وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

بدھ 26 دسمبر 2018 سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

سال 2018میں پاکستان سمیت سیاست ٗ شوبز ٗ اسپورٹس ٗ قانون دان سمیت کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں جن میں عاصمہ جہانگیر ٗ ادا کار قاضی واجد ٗ اداکارہ سری دیوی ٗاقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل اور نوبیل انعام یافتہ کوفی عنان اور سابق بھارتی وزیر اٹل بہاری واجپائی بھی شامل ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر 11 فروری 2018 کو 66 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں ۔

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، وہ سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ نڈر، باہمت اور بے باک خاتون عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل تھا جبکہ وہ ججز بحالی تحریک میں بھی پیش پیش رہیں۔2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عاصمہ جہانگیر کو گھر میں نظربند کیا گیا تاہم اس کے باوجود وہ خاموش نہ بیٹھیں اور اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے فیصلے کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔عاصمہ جہانگیر کو 2010 میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا ٗ 1995 میں انہیں مارٹن انل ایوارڈ، ریمن میکسیسے ایوارڈ، 2002 میں لیو ایٹنگر ایوارڈ اور 2010 میں فور فریڈم ایوارڈ سے نوازا گیا۔عاصمہ جہانگیر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور آخری مرتبہ انہوں نے 9 فروری کو عدالت کے روبرو پیش ہوکر دلائل دیے تاہم اس کے بعد انہیں قدرت نے مہلت نہ دی اور 11 فروری کو وہ خالق حقیقی سے جاملیں۔

رواں برس 11 فروری کو پاکستان ڈراما انڈسٹری کا ایک عہد اْس وقت ختم ہوگیا، جب بے مثال اداکار قاضی واجد 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔قاضی واجد 1930میں لاہور میں پیدا ہوئے، انہوں نے فنی کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور 25 برس تک اس سے منسلک رہے۔خدا کی بستی،حوا کی بیٹی،تنہائیاں، پل دو پل اور تعلیم بالغاں جیسے ڈراموں سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے قاضی واجد نے متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔قاضی واجد نے مزاحیہ کرداروں سے لے کر سنجیدہ کرداروں میں بھی جاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی کئی نامور شخصیات کے ساتھ کام کیا جن میں معین اختر، جاوید شیخ، راحت کاظمی، قوی خان اور دیگر شامل ہیں۔اردو ادب سے بے حد لگاؤ کے باعث قاضی واجد ادبی محفلوں میں بھی اکثر شرکت کیا کرتے تھے ٗانہیں مقبول فنکاری کی وجہ سے حکومت پاکستان نے 14 اگست 1988ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔بالی وڈ کی نامور اداکارہ سری دیوی 25 فروری 2018 کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں۔سری دیوی 13 اگست 1963 کو پیدا ہوئیں، انہوں نے 4 سال کی عمر میں فلم نگری میں قدم رکھا اور 1975 میں فلم ’جولی‘ میں معاون اداکارہ کے طور پر بالی وڈ میں کیریئر کا آغاز کیا۔1978 میں فلم سولہواں ساون میں انہوں نے مرکزی کردار کیا اور اگلی ہی فلم ہمت والا سے مقبول ہوگئیں، فلم صدمہ میں سری دیوی کیکردار کو ان کی بہترین پرفارمنس قرار دیا جاتا ہے۔نٹ کھٹ اداؤں اور چمکتی آنکھوں والی سری دیوی نے اپنی اداکاری سے کروڑوں مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔ چارلی چیپلن کی نقل ہو یا ناگن کا روپ، سری دیوی نے ہر کردار ایسا نبھایا کہ امر ہوگیا۔سری دیوی کو 5 بار فلم فیئر ایوارڈ اور 2013 میں بھارت کے چوتھے بڑے ایوارڈ پدم شری سے بھی نوازا گیا۔سری دیوی نے 300 سے زائد تامل، تیلگو، ملیالم اور ہندی فلموں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، ان کی شہرہ آفاق فلموں میں ’مسٹر انڈیا‘ ’چاندنی‘ ’ناگن‘ ’لمحے‘، ’وقت کی آواز‘ اور ’خدا گواہ‘ شامل ہیں

۔ممتاز برطانوی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ رواں برس 14 مارچ کو 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔جنوری 1942 میں پیدا ہونے والے اسٹیفن ہاکنگ نے 1959 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کالج میں داخلہ لیا اور تین سال وہاں تعلیم حاصل کی جس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی سے نیچرل سائنس میں ڈگری حاصل کی۔جس زمانے میں اسٹیفن ہاکنگ طبیعات میں گریجویشن کر رہے تھے اْس وقت فزکس کے ماہرین زمین کے ارتقا سے متعلق مختلف خیالات پیش کر رہے تھے، بگ بینگ اور اسٹیڈی اسٹیٹ جیسی تھیوریز کو خاصی مقبولیت حاصل تھی جس کے بعد اسٹیفن ہاکنگ نے بھی 1965 میں زمین کے ارتقا پر ایک مقالہ لکھا جسے بہت پزیرائی ملی۔1966 میں اسٹیفن کو ریسرچ فیلوشپ ملی اور انہوں نے اپلائیڈ میتھامیٹکس اور تھیوریٹکل فزکس میں پی ایچ ڈی کی۔اسٹیفن گزشتہ 4 دہائیوں سے زائد عرصے سے پیچیدہ بیماری میں مبتلا تھے اور ویل چیئر پر بیٹھ کر سائنسی میدان میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ بلیک ہولز، نظریہ اضافیت پر انقلابی تحقیقاتی مقالے لکھنے پر اسٹیفن ہاکنگ کو آئن اسٹائن کے بعد دوسرا سب سے بڑا اور باصلاحیت سائنس دان سمجھا جاتا تھا، ان کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔اسٹیفن کی طویل عمر جسمانی معذوری میں گزری جس کی وجہ سے وہ نہ ہی بول سکتے تھے اور نہ ہی چل پھر سکتے تھے لیکن دماغی طور پر مکمل صحت مند تھے۔اسٹیفن اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے اور اسے منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹر کا استعمال کرتے تھے جو ان کی پلکوں کے اشاروں کو الفاظ دے کر بات سمجھانے کا کام کرتا تھا۔گزشتہ برس برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے اسٹیفن ہاکنگ کے 1966ء میں کیے گئے پی ایچ ڈی کا مقالہ جاری کیا گیا جس نے چند ہی روز میں مطالعے کا ریکارڈ توڑا۔اسٹیفن کے مقالے کو چند روز کے دوران 20 لاکھ سے زائد مرتبہ پڑھا گیا اور 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے اسے ڈاؤن لوڈ کیا۔اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب بریف ہسٹری آف ٹائم ایک شہرہ آفاق کتاب ہے جس کی ایک کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔

امریکا کی سابق خاتون اول اور جارج بش سینئر کی اہلیہ باربرا بش رواں برس 18 اپریل کو 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔باربرا واحد خاتون بھی تھیں، جن کے شوہر اور بیٹے امریکی صدور رہے۔باربرا بش 1989 سے 1993 تک خاتون اول رہیں ٗ ان کی صحت ایک عرصے سے خراب تھی اور انھوں نے زندگی کے آخری دنوں میں علاج کرانے سے انکار کر دیا تھا۔وہ شہری حقوق کی بڑی علمبردار تھیں جبکہ خواتین کے اسقاط حمل کے حق میں اورخواندگی کی مہم چلانے کے حوالے سے بھی ان کی بے شمار خدمات ہیں۔

سابق ہاکی اولمپیئن منصور احمد طویل علالت کے بعد رواں برس 12 مئی کو انتقال کرگئے، وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔منصور احمد نے پاکستان کے لیے 338 انٹرنیشنل ہاکی میچز کھیلے، انہوں نے 1986 سے 2000 کے دوران اپنے کیریئر میں 3 اولمپکس اور کئی ہائی پروفائل ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ منصور احمد ہی وہ کھلاڑی تھے، جنہوں نے 24 سال قبل پاکستان کو چوتھی مرتبہ ہاکی کا عالمی چمپئن بنایا تھا ٗوہ 1994 کے ہاکی ورلڈکپ میں پاکستان کے ہیرو تصور کیے جاتے تھے جبکہ انہیں دنیا کے نمبر ون گول کیپر کا اعزاز حاصل تھا۔

بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی 16 اگست 2018 کو 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔حکومت پاکستان کی دعوت پر اٹل بہاری واجپائی نے 1999 میں پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔اٹل بہاری واجپائی کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے دوران خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے تاریخی معاہدہ بھی طے ہوا تھا جسے ’معاہدہ لاہور‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اٹل بہاری واجپائی نے دورہ پاکستان کے دوران مینار پاکستان، مزار اقبال، گوردوارہ ڈیرہ صاحب اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی کا دورہ بھی کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل اور نوبیل انعام یافتہ کوفی عنان 18 اگست 2018 کو 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔کوفی عنان نے جینواانسٹیٹیوٹ سے بین الاقوامی تعلقات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جس کے بعد 1962 میں انہوں نے اقوام متحدہ میں شمولیت حاصل کی۔کوفی عنان انسانی حقوق کے تحفظ اور معاشرے میں امن کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔کوفی عنان وہ پہلے افریقی سیاہ فام تھے جنہوں نے دنیا کے بڑے سیاستدانوں میں اپنی جگہ بنائی اور جنوری 1997 سے دسمبر 2006 تک اقوام متحدہ کے ساتویں سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی نائب کے طور پر شام میں امن اور تنازعات کے حل کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔کوفی عنان نیلسن منڈیلا کی بنائی گئی تنظیم دی ایلڈرز کے چیئرمین جبکہ کوفی عنان فاؤنڈیشن کے سربراہ بھی تھے۔انہیں اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا میں امن و استحکام کے لیے خدمات انجام دینے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے پر 2001 میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔

امریکی ری پبلکن سینیٹر جان مک کین 26 اگست 2018 کو 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔جان مک کین 2017 سے دماغ کے کینسر میں مبتلا تھے۔ایری زونا سے تعلق رکھنے والے جان مک کین نے 2008 میں صدارتی الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے ، وہ 30 سال تک امریکی سینیٹ کے رکن رہے اور انہیں 6 بار امریکی سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔جان مک کین امریکی فضائیہ کے پائلٹ تھے اور ویت نام میں جنگی قیدی بھی رہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز 11 ستمبر 2018 کو لندن کے ہسپتال میں علاج کے دوران انتقال کرگئیں، وہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔بیگم کلثوم نواز 1950 میں ڈاکٹر محمد حفیظ کے گھر پیدا ہوئیں، وہ رستم زمان گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔انہوں نے اسلامیہ کالج خواتین ، ایف سی کالج اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ اپریل 1971 میں ان کی شادی معروف صنعت کار میاں شریف کے صاحبزادے نواز شریف سے ہوئی، ان کے چار بچوں میں مریم، اسما، حسن اور حسین نواز شامل ہیں۔بیگم کلثوم نواز 1999 سے 2002 تک مسلم لیگ (ن) کی صدر رہیں، انہوں نے 12 اکتوبر 1999 کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ایک سال تک تحریک بھی چلائی، انہیں تین مرتبہ خاتون اول رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔پاناما کیس میں میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی این اے 120 لاہور کی نشست سے انہوں نے اپنے شوہر کی جگہ 17 ستمبر 2017 کو ضمنی الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کرکے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تاہم علاج کی غرض سے لندن میں رہنے کے باعث وہ حلف نہ اٹھاسکیں۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو رواں برس 2 نومبر کو راولپنڈی میں ان کے گھر پر چاقوؤں کے وار کرکے شہید کردیا گیا تھا۔جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور جمعیت العلماء اسلام (سمیع الحق) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا تعلق دینی گھرانے سے تھا، وہ 18 دسمبر1937 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔وہ جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے سربراہ بھی تھے۔ مولانا سمیع الحق نے خود بھی دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد مولانا عبدالحق نے رکھی تھی۔مولانا سمیع الحق دفاعِ پاکستان کونسل کے چیئرمین اور سینیٹ کے رکن بھی رہے۔ مولانا سمیع الحق کا شمار ملک کی مذہبی اور سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے مختلف مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور متحدہ مجلس عمل کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش (جارج بش سینئر) رواں برس یکم دسمبر کو 94 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔جارج بش سینئر امریکا کے 41 ویں صدر رہ چکے تھے۔ وہ 1989 سے 1993 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ان کے صاحبزادے جارج ڈبلیو بش نے بھی 42 ویں امریکی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔بش سینئر اس سے قبل 1981 سے 1989 تک صدر رونالڈ ریگن کے نائب بھی رہ چکے تھے۔1976 تا 1977 میں جارج بش سینئر سینٹرل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے جبکہ 1971 تا 1973 تک انہوں نے اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کے فرائض انجام دیئے۔جارج بش سینئر نے 4 دہائیوں سے جاری سرد جنگ کے خاتمے میں اہم کردار کے ساتھ ساتھ سویت یونین کے ٹوٹنے پر ایٹمی خطرات کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔انہوں نے کویت سے عراق کو نکالنے کے لیے عالمی اتحاد بھی بنایا تھا۔

فلم ریڈیو اور ٹی وی کے ممتاز اداکار علی اعجاز 18 دسمبر 2018 کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث 77 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔علی اعجاز نے 1961ء میں فلم انسانیت سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا اور 106 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔وہ مزاحیہ ہیرو کے طور پر بہت مقبول ہوئے اور اداکار ننھا کے ساتھ ان کی جوڑی مقبولیت کی بلندیوں پر رہی۔1979 کی سپر ہٹ سماجی فلم دبئی چلو،سالا صاحب،مفت بر،دادا استاد ،سوہرا تے جوائی، منجھی کتھے ڈاہواں،مسٹر افلاطون’ ووہٹی دا سوال اے اوردھی رانی سمیت درجنوں اردو اور پنجابی ہٹ فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔فلموں کے علاوہ علی اعجاز ٹی وی اور اسٹیج پر آئے تو وہاں بھی چھاگئے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں خواجہ اینڈ سنز، کھوجی اورشیدا ٹلی شامل ہیں۔علی اعجاز کو 14 اگست 1993 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا جبکہ انہوں نے نگار ایوارڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سمیت دیگر کئی اعزازات بھی اپنے نام کیے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی 25 دسمبر 2018 کو قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوئے۔وہ 6 جولائی 1972 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ علی رضا عابدی 2013 میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 251 سے 80 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 244 ہو چکا ہے۔علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم قیادت سے اختلافات کے باعث رواں برس ستمبر میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔


متعلقہ خبریں


کنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازیکنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازی وجود - هفته 14 دسمبر 2019

کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے خلاف سیکڑوں افراد نے وسطی لندن میں احتجاجی مظاہرہ کیا، انہوں نے وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف نعرے بازی کی۔برطانیا میں پارلیمانی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے خلاف سیکڑوں افراد لندن کی سڑکوں پر نکل آئے ، مظاہرین نے بورس جانسن میرے وزیراعظم نہیں اور بورس آئوٹ کے نعرے لگائے ، بینرز تھامے مظاہرین نے مختلف سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی، وزیراعظم بورس جانسن کی پارٹی نے گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں وا...

کنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازیکنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازی

عراق میں امریکی مفادات کو گزند پہنچانے کی قیمت ایران ادا کرے گا، پومپیو وجود - هفته 14 دسمبر 2019

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطی بالخصوص عراق میں واشنگٹن کے مفادات اور تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی قیمت ایران کو چکانا ہوگی کیونکہ حالیہ دنوں کے دوران عراق میں ہمارے فوجی اڈوں پر میزائل اور راکٹ حملوں کے پیچھے ایرانی وفادار ملیشیائوں کا ہاتھ ہے ۔امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس موقع کو ایران کویقین دہانی کرکے بہتر موقع سمجھتے ہیں اور اسے یاد دلاتے ہیں کہ ایران یا اس کے کسی وفادار ایجنٹ نے امریکا یا اس کے اتحادیوں میں س...

عراق میں امریکی مفادات کو گزند پہنچانے کی قیمت ایران ادا کرے گا، پومپیو

جرمنی ،راکیلئے کشمیریوں کی جاسوسی کرنیوالے بھارتی جوڑے کو 18سال قید کا حکم وجود - هفته 14 دسمبر 2019

جرمنی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی'' را ''کے لیے کشمیریوں اور سکھوں کی جاسوسی کرنے والے جوڑے 50سالہ منموہن سنگھ اور 51سالہ کنول جیت کو بالتریب 18سال قید اور 180دن کی تنخواہ کا جرمانہ عائد کردیا گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں فرینکفرٹ کی ایک عدالت نے کشمیریوں اور سکھوں کی جاسوسی کرنے پر دو بھارتی شہریوں کو سزائیں سنائی ہیں۔ دونوں شہری میاں بیوی ہیں اور کافی عرصے سے جرمنی میں مقیم تھے ۔ یہ جوڑا جرمنی میں قیام پذیر دیگر کشمیریوں اور سکھوں کی معلومات اور سرگرمیوں ...

جرمنی ،راکیلئے کشمیریوں کی جاسوسی کرنیوالے بھارتی جوڑے کو 18سال قید کا حکم

سعودی عرب'خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ وجود - هفته 14 دسمبر 2019

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی میں خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ کیا گیاہے ۔سعودی عرب میں بھی پہلی بار خود کار طریقے سے چلنے والی نئی گاڑیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں، سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں دو بسوں سے لوکل موٹرز اور ایزی مائل کمپنیوں کے اشتراک سے اس جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ بس سروس کا آغاز کیا گیا ہے ۔کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی(کاوسٹ)کے اس اقدام سے اسمارٹ بسوں کا پروگرام نافذ ہوگیا ہے جو بہت ...

سعودی عرب'خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ

امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

امریکی ایئر فورس نے بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ کیا ہے ، تین ماہ سے بھی کم وقت میں امریکی نیو کلیئر میزائل فورس کا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا تجربہ ہے ۔بیلسٹک میزائل کیلی فورنیا میں وینڈن برگ ایئر فورس بیس سے داغا گیا جس نے بحر الکاہل میں ہدف کو نشانہ بنایا۔امریکی حکام نے اس میزائل تجربے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ، تاہم اسے امریکی نیوکلیئر میزائل ڈیفنس سسٹم کی آپریشنل صلاحیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو بھی امریکی ایئر فورس نے بین البراعظمی بیلسٹک می...

امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

یکم نومبر کو ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اٹھنے والی احتجاجی تحریک کے دوران پولیس اور پاسداران انقلاب نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں مظاہرین جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ایران میں نومبر کے وسط میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پہلی ہلاکت سیرجان شہرمیں ہوئی۔ اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج ملک کے طول وعرض میں پھیل گیا۔ حکومت نے احتجاج کا دائرہ پھیلتے دیکھا تو انٹرنیٹ پرپابندی عائد کردی اور طاقت کا استعمال بڑھا دیا۔ ایرانی حکومت ک...

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

بلومبرگ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا اور چین تجارتی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے اور معاہدے کے اصول بھی وضع کرلیے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری باقی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا ایک مرحلہ باقی ہے اور وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری ہے ۔"بلومبرگ" کا کہنا ہے کہ اسے چین اور امریکا کیدرمیان ممکنہ سمجھوتے کے حوالے سے باخبر ذرائع کی طرف سے ا...

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

ترکی نے امریکی سینٹ کی طرف سے آرمینی باشندوں کے قتل عام سے متعلق ایک بل کی منظوری پر سخت رد عمل ظاہرکیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینٹ کی قرارداد سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔خبر رساں اداروں کے مطابق انقرہ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی سینیٹ نے آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کرکے امریکا اور ترکی کے باہمی تعلقات خطرے میں ڈال دئیے ہیں۔ترکی کے ایوان صدر کے ڈائریکٹراطلاعات فخرالدین الٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی کان...

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

اب کوئی میسجنگ یا چیٹنگ ایپ ہو یا روزمرہ کی زندگی، آپ کو بات چیت کے دوران دوسرے کی زبان نہ بھی آتی ہو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، آپ کو بس گوگل کے اس بہترین فیچر کو استعمال کرنا ہوگا۔درحقیقت گوگل کے اس فیچر کی بدولت بیشتر افراد تو کوئی دوسری زبان سیکھنے کی زحمت ہی نہیں کریں گے کیونکہ زندگی کے ہر شعبے میں مدد کے لیے گوگل ہے نا۔گوگل نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے اپنے ڈیجیٹل اسسٹنٹ میں انٹرپریٹر موڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو آپ کے فون میں رئیل ٹائم می...

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ فورس کمیٹی کو بتایا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کو مستحکم کرنے اور اپنے اتحادیوں کو ایران کے خطرات کا مقابلہ کرنے کا اہل بنانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران ہمارے مفادات یا افواج پر حملہ کرتا ہے تو ہم فیصلہ کن طاقت کے ساتھ جواب دیں گے ۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ واشنگٹن ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مختلف اداروں، کمپنیوں اور افراد کے خل...

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کالج کیمپسز میں یہودیوں کی مخالفت اور اسرائیل کا بائیکاٹ روکنے کے لیے نیا صدارتی حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔ٹرمپ کے اس متنازع اقدام کے تحت ایسے تعلیمی اداروں کی حکومتی امداد روکی جاسکے گی جو یہودی اور اسرائیل مخالف واقعات کی روک تھام میں ناکام رہیں گے ۔صدارتی حکم نامے کے تحت محکمہ تعلیم کالج کیمپس میں یہود مخالف عناصر کے خلاف براہ راست کارروائی کر سکے گا۔اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حکومت کو بحیثیت نسل، قوم یا مذہب یہودیت کی تشریح کی اجازت ہوگی ۔

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کررہا ہے ۔ جس کے لئے حکام کئی طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں سے لڑنے کے لئے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کی جائیگی، تاہم انہوں نے حتمی تعداد نہیں بتائی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اختیارات ہیں۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 13ہزار ہے جن میں سے 5 ہزار سیکورٹی سے متعلق آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ باقی اہلکار افغان سیکورٹی فورسز ...

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور