بشریٰ بی بی

ایک روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر خاتونِ اول محترمہ بشریٰ بی بی محوِ گفتگو تھیں۔ ایک عالَم اس کا کئی مہنیوں سے منتظر تھا۔ محترمہ بشریٰ بی بی کو اس سال کے آغاز سے قبل ہی ہماری قومی زندگی میں جگہ مل گئی تھی ۔ عمران خان کے چاہنے والوں سے زیادہ وہ اُن کے مخالفین کے ہاں زیر بحث رہیں۔ ان کے حوالے سے طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے ۔ میاں نواز شریف کے تین دہائیوں کے اقتدار میں اُن کی خوشہ چینی کی سند پانے والے قلمکاروں کی کھیپ نے کیا کُچھ نہیں کہا ، کیسی کیسی کہانیاں تخلیق نہیں کی گئیں ۔ حکمران خاندان کی اصطلاح عام کرنے والی ایک خاتون کے زیر سایہ کام کرنے والے سوشل میڈیا سیل نے کیا کیا کارنامے سرانجام نہیں دیے۔ جس کا جنتا ظرف تھا اُس نے اُتنا ہی ڈلیور کیا۔
لیکن بشریٰ بی بی کے ایک انٹرویو نے تنگ نظری اور حسد کے گارے سے تعمیر ہونے والے افواہوں کے ایفل ٹاور کو منٹوں میں مسمار کر دیا ۔
کھول کے کیا بیاں کروں ، سرِ مقامِ مرگ و عشق
عشق ہے مرگِ با شرف ، مرگِ حیات بے شرف
صُحبت ِ پیرِ روم سے ہوا مجھ پہ یہ راز فاش
لاکھ حکیم سربجیب ، ایک کلیم سر بکف
( اقبال ؒ )
بشریٰ بی بی کا کہنا ہے کہ ’’ عمران خان کو دنیاوی چیزوں سے کوئی رغبت نہیں ۔ وہ انتہائی سادہ طبیعت انسان ہیں ۔ کھانے میں یا کپڑوں میں کسی چیز میں کوئی نخرے نہیں ہیں ۔ میری نظر میں جس انسان میں لالچ نہ ہو وہ کامیاب انسان ہے۔ میری ساری زندگی جائے نماز پر گزری لیکن جب یہاں آئی تو عمران خان کے طور طریقے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ انہیں ہر جاندار کا بہت احساس ہے۔یہاں تک کہ پودوں وغیرہ کا بھی۔ اسطرح کی باتوں سے میں نے اُن سے بہت کُچھ سیکھا ۔میں نے ان کو بتایا کہ رب سے عشق کرکے انسان کتنا مضبوط ہوتا ہے، انہوں نے مُجھے یہ سکھایا کہ مخلوق کی خدمت کرکے انسان کے اندر کیا بدلاؤ آتا ہے۔ اور وہ اللہ کے کتنا قریب ہوجاتا ہے۔۔۔ ‘‘
بُشریٰ بی بی کی باتیں عمران خان کے مخالفین کے لیے یقیناًچونکا دینے والی ہیں لیکن ان کے قریبی لوگوں کے لیے بھی یہ حیرت کا سامان لیے ہوئے ہیں کہ بشریٰ بی بی کی نگاہِ دوربین کپتان کے حوالے سے کس قدر درست تجزیہ اور ادراک کی حامل ہیں ۔
عمران خان نے جب سے کرکٹ کے میدان میں قدم رکھا ہے جاننے والوں پر اپنا سحر طاری کیا ہوا ہے۔ جواں سالی میں ملکہ برطانیا سے مصافحہ کرنے والے میں جھجھک اور احساسِ کمتری نام کی کسی چیز کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا۔وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کی بعد ان کی اداؤں کے نکتہ چین اس راز کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے کہ یہ شخص دنیاوی راحت کا کبھی طلبگار رہا ہی نہیں۔ دنیاوی عیاشیاں اور آسانیاں چھوڑ کر اُس نے سیاست کی وادی پُر خار کا انتخاب کیا ۔ جو صاحب ادراک انہیں قریب سے جانتے ہیں وہ یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ سیاست میں آنے کے بعد سے مسلسل بائیس سال سے اپنے ارد گرد کے چھوٹے لوگوں میں گھرے رہنے کے باوجود و ہ کبھی چھوٹا دکھائی دیا ، نہ ہی محسوس ہوا۔ اُن سے محبت وہی کرتا ہے جو اُس کے باطن کی روشنی سے واقف ہے۔ عہد حاضر کے قلمکاروں میں یہ مقام او ر مرتبہ صرف اور صرف نابغہ روزگار ہارون الرشید کو حاصل ہے۔ اگرچہ ایک بڑے اور بزرگ صحافی اور ایک اخباری گروپ کے مالک کو بھی اب عمران خان کی اچھائیاں نظر آنے کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ہونے لگا ہے کہ ان کے پاس ’’ پاکستان تحریک انصاف کی بنیادی رُکنیت بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ دن قبل لاہور میں دوپہر کے ایک کھانے پر اُبلے ہوئے چاولوں پر مسور ڈال کر لطف اندوز ہوتے عطاء الحق قاسمی نے شعیب بن عزیز اور برادرم منصور آفاق کی موجود گی میں کپتان سے بہت دور کے ماضی کی ایک ملاقات پر فخر محسوس کرتے ہوئے کہا ’’ منصور آفاق کو شاید معلوم نہیں کہ عمران خان ایک مرتبہ میرے گھر بھی تشریف لائے تھے۔۔ ایسے میں مُجھے اپنے اندر ’’ میاں برادران ‘‘کے لیے تھوڑی سی ہمدردی محسوس ہوئی کہ بڑے اور چھوٹے میاں صاحب درجنوں مرتبہ عطاء الحق قاسمی صاحب سے ملے ہوں گے اور کئی مرتبہ ان کے گھر گئے بھی ہوں گے لیکن ان سب ملاقاتوں پر کپتان سے ایک ملاقات کی انسپائریشن بھاری ہے ۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ’’ نصیب اپنا اپنا ‘‘ ۔۔۔۔
کپتان کے اردگرد کے لوگ ہارون الرشید کی سچائی سے خائف رہتے ہیں لیکن راقم نے جب بھی اُن کی زبان سے عمران خان کے بارے میں کچھ سُنا یا ان کی لکھی ہوئی کوئی تحریر پڑھی تو مجھے حضر شیخ علی ہجویری (داتا گنج بخش ) کی شیخ ابوالقاسم عبد الکریم بن ہوازن القشیری کے بارے میں لکھی تحریر کا یہ اقتباس یاد آجاتا ہے کہ
’’ میں نے اُن سے ابتدائی حال کی بابت پوچھا تو اُنہوں نے کہا ایک دن مجھے ایک پتھر کی ضروررت لاحق ہوئی سرخس کی شاہراہ سے جو پتھر اُٹھاتا تھا وہی جوہر و پارس ہوتا تھا ۔۔‘‘
بشری بی بی کے اس انٹرویو نے غور و فکر کے نئے زاویے اور در وا کیے ہیں۔ عمران خان پر اُس کے کریم رب کی جو عطائیں اور عنایتیں ہیں وہ انسانیت سے ان کی محبت اور عشق کی بدولت ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال کی وساطت سے سسکتے لبوں اور کانپتے ہاتھوں کی دعاؤں نے انہیں خُدا سے قریب تر کرکے دُکھی لوگوں کا محبوب بنا دیا ہے۔
وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر سرفراز اس محبوب لیڈر کے سامنے مسائل کا ایک انبوہ کثیر اور ارد گرد نااہل اور مناصب کے طلبگار لوگوں کی للچائی اور بھیک مانگتی نظروں کا گھیرا ہے لیکن کپتان کا دل روشن اور دماغ بیدار ہے۔ 2018 ء کے عام انتخابات میں اُس کے اعتماد کی سوداگری کرنے والوں سے لے کر اُس سے اپنے دنیاوی مفادات وابستہ کرنے والوں سے وہ پوری طرح واقف اور چوکنا ہے وقت کے ساتھ ساتھ معاملات پر اُس کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ بُشریٰ بی بی کا یہ ادراک درست ہے کہ وہ اپنی سخت کوشی جدوجہد اور خُدائے لم یزل پر اپنے کامل یقین کی بدولت ان تمام مسائل پر قابو پا لیں گے۔ ایسا ہی یقین منصور آفاق کی اس تازہ نظم میں جھلکتا ہے جو انہوں نے میرے ہاں بیٹھے ہوئے بے ساختہ کہی اور میں نے محفوظ کر لی۔
وقت جب جھوٹ کے دوزخ میں تڑپے صدیوں
کوئی انصاف کی تحریک جنم لیتی ہے
پھر نکلتا ہے شبِ غم سے اُجالوں کا سوار
جس کے بڑھ بڑھ کے قیامت بھی قدم لیتی ہے

وہی سچائی بھرے عہد کا آغاز کرے
ظُلم کی جھوٹ کی تردید اُسی کے دم سے
وُہی تبدیلی کی انجیلِ مقدس ٹہرے
اِک نئے دور کی تمہیدی اُسی کے دم سے

اُس کی کرنوں سے فروزاں میرا غیور وطن
اُسی کے جلووں سے منور میرا آئندہ ہے
آسماں گیر اُسی کی کہانی ہے اب تک
وُہ ہی تابندہ ہے سُورج وہی پائندہ ہے

اُسی خورشید کی زرتاب شعائیں چُن کر
ظُلمتِ شب بھی اُجالوں سے کفن بُنتی ہے
اُس کو کیا علم کے سورج کبھی بُجھتا ہی نہیں
وہ تو بہری ہے میری بات کہاں سنتی ہے

 

Electrolux
انوار حسین حقی ایک منجھے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔اُن کا کالم قومی اخبارات کی زینت بنتا رہتا ہے۔ اُن سے [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔