وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا 36واں یوم وفات منایا گیا

جمعه    ٢١    دسمبر    ٢٠١٨ قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا 36واں یوم وفات منایا گیا

قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا 36واں یوم وفات منایا گیا ،ملک بھر میں حفیظ جالندھر ی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تقریبات اورسیمینارز کا اہتمام کیا گیا ۔ابو الاثر حفیظ جالندھری اردو کے نامورشاعر اور افسانہ نگار تھے جنہوں نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے لازوال شہرت اپنے نام کی۔حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900 کوہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے اور1947 میں تقسیم ہند کے وقت میں لاہور آ گئے ۔حفیظ جالندھری نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کیں لیکن اردو زبان کے پایہ کے شاعر اور افسانہ نگار کی حیثیت سے اپنا مقام بنایا۔ نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی سرپرستی میں انہوں نے معروف ترین شاعروں کی فہرست میں اپنا نام لکھوایا۔انہوں نے شاہنامہ اسلام جیسی کتاب تخلیق کی، ان کا یہ شاہکار چار جلدوں میں شائع ہوا۔ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی گئی کتاب کے بعد ادبی دنیا کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ قومی ترانے کی تخلیق ہے ۔ احمد جی چھاگلہ کی دھن پر تخلیق کیے گئے اس ترانے نے انہیں پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا ۔حکومت پاکستان نے ان کے نغمے کو 4 اگست 1954 کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔محمد حفیظ کی لکھی گئی نظم ابھی تو میں جوان ہوں کو ملکہ پکھراج نے گا کر شہرت دی۔ ملکہ پکھراج 40 کی دہائی کی صف اول کی گلوکاراؤں میں شمار ہوتی تھیں اور پاکستانی گلوکارہ طاہرہ سید کی والدہ بھی تھیں ،حفیظ جالندھری نے اردو شاعری اور پاکستان کے لیے لازوال خدمات انجام دیں جن کے اعتراف میں انہیں ہلال امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں اور سوزوساز، افسانوں کا مجموعہ ہفت پیکر، گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا، پھول مالی اور بچوں کی نظمیں اور اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب چیونٹی نامہ قابل ذکر ہے ۔ 36ویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں حفیظ جالندھر ی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تقریبات اورسیمینارز کا اہتمام کیا گیا اور ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کی گئی۔