وجود

... loading ...

وجود

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

بدھ 26 دسمبر 2018 سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

سال 2018میں پاکستان سمیت سیاست ٗ شوبز ٗ اسپورٹس ٗ قانون دان سمیت کئی شعبوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں جن میں عاصمہ جہانگیر ٗ ادا کار قاضی واجد ٗ اداکارہ سری دیوی ٗاقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل اور نوبیل انعام یافتہ کوفی عنان اور سابق بھارتی وزیر اٹل بہاری واجپائی بھی شامل ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر 11 فروری 2018 کو 66 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں ۔

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، وہ سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ نڈر، باہمت اور بے باک خاتون عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل تھا جبکہ وہ ججز بحالی تحریک میں بھی پیش پیش رہیں۔2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عاصمہ جہانگیر کو گھر میں نظربند کیا گیا تاہم اس کے باوجود وہ خاموش نہ بیٹھیں اور اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے فیصلے کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔عاصمہ جہانگیر کو 2010 میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا ٗ 1995 میں انہیں مارٹن انل ایوارڈ، ریمن میکسیسے ایوارڈ، 2002 میں لیو ایٹنگر ایوارڈ اور 2010 میں فور فریڈم ایوارڈ سے نوازا گیا۔عاصمہ جہانگیر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور آخری مرتبہ انہوں نے 9 فروری کو عدالت کے روبرو پیش ہوکر دلائل دیے تاہم اس کے بعد انہیں قدرت نے مہلت نہ دی اور 11 فروری کو وہ خالق حقیقی سے جاملیں۔

رواں برس 11 فروری کو پاکستان ڈراما انڈسٹری کا ایک عہد اْس وقت ختم ہوگیا، جب بے مثال اداکار قاضی واجد 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔قاضی واجد 1930میں لاہور میں پیدا ہوئے، انہوں نے فنی کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور 25 برس تک اس سے منسلک رہے۔خدا کی بستی،حوا کی بیٹی،تنہائیاں، پل دو پل اور تعلیم بالغاں جیسے ڈراموں سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے قاضی واجد نے متعدد ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔قاضی واجد نے مزاحیہ کرداروں سے لے کر سنجیدہ کرداروں میں بھی جاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی کئی نامور شخصیات کے ساتھ کام کیا جن میں معین اختر، جاوید شیخ، راحت کاظمی، قوی خان اور دیگر شامل ہیں۔اردو ادب سے بے حد لگاؤ کے باعث قاضی واجد ادبی محفلوں میں بھی اکثر شرکت کیا کرتے تھے ٗانہیں مقبول فنکاری کی وجہ سے حکومت پاکستان نے 14 اگست 1988ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔بالی وڈ کی نامور اداکارہ سری دیوی 25 فروری 2018 کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں۔سری دیوی 13 اگست 1963 کو پیدا ہوئیں، انہوں نے 4 سال کی عمر میں فلم نگری میں قدم رکھا اور 1975 میں فلم ’جولی‘ میں معاون اداکارہ کے طور پر بالی وڈ میں کیریئر کا آغاز کیا۔1978 میں فلم سولہواں ساون میں انہوں نے مرکزی کردار کیا اور اگلی ہی فلم ہمت والا سے مقبول ہوگئیں، فلم صدمہ میں سری دیوی کیکردار کو ان کی بہترین پرفارمنس قرار دیا جاتا ہے۔نٹ کھٹ اداؤں اور چمکتی آنکھوں والی سری دیوی نے اپنی اداکاری سے کروڑوں مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔ چارلی چیپلن کی نقل ہو یا ناگن کا روپ، سری دیوی نے ہر کردار ایسا نبھایا کہ امر ہوگیا۔سری دیوی کو 5 بار فلم فیئر ایوارڈ اور 2013 میں بھارت کے چوتھے بڑے ایوارڈ پدم شری سے بھی نوازا گیا۔سری دیوی نے 300 سے زائد تامل، تیلگو، ملیالم اور ہندی فلموں میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، ان کی شہرہ آفاق فلموں میں ’مسٹر انڈیا‘ ’چاندنی‘ ’ناگن‘ ’لمحے‘، ’وقت کی آواز‘ اور ’خدا گواہ‘ شامل ہیں

۔ممتاز برطانوی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ رواں برس 14 مارچ کو 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔جنوری 1942 میں پیدا ہونے والے اسٹیفن ہاکنگ نے 1959 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کالج میں داخلہ لیا اور تین سال وہاں تعلیم حاصل کی جس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی سے نیچرل سائنس میں ڈگری حاصل کی۔جس زمانے میں اسٹیفن ہاکنگ طبیعات میں گریجویشن کر رہے تھے اْس وقت فزکس کے ماہرین زمین کے ارتقا سے متعلق مختلف خیالات پیش کر رہے تھے، بگ بینگ اور اسٹیڈی اسٹیٹ جیسی تھیوریز کو خاصی مقبولیت حاصل تھی جس کے بعد اسٹیفن ہاکنگ نے بھی 1965 میں زمین کے ارتقا پر ایک مقالہ لکھا جسے بہت پزیرائی ملی۔1966 میں اسٹیفن کو ریسرچ فیلوشپ ملی اور انہوں نے اپلائیڈ میتھامیٹکس اور تھیوریٹکل فزکس میں پی ایچ ڈی کی۔اسٹیفن گزشتہ 4 دہائیوں سے زائد عرصے سے پیچیدہ بیماری میں مبتلا تھے اور ویل چیئر پر بیٹھ کر سائنسی میدان میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ بلیک ہولز، نظریہ اضافیت پر انقلابی تحقیقاتی مقالے لکھنے پر اسٹیفن ہاکنگ کو آئن اسٹائن کے بعد دوسرا سب سے بڑا اور باصلاحیت سائنس دان سمجھا جاتا تھا، ان کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔اسٹیفن کی طویل عمر جسمانی معذوری میں گزری جس کی وجہ سے وہ نہ ہی بول سکتے تھے اور نہ ہی چل پھر سکتے تھے لیکن دماغی طور پر مکمل صحت مند تھے۔اسٹیفن اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے اور اسے منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹر کا استعمال کرتے تھے جو ان کی پلکوں کے اشاروں کو الفاظ دے کر بات سمجھانے کا کام کرتا تھا۔گزشتہ برس برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے اسٹیفن ہاکنگ کے 1966ء میں کیے گئے پی ایچ ڈی کا مقالہ جاری کیا گیا جس نے چند ہی روز میں مطالعے کا ریکارڈ توڑا۔اسٹیفن کے مقالے کو چند روز کے دوران 20 لاکھ سے زائد مرتبہ پڑھا گیا اور 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے اسے ڈاؤن لوڈ کیا۔اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب بریف ہسٹری آف ٹائم ایک شہرہ آفاق کتاب ہے جس کی ایک کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔

امریکا کی سابق خاتون اول اور جارج بش سینئر کی اہلیہ باربرا بش رواں برس 18 اپریل کو 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔باربرا واحد خاتون بھی تھیں، جن کے شوہر اور بیٹے امریکی صدور رہے۔باربرا بش 1989 سے 1993 تک خاتون اول رہیں ٗ ان کی صحت ایک عرصے سے خراب تھی اور انھوں نے زندگی کے آخری دنوں میں علاج کرانے سے انکار کر دیا تھا۔وہ شہری حقوق کی بڑی علمبردار تھیں جبکہ خواتین کے اسقاط حمل کے حق میں اورخواندگی کی مہم چلانے کے حوالے سے بھی ان کی بے شمار خدمات ہیں۔

سابق ہاکی اولمپیئن منصور احمد طویل علالت کے بعد رواں برس 12 مئی کو انتقال کرگئے، وہ دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔منصور احمد نے پاکستان کے لیے 338 انٹرنیشنل ہاکی میچز کھیلے، انہوں نے 1986 سے 2000 کے دوران اپنے کیریئر میں 3 اولمپکس اور کئی ہائی پروفائل ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ منصور احمد ہی وہ کھلاڑی تھے، جنہوں نے 24 سال قبل پاکستان کو چوتھی مرتبہ ہاکی کا عالمی چمپئن بنایا تھا ٗوہ 1994 کے ہاکی ورلڈکپ میں پاکستان کے ہیرو تصور کیے جاتے تھے جبکہ انہیں دنیا کے نمبر ون گول کیپر کا اعزاز حاصل تھا۔

بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی 16 اگست 2018 کو 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔حکومت پاکستان کی دعوت پر اٹل بہاری واجپائی نے 1999 میں پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔اٹل بہاری واجپائی کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے دوران خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے تاریخی معاہدہ بھی طے ہوا تھا جسے ’معاہدہ لاہور‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اٹل بہاری واجپائی نے دورہ پاکستان کے دوران مینار پاکستان، مزار اقبال، گوردوارہ ڈیرہ صاحب اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی کا دورہ بھی کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل اور نوبیل انعام یافتہ کوفی عنان 18 اگست 2018 کو 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔کوفی عنان نے جینواانسٹیٹیوٹ سے بین الاقوامی تعلقات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جس کے بعد 1962 میں انہوں نے اقوام متحدہ میں شمولیت حاصل کی۔کوفی عنان انسانی حقوق کے تحفظ اور معاشرے میں امن کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔کوفی عنان وہ پہلے افریقی سیاہ فام تھے جنہوں نے دنیا کے بڑے سیاستدانوں میں اپنی جگہ بنائی اور جنوری 1997 سے دسمبر 2006 تک اقوام متحدہ کے ساتویں سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی نائب کے طور پر شام میں امن اور تنازعات کے حل کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔کوفی عنان نیلسن منڈیلا کی بنائی گئی تنظیم دی ایلڈرز کے چیئرمین جبکہ کوفی عنان فاؤنڈیشن کے سربراہ بھی تھے۔انہیں اقوام متحدہ کی جانب سے دنیا میں امن و استحکام کے لیے خدمات انجام دینے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے پر 2001 میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔

امریکی ری پبلکن سینیٹر جان مک کین 26 اگست 2018 کو 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔جان مک کین 2017 سے دماغ کے کینسر میں مبتلا تھے۔ایری زونا سے تعلق رکھنے والے جان مک کین نے 2008 میں صدارتی الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے ، وہ 30 سال تک امریکی سینیٹ کے رکن رہے اور انہیں 6 بار امریکی سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔جان مک کین امریکی فضائیہ کے پائلٹ تھے اور ویت نام میں جنگی قیدی بھی رہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز 11 ستمبر 2018 کو لندن کے ہسپتال میں علاج کے دوران انتقال کرگئیں، وہ کافی عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔بیگم کلثوم نواز 1950 میں ڈاکٹر محمد حفیظ کے گھر پیدا ہوئیں، وہ رستم زمان گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔انہوں نے اسلامیہ کالج خواتین ، ایف سی کالج اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ اپریل 1971 میں ان کی شادی معروف صنعت کار میاں شریف کے صاحبزادے نواز شریف سے ہوئی، ان کے چار بچوں میں مریم، اسما، حسن اور حسین نواز شامل ہیں۔بیگم کلثوم نواز 1999 سے 2002 تک مسلم لیگ (ن) کی صدر رہیں، انہوں نے 12 اکتوبر 1999 کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ایک سال تک تحریک بھی چلائی، انہیں تین مرتبہ خاتون اول رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔پاناما کیس میں میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی این اے 120 لاہور کی نشست سے انہوں نے اپنے شوہر کی جگہ 17 ستمبر 2017 کو ضمنی الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کرکے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تاہم علاج کی غرض سے لندن میں رہنے کے باعث وہ حلف نہ اٹھاسکیں۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو رواں برس 2 نومبر کو راولپنڈی میں ان کے گھر پر چاقوؤں کے وار کرکے شہید کردیا گیا تھا۔جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور جمعیت العلماء اسلام (سمیع الحق) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا تعلق دینی گھرانے سے تھا، وہ 18 دسمبر1937 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔وہ جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے سربراہ بھی تھے۔ مولانا سمیع الحق نے خود بھی دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد مولانا عبدالحق نے رکھی تھی۔مولانا سمیع الحق دفاعِ پاکستان کونسل کے چیئرمین اور سینیٹ کے رکن بھی رہے۔ مولانا سمیع الحق کا شمار ملک کی مذہبی اور سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے مختلف مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور متحدہ مجلس عمل کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش (جارج بش سینئر) رواں برس یکم دسمبر کو 94 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔جارج بش سینئر امریکا کے 41 ویں صدر رہ چکے تھے۔ وہ 1989 سے 1993 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ان کے صاحبزادے جارج ڈبلیو بش نے بھی 42 ویں امریکی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔بش سینئر اس سے قبل 1981 سے 1989 تک صدر رونالڈ ریگن کے نائب بھی رہ چکے تھے۔1976 تا 1977 میں جارج بش سینئر سینٹرل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے جبکہ 1971 تا 1973 تک انہوں نے اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کے فرائض انجام دیئے۔جارج بش سینئر نے 4 دہائیوں سے جاری سرد جنگ کے خاتمے میں اہم کردار کے ساتھ ساتھ سویت یونین کے ٹوٹنے پر ایٹمی خطرات کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔انہوں نے کویت سے عراق کو نکالنے کے لیے عالمی اتحاد بھی بنایا تھا۔

فلم ریڈیو اور ٹی وی کے ممتاز اداکار علی اعجاز 18 دسمبر 2018 کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث 77 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔علی اعجاز نے 1961ء میں فلم انسانیت سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا اور 106 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔وہ مزاحیہ ہیرو کے طور پر بہت مقبول ہوئے اور اداکار ننھا کے ساتھ ان کی جوڑی مقبولیت کی بلندیوں پر رہی۔1979 کی سپر ہٹ سماجی فلم دبئی چلو،سالا صاحب،مفت بر،دادا استاد ،سوہرا تے جوائی، منجھی کتھے ڈاہواں،مسٹر افلاطون’ ووہٹی دا سوال اے اوردھی رانی سمیت درجنوں اردو اور پنجابی ہٹ فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔فلموں کے علاوہ علی اعجاز ٹی وی اور اسٹیج پر آئے تو وہاں بھی چھاگئے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں خواجہ اینڈ سنز، کھوجی اورشیدا ٹلی شامل ہیں۔علی اعجاز کو 14 اگست 1993 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا جبکہ انہوں نے نگار ایوارڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سمیت دیگر کئی اعزازات بھی اپنے نام کیے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی 25 دسمبر 2018 کو قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوئے۔وہ 6 جولائی 1972 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ علی رضا عابدی 2013 میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 251 سے 80 ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 244 ہو چکا ہے۔علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم قیادت سے اختلافات کے باعث رواں برس ستمبر میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ وجود - پیر 09 مارچ 2026

جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ وجود - پیر 09 مارچ 2026

795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ

اسلام آباد میں عورت مارچ کی 11خواتین اور 3 مرد گرفتار وجود - پیر 09 مارچ 2026

دفعہ 144کی خلاف ورزی ، کوئی این او سی جاری نہیں کیا گیا تھا،ضلعی انتظامیہ ہم نے ایک ماہ قبل این او سی کیلئے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی، عورت مارچ اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے پر عورت مارچ کی 11 خواتین اور تین مردوں کو گرفتار کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسل...

اسلام آباد میں عورت مارچ کی 11خواتین اور 3 مرد گرفتار

دبئی میں میزائل حملوں کے دوران 2پاکستانی جاں بحق وجود - پیر 09 مارچ 2026

میزائل ملبے تلے دب کر پاکستانی شہریوں کی موت پر دکھ ہوا ،وزیرِ اعظم پاکستان کا سفارتی مشن دبئی حکام سے رابطے میں ہے،ایکس اکاونٹ پر بیان حکومت پاکستان نے حالیہ دنوں میں دبئی میں ہونے والے میزائلوں حملوں میں 2پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے ۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ا...

دبئی میں میزائل حملوں کے دوران 2پاکستانی جاں بحق

پیٹرول مہنگا،موٹر سائیکل والوں کیلئے وجود - پیر 09 مارچ 2026

رجسٹرڈ 14 لاکھ موٹرسائیکلوں پر 55 روپے کا بوجھ نہیں پڑنے دیں گے، سہیل آفریدی پیٹرول میں اضافہ مسترد ، بی آر ٹی کا کرایہ نہیں بڑھائیں گے؛ وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت پیٹرول میں اضافہ مسترد کرتی ہے، پیٹرول کی مد م...

پیٹرول مہنگا،موٹر سائیکل والوں کیلئے

امریکا نے اہداف بڑھا دیے،ایران پر زیادہ شدت سے حملوں کا اعلان وجود - اتوار 08 مارچ 2026

امریکی فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے،ایران نے معافی مانگی ہے، مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے وعدہ کیا اب ان پر حملہ نہیں کرے گا ، ڈونلڈٹرمپ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا اور فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے۔سوش...

امریکا نے اہداف بڑھا دیے،ایران پر زیادہ شدت سے حملوں کا اعلان

سرنڈر کرانے کی خواہش قبر تک لیجائے گی، ایران کا امریکا کو جواب وجود - اتوار 08 مارچ 2026

ہمسائیہ ممالک پر ایران کے حملے اپنے دفاع میں تھے اور نشانہ پڑوسی ممالک کی املاک نہیں بلکہ امریکی فوجی اڈّے اور تنصیبات تھیں،مسعود پزیشکیان کا سرکاری ٹی وی پر خطاب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران ہتھیار نہیں ڈال دیتا اُس وقت تک اس سے کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا جس پر ایرانی ...

سرنڈر کرانے کی خواہش قبر تک لیجائے گی، ایران کا امریکا کو جواب

ایران کے تل ابیب پر شدید حملے، 100 میٹر نیچے سرنگیں لرز گئیں وجود - اتوار 08 مارچ 2026

مشرق وسطیٰ میں حالات مزید سنگین، اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے ہر طرف تباہی پھیل گئی لاکھوں اسرائیلیرات بھر شیلٹرز میں چھپنے پر مجبور ،مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے مشرق وسطیٰ میں حالات مزید سنگین ہو گئے، امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کے تل ابیب پر شدید...

ایران کے تل ابیب پر شدید حملے، 100 میٹر نیچے سرنگیں لرز گئیں

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ گئے وجود - اتوار 08 مارچ 2026

عوام میٹرو اور گرین لائن میں سفر کرنے لگے، ایک اسٹاپ کا کرایہ 40 روپے ہوگیا کراچی سے پشاور مال بردار کنٹینرز ٹرالے کا کرایہ دو لاکھ 60 ہزار سے 4 لاکھ مقرر پٹرول ڈیزل قیمتوں میں اضافے کے بعد بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایے میں بڑا اضافہ کردیا۔کراچی سے پشاور مال بردار کنٹینرز ٹرالے کا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ گئے

پیپلز پارٹی نے پیٹرول 55 روپے فی لیٹرمہنگا مسترد کردیا وجود - اتوار 08 مارچ 2026

پیٹرول قیمت میں اضافے کے خلاف پارلیمنٹ میں آوازاٹھائیں گے، راجا پرویز اشرف عوام کی عید کی خوشیاں ماند پڑ جائیں گی،حکومت نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،بیان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پیٹرول یکمشت 55 روپے فی لیٹرمہنگاکرنے کو پیپلز پارٹی مسترد کر...

پیپلز پارٹی نے پیٹرول 55 روپے فی لیٹرمہنگا مسترد کردیا

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں وجود - هفته 07 مارچ 2026

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے،ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ایران لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری، 123 شہادتیں، ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،تل ا...

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ وجود - هفته 07 مارچ 2026

قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے بجٹ ، مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے 30 جون تک 1468 ارب کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، عالمی مالیاتی فنڈ مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقر...

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ

مضامین
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار وجود پیر 09 مارچ 2026
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا! وجود پیر 09 مارچ 2026
عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود اتوار 08 مارچ 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

سب ہارگئے ۔۔۔۔ وجود اتوار 08 مارچ 2026
سب ہارگئے ۔۔۔۔

جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی وجود اتوار 08 مارچ 2026
جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر