وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بھٹو زندہ ہے، مگر یہ جیتے لوگ!!

پیر 07 جنوری 2019 بھٹو زندہ ہے، مگر یہ جیتے لوگ!!

بھٹو رجحان کے متعلق تاریخ اپنا فیصلہ صادر کرنے والی ہے۔
مسلم سرزمین پر کبھی علم کے مینار دنیا کو شرماتے تھے۔ اندلس کو یاد کرتے ہیں جہاں عظمت ٹوٹ کر برستی تھی۔ مسلم دینا کے بڑے دماغ جہاں اکٹھے ہوئے۔ عظیم مفسر امام قرطبی ؒ یہیں قرطبہ میں 1214 میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ مغرب کا وہی شہر ہے جہاں مشرق کا شاعررویا تھا۔اموی خلیفہ عبدالرحمن نے 754ء میں مشرق ومغرب کی تمدنی میراث کو مسجد قرطبہ میں یکجا کردیا ۔جس پر عروج کا سورج صدیوں طلوع رہا ۔ لگ بھگ گیارہ سو برسوں بعد جب مشرق کے عظیم شاعر علامہ اقبالؒ وہاں پہنچے تو سلسلۂ روزوشب کے تمام حادثات ورق در ورق کھلتے گئے۔وہ زمانے کی اُس رو کو ناممکن تھامتے رہے جس کے شب وروز میں دن رات نہ رہ گئے تھے۔وہ اقبال تھے جو حرمِ قرطبہ کے رفت وبود میں عشق کی ہمیشگی کا مشاہدہ کر پائے۔ معلو م نہیں یہ مصرعے جب اُن کے دل پر اُترے تو وہ روئے زیادہ ہوں گے یا جذبے سے مچلے زیادہ ہوں گے :
اے حرمِ قرطبہ! عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت وبود
رنگ ہو یا خشت وسنگ،چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود
علم جراحت کا بانی عظیم سائنس دان ابوالقاسم الزہراوی 1013 میں قرطبہ میں ہی زندگی ہارگیا تھا۔وحدت الوجود کا تصور دینے والے فلسفی صوفی محی الدین ابن عربی بھی اسی اندلس کی سرزمین پر پیدا ہوئے جنہیں صوفیاء نے شیخ اکبر کہا۔ ماہرِ فلکیات ومقنن ابنِ رشد بھی قرطبہ میں پیدا ہوئے۔الغرض عظیم شخصیات کی ایک کہکشاں سرزمین اندلس کے آسمان پر سجی رہی۔ مگرتاریخ وعمرانیات کے بانی ابن خلدون کوکیسے فراموش کردیں ، تیونس سے جو غرناطہ چلے گئے تھے۔زمانہ اپنے لیل ونہار کی سرگزشت کے اُصولوں میں ہمیشہ اُن کے کارنامے کا رہین منت رہے گا جو’’مقدمۃ فی التاریخ‘‘(مقدمہ ابن خلدون) کے نام سے جگمگاتا ہے۔ فلسفۂ تاریخ کے بانی ابن خلدون نے سیاسی اجتماعیت میں دخیل سب سے توانا عامل ’’عصبیت‘‘کا جو نظریہ دیا، بھٹو عنصرکو بھی اس میزان پر تولا ٹٹولا اور جانچا پرکھا جاسکتا ہے۔
کسی بھی سیاسی اجتماعیت میں کوئی عنصر(صحیح و غلط سے قطع نظر) ایک عصبیت کے طور پر داخل ہو کرقوموں کی زندگی کو عشروں تک یرغمال بنانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ ابنِ خلدون کے دوسرے نظریہ یعنی قانونِ عروج وزوال سے مستثنیٰ نہیں ہوتی۔ عصبیت پر بھی قانونِ عروج وزوال کا یکسا ں اطلاق ہوتا ہے۔ قانونِ عروج وزوال کی زد میں آکر تاریخ کی بڑی بڑی عصبیتیں ڈھیلی پڑنے لگتی ہیں۔ کوئی مانے یہ نہ مانے بھٹو کا کرشمہ ساز رجحان تاریخ کے اس جھپیٹے میں آگیا ہے۔ تاریخ کا ایک اُصول یہ بھی ہے کہ جب اس کے عوامل حرکت میں آتے ہیں تو اپنا سفر پورا کیے بغیر نہیں تھمتے۔ پاکستانی معاشرے میں ایک نہیں بہت سے عوامل اس کی زد میں آچکے ہیں ۔ اب بھٹو رجحان بھی تاریخ کی اس گھمن گھیری سے باہر نہیں نکل پائے گا۔
یہ اس قوم کا المیہ ہے کہ یہاں قیادت کے نام پر جس انگڑ کھنگڑ نے اپنا سکہ جمایا ، بھٹو اُن میں سب سے نمایاں تھے۔یہ قوم کبھی اس ’’عصبیت ‘‘سے باہر نکلے گی تو اسے نظر آئے گا کہ کس طرح ان سمیت تمام سیاسی و عسکری رہنماؤں نے قوم کو ہیجان میں مبتلا رکھ کر جاہ پسندی کاکھیل جاری رکھا۔ مالی بدعنوانی تو اس کی ذیلی شاخ ہے۔ بھٹو کی ذہانت و لیاقت کے قصے زباں زدِ خاص وعام ہیں۔ مگر آخری تجزیے میں صلاحیت ، صالحیت کے بغیر انتہائی بھیانک نتائج لاتی ہے۔ بھٹو کی زندگی اس اُصول کے تناظر میں ایک مثال کے طور پر قابلِ مطالعہ ہے کہ کیسے ایک جاہ پسند شخص کو اپنی انا کے مقابلے میں پورا ملک چھوٹا پڑ گیا تھا۔ صالحیت کے بغیر صلاحیت نے مملکت کے جغرافیے کو نگل لیا تھا۔ اُس متضاد سیاسی تاریخ کو ایک طرف رکھیں جس میں بھٹو ایوب کو ایشیا کا ڈیگال ، صلاح الدین ایوبی یہاں تک کہ’’ ڈیدی‘‘ کہتے ملتے ہیں۔ پھر اُن کے خلاف ایک تحریک چلاتے ہیں۔وہ دور فراموش کردیں جس میں ڈاکٹر نذیر احمد، خواجہ رفیق اورنواب محمد خان کے ساتھ بہت سے لاشے پڑے ہیں۔ ایف ایس ایف کی بہیمت ہے۔ صحافت پابندِ سلال ہے۔جس میں دشمن تو بہت دور کی بات ہے ، ادنیٰ سا اختلاف کرنے والے اپنے رفیقان بھی گوارا نہیں کیے جاتے۔ مولانا جان محمد عباسی کو چھوڑیے ! وہ بیچارے حنیف رامے ، بیچارے معراج محمد خان!!!اُس تاریخ کو چھوڑیے جس میں پاکستان دولخت ہوا۔ دو لخت کہاں ، وہ لخت لخت پاکستان تھا ، یحییٰ خان سے اقتدار کی کلاہ اپنے سر سجاتے ہوئے وہ صدر ہی قرار نہ پائے تھے، ایک عدد سول چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر بھی ہوئے تھے۔تاریخ میں متوازی طور پر جمہوریت کی پگڑی بھی انہیں ہی پہننے تھی۔ اس متضاد تاریخ کا ہر پہلو خوفناک ہے۔ مگر پیپلزپارٹی نے اس تاریخ سے جمہوریت کی ’’شرمناک آبرو‘‘ بھی برآمد کر دکھائی ہے۔ جے آئی ٹی کو زرداری گروپ کے کھاتوں سے وہ کچھ نہیں ملا جو پیپلزپارٹی نے اپنی تاریخ سے نکال دکھا یا ہے۔ یہ کپڑے سے کبوتر نکالنے اور اُسے پھر کپڑا بنا دینے والے ’’ہنر‘‘ سے کچھ کم تو نہیں۔
اس پوری تاریخ کو فراموش کردیں ، اور بھٹو کو صرف اُن لوگوں کے زاویے سے دیکھیں جن کے وہ رہنما تھا ، بھٹو نے اُن کے لیے کیا کیا جو اُن کے لیے جیے اور مرے۔ لیاری جرم نگری بن گیا۔ سندھ کے دیہاتوں سے کچلی ہوئی آرزوں کے خوف دلاتے آوازے اُٹھتے ہیں ۔تھر کے مکین خانہ بدوشوں سے بدتر زندگی جیتے ہیں۔ ان بے مکانوں کی بکریاں اُن کے بچوں سے کبھی زیادہ قیمتی بن جاتی ہیں اور ’’بھٹو زندہ ہے‘‘ کا نعرہ لگانے والے کسی کٹھور سیاست دان کو شرم تک نہیں آتی۔ دور کہیں سے ابوالہول کے عہد کی وہ خوف ناک آواز سنائی دیتی ہے کہ بھٹو نے بے آوازوں کو آواز دی۔ تحریک پاکستان میں شریک قوم کے جیتے جاگتے لوگوں کے درمیان یہ دعویٰ ایک اور طرح کی بے حیائی کا مظہر ہے۔ مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ بھٹو نے جن مزدوروں کو آواز دی وہ حقوق کی تکرار میں وہاں تک چلے گئے کہ اُنہیں اپنے فرائض تک بھول گئے۔ مزدور واپس اپنے مزدوریوں پر نہیں گئے۔بس حقوق کے نعرے بلند ہی کرتے رہ گئے۔ اس دور نے ایسے ایسے کام چوروں کو پید اکیا کہ وہ اپنے خاندانوں ، برادریوں اور قبیلوں پر بوجھ بن کر جیتے رہے۔ یہ بھٹو کے ہی ذہن کی پیداوار ہے کہ جناب زرداری یہ فرماتے ہیں کہ اگر فالودہ والے کے اکاؤنٹ میں پیسے رکھواتا ہوں تو تمہیں کیا ہے؟سابق فوجی سربراہ جنرل کیانی کا اپنے کمانڈر انچیف اور تب کے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ساتھ یہ مکالمہ بھی تاریخ کی زینت بنے گا۔ جب اُنہیں متوجہ کیا گیا کہ اُن کے مقربین کس طرح لوٹ مار کررہے ہیں تو صدرِ مملکت نے فرمایا کہ اُنہیں بہت عرصے بعد اقتدار ملا ہے اور اُنہوں نے بہت ’’قربانیاں‘‘ دی ہیں اس لیے یہ اُن کا حق ہے۔ اگر بھٹو رجحان نے اس کے بعد بھی برقرار رہنا ہے تو پھر باقی کیا رہ جانا ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بھٹو رجحان کے نتیجے میں سندھ کی سرزمین کو ترقی نصیب ہوتی۔ کچلی ہوئی آرزؤں کے لوگ اپنے اپنے شعبوں میں چمکتے دکھائی دیتے۔جہالت تھر کے قحط کی طرح ہوتی اور علم کو زیورزرداری خاندان کے بنگلوں ، محلوں اور کھاتوں کی طرح چمکتا دمکتا دکھائی دیتا۔ مگر سندھ ویسے کا ویسا ہی ہے۔ اب پیپلزپارٹی کے جمہوریت کا چورن بھی باسی ہوتا جارہا ہے۔ بساط پر یہ آخری بازی ہے جو زرداری کھیل رہے ہیں۔ اس کی مات دائم مات ہے۔ پھر کسی بازی کی گنجائش نہ رہے گی۔ یہ بھٹو بھی کیسا زندہ ہے جو زرداری کے ساتھ جیتا ہے اور سندھ کے یہ بیچارے لوگ پتہ نہیں جیتے بھی ہیں یا نہیں۔ کبھی بھٹو مرے تو یہ دیکھیں گے کہ یہ بیچارے لوگ کیسے جی اُٹھتے ہیں۔ تاریخ میں اس لمحے کے مشاہدے کا وقت آپہنچا ہے!!!بس آنکھیں کھلی رکھیں۔


متعلقہ خبریں