سائنس دانوں کا زندگیاں بچانے والے غذا تیارکرنے کا دعویٰ

سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایسی غذا تیار کر لی گئی ہے جو زندگیاں بچانے کی ضمانت دیتی ہے، جو دس ارب افراد کو میسر ہوگی اور جس کے ماحول کے لیے تباہ کن اثرات بھی نہیں ہیں۔سائنسدان آنے والی دہائیوں میں مزید اربوں افراد کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس کا حل ہماری غذا سے دودھ اور گوشت کو مکمل طور پر نکالنا نہیں ہے، بلکہ اْس رویے میں بڑی تبدیلی لانا ہے جس کے تحت کہ ہم اپنے کھانے کی پلیٹیں بھرتے ہیں لیکن بہ مشکل ختم کر پاتے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سائنس دانوں نے بتایاکہ اگر آپ روزانہ گوشت کھاتے ہیں تو یہ پہلی بڑی بات ہے۔ گائے کے گوشت کا ہفتے میں ایک برگر یا مہینے میں ایک بڑا اسٹیک آپ کے لیے بہت ہے۔آپ اس کے ساتھ ہفتے میں ایک بار تھوڑی مچھلی اور مرغی بھی کھا سکتے ہیں، مگر آپ کو درکار پروٹین کا باقی حصہ سبزیوں سے پورا ہوگا۔محققین روزانہ گری دار میوے، پھلیاں، سفید چنے اور دالیں استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔پھلوں اور سبزیوں کو بھی ہماری خوراک کا اہم حصہ ہونا چاہیے، البتہ آلو یا افریقا میں کثرت سے کھائے جانے والے کساوا جیسی نشاستہ دار سبزیوں کے استعمال کی نفی کے جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس متوازن غذا میں مختلف قسم کی چیزیں ہیں جن کو ہزاروں مختلف اشیا کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے، ہم یہاں غدائی محرومی کی بات نہیں کر رہے بلکہ اس صحتمند خوراک سے آپ لطف بھی اٹھا سکتے ہیں اور تنوع بھی لا سکتے ہیں۔یورپ اور امریکا کو گائے کے گوشت میں بڑے پیمانے پر کمی لانے کی ضرورت ہے، مشرقی ایشیا کو مچھلی کے استعمال میں کٹوتی اور افریقا کو نشاستہ دار سبزیوں کے استعمال میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔گائے کے گوشت پر ٹیکس لگانا ان اقدامات میں سے ایک ہے جو محققین کی نظر میں ہمیں غذا میں تبدیلی لانے پر اکسا سکتے ہیں۔