نمائندے بھی شریک ہیں،بھارت کے علاوہ امریکی صدرکے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل بھی مدعو ہیں،دوسری جانب غیرملکی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکا کے بعد روس بھی افغان طالبان اورغنی حکومت کو ایک میز پر لانے میں ناکام ہوگیا ،سرکاری طورپر افغان حکومت کو دعوت نہیں دی گئی تاہم قومی اتحاد حکومت میں چیف ایگزیکٹیوکے نائب ڈپٹی محمد محقق جمعیت اسلامی پارٹی کے نمائندہ رکن اسماعیل خان اورسابق گورنر بلخ عطا ء محمد نور بھی اس کانفرنس میں شرکت کرہے ہیں،ادھرافغان طالبان نے کہاہے کہ وہ افغان اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ علیحدہ ملاقات کے لیے ایک وفد روس بھیجے گا۔خیال رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں امریکا کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات میں کابل حکومت کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ماسکو میں ہونے والی اس بیٹھک کا آغاز آج(منگل سے) ہوگا اور اس میں افغان صدر اشرف غنی کے کچھ اہم سیاسی حریف شرکت کریں گے لیکن کسی حکومتی سفیر کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ٹاسک نہیں دیا گیا۔امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ میں چھ روز تک ہونے والے امن مذاکرات کے بعد اشرف غنی کی جانب سے باغیوں سے بات چیت کی اپیل کی گئی تھی۔اس کے باوجود اشرف غنی کی حکومت کو نہ ماننے والے طالبان ماسکو میں افغان صدر کے اہم مخالفین کے ساتھ ملاقات کریں گے، جہاں کابل میں جاری مایوسی اور ملک کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دوسری جانب جولائی کے انتخابات کے لیے اشرف غنی کے ٹکٹ پر نائب صدر کے امیدوار امر اللہ صالح نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ کہ یہ عمل ذہنی دباؤ کے انتہائی بڑھنے اور دہشت گردوں کے بھیک مانگنے کو ظاہر کرتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا کہ دشمن کے لیے مسکراہٹ قومی جذبے کو روند دے گا۔ماسکو میں ہونے والی اس ملاقات میں جن شخصیات کی جانب سے اپنی موجودگی کی تصدیق کی گئی اس میں صدارتی انتخابات میں اشرف غنی کے مخالف حنیف اتمار، سابق جنگجو عطا محمد نور اور سابق افغان صدر حامد کرزئی شامل ہیں۔اس بارے میں عطا محمد نور کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات امریکا کی جانب سے امن کی کوششوں کو مضبوط بنانے کا راستہ ہے جبکہ حنیف اتمار نے اسے انٹرا افغان امن مذاکرات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

ایک سینئر طالبان عہدیدار کا کہنا تھا کہ وہ اپنا ایک وفد بھیجیں گے لیکن انہوں نے اس ملاقات کو غیر سیاسی قرار دیا اور کہاکہ ماسکو میں کسی تنظیم کی جانب سے اس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ایک بیان میں کہا گیا کہ کابل میں روسی سفارتخانے نے روس کی افغان سوسائٹی کی جانب سے ایک بیان جاری کیا، گروپ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ بااثر شخصیات کو مذاکرات کے لیے ماسکو میں صدارتی ہوٹل میں شرکت کی دعوت دیتا ہے اورہم افغانستان میں امن کی واپسی میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔تاہم یہ واضح نہیں ہوا کہ روس کس طرح کا کردار ادا کرنا چاہتے ہے جبکہ اس بارے میں کابل میں روسی سفارتخانے کے ترجمان کی جانب سے بھی کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔