ترک صدر اردوان کے دور حکومت میں پہلی بار ترک معیشت زوال کا شکار

ترکی میں حالیہ عرصے کے دوران اقتصادی شعبے میں آنے والے بحران کے بعد ترکی کی معیشت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ترکی سخت ترین اقتصادی آندھی اور طوفان کا سامنا کررہا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ طیب اردوان کے اقتدار میں آنے کے بعد ترکی کی معیشت 16 سال میں بدترین زوال کا شکار ہوئی ہے۔اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2018ء کی آخری سہ ماہی میں ترکی کی معیشت بد ترین زوال کا شکار ہوئی۔

صدر طیب اردوان کے سولہ سالہ دور حکومت میں یہ پہلا موقع ہے کہ ترکی کو معاشی میدان میں سخت تھپیڑوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2018ء کے آخری چار ماہ کے دوران ترک معیشت میں 1 اعشاریہ ایک فی صد کمی دیکھی گئی۔ اگر ترکی کی معیشت کو ایسا جھٹکا اور لگتا ہے تو وہ بدترین تباہی کا شکار ہوسکتی ہے۔اقتصادی ماہرین کا کہنا تھا کہ ترکی کی معیشت بہتری کے بجائے مزید زوال کی طرف جار ہی ہے اور رواں سال خسارے کی شرح 2 فی صد تک پہنچ سکتی ہے۔

ترکی میں معاشی زوال کی یہ شرح ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آئندہ مارچ میں ترکی میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ معاشی بحران انتخابات کے دوران طیب اردوان کی حمایت پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔سال 2018ء کے دوران 20 ماہ میں ایران میں افراط زر میں 5 فی صد کمی آئی مگر دوسری طرف ترک لیرہ کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 30 فی صد کم ہوگئی تھی۔ اکتوبر 2018ء میں ڈالر کے مقابلے میں ترک کرنسی میں 25 فی صد کمی دیکھی گئی۔ یہ کمی پندرہ سال میں سب سے زیادہ ہے۔

Electrolux