امریکا، ریپ کے غلط الزام کے 70 سال بعد چارسیاہ فاموں کو معافی

امریکا میں چار سیاہ فام افراد، جن پر 70 سال قبل سفید فام لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا غلط الزام لگایا گیا، معاف کردیا گیا،برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ریاست فلوریڈا کے دارالحکومت تالاہاسی میں حکام نے اجلاس میں چاروں کو معاف کرنے کے حق میں متفقہ طور پر ووٹ دیا۔چاروں سیاہ فام وفات پاچکے ہیں لیکن ان کے اہلخانہ نے انہیں معصوم قرار دینے کے لیے درخواست دائر کر رکھی تھی۔چارلس گرین لی، والٹر اَروِن، سیموئل شیفرڈ اور ارنِسٹ تھومس کو گروولینڈ فور کہا جاتا تھا اور ان پر 1949 میں ایک لڑکی کو اغوا کرکے 'ریپ' کا نشانا بنانے کا الزام تھا۔

ارنِسٹ تھومس کو مبینہ واقعے کے فوری بعد ایک ہزار سے زائد مسلح افراد نے انتہائی بے رحمی سے قتل کردیا تھا، جبکہ دیگر تین افراد کو سفید فام افراد پر مشتمل جیوری کی طرف سے مجرم قرار دیے جانے سے قبل حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔بعد ازاں سیموئل شیفرڈ کو دوبارہ ٹرائل کے لیے جانے کے دوران شیرف نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔اس تمام واقعے کو تاریخ کی سب سے بڑی نسلی ناانصافی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو کتاب 'ڈیوِل اِن دی گروو' کا موضوع بھی بنا، جس نے 2013 میں پلِٹزر انعام بھی جیتا تھا۔مبینہ متاثرہ خاتون نے، جن کی اس وقت عمر 17 سال تھی، سماعت کے دوران کہا کہ وہ سچ بتا چکی ہیں اور ملزمان کو معافی دینے کی مخالفت کی۔تاہم رحم کی اپیل کی سماعت کرنے والے پینل نے چاروں سیاہ فاموں کو معافی دے دی اور ساتھ ہی مہم چلانے والوں کے کام کی تعریف کی۔