وجود

... loading ...

وجود

سابق برطانوی وزیراعظم کو بنگال کے الگ ریاست بننے کا یقین تھا، امریکی دستاویز

جمعه 28 دسمبر 2018 سابق برطانوی وزیراعظم کو بنگال کے الگ ریاست بننے کا یقین تھا، امریکی دستاویز

جون 1947 میں اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی نے لندن کے لیے امریکی سفیر کو کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ بنگال، پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کے بجائے ایک آزاد ریاست بننا چاہے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے حال ہی میں سامنے آنے والی تاریخی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ امریکا وہ پہلا ملک تھا جسے کلیمنٹ ایٹلی نے تقسیم بھارت کے منصوبے پر بریفنگ دی تھی۔2 جون 1947 کو برطانیا میں امریکی سفیر لوئس ولیمز ڈوگلاس نے ایک فوری اور انتہائی خفیہ ٹیلی گرام سیکریٹری آف اسٹیٹ جارج مارشل کو ارسال کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسی روز دوپہر میں کلیمنٹ ایٹلی نے انہیں اپنے دفتر بلایا اور تقسیم کے منصوبے سے متعلق پیشگی معلومات شیئر کیں۔اگلے ہی روز وائسرائے لوئس ماؤنٹ بیٹن نے یہ منصوبہ بھارتی لوگوں کے سامنے نشر کیا جبکہ کلیمنٹ ایٹلی نے اسے برطانوی پارلیمنٹ میں پیش کیا۔

کلیمنٹ ایٹلی نے امریکی سفیر لوئس ولیمز ڈوگلاس کو بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پنجاب اور بنگال سے نمائندے منتخب ہوں تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ یہ دو بڑی اکثریت رکھنے والے صوبے کس میں شامل ہوں گے اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو یہ دونوں صوبے پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہوجائیں گے۔اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم نے مزید کہا تھا کہ وہ سوچتے ہیں کہ پنجاب کی ایک تقسیم ممکن ہے لیکن اس بات کا واضح امکان ہے کہ بنگال تقسیم اور ہندوستان یا پاکستان میں شمولیت کے خلاف فیصلہ کرسکتا ہے۔کلمینٹ نے امریکی سفیر کو بتایا کہ ایسی صورت میں بنگال ایک الگ خودمختار حیثیت حاصل کرسکتا ہے اور یہ پنجاب کے لیے بھی متبادل کھول سکتا ہے لیکن ان کا خیال تھا کہ اس بات کا انتخاب کرنا اس کے لیے ناممکن ہوگا۔دستاویز کے مطابق امریکی سفیر نے دیکھا کہ ان کے ساتھ تقسیم کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم غم میں گھرے ہوئے سنجیدہ مزاج میں تھے اور ان کے اپنے الفاظ تھے کہ وہ 21 سال سے بھارتی مسائل کو حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور وائسرائے کابینہ مشن کے منصوبے کی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے ایک آخری کوشش کریں گے۔اس منظوری میں ناکامی پر جو کہ کلیمنٹ اٹلی کو یقین تھا کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے، وائسرائے بھارت کی تقسیم کو ایک ہندوستان کے حصے اور ایک پاکستان کے حصے کے طور پر بھارتی رہنماؤں کے سامنے رکھیں گے۔

کلیمنٹ ایٹلی نے امریکی سفیر کو بتایا کہ ہندوستان کو اقتدار کی منتقلی اگست میں کی جاسکتی ہے جبکہ پاکستان جس کے پاس انتظامی مشینری نہیں، اس کی دستیابی تک اقتدار کی منتقلی منسوخ کی جاسکتی ہے۔انہوں نے امریکی سفیر کو بتایا تھا کہ اگر بھارت تقسیم ہوتا ہے تو خزانے، فوج وغیرہ کی تقسیم کے مسائل ہوسکتے ہیں، جو مختلف بھارتی حاکموں کی نمائندگی کرنے والے بھارتیوں کے مشترکہ کمیشن کی جانب سے کیے جاسکتے ہیں۔تاہم برطانوی وزیر اعظم پرامید تھے کہ وہاں خون ریزی نہیں ہوگی لیکن انہیں اس کے ہونے کا ڈر بھی تھا۔کلیمنٹ ایٹلی نے امریکی سفیر کو بتایا تھا کہ آرڈر بحال کرنے کی ان کی کوششوں سے بھارتی فوج قائم مقام بھارتی حکومت کے وزیر دفاع کے احکامات کے تحت کام کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں اپوزیشن اس مناسب قانون سازی پر اعتراض نہیں کرے گی اور یہ معاملہ فوری طور پر ہوجائے گا۔امریکی سفیر نے لکھا کہ میں وزیراعظم کا گرم جوشی سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے یہ پیشگی معلومات امریکا کو فراہم کیں کیونکہ جہاں تک میرے علم میں تھا اب تک یہ بات کسی اور حکومت کو نہیں بتائی گئی تھی۔20 جون 1947 کو سیکریٹری مارشل نے نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے کو ٹیلی گرام بھیجا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ امریکا نے بھارت کی تقسیم کی مخالفت جاری رکھی تھی۔ سیکریٹری مارشل کی جانب سے 19 جون 1947 کو بھیجے گئے ٹیلی گرام میں کہاگیاکہ کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت منتخب کیا جاچکا ہے اور امریکا یہاں اپنا سفارتخانہ کھولنے کا خواہشمند ہے۔ کراچی میں امریکی قونصل ہولڈس ورتھ جی منیگروڈ کو نقل کیا کہ انہوں نے ان کے نمائندے کو بتایا کہ یہاں پر امریکی سفارتخانے کا قیام کا سوال امریکی حکام کی توجہ مرکوز کررہا ہے۔امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس حقیقت کو سراہا کہ منیگروڈ کی بات کا غلط مطلب اخذ کیا گیا لیکن اس کے ساتھ بھارت میں امریکی مشن کے قیام کی قبل ازوقت نشاندہی یا یہ کہ یہ معاملہ امریکی حکام کے زیر غور ہے، کی قبل ازوقت نشاندہی نہ ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔


متعلقہ خبریں


مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر