مُر غابی کے شکار کا اجازت نامہ

حکومتِ پنجاب کے محکمہ تحفظِ جنگلی حیات و پارکس نے وائلڈ لائف ایکٹ کے مطابق مُرغابی کے موسمِ شکار کا اعلان کر دیا ہے۔ شکاری حضرات ہفتہ اور اتوار کو مستند شوٹنگ لائسنس کے ساتھ 31 مارچ 2019 ء تک مرغابی کا شکار کھیل سکیں گے۔ گیم ریزرو میں ڈائریکٹر جنرل جنگلی حیات و پارکس پنجاب کے جاری کردہ خصوصی اجازت نامہ کے ساتھ شکار کھیلا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے ایک سرکاری محکمے کا یہ ایک بظاہر عام سا اور روایتی حُکم نامہ ہے جو غالباً ہر سال جاری کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سرکاری پروانے کی آڑ میں بدیسی پرندوں کا قتلِ عام شروع ہوجاتا ہے۔ ووٹ کے ذریعے آنے والی تبدیلی کا پہلا مہینہ ہے ۔ لیکن ابھی کُچھ خاص نہیں بدلا ۔ تبدیلی لانے کے لیئے اکیلا عمران خان ہی سرگرم ہے۔ ان کے مصاحب تو ۔۔۔۔۔۔
خیر ابھی روایت کے مطابق حکومت اور اربابِ حکومت کو تین ماہ تک تنقید سے استثنیٰ حاصل ہے۔ لیکن یہ بات اب اپنے فواد چوہدری کو کون سمجھائے کہ حکومتیں اپوزیشن کی تنقید کا جواب کارکردگی سے دیا کرتی ہیں۔۔۔۔۔ خیر جو نہیں سمجھ پاتا ۔۔ اُسے ’’زمانہ ‘‘ سمجھانا جانتا ہے۔ بات مُرغابی کے شکار تک ہی محدود رہے تو بہتر ہے۔
ایک طویل عرصہ سے پنجاب کے شمال مغربی ضلع میانوالی سے موسم سرما کے چار مہینوں اکتوبر سے جنوری تک آبی پرندے بڑی تعداد میں شکار کےئے جارہے ہیں۔ اب روایتی شکاریوں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بیوروکریٹس اور سیاستدانوں نے بھی اس ممنوعہ شکار میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔مُلک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے اور کتاب کے نشان پر ووٹ لے کر خیبر پختونخواہ میں برسرِ اقتدار آنے والی ایم ایم اے کی حکومت کے دور میں چشمہ بیراج کی جھیل کے کنارے اعلیٰ حکومتی شخصیت نے جدید سہولیات کا حامل ایک ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا تھا ۔ موسم سرما میں ان کے بھائی مرغابی کے شکاریوں کے جتھے کے ہمراہ یہاں ہفتوں قیام کیا کرتے تھے۔ شکار کے موسم میں اب بھی یہ ریسٹ ہاؤس آباد رہتا ہے یہ بات الگ ہے کہ اب مکین بدل گئے ہیں ۔۔۔۔
قدرت نے ہمارے ملک کو موسموں کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ فطرت کی تمام ترخوبصورتیوں سے نوازا ہے۔ روس کے برفانی علاقوں سے ہجرت کرنے والے مختلف اقسام کے جن خوبصورت پرندوں کی بڑی تعداد ہماری جھیلوں کا رُخ کرتی ہے۔ ان میں مرغابی، نیل سر اور سائبرین کرین( سفید کونج ) شامل ہیں۔ جس بڑی تعداد میں یہ خوبصورت پرندے پاکستان کا رُخ کرتے ہیں اُسی بے دردی کے ساتھ یہ شکاریوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ ہجرتوں کے موسموں اور بے دریغ شکار نے فطرت کے شاہکار ان خوبصورت پرندوں میں سے سفید کونج (Siberian Crane ) کی نسل کی بقاء کو شدید ترین خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔
سائبیر یا کے دریائے ’’ اوب‘‘ کے کنارے چھوٹی بڑی ’’آب گاہوں‘‘ کے پھیلے ہوئے طویل سلسلہ میں پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والی سفید کونج موسمِ سرما کے آغاز میں اس وقت نسبتاً گرم علاقوں کا رخ کرتی ہے جب سردی اور برف جمنے کی وجہ سے دریاؤں اور جھیلوں کی مچھلیاں پانی کی تہ میں چلی جاتی ہیں۔سفید کونج کا چہرہ چونچ سے لے کر آنکھوں سے کچھ اوپر تک سرخ رنگ کے نقاب سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے۔جو اس سفید بُراق رنگ کے آبی پرندے کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔سفید کونج کو انگریزی میں سائبیرین کرین (Siberian Crane )اور سائنسی اصطلاح میں اس کی نسل کو Leucogeranus Gurs کہتے ہیں۔اس کا قد ایک اعشاریہ چار میٹر تک بلند ہوتا ہے۔سفید کونج کے پروں کی لمبائی 2.1 سے 2.3 ،میٹر تک ہوتی ہے جبکہ وزن 4.9 سے 8.6 کلو گرام تک ہوتا ہے۔نر اور مادہ کونج تقریباً ایک جیسی ہی جسامت اور رنگ و روپ رکھتی ہیں۔تاہم نر کونج کا قد ذرا نکلتا ہوا ہوتا ہے۔سائبیریامیں اس کونج کی تین بڑی آبادیاں ہیں۔ کونجوں کی دوسری بڑی آبادی ’’ مرکزی‘‘جو کہ مغربی سائبیریا میں ہے سے ہر سال سفید کونجوں کی بڑی تعداد 3700 میل کا فاصلہ طے کرکے افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے پرواز کرتے ہوئے بھارت کے علاقے راجھستان میں واقع کیولا نیشنل پارک اور بھرت پور تک پہنچتی ہے۔مئی اور جولائی کا وسط سائبیرین کونج کے انڈے دینے کا موسم ہوتا ہے۔یہ صرف دو انڈے دیتی ہے جن میں سے صرف ایک بچہ نکلتا ہے۔ اس لیے اس کی افزائشِ نسل بہت ہی محدود ہے۔ماحول پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال سندھ، جناح بیراج اور چشمہ بیراج کے علاقے میں سائبیرین کونج کے حوالے سے ایک تفصیلی سروے کے بعد رپورٹ تیار کی گئی تھی اُس میں کہاگیا ہے کہ سائبیریا سے ہجرت، سرمائی ٹھکانوں کی ترقیاتی سرگرمیوں اور بے دریغ شکار نے سفید کونج کی نسل کی بقاء کو سنگین خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔اکتوبر کے اوائل میں سفید کونجوں کی خاصی تعداد کالاباغ سے لے کر چشمہ بیراج کے پانڈ ایریا اور جھیلوں، نمل جھیل اور سندھ کی منچھر جھیل میں موجود ہوتی ہیں۔ لیکن اس علاقے میں جاری مرغابیوں اور دیگر آبی پرندوں کے بے دریغ شکار نے سائبرین کرین کی نسل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں سفید کونجوں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی تھی جو اب انتہائی کم ہو چکی ہے۔اب ماضی کی نسبت بہت کم کونجیں سرمائی ٹھکانوں پر نظر آتی ہیں۔ سائبیرین کرین کی نسل کی بقاء کے لیے 1970 ء سے کوششیں کی جارہی ہیں۔لیکن اس کے باوجود اس کی نسل میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ خوبصورت پرندہ ماحول کی عالمی انجمن ’’ آئی یو سی این‘‘کے بقاء کے خطرات سے دو چار جانوروں اور طیور( پرندوں) کی سرخ فہرست2002 (Red list ) میں شامل ہے۔اور اسے شدیدخطرات سے دوچار پرندے کا درجہ دیا گیا ہے۔سائبیرین کرین کو خطرات سے دوچار جانوروں اور پودوں کی عالمی تجارت سے متعلق معاہدے CITES اور ہجرت کرنے والے پرندوں سے متعلق عالمی معاہدے جسے ’’ بون کنونشن‘‘ بھی کہتے ہیں کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
چاروں صوبوں میں وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے محکمے قائم ہیں۔ اربوں روپئے کے فنڈز ان محکموں پر خرچ کئے جارہے ہیں۔ لیکن یہ محکمے جنگلی حیات کے تحفظ میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔
ہمارے ملک میں قتل و غارت گری اس قد ر بڑھ گئی ہے انسان کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے برابر قرار دینے کے دین والے ملک میں انسانی جان کی قیمت اس قدر ارزاں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ایسے ماحول میں ہمار ی توجہ فطرت کی دیگر نعمتوں کے تشکر اور تحفط کی جانب کم ہی پڑتی ہے۔ ملک بھر میں جھیلوں کے کنارے بدیسی پرندوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ لیکن ہم میں سے کوئی بھی اس جانب متوجہ نہیں ہو رہا ہے۔
پاکستان نے ’’ ریو کانفرنس‘‘ میں حیاتیاتی تنوع کے معاہدے کو تسلیم کرنے اور اس عمل پیرا ہونے کا وعدہ بھی کیا تھا اور اس معاہدے پر دستخط بھی کئے تھے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں ماحول اور حیاتیاتی تنوع خطرات سے دو چار ہے۔ تمام جانداربشمول انسان خالقِ کائنات کی زمین کے ماحولیاتی نظام میں ایک دوسرے میں پیوست کڑیاں ہیں لیکن اگر سفید کونج کی نسل بے درئغ شکار کی وجہ سے ختم ہو گئی تو زمین کے ماحولیاتی نظام کی اس کڑی کے نقصان کی انسان کیسے تلافی کرے گا۔

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔