وجود

... loading ...

وجود

نوازشریف اور آصف زرداری کی متوقع گرفتاریاں،کب کیا ہوسکتا ہے؟

بدھ 19 دسمبر 2018 نوازشریف اور آصف زرداری کی متوقع گرفتاریاں،کب کیا ہوسکتا ہے؟

باسط علی
پاکستان کی قومی سیاست پران دنوں شریف خاندان اور آصف علی زرداری کے مستقبل کا سوال چھایا ہوا ہے۔ ملک بھر کے تجزیہ کار اگلے ہفتے کو بڑی گرفتاریوں کا ہفتہ قرار دے رہے ہیں۔گزشتہ روز سابق وزیر اعظم نوازشریف نے اپنی غائب مسکراہٹ کے اُسی چہرے کے ساتھ جو وہ گزشتہ چند مہینوں سے سپاٹ رکھ کر احتساب عدالت کے باہر دکھائی دیتے ہیں،نہایت معصومیت سے یہ کہا ہے کہ کرپشن تو اُن کے پاس سے یا کبھی وہ کرپشن کے پاس سے نہیں گزرے۔ اس کے باوجود وہ ایسے الزامات کے نرغے میں ہیں کہ اُن کا سیاسی مستقبل کرپشن سے گہنا گیا ہے۔ کوئی دوسرا جانتا ہو یا نہیں مگر شریف خاندان کو اب احساس ہونے لگا ہے کہ وہ اب بچنے والا نہیں۔ چنانچہ نوازشریف نے طویل خاموشی کے بعد ایک مرتبہ پھر لب کشائی کرنا شروع کردی ہے۔

ایک ایسے موقع پر جب وہ اور اُن کی ماضی کی حریف جماعت اور اب حزب اختلا ف کی حلیف جماعت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی عوامی جلسوں میں کچھ نہ کچھ بولنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو ماہرین کے مطابق دونوں رہنما دراصل اُن آہٹوں کو سن رہے ہیں جو اُنہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کے لیے سنائی دے رہی ہیں۔ نوازشریف کے متعلق یہ رائے پائی جاتی ہے کہ اُن کے لیے 24دسمبر کی تاریخ ایک بار پھر تاریک شب وروز کا پیغام بن سکتی ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جب احتساب عدالت نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کا محفوظ فیصلہ سنائے گی۔اس دوران میں اگر سپریم کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتی ہے تو پھر نوازشریف کے پاس 24دسمبر تک کے چند دنوں کی بھی مہلت باقی نہ رہے۔

لیکن اس امر میں تو کوئی شک نہیں کہ اگلے چند روز میں ہی نوازشریف ایک بار اپنی زندگی کے کٹھن دور میں دوبارہ دکھائی دیں گے۔ تاہم یہ امر ابھی تک زیر بحث ہے کہ آصف علی زرداری کے گرد تنگ ہونے والا گھیرا آخر کیا منظر دکھلائے گا۔یہ عجیب تاریخی اتفاق ہے کہ 24دسمبر کی ہی تاریخ کو چیف جسٹس ثاقب نثار منی لانڈرنگ کے اہم مقدمے کی سماعت کررہے ہیں ۔جے آئی ٹی کے ارکان اپنی تمام تر تحقیق و تفتیش پر مبنی ثبوت وشواہد کو بریف کیسوں میں سمیت کر کراچی سے رخصت ہوچکے ہیں۔منی لانڈرنگ اسکینڈل میں سپریم کورٹ میں اسی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ بھی جمع کرادی ہے۔ اگر یہ رپورٹ حتمی نہیں ہے پھر بھی اس کی سامنے آنے والی تفصیلات سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ منی لانڈرنگ اسکینڈل میں آصف زرداری اور اُن کی ہمشیرہ محترمہ بھی ملوث ہیں۔یہ تو سپریم کورٹ کی سماعت میں واضح ہوگا کہ بے پناہ دولت کا یہ سمندر کہاں کہاں بہتا رہا ہے اور کن کن کناروں سے چھلکتا رہا ہے، مگر یہ امر تو نہایت واضح ہے کہ اس سنسنی خیز معاملے سے پردہ اُٹھنے کا وقت بالکل قریب ہے ۔تاہم یہ سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا نوازشریف اور آصف علی زرداری 24دسمبر کی ایک ہی تاریخ کو جیل جائیں گے جب ایک طرف احتساب عدالت العزیزیہ ریفرنس میں فیصلہ سنا رہی ہوگی تو دوسری طرف سپریم کورٹ منی لانڈرنگ اسکینڈل میں اپنی سماعت کررہی ہوگی۔

کیا ٹھیک اُسی دن محترم چیف جسٹس منی لانڈرنگ اسکینڈل میں کوئی حکم صاد رکرسکتے ہیں؟ کچھ بھی ہو یہ خطرہ آصف زرداری نے بھانپ کر ہی اپنے ایک جلسے میں تاک تاک کر سپریم کورٹ پر نشانے لگائے تھے۔ اس ضمن میں اہم امر یہ بھی ہے کہ آصف علی زرداری اور فریال ٹالپور کی عبوری ضمانتیں 21فروری تک کی ہیں۔دونوں بھائی بہن رہنماؤں کی اس معاملے میں ضمانتوں میں تین تین بار توسیع مل چکی ہیں۔ کیا اس بار یہ ضمانتیں منسوخ ہوسکتی ہیں؟َاگر ایسا ہوا تو پھر جناب آصف زرداری اور اُن کی ہمشیرہ کا معاملہ کسی بھی سرپرائز سے محروم اور نوازشریف کے فیصلے سے بھی قبل نمٹ جائے گا۔ مگر انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ آصف زرداری کو مہلت کے کچھ دن مزید مل سکتے ہیں اور وہ نئے سال کا سورج آزاد فضاؤں میں شاید دیکھ سکیں۔ یہ ممکن ہے کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری کا ڈول 5؍ جنوری کے بعد ڈالا جائے اور اُنہیں بے نظیر بھٹو کی گیارہوں برسی منانے دی جائے جو 27؍ دسمبر کو حسب روایت گڑھی خدا بخش میں منائی جارہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پھر آصف علی زرداری کی گرفتاری کے لیے ایک اور تقریب کا بھی انتظار کیا جاسکتا ہے جو 5؍جنوری کو ذوالفقار بھٹو کی اکیانوے ویں سالگرہ کی تقریب ہوگی۔ یوں آصف علی زرداری کے ساتھ نظام کی سب سے بڑی رعایت یہی ہوگی کہ اُنہیں 5؍ جنوری تک مہلت مل جائے۔ تاہم بعض تجزیہ کار یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ اتنا سوچنے کا وقت کس کے پاس ہے، اور جب جب جس جس کا نمبر لگ رہا ہے، کارروائی کی جاسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر