... loading ...
کراچی(تجزیہ :باسط علی)بے نظیر بھٹو کی گیارہویں برسی درحقیقت جے آئی ٹی کے سوگ میں بدل گئی۔ پی پی رہنماؤں کا المیہ یہ ہے کہ وہ پرانے نعروں اور ایک جیسی فریادوں سے سالہاسال سے سندھ کے عوام کو بہلاتے آرہے ہیں۔ مگر پاکستان کی بدلی ہوئی سیاسی فضاء کے تقاضوں کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ آصف علی زرداری اپنے آپ پر اعتماد کو عوام میں جس طرح ظاہر کررہے ہیں،وہ درحقیقت اُن کے اندرونی خوف کی ہی جوچغلی کھارہا تھا۔ نوڈیرو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو دونوں نے ہی جارحانہ انداز اختیار کیا۔ مگر موجودہ پاکستان میں اس زبان کو سمجھنے والے اب موجود نہیں رہے۔ پی پی کا المیہ یہی ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنے میں مکمل ناکام ہے۔ اگر چہ اس لب ولہجے نے آصف علی زرداری کو پہلے بھی ملک سے جبری جلاوطن رہنے پر طویل عرصے تک مجبور رکھا۔ وہ اس سے قبل بھی اینٹ سے اینٹ بجانے کے ایک جارحانہ اور دھمکی آمیز خطاب کی قیمت چکا چکے ہیں۔ افسوس ناک طور پر اُنہوں نے ایک مرتبہ پھر اُسی راستے کو چنا ہے۔ نوڈیرو میں دونوں باپ بیٹے کے خطاب کا تجزیہ کیا جائے تو اُنہوں نے تاک تاک کر عدلیہ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو نشانا بنایا ۔ اگرچہ اس کے لیے الفاظ’’اینٹ سے اینٹ بجانے‘‘ والے تضحیک آمیز تو منتخب نہیں کیے مگر اس مرتبہ دونوں کے تیور زیادہ سنگین اور خطرناک تھے۔بلاول بھٹو جو جے آئی ٹی تحقیقات کے نتیجے میں کسی بھی’’ کولیٹرل ڈیمیج‘‘کے شکار ہو کر اپنا سیاسی مستبقل بھی گنوا سکتے ہیں، کسی ناعاقبت اندیش تقریر نویس کے ایسے الفاظ چباتے رہے، جو نظام کے اندر اُن کے لیے کسی نرم گوشے کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ بلاول بھٹو نے اس موقع کو غلط استعمال کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف برسر پیکار قوتوں کے اخلاقی جواز ڈھونڈے۔ یہ ایک خطرناک پیرایہ گفتگو تھا ، جس میں بلاول بھٹو نے پشتون اور بلوچ محرومیوں پر کلام کیا،یہ پورا بیانیہ صرف شکایتوں کا آئینہ دار نہیں بلکہ مملکت کے اجتماعی وجودپر حملہ آور ہو تا جارہا ہے۔یوں بلاول بھٹواپنے خطاب میں ایک غلط پگڈنڈی پر دوڑتے نظر آئے۔اس موقع پر بلاول نے غیظ وغضب میں ڈھلے یہ الفاظ منتخب کیے کہ ’’ وفاق کی بنیادیں کتنی کمزور ہوگئی ہیں اور ایک چنگاری سب کچھ راکھ کرسکتی ہے‘‘۔ کیا بلاول بھٹو یہ کہناچاہتے تھے کہ اگر اُنہیں چھڑا گیا تو یہ چنگاڑی وہ فراہم کرسکتے ہیں ۔ خطاب کو مجموعی لب ولہجہ اس امر کی تائید کرتا ہے۔ یوں بلاول بھٹو اپنے باپ کے ساتھ خود بھی داؤ پر لگتے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں خاص بات یہ تھی کہ دونوں رہنماؤں نے حقیقی خطرات کو پوری طرح بھانپ لیا ہے مگر اس سے نمٹنے کی حکمت عملی انتہائی غلط اختیار کی ہے۔
پاکستان کا موجودہ سیاسی ماحول، عدالتی فعالیت اور اسٹیبلشمنٹ کے تیور ایسے نہیں کہ اُنہیں جارحانہ حکمت عملی سے زیر کیا جاسکے۔ ماضی میں یہ حکمت عملی مخصوص سیاسی ماحول میں موثررہتی تھی جب عدلیہ ایک طفیلی کردار کے لیے آمادہ ہوتی۔ جس میں سیاسی حکمران مخصوص حیلوں سے بروئے کار آتے۔ دوسری طرف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں بداعتمادی اپوزیشن جماعتوں کو کُھل کھیلنے کا موقع فراہم کرتی۔ اب اس نوع کی کوئی ’’گنجائش ‘‘ سابق صدر کو میسر نہیں۔ پھر وہ حالات کی موجود تحریر کو بدلنے کی قدرت سے بھی یکسر محروم ہوتے جارہے ہیں۔ پی پی کے پرانے نعرے اپنی کشش کھورہے ہیں۔ بریانی کی پلیٹ ، ہاتھ میں پانچ سو یا ہزار روپے ، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کو مخصوص تعداد میں افراد کو لانے کا ہدف اور ڈپٹی کمشنرز کے لیے بسوں کے انتظامات کا جبر اب پرانے طریقے ہو چکے اور اس سے ساری قوتیں آگاہ ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ مجمع بھی جو نعرہ زن رہتا ہے۔ ایسے میں بھٹو ازم کا تحلیل ہو تا سحر اور بے نظیر بھٹو کی گیارہوں برسی کی کم ہوتی کشش پی پی کے لیے زیادہ بڑے المیوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ مگر جس طرح بے نظیر بھٹو کے المنا ک قتل کے بعد آصف زرداری خود کو ملنے والے حادثاتی کردار کی حقیقت کو جان نہیں سکے تھے اور اِسے اپنے سیاسی کردار میں ڈھالنے کے بجائے خود کو دنیا کے امیر ترین افراد کی دوڑ میں دلچسپی لینے لگے تھے، ٹھیک اسی طرح وہ احتساب کے موجود چکر کو ماضی کے مقدمات کی نہج پر رکھ کر دیکھنے کی غلطی کررہے ہیں اور نتائج بھی ماضی سے مشابہ سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ درحقیقت ان تمام غلط فہمیوں سے قطع نظر یہ نوشتہ دیوار ہے کہ آصف علی زرداری اپنے سیاسی مستقبل کے تحفظ کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ جس میں اُن کا کردار سلامت دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے حالات میں بے نظیر بھٹو کا بچا کھچا سحر نوڈیرو میں اسٹیج پر کہیں پر بھی دکھائی نہیں دیا اورتمام رہنماؤں کے خطاب میں صرف جے آئی ٹی کے اثرات محسوس کیے گئے۔ اُن کے الفاظ میں خوف کے سائے لہراتے رہے ، اور عزم کے چراغ کی لو ڈگمگاتی دکھائی دی، یہ عمل بجائے خود ناکامی کو ایک تصور کے طور پر جنم دیتا ہے۔
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...