وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ْافغانی اور ایرانی سیب کی وزیرستان کے راستے اسمگلنگ

اتوار    28    اکتوبر    2018 ْافغانی اور ایرانی سیب کی وزیرستان کے راستے اسمگلنگ

افغانی اور ایرانی سیب کی وزیرستان کے راستے اسمگلنگ عروج پر پہنچ گئی ۔سیب بھی ان پھلوں میں شامل ہے جس کی درآمد پر 20%کسٹم ڈیوٹی عائد ہوتی ہے۔پاکستان میں سالانہ سیب کی پیداوار 14لاکھ35ہزار ٹن تک ہے اور سیب کی پیداوار میں پاکستان کا دسواں نمبر ہے ۔ جبکہ سیب کی عالمی تجارت کا حجم بھی ساڑھے 6 ملین ٹن سے تجاوز کر گیا ہے۔

افغانستان سے سیب کی اسمگلنگ کا رجحان تو کافی پرانا ہے لیکن گزشتہ چند سالوں سے ایران کے سیب کی بھاری مقدار بلوچستان اور افغانستان کے خفیہ راستوں سے ا سمگل ہوکر پاکستان کی منڈیوں میں آتی ہے اس ضمن میں پاکستان کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے ۔سیب کی اسمگلنگ کے حوالے سے ذرائع کا بتانا ہے کہ پاک افغان اور پاک ایران بارڈر پر تعینات کسٹم حکام کی ملی بھگت سے ہوتا ہے اور کسٹم پے رسید(wowcher Custome)پر تاریخ اور گاڑی نمبردرج نہیں کیا جاتا اور وہی رسید کئی ایک کنٹینرز کیلئے کام آتی ہے ۔سیب کی یہ ا سمگلنگ افغانستان سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ انگور اڈہ ضلع جنوبی وزیرستان کے راستے خفیہ راستوں سے ڈیرہ اسماعیل خان لائی جاتی ہے جہاں سے یہ سیب ملک بھر کی منڈیوں میں سپلائی ہوتا ہے۔سیب کے ساتھ انگور اور انار کی بھی ا سمگلنگ کی جاتی ہے جس سے سالانہ ملکی معیشت کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

اس ضمن میں ایف بی آر کے شعبہ کسٹم کے اعلی حکام کو کسٹم کی چوری کو روکنے کیلئے دوررس نتائج کی حامل پالیسیاں بنانی ہوں گی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسٹم چوری کی روک تھام کیلئے موثر میکنزم بنانا ہو گا ۔اس اسمگلنگ کا دوسرا نقصان سیب کے مقامی کاشتکاروں کو ہوتا ہے اور ا سمگلنگ کی بدولت ان کو سالانہ پیداوار خاطر خواہ فائدہ نہیں دے پاتی۔بلوچستان زمیندار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی نے گزشتہ دنوں ایران اور افغانستان سے پھلوں کی اسمگلنگ اور درآمد کو پاکستانی زمینداروں اور باغبانوں کا معاشی قتل قرار دیا ہے اور حکومت سے استدعا کی ہے کہ وہ ایران اور افغانستان سے پھلوں جن میں خاص کر سیب کی ا سمگلنگ اور درآمد کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ مقامی زمیندار مالی طور پر مستحکم ہو سکے، ان کا کہنا تھا کہ سیب کی پاکستانی پیداوار پر انحصار کیا جائے اور مقامی طور پر سیب کی کئی نایاب قسمیں پیدا ہوتی ہیں حکومت کو چاہیے کہ مقامی کاشت کار کی سرپرستی کرے۔