قانون،اطلاعات ،بلدیات سندھ میں غیرقانونی بھرتیوں کی تفصیلات طلب

نیب نے محکمہ قانون،محکمہ اطلاعات اورمحکمہ بلدیات سندھ میں غیرقانونی بھرتیوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ من پسندھ افراد کو محکمہ قانون ،محکمہ اطلاعات اورمحکمہ بلدیات میں اعلی عہدوں پربراہ راست بھرتی کرنے کے الزام میں کارروائی شروع کردی گئی۔نیب سندھ نے محکمہ قانون ،بلدیات اورمحمکہ اطلاعات سندھ میں اعلی عہدوں پربراہ راست بھرتیوں کی تحیقیقات شروع کردی ہیں محکمہ قانون میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق سیکریٹری قانون سے تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں ،نیب سندھ کودی جانے والی ایک عوامی شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے محکمہ قانون سندھ میں سندھ حکومت نے من پسندھ افراد کو محکمہ قانون میں بھرتی کرلیا ہے۔صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کے بیٹے شبیر شاہ اور دیگر کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ مقرر کردیا گیا یے۔

شہریار مہر، شہریار اعوان، صائمہ اور آصف علی زرداری کے دوست کے بیٹے علی زرداری کو بھی غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا ہے ان تمام افراد کو وکالت میں تجربے اور تعلیمی قابلیت کے برعکس اعلی عہدوں پر مقرر کیا گیا ہے۔دوسری جانب نیب نے محکمہ اطلاعات سندھ میں گریڈ 17 کے 43 افسران کی براہ راست بھرتی کی تفصیلات طلب کر لی ہیں نیب کی جانب سے اعلیٰ عہدوں پر براہ راست بھرتی کیے جانے والے43 افسران کے کوائف، نام اور شناختی کارڈز فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے سابق صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن کے دور میں 43 افسران کو غیر قانونی طریقے سے بھرتی کرنے کا معاملہ پانچ سال سے نیب سندھ میں التوا کا شکارتھا،علاوہ ازیں محکمہ بلدیات سندھ میں گریڈ 16کے افسران کی براہ راست بھرتیوں کی بھی تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں قومی احتساب بیورو(نیب) کراچی نے غیرقانونی بھرتیوں کے الزام میں سیکریٹری بلدیات سندھ رمضان اعوان کے خلاف تحقیقات میں پیش رفت پرمحکمہ بلدیات سندھ سے بعض افسران کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

Electrolux